تازہ تر ین

پانامہ کیس …. وزیراعظم کیلئے آخری موقع

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کے معاملے پر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل کو جائیداد کی تفصیلات جمع کرانے کےلئے پیر تک کی مہلت دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مو¿کل مخالفین کی جانب سے ثبوت قرار دیئے جانے والے اعترافی بیان کی تردید کرتے ہیں۔ جمعہ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کا آغاز کیا تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے جائیداد اور تحائف کی تقسیم سے متعلق تفصیلات جمع کرنے کےلئے پیرتک کا وقت طلب کرلیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مخدوم علی خان کی جانب سے وقت طلب کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز پر رپورٹس نشر ہوئی تھیں کہ آپ لوگوں نے تمام تفصیلات پیش کردی ہیں ¾اس لئے آپ کو ہدایت دی گئی تھی کہ جو تفصیلات ہمارے پاس موجود نہیں وہ جمع کرادیں۔جس پر مخدوم علی خان نے کہاکہ میرے مو¿کل کا کہنا ہے کہ تفصیلات جمع کرادیں گے تاہم اس کےلئے کچھ وقت درکار ہے۔جس پر عدالت نے وزیراعظم کے وکیل کو جائیداد کی تفصیلات جمع کرانے کےلئے پیر تک کی مہلت دے دی۔عدالت کے سامنے اسحق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے مو¿کل اسحق ڈار نے 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا اور 14.866 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا ¾یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ سکندر مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام سے وزیراعظم کے بھائی کےلئے اکاو¿نٹ کھلوائے گئے۔عدالت نے شاہد حامد سے استفسار کیا کہ کیا اسحق ڈار اپنے بیان حلفی کے انکاری ہیں؟جس پر شاہد حامد نے کہاکہ اسحق ڈار اپنے بیان کی مکمل تردید کرتے ہیں، ان کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد پہلے انہیں گھر پر نظر بند رکھا گیا اور تعاون پر حکومت میں شمولیت کی پیش کش کی گئی جبکہ ایک پہلے سے لکھے گئے بیان پر زبردستی دستخط بھی کرائے گئے۔اسحق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس بیان کے بعد اسحق ڈار کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا جبکہ 2001 تک انہیں فوج کی تحویل میں رکھا گیا۔شاہد حامد کے مطابق ان کے مو¿کل نے رہائی کے بعد ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے بیان کی تردید کردی تھی۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اگر بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ اس بیان کی تصدیق نہیں کرتا تو اس کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں جبکہ اسحٰق ڈار کا اعترافی بیان عدالت عظمیٰ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ 15 اکتوبر 1999 کو اسحق ڈار کو حراست میں لیا گیا تھا۔جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت رٹ پٹیشن میں ایسا فیصلہ کیسے دے سکتی ہے؟شاہد حامد نے اسحق ڈار کے بیان کو صرف کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں، شواہد کا حصہ ہے جس پر کبھی کارروائی نہیں ہوئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ نیب ریفرنس، قانون کے تحت تحقیقات نہ ہونے پر خارج ہوا جبکہ ہائی کورٹ نے اس کیس کو تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا تھا۔اسحق ڈار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب ریفرنس میں بھی وہی الزامات لگائے گئے تھے جو ایف آئی اے نے اپنے مقدمہ میں لگائے تاہم 1997 میں عدالت ان الزامات پر ملزمان کو بری کر چکی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ اسحق ڈار کے خلاف کیس میں دو ججز نے انٹرا کورٹ اپیل سنی اور عموماً پانچ جج اس اپیل کی سماعت کرتے ہیں ۔شاہد حامد نے کہاکہ 1992 کے تحفظ کے قانون کے تحت ایک الزام میں بری ہونے پر دوبارہ کارروائی نہیں کی جا سکتی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ جب تحفظ کا قانون بنا تو نواز شریف وزیراعظم اور اسحق ڈار وزیر خزانہ تھے؟شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اس دور میں اسحق ڈار وزیر خزانہ نہیں تھے اور نہ ہی رکن قومی اسمبلی تھے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ اسحق ڈار منی لانڈرنگ کیس میں چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنی چاہئے تھی اور اگر چیئرمین نیب اپیل پر سپریم کورٹ آتے تو ہم دوبارہ تفتیش کرنے کا حکم دے دیتے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شریف فیملی کے خلاف 1994 کی ایف آئی آر اور 2000 کی ایف آئی آر میں کوئی تعلق نہیں اور اسحق ڈار کے اعترافی بیان کا شریف فیملی کے مالی جرائم سے بھی کوئی تعلق نہیں۔جسٹس شیخ عظمت نے شاہد حامد سے سوال کیا کہ کیا اس قانون کے مطابق بیرون ملک اکاو¿نٹس کو بھی تحفظ حاصل تھا؟جس پر شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ یہ تحفظ صرف ملک کے اندر اکاو¿نٹس کو حاصل تھا۔جس پر شیخ عظمت نے کہاکہ ریفارمز سے پاکستان میں فارن کرنسی اکاونٹس کو تحفظ دیا گیا ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے شاہد حامد کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ بیان حلفی کیس میں نیب نے اپیل نہیں کی۔جسٹس اعجاز افضل نے اسحق ڈار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحٰق ڈار کو بیان سے قبل وعدہ معاف گواہ بنایا گیا تھا یا بعد میں؟شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اسحق ڈار کو اعترافی بیان دینے سے قبل وعدہ معاف گواہ بنایا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ حدیبیہ پیپر ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا اور حتمی ریفرنس 16 نومبر 2000 کو بنایا گیا ¾3 دسمبر 2012 کو اس ریفرنس کو ہائی کورٹ کے دو ججز نے ختم کیا اور دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا۔شاہد حامد نے کہاکہ ریفری جج نے 11 مارچ 2014 کو دوبارہ تفتیش کے اختلافی فیصلے میں تفتیش نہ کرانے کا فیصلہ دیا تھا۔جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا اسحق ڈار کو معافی دی گئی تھی؟ کیونکہ اگر انہیں معافی نہیں دی گئی تھی تو یہ ایک ملزم کا بیان ہے اور وعدہ معاف گواہ کو معافی فراہم کرنے کے بعد اسکا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملے میں ملزم کو معافی کی پیشکش کی جاتی ہے اور معافی قبول کرنے کے بعد ایسا بیان دیا جاسکتا ہے۔عدالت نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب یہ بتائیں کہ نیب کے سیکشن 26 ای کے تحت دو طرح کی معافی ہوتی ہے اور یہ معافی یا تو مشروط ہوتی ہے یا غیر مشروط۔عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو اس بات سے آگاہ کریں کہ اسحق ڈار کا بیان معافی دینے کے بعد ریکارڈ کیا گیا یا پہلے؟شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اعترافی بیان کے باوجود ان کے مو¿کل کو اکتوبر 1999 سے 2000 تک سترہ ماہ زیر حراست رکھا گیا۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ جلاوطنی کے دوران ہونے والی تفتیش میں شریف خاندان کو کبھی طلب نہیں کیا گیا۔شاہد حامد کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ کو اس بات کا اختیار نہیں تھا کہ وہ اسحق ڈار کا اعترافی بیان ریکارڈ کرتا ¾انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے اس بات پر کافی غور کیا گیا کہ منی لانڈرنگ پر اپیل دائر کی جائے یا نہیں۔ججز کے استفسار پر شاہد حامد نے بتایاکہ اسحق ڈار کو پہلے معافی مل گئی تھی جبکہ اعترافی بیان بعد میں ریکارڈ کیا گیا، نومبر2007 میں شریف خاندان جلاوطنی کے بعد وطن واپس آیا تھا تاہم ریفرنس دوبارہ نہیں کھلا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ معافی ملنے کے بعد اسحق ڈار ملزم نہیں رہے تھے، لہذا ان کا اعترافی بیان بطور ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا۔جس کے بعد کیس کی سماعت پیرکی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو عدالتی معاونت کےلئے روسٹرم پر بھی بلایا اور ہدایت دی کہ پیر کے روز ہونے والی کیس کی اگلی سماعت میں وہ اسحاق ڈار کیس سے متعلق عدالت کی معاونت کریں۔عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو حکم دیا کہ وہ یہ بھی بتائیں کہ اپیل کیوں فائل نہیں کی گئی؟ اور کیا اس چیئرمین نیب نے اپیل فائل نہیں کی جسے حکومت اور اپوزیشن نے مل کر مقرر کیا تھا؟جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اوگرا کرپشن کیس میں توقیر صادق کے خلاف کسی نے اپیل نہیں کی جس پر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا۔کیس کی کارروائی پر تبصرہ کرنے والے افراد کو جواب دیتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس کو آہستہ سنا جارہا ہے لیکن ہم اس وقت تک کیس کی سماعت کریں گے جب تک مطمئن نہیں ہوجاتے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم لوگوں کی امیدوں کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے اور آئینی عدالت انصاف کی فراہمی تک یہ کیس سنتی رہے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved