تازہ تر ین

نئے ضلعوں اور تحصیلوں کیلئے آواز

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
پنجاب میں اب لو گ صوبوں کے مطالبے کو چھوڑکرنئی تحصیلوں،ضلعوں اور ڈویثرن کےلئے آواز اٹھارہے ہیں۔ اس صورتحال میں کہاجاسکتاہے کہ عوام میںاتنی بڑی تبدیلی کے پیچھے شاید سیاسی جماعتوں کی کامیاب حکمت عملی ہے کہ انہوں نے صوبوں کے مطالبہ کے پیچھے عوام کو اتنا دوڑایا ہے کہ اب وہ تھک گئے ہیں۔یوںوہ زیادہ کی بجائے تھوڑے پر گزارہ کرنے پرتیار ہوگئے ہیں ان کو آخر سمجھ آگئی ہے کہ اس نظام میں ممکن ہی نہیں ہے کہ سیاسی جماعتیں پنجاب سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے کوئی پیشرفت کریں۔ مطلب وہ اس بات کو جان گئے ہیں کہ ”کتی چوروں کیساتھ ملی ہوئی ہے“دوسری طرف ایک رائے ہے کہ اب بھی اتنی گنجائش موجود ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین الیکشن میں اداکاری،ڈرامہ بازی یاپھر سیاسی چالوں میں بطور پاپولر نعرہ سرائیکی، بہاولپور، ہزارہ، مہاجر یاپھر پشتون صوبہ کو استعمال کریں لیکن عملی طورپر وہی سیلبس چلے گاجوکہ مدت سے چلتاآرہاہے کہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے رکھواور اقتدار کا راستہ سیدھا کرو۔ پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے سرائیکی صوبہ کے حامیوں کو اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں مایوس کیاتو دوسری طرف وزیراعظم نوازشریف نے بھی اپنے الیکشن وعدے کے مطابق بہاولپور صوبہ بحالی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایاہے،اس بات کے باوجود کہ ان کی حکومت ختم ہونے میں ایک سال کی مختصر مدت رہ گئی ہے۔
یادرہے کہ ایک وقت میں پنجاب میں تو نئے صوبوں کا ایشو اس حد تک بڑھ گیا تھاکہ پنجاب اسمبلی نے بھی متفقہ قراردادوں کے ساتھ پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرنے کی باآواز بلند اجازت دی تھی،ادھروفاق میں بھی پیپلزپارٹی دور حکومت میں نئے صوبوں کیلئے کمیشن بنایا گیا تھا،کاروائی بھی ہوئی،سینیٹ میں بھی بات بڑھی لیکن نتیجہ وہی نکلاہے جوکہ اس ملک میں ہوتاہے کہ وہ کام نہیں کرنا جوکہ عوام کے مفاد میں جائے۔ پیپلزپارٹی جوکہ اپنے تئیں اس بات کا تاثردیتی ہے کہ وہ سرائیکی صوبہ کے حامی ہے،وہ اب اس ایشو پر بات کرنے پر تیار نہیں،خاموش ہے،اس کی قیادت جوکہ پہلے پنجاب میں سیاست ہی اس نعرے پر کرتی تھی، اب سوال کریں تو الجھ پڑتے ہیں۔پیپلزپارٹی کی قیادت سرائیکی صوبہ سے پیچھے ہٹی تو سرائیکی بنک کا نعرہ آصف علی زرداری نے سید یوسف رضاگیلانی کے آستانہ پر دے آئے تھے لیکن بعد میں اس سے بھی مکر گئے اور پانچ سال اقتدارکو انجوائے کرنے کے بعد پتلی گلی سے اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ دبئی نکل گئے۔پیپلزپارٹی کی سیاست سے لگتاہے کہ اس بات کی اچھی طرح سمجھ آگئی ہے کہ پنجاب میں نئے صوبوں کا قیام عمل میں آیاتو پھر کراچی کو مہاجر صوبہ کی شکل میں تسلیم کرنا پڑے گا جوکہ ان کو قابل قبول نہیں ہے۔ ادھرمسلم لیگ نواز جوکہ پوری قوت کے ساتھ وفاق اورپنجاب میں حکومت کررہی ہے۔وہ بھلا کیوں چاہے گی کہ پنجاب کو لاہور،سرائیکی اور بہاولپور صوبوں میں تقسیم کرکے اپنے اقتدار کو لاہور تک محدود کرے بلکہ وہ پندرہ کروڑ کے پنجاب کو اپنے کنڑول میں رکھ کر حکومت کرنا پسند کرے گی۔اسی طرح لیگی قیادت پرامید ہے کہ اٹھارہ کے الیکشن میں بھی وہ اسی طرح کامیابی کے جھنڈے گاڑھے گی جس طرح پچھلے الیکشن میں متنازع الیکشن کے باوجود حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔پاکستان تحریک انصاف ابھی تک اس بات پر واضع موقف نہیں رکھتی ہے کہ وہ مستقبل میں حکومت میں آنے کی صورت میں نئے صوبوں کے معاملے پرکیاکرے گی۔جماعت اسلامی،جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں بھی وہ کرنا چاہیں گی جوکہ اقتدار میں بیٹھی جماعتوں کا لائحہ عمل ہوگا۔دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ ایم کیوایم بھی مہاجر صوبہ کے معاملے پر بہت پیچھے چلی گئی ہے،اس کو بھی لگتاہے کہ پیغام ملاہے کہ صوبوں کی سیاست کرنے سے گریز کرے،اور انہوں نے بھی اچھے بچوں کی طرح ایم کیوایم لند ن اور ایم کیوایم پاکستان کے کھیل تک اپنے آپ کو محدود کرلیاہے۔پنجاب میں سرائیکی صوبہ کے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان تھل کے عوام کا ہواہے۔ملتان نے سرائیکی صوبہ کے نعرے میں وفاق اور لاہور کو انگیج کرکے اپنے مفادات کا تحفظ یوں کیاہے کہ جوبھی پراجیکٹ ملاہے اس کو ملتان تک ہی محدود کرلیاہے،یوں ملتان نے تو سرائیکی نعرے پر ترقی کی منازل طے کی ہیں لیکن اس کے ساتھ تھل کے ضلعوںمیانوالی،بھکر،لیہ،جھنگ اور مظفرگڑھ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ملتان میں ایئرپورٹ،میڈیکل کالج،انجینئرنگ یونیورسٹی،نوازشریف یونیورسٹی،ائر یونیورسٹی،ہائی کورٹ بنچ،بہاوالدین زکریا یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی،میٹرو بس سروس،،نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر اہم ادارے بن گئے جبکہ تھل میں اس طرح ایک ادارہ بھی موجود نہیں ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ملتان کے سیاستدان سرائیکی صوبہ کے نعرے کواپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں اور تھل جیسے اہم علاقہ میں شامل اضلاع کے بارے میں ان کی طرف سے کبھی آوا ز نہیں اٹھائی گئی ہے۔دوسری طرف تھل کے ارکان اسمبلی بھی خاموش تماشائی کا کردار اداکررہے ہیں اورلوگوں کے مسائل ان کی توجہ کے مرکز نہیں ہیں۔ لیکن لوگ پرامید ہیں کہ تھل کے عوام صورتحال کو سمجھ رہے ہیںکہ ان کی جدوجہد کا ثمر ملتان جاررہاہے۔یوں وہ تھل مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
(کالم نگار جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved