تازہ تر ین

ہماری اسمبلیوں کے ”مفلس“ ممبران

یعقوب غزنوی …. خاص مضمون
یہ بہت اچھا ہوا کہ سندھ حکومت نے اپنے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی تنخواہوں میں فی الفور سوا سو فیصد سے زائد اضافہ کردیا‘ ورنہ تو شاید ان بے چاروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے اور گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آجاتی۔ اب اختیارات کا بے جا استعمال کیونکہ معمول ہوگیا ہے اس لئے کوئی ان باتوں کو اہمیت بھی نہیں دیتا۔ پہلے صحافی وکالم نگار اس جانب متوجہ ہوا کرتے تھے‘ اب وہ بھی اس طرف سے لاتعلق محسوس ہوتے ہیں۔
ابھی بہت زیادہ دن نہیں گزرے کہ سینٹ اراکین بھی اپنی تنخواہیں بڑھانے کے ایجنڈے پر ایک دوسرے سے اختلافات رکھنے کے باوجود متفق ہوئے اور جھولیاں بھر لیں۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی نے اپنے ارکان و عہدیداران کی تنخواہوں میں ہوش ربا اضافہ کیا تھا‘ قوم کی امنگوں کی ترجمان قرار دی جانے والی قومی اسمبلی کے ارکین بھی قومی خزانے سے اسی قسم کے خراج کے لئے یک زبان ہوئے۔ خیبر پختون اور بلوچستان اسمبلیوں میں بھی یہ کھیل کھیلا جائے گا۔ رات دن عوامی درد کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کسی ایک سیاسی ”رہنما“ نے بھی کسی ایوان کے فلور پر یہ نقطہ اعتراض نہ اٹھایا کہ اس ملک کی اکثریت غربت و افلاس میں مبتلا ہے۔ لہٰذا قومی خزانے سے ان کی فلاح و بہبود کا اہتمام کیا جائے‘ ہمیں نہ نوازا جائے۔ سرکاری سطح پر بارہ ہزار کا اعلان ہوئے مدت گزری‘ مگر غریب مزدور کی تنخواہ آج بھی آٹھ دس ہزار روپے سے زیادہ نہیں۔ سرکاری ملازمین کا جو استحصال ہورہا ہے اس جانب توجہ کون دے گا؟ اپنی تنخواہوں میں یکمشت سوا سو فیصد سے زائد اضافہ کرانے والے وہی ہیں جنہیں عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے ووٹ اور سپورٹ کی طاقت بخشتے ہیں۔ کاندھوں پر اٹھا کر ایوان تک پہنچاتے ہیں مگر اختیار ملتے ہی یہ طبقہ قوم کے مفادات پر سودے بازی کر لیتا ہے۔ صد حیف کہ ہمارے عوامی نمائندے خواہ وہ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں یا مذہبی جماعتوں سے ذاتی مفادات کے لئے لمحوں میں ذاتی و سیاسی تو الگ اصولی اختلافات تک فراموش کرکے ایک ہوجاتے ہیں۔ ایسی کسی مثال کی یہاں چنداں ضرورت نہیں کہ یہ معاملات ایک سڑک چھاپ کو بھی ازبر ہیں۔
شنید ہے کہ ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ پنجاب اسمبلی سے مسابقت میں کیا گیا ہے تاکہ انہیں پنجاب اسمبلی کے ارکان کے سامنے کسی ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ ان کی تنخواہیں ان سے کم ہیں۔ اس تناظر میں سندھ اسمبلی ارکان و عہدیداران کی تنخواہوں میں جو چھپر پھاڑ اضافہ ہوا ہے تو اس کی روشنی میں ان کی تنخواہیں 74 ہزار سے بڑھ کر پونے دو لاکھ ہوگئی ہیں۔ یوں اب بھی ارکان پنجاب اسمبلی کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہوسکیں گے‘ انہیں احساس محرومی و ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ ان کی تنخواہ پنجاب اسمبلی کے اراکین سے کم ہے۔ ویسے سندھ اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کا بل جس نے بھی پیش کیا‘ اس نے وسعت قلبی سے کام نہیں لیا بلکہ کنجوس فطرت کا مظاہرہ کیا۔ بھئی مسابقت کا ہی معاملہ تھا تو پنجاب اسمبلی ہی کیوں؟ بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوںسے موازنہ کیا جاتا کہ ان کی تنخواہیں تو پنجاب اسمبلی کے اراکین سے بھی زیادہ ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن کو سوا پانچ لاکھ روپے سے زائد تنخواہ ملتی ہے یہ اور بات کہ بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے، نہ وہاں کے عوام کو پانی میسر ہے نہ دیگر سہولیات زندگی ،یہ سب کچھ میسر ہے تو مراعات یافتہ طبقے اور ارکان اسمبلی کو۔ سندھ کے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں پر نظرثانی کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کو اس حوالے سے بتایاگیا کہ پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان کے ایک رکن اسمبلی کی بنیادی تنخواہ تین لاکھ پچاس ہزار روپے ہے، جبکہ گھر کا کرایہ، بجلی، ٹیلی فون اور دیگر مراعات کی مد میں ڈھائی لاکھ سے زائد ادائیگی کی جاتی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی بنیادی تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے، جبکہ یوٹیلٹی بلز اور دیگر مراعات کی مد میں انہیں مزید پونے دو لاکھ روپے کی ادائیگی ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوااسمبلی اراکین کی بنیادی تنخواہ اسی ہزار روپے ہے اور انہیں ڈھائی لاکھ روپے یوٹیلیٹیز اور دیگر مراعات کے لیے دئیے جاتے ہیں۔
مذکورہ بالا اعداد وشمار کی روشنی میں اب ذرا عوام پر نظر ڈالیے اور ایمانداری سے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ان غریبوں کو ایسی کون سی مراعات نصیب ہیں، انہیں تو پینے کا صاف پانی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات میسر نہیں۔ سرکاری ملازمین سے ہٹ کر پرائیویٹ ملازمین پر نظر ڈالیں، کتنے ہوں گے جن کی کل تنخواہ ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ کے برابر بھی نہ ہوگی۔ یہاں تو ایک متوسط خاندان کا سربراہ بھی آٹھ گھٹنے کی کمر تو ڑ محنت اور تین سے چار گھنٹے ٹریفک کے اژدھام کو برادشت کرکے پچیس سے تیس ہزار روپے ہی کماپاتا ہے۔ سیٹھ اور ساہوکار انہیں بھی بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔ ساری دنیا کو آئینہ دکھانے والے الیکٹرانک میڈیا ملازمین کے حال کا بھی پتا ہے۔ انہیں بھی کئی کئی ماہ تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اپنے حق کے لیے کوئی بلند آہنگی کا مظاہرہ کرے تو یک جنبش زباں ملازمت سے فارغ کردینا بھی کوئی نئی اور اچھوتی بات نہیں۔ 80 سے 85 فیصد عوام آج بھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں کثرت سے وہ لوگ ہیں جو تین وقت کے بجائے بہ مشکل دو وقت کی روکھی سوکھی پھیکی خوراک حاصل کرکے زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔ نہ انہیں طبی سہولیات حاصل ہیں، نہ ان کے بچوں کے لیے تعلیم کا کوئی بندوبست ہے۔ ان غریبوں کے نام پر عالمی سطح سے جو امداد ملتی ہے وہ بھی قوم کے نام نہاد و ناجائز استعمال کرکے بندر بانٹ کرلیتے ہیں، ان میں سے کتنوں ہی نے اپنی اپنی این جی اوز بنارکھی ہیں تاکہ عوام کو ملنے والی امداد سے مستفید ہونے کی سبیل رہے اور ان پر انگلی نہ اٹھائی جاسکے۔
عوام کو ان کے بنیادی مسائل سے نجات دلانے والے خود ہی قومی خزانے پر بھاری پڑرہے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانی عوام کو ایک ایک رکن صوبائی اسمبلی دو سے چھ لاکھ میں پڑ رہا ہے۔ باطنی معاملات تو پردہ¿ اخفا میں ہیں۔ تنخواہوں کا موجودہ بل منظور ہونے سے قبل سندھ اسمبلی اراکین کی بنیادی تنخواہ 24ہزار روپے تھی‘ جو ایک سو فیصد سے بھی زائد اضافے کے بعد پچاس ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے‘ جبکہ یوٹیلیٹیز سمیت دیگر مراعات ملا کر یہ تنخواہ ایک لاکھ 74ہزار بنے گی۔ یہ ایک عام رکن کا تخمینہ ہے۔ سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر‘ وزیراعلیٰ‘ وزراءاور مشیران کی مراعات اور بھی سوا ہیں۔ موجودہ منظورشدہ بل میں ”غریب ارکان اسمبلی“ کیلئے یہ سہولت بھی رکھی گئی ہے کہ اگر وہ کسی روڈ ایکسیڈنٹ یادہشت گردی کا شکار ہو جائے تو اس کے ورثاءکو پچاس لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل اسمبلی سے منظور کرانے والی کمیٹی کے سربراہ سینئر وزیر نثار کھوڑو نے شرمندہ ہوئے بغیر ”غریب ارکان اسمبلی“ کی کسمپرسی کا رونا روتے ہوئے یہ مضحکہ خیز بات بھی کہی کہ ”کم تنخواہ ہونے کی وجہ سے اراکین کو مالی مشکلات کا سامنا ہے‘ لہٰذا تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر سمجھا گیا۔“ مجھے پیپلزپارٹی کی گزشتہ وفاقی حکومت کی وہ بات بھی نہیں بھولتی جب سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اسمبلی کی مدت پوری ہوتے دیکھ کر اپنے اور اپنے وزراءکیلئے بھاری بھر کم مراعات کی منظوری دیتے ہوئے قومی خزانے پر شب خون مارنے کی کوشش کی تھی۔ اب پھر حکومتوں اور اسمبلیوں کے چل چلاﺅ کا وقت قریب ہے تو عوام کی خون پسینے کی کمائی (قومی خزانے) پر نظر رکھنے والے شہ دماغ اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرانے میں مصروف ہو گئے ہیں۔
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں‘ جہاں عوامی نمائندوں کو عوام کے بجائے اپنے مفادات عزیز ہیں‘ جہاں مراعات یافتہ طبقات کو مزید سہولیات بہم پہنچانے کی سعی کو ہی صحیح سمجھ لیا گیا ہے۔ ارکان اسمبلی کی تنخواہیں بڑھنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو اگر عوامی سطح پر بھی اسی طرح تنخواہوں پر نظرثانی کی جائے۔ ارکان اسمبلی تو عوام کے خادم ہوتے ہیں‘ انہیں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے بجائے عوامی خدمت کے کاموں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے‘ انہیں اپنے فرائض منصبی دیانتداری سے ادا کرنے کا پابند بنایا جائے‘ انہیں احساس دلایا جائے کہ وہ مراعات کے حصول کی دوڑ سے نکل کر عوام کو ان کے حقوق دلانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
گستاخی معاف! یہ سب کچھ تونہیں ہونا چاہئے جو ہماری اسمبلیوں میں ببانگ دہل ہو رہا ہے کہ ارکان اسمبلی اپنے ہی درمیان میں سے کوئی کمیٹی تشکیل دیں اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں من چاہا اضافہ کرا لیں۔ خود ہی مدعی‘ خود ہی وکیل اور خود ہی منصف۔ یہ کون سا انصاف ہوا؟ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے عمل کو صاف اور شفاف بنانے کیلئے کسی غیرجانبدار کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری ہے یا پھر اس کیلئے کوئی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے‘ جو ارکان اور وزراءکی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کی تنخواہ اور مراعات کا تعین کرے۔
(کالم نگار قومی ،عوامی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved