تازہ تر ین

ہمارا صوبہ بہاولپور

خان خدا یار خان چنڑ …. بحث ونظر
بہاولپور صوبہ کے حوالے یہ تحریر ہر باشعور پاکستانی کے لئے لکھنا ضروری تھی تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل کو معلومات ہونی چاہئیں کہ بہاولپور والے بہاولپور صوبہ کی بات کیوں کرتے ہیں۔ ہم بہاولپور کو صوبہ نہیں بنانا چاہتے بلکہ تاریخ گواہ ہے ساری باتیں میں نے لکھ دی ہیں۔ بہاولپور پہلے صوبہ تھا اب ہم اس کو بحال کروانا چاہتے ہیں جو ریاست بہاولپور کے باسیوں کا حق ہے جو کہ ہماری ایک آزاد‘ خودمختار ریاست تھی‘ اس کو ختم کرکے ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہمیشہ کے لئے تخت لاہور کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ اب اس تحریک کا والی بہاولپور کا ہر نوجوان ہے۔ اب اس تحریک کو چلانے کا بیڑہ نوجوانوں نے اٹھا لیا ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد بہاولپور ایک صوبائی حیثیت سے معرض وجود میں آئے گا۔ تخت لاہور سے جان چھوٹ جائے گی‘ باقی ساری معلومات اس تحریر میں درج ذیل ہیں۔
1947ءسے پہلے بہاولپور ایک آزاد ریاست تھی۔ 1947ءمیں جب پاکستان وجود میں آیا‘ 13 اکتوبر 1947ءکو نواب سر صادق نے پاکستان سے الحاق پر دستاویزات پر دستخط کئے۔ نواب آف بہاولپور نے پاکستان بننے سے پہلے تحریک پاکستان کو بھاری رقم سے امداد بھی دی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد نواب صادق آف بہاولپور نے دس کروڑ روپے کا عطیہ دیا جو آج کے حساب سے بیالیس ارب روپے بنتے ہیں۔ نواب آف بہاولپور نے پاکستانی فوج کو ریاست بہاولپور کا فوجی سازوسامان کی بھی بھاری تعداد میں امداد کی تھی۔
کتنے دکھ کی بات ہے کہ جس ریاست بہاولپور نے پاکستان بننے اور بنانے پر اتنی مالی امداد کی‘ آج اس ریاست کا وجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا ہے۔ یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”جس کے ساتھ بھلا کرو اس کے شر سے بچو۔“
ان سے کوئی پوچھے نواب آف بہاولپور کے وفا کرنے کی سزا جو ہمیں مل رہی ہے کب ختم ہوگی۔ آخر کیوں؟
1955ءمیں امیر آف بہاولپور نے ون یونٹ کے نفاذ پر قومی یکجہتی کے لئے اس کو تسلیم کیا۔ وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے ون یونٹ نظام متعارف کرایا تھا۔ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد تھے۔ 1955ءمیں ون یونٹ کے نفاذ پر بہاولپور کو دوسرے صوبوں کی طرح اس میں ضم کردیا لیکن یہ معاہدہ کیا گیا تھا ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بہاولپور کو دوبارہ صوبے کی حیثیت سے بحال کیا جائے گا۔ آج تک نہیں ہوا۔ آخر کیوں؟
1970ءمیں ون یونٹ کے خاتمے پر مارشل لاءایڈمنسٹریٹر غیرقانونی‘ غیرآئینی ڈکٹیٹرشپ آرڈیننس کے تحت صوبہ بہاولپور کو پنجاب میں شامل کردیا۔ بہاولپور کی عوام کے ساتھ نہایت ناانصافی ہوئی۔ قائداعظم محمد علی جناح کے کئے گئے وعدوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ اس وقت بھی بہاولپور صوبہ کی تحریک چلی تھی جس میں کچھ شہادتیں بھی ہوئیں‘ سینکڑوں‘ ہزاروں لوگوں نے جیلیں بھی برداشت کیں۔ ہر طبقے کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں احتجاج ریکارڈ کروایا جو کہ آج تک نہیں سنی گئی۔ آخر کیوں؟
گورنر جنرل خواجہ نظام الدین نے امیر آف بہاولپور کے ساتھ 30 اپریل 1951ءکو ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جو کہ انڈیا ایکٹ 1935ءکے تحت ریاست بہاولپور کو صوبہ کا درجہ دیا گیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر محمود حسین نے اس معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ آپ کے علم میں ایک اور بات ہونی چاہئے‘ 1951ءتک بلوچستان کو صوبہ نہیں بنایا گیا تھا‘ بہاولپور پاکستان کا چوتھا صوبہ شمار ہوتا تھا‘ اس وقت بھی بہاولپور میں ایک خودمختار ہائیکورٹ بھی کام کرتا تھا۔ بہاولپور کی اپنی صوبائی حیثیت تھی۔
1947ءسے لے کر آج تک ریاست بہاولپور کی عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہورہی ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں‘ غریبوں کو زکوٰة فنڈ میں حصہ نہیں مل رہا‘ کسانوں کو فصلیں اگانے کے لئے ان کے حصے کا پانی نہیں مل رہا‘ ہمارے دریا کو بیچ کر ہماری زمینوں کو ہمیشہ کے لئے بنجر بنا دیا گیا ہے‘ ورنہ ہماری ریاست بہاولپور میں کسی چیز کی کمی نہ تھی بلکہ زمین سونا اگلتی تھی۔ اب ہماری تمام سرکاری زمینوں کو بیچا جارہا ہے‘ ہمارے چولستان کی زمین اپر پنجاب کے لوگوں میں تقسیم کی جارہی ہے جو کہ ریاست بہاولپور کی عوام کا حق تھا‘ ہمارا حق کب ملے گا۔ آخر ایسا کیوں؟
1970ءسے لے کر اب تک صوبہ پنجاب میں سترہ اضلاع اور پانچ نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں۔ بہاولپور ڈویژن کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ اسی طرح 1200 ایکڑ زمین کو سیراب کرنے کے لئے بہاولپور کی نہروں کو 3.5 کیوسک پانی دیا جارہا ہے جبکہ اپر پنجاب کے علاقے کی اتنی ہی زمین کے لئے 9 کیوسک پانی دیا جارہا ہے۔ حالانکہ سب سے زیادہ پانی کی ضرورت بہاولپور کی سرزمین کو ہے۔ اس لئے کہ یہ چولستانی علاقہ ہے۔ ہمیں حق نہیں دیا جارہا ہے۔ آخر کیوں؟
میں ریاست بہاولپور کے تمام نوجوانوں‘ وکلاءحضرات‘ تاجر برادری‘ بزرگوں‘ کسانوں‘ مزدوروں‘ طالب علموں اور تمام ماﺅں‘ بہنوں اور ہر طبقہ فکرکے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ تحریک عوامی اتحاد صوبہ بہاولپور میں شامل ہوکر اپنا حق لیں اور ہماری آنے والی نسلیں ان کی غلامی سے نکل کر سکھ کا سانس لے سکیں‘ ورنہ ہمیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھنا حق ملتے نہیں چھینے جاتے ہیں۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے اپنی حالت آپ بدلنے کا
(کالم نویس چیئرمین عوامی اتحادبحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved