تازہ تر ین

امریکہ سے یاریاں

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
اغیار کس بات کا طعنہ دیتے ہیں۔کیا وہ نہیں جانتے کہ اسلام ہی نسلوں کا محافظ ہے؟اپنے نہیں اٹھتے اوراس نظام شرکے مقابل اسلام کا اصل چہرہ کیوں نہیں لاتے۔کہاں ہیں امت کے وارث ؟کہاںہیں اسلامی ممالک کے حکمران،جو امت کے سروں پر گناہوں کے بوجھ کی طرح سوار ہیں۔کہن سال امریکی صدر ہیں بتا رہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے۔لاکھوں مسلمانوں کا قاتل امریکہ…. حد سے بھی پرے کی بات!
ریاض میں جمع ہوکر اسلام کی صداقت اور امن کاجھنڈا بلند کرنے والے پہلے کہاں تھے جب ان کے اسی ”کفیل“نے سر اٹھانے کے آرزومند اور طلب گار ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔اسلام کبھی کسی دور میں کسی کےلئے خطرہ نہیں رہا،پھر ہمیں ہشکارنے والے اپنے آگے کیوں لگا رکھتے ہیں؟حیرت ہے اس انسانی غول پر جو کشاں کشاں قدم بوسی کےلئے حاضر ہوتا ہو اور واپسی پرمحسن اعظم کے در پر بھی جا پہنچتا ہے آخر کس منہ سے؟صاف نظرآتا ہے کہ امریکہ بادشاہ دو چار مزید اسلامی ملکوںکو اپنی شکا ر گاہ بنانے کا فیصلہ کرچکا۔اسے اپنی کلہاڑی کےلئے مسلمانوں کے جنگل سے دستے بلکہ دستوں کی ضرورت ہے جو آسانی سے دستیاب ہیں۔ ریاض میں جمع ہجوم مومناںکو دیکھ کر احمدی نژاد یاد کو یاد کیا،جس نے بش بادشاہ سے کہا تھا اب بس کرو،تم سے تمہارا اخلاق تو چھن گیا اب ریاست ہا ئے متحدہ بھی چھننے والا۔ لوگ فتوے بازی سے معاف رکھیں تو سچ یہی ہے،بےشک ہزار تاویلیں موجود ہیں۔کھلے تضاد پر مبنی معاشرہ کب تک ہجوم میں گم رہے گا؟کبھی یورپ کا ہجوم کبھی،عربوں کا اژدہام،کبھی امت مسلمہ کے بے حمیت منزل فروشوں کا اکٹھ۔جن کی کیفیت اپنے خورشید پر پردے ڈالنے جیسی ہے۔
مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے
ہے جو سوال کرے امریکہ بادشاہ سے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان حضرت عیسیٰ ؑ کا پیرو کارہو، خود کو انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا ہو، لبرل ازم کواپنی تہذیب و تمدن کا ماڈل بتاتاہو،دہشت گردی کے ساتھ مقابلے کو اپنا نعرہ بتاتا ہو، ایٹمی اور مہلک اسلحے کا سخت مخالف ہو، پوری دُنیا کو ایک گاﺅں بنانے کا خواہش مند ہو، ایسی دُنیا کہ بالآخر حضرت عیسیٰ ؑ اور صالحین اس پر حکمرانی کریں، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود دوسرے ممالک پر حملے اور چڑھائیاں ہوں، لوگوں کی جان و مال و حیثیت کو نظر انداز کر دیا جائے؟ کیا چند خطرناک لوگوں کے بہانے سے ملکوں کو نابود کیا جاسکتاہے؟، کیا مہلک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر کسی ملک پر قبضہ جائز ہے؟ کیا عراق کے ایک لاکھ سے زیادہ نہتے لوگوں کو قتل کرنا جائز ہے؟ کیا اس ملک کی زراعت و صنعت کونابود کیا جا سکتا ہے؟ کیااس ملک میںایک لاکھ اسی ہزار فوج رکھی جا سکتی ہے؟ لوگوں کی جان، مال، ناموس کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر ہے؟، کیا اس طرح کے ملکوں کو پچاس سال پیچھے دھکیل دینا درست ہے؟ آخرکس قیمت پر؟ کس وجہ سے؟ آخر کیوںمریکہ اپنے اور دوسروں کے خزانوںکو برباد کرتا ہے؟ کیا یہ سرمایہ انسانیت کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کیا جاسکتا؟ ہزاروں بلکہ لاکھوں بےگناہ نوجوانوں کو آتش جنگ میں جھونکنے، انہیں اپنے گھر سے بے گھر کرنے کا کیا جواز ہے؟ ان معصوم نوجوانوں کو قاتل بنانے کا کیا کی کیا ضرورت؟ کیا یہ نوجوان اس کے ہدف اور شیطانی کھیل میںنفسیاتی مریض بن کر خود کشیاں نہیں کر رہے؟ کیا مختلف ملکوں میں متعین امریکی فوجی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہو گئے؟ کیا مسلسل تابوتوں کے تحفے ان کے والدین کو نہیں بھجوائے جا رہے؟ آخر یہ سب کس بہانے، کس قیمت اور کس جواز کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ کیا یہی مغرب کی تمدن وہ اعلیٰ و ارفع تہذیب و ثقافت ہے؟ کیا یہ سب کچھ مہلک ہتھیاروں اور دہشت گردو ں کی تلاش کے بہانے نہیںہوتا؟ کون سے مہلک ہتھیار؟ کیا وہ جن کا سرے سے وجود ہی نہیںتھا؟ یا وہ جو خود امریکیوںنے دیئے تھے؟ عراق کےخلاف جنگ،صدام کے بہانے نہیں بلکہ مہلک ہتھیاروں کے بہانے شروع کی گئی تھی، جب مہلک ہتھیار نہیںملے توعراقی عوام کو جمہوریت کا تحفہ عطا کرنے کے بہانے دہشت گردی جاری و ساری رہی۔ مان لیا کہ صدام وحشی تھا، وہ پکڑا بھی گیا، حکومت کاتختہ بھی الٹ گیا، اس پر مقدمہ بھی قائم ہو گیا، اسے پھانسی بھی ہو گئی،لیکن کیایہ بات درست نہیں ہے کہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں امریکیوں نے ہی صدام کی بھر پور مدد کی تھی؟ افریقی نہایت محنتی، ذہین اور با استعداد قوم ہے۔ یہ لوگ انسانیت کی فلاح و بہبود کےلئے بہت اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن فقر و تنگدستی نے انہیں اس کام سے روک رکھا ہے۔ افغانستان میں روس کو سبق سکھانے کےلئے جہاد مقدس مان لیا اور جب افغانیوں نے امریکیوں کی کھڑپینچی ماننے سے انکار کر دیا تو توپوں کے دہانے ان کی طر ف کر دیئے۔ ایسا کیوں ہے کہ عربوں کی بادشاہت اچھی لگتی ہے لیکن ترکوں اور مصریوں کی جمہوریت کاٹ کھاتی؟ کیا افریقہ کے عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیوں ان کی معدنیات،تیل اور سونے جیسے عظیم ذخائر کو لوٹا جا رہا ہے؟جبکہ وہ خود ان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ کیا یہ سب حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات کا نتیجہ ہے؟ کیا یہ سب حقوق انسانی کا تقاضا ہے؟ایرانی عوام کے ذہن میں بھی بہت سارے سوالات ہیں مثلاً یہ کہ برسوں قبل ایران کی قانونی حکومت کےخلاف جو بغاوت ہوئی اس کا کیا جواز تھا؟ صدام کی حمایت کا جواز کیا تھا؟ ایرانی مسافر بردار جہاز کو خلیج فارس میں کیوں نشانہ بنایا گیا؟ ایران کے اثاثوں کو کیوں منجمد کیاگیا ؟ اور مسلسل دھمکیوں کی وجہ کیا ہے؟ کیا ایران کی خود مختاری امریکا اور اس کے حواریوں کو پسند نہیں؟
کیا یہ امریکا کا اور اس کے میڈیا کا بنیادی فرض نہیں کہ خود تو الرٹ رہیں لیکن عوام کو ذہنی سکون فراہم کریں؟کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ یہ میڈیا وار صرف افغانستان پر حملے کاجواز تراشنے کےلئے تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھرحملہ بھی ہوگیا اور طالبان نظام بھی ختم ہوگیا اور اب آپ کو کیا پریشانی ہے؟ صدام حکومت بھی ختم ہو گئی، اب تو آپ کے عوام مطمئن ہوجانے چاہئیں، لیکن آپ کے میڈیا اور خود آپ نئے محاذ کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ صحیح اور سچ کو منظر عام پر لانا، خبروں کو امانت کے ساتھ نشر کرنا میڈیا کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔افسوس کہ مغربی میڈیاکے بعض ذرائع نے اس بنیادی اصول کو ضائع کر دیا ہے۔ عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی والا جھوٹ اتنی شدت سے بولا گیا اور مکرر در مکرر بولا گیا کہ تمام عوام کو یقین دلایا گیا کہ عراق خطرہ ہے، پھر کیا ہوا، حملہ ہوگیا پھر وہ مہلک ہتھیار کہاں گئے؟آسمان کھا گیا یا زمین نے نگل لئے،کچھ تو بتائیے؟ اگرسب جھوٹ تھا توعراقی عوام سے معذرت کیجئے اورعراق سے نکل جائیے، اسی میں آپ کی اور عراقیوں کی بہتری ہے۔ افغانیوں کا قتل عام کیا اس پر ندامت کیجئے، نئے محاذ نہ کھولئے، ایران و شام کی طرف دیکھ کرغرانے کا سلسلہ بند کیجئے۔ اب بہت ہوگیا۔امریکا نے بہت نمبرداری کر لی، بہت ” شہرت “کمالی۔اب مسلم دنیا کے کندھوں سے اتر جانے کا وقت ہے۔
امریکا کی ایجاد کردہ جھوٹی اور جعلی فضامیںحقائق پر گرد وغبار پڑ جاتا ہے اور پھر حقائق نظر نہیں آتے۔ کیا اگر ہم سب مل کر انبیاکی تعلیمات یعنی توحیدو اطاعت و رسالت و قیامت پر عمل کریں تو یہ دُنیا جنت نہیں بن جائے گی۔ ظلم کی موجودہ ساری صورتیں صرف اور صرف خدا اور انبیاءکی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ کیاان تمام باتوں سے صلح،پیار و محبت کی فضا پیدا نہیں ہوگی؟ کیا یہ تمام باتیں شعوری یا لا شعوری طورپرانسانیت نے قبول نہیں کی ہیں؟ تو پھر اس امت کے حکمران اتنے بھولے کیوں ہیں کہ جب امریکا چاہتا ہے ان کو ایک لاٹھی سے ہانک لیتا ہے؟یہاں تک کہ لاٹھی ٹوٹ بھی جائے تو اس سانپ کے بل نہیں جاتے۔
جب کبھی حکومتوں نے عدل و انصاف کو چھوڑ کرظلم و ستم کی راہ اپنائی خدا وند تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے مظلوم بندوں کی مدد فرمائی اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا، کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ حکومتوں کی مرضی کےخلاف مختلف واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی غیبی طاقت یہ سب کرواتی ہے اور جب وہ ہستی کسی چیز کا ارادہ کر لے پھر انسان کی مرضی نہیں چلتی۔ایک وقت ٓاتا ہے کہ سب صدام جیسے انجام کو پہنچ جاتے ہیں اور ان کو وہاں تک یہی امریکا بہادر لے کر جاتا ہے۔بس پھانسی کے پھندے تک کا ساتھی۔شک ہو تو ان مسلم حکمرانوں کی تاریخ پڑھ لیجئے جنہوں نے امریکا کی چاپلوسی کی۔یہ الگ بات کہ ہم حادثوں اور تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved