تازہ تر ین

توبہ واستغفار کا مہینہ

مختار عاقل …. دوٹوک
وزیر اعظم نواز شریف نے جس دن ساہیوال کول پاور پلانٹ کا افتتاح کیا‘ اسی دن پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری تھر پارکر میں واقع تھر کول فیلڈ جا پہنچے جہاں انہوں نے کوئلے سے بجلی بنانے والے منصوبے کا جائزہ لیا‘ اس منصوبے سے جون 2018ءتک 300میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تھرکول پاور پراجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ آصف علی زرداری غیر سرکاری شخصیت کے طور پر ان کے ہمرکاب تھے۔ وہ اپنی صدارت کا دور گزار کر صرف پیپلز پارٹی کے رہنما تھے۔ میثاق لندن پر عملدرآمد جاری تھا۔ اقتدار کے ایوانوں میں فوج کی مداخلت اور شمولیت روکنے کےلئے دونوں لیڈرز میں اتفاق تھا۔ اب دونوں میں ناچاقی ہے۔ آصف زرداری دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ آئندہ نواز شریف کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ اس روش کے باعث انہیں کئی رعایتیں بھی مل گئی ہیں۔ فوج کےخلاف اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان پر ڈیڑھ سالہ از خود جلا وطنی کاٹنے کے بعد جب سے پاکستان واپس آئے ہیں‘ اپنے کئی ساتھیوں کو قید سے آزاد کراچکے ہیں ان میں ڈاکٹر عاصم حسین ‘سپر ماڈل ایان علی‘ علامہ حامد سعید کاظمی سمیت کئی افراد شامل ہیں جو اسیری کے کٹھن دن گزار کر اب آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ آصف زرداری گزشتہ دنوں حیدرآباد کے قریبی شہر ٹنڈو الہ یار گئے تھے جہاں گوٹھ دریا خان مری میں ان کے دست راست رئیس غلام قادر مری نے زبردست ضیافت کی۔ غلام قادر ان کی وسیع و عریض اراضی کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ آصف زرداری کے دو قریبی ساتھی اشفاق لغاری کراچی اور نواب لغاری اسلام آباد سے غائب ہوئے تھے اور اب تک لاپتہ ہیں۔ نواب لغاری کا نام سیکریٹری اریگیشن سندھ عالم بلوچ کے قتل کی ایف آئی آر اور 30ستمبر 1988ءکو پکا قلعہ حیدر آباد کے قتل عام میں شامل ہے جس میں 250افراد صرف 15منٹ میں لقمہ ¿ اجل بنا دیئے گئے تھے۔ اقتدار کا کھیل بڑا ظالم ہے ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ءکے انتخابات میں زبردست اکثریت کے باوجود شیخ مجیب الرحمان کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا اور سابقہ مشرقی پاکستان کی سرزمین پر 25لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اشوک اعظم بادشاہ اور فاتح نے میدان جنگ میں 26ہزار نعشیں دیکھ کر حکمرانی سے توبہ کرلی تھی لیکن جنرل ضیاالحق کے اقتدار سے شروع ہوکر آج تک کراچی کی سڑکوں پر ایک لاکھ سے زائد افراد بےگناہ مارے جاچکے ہیں اور عوام کو سکون نصیب نہیں ہوا ہے۔ کراچی عروس البلاد اور روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے مگر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے وفاق کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے اور کھنڈر بنا ہوا ہے۔ گلیوں اور سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر جمع ہیں 18گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ پانی کی عدم دستیابی اورسیوریج کی خرابی مستقل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیاں چلنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور حادثات معمول بن گئے ہیں۔ سندھ حکومت ایم کیو ایم کی سیاسی اور پارلیمانی نمائندگی تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی کھت پٹ میں پولیس کا نظام درہم برہم ہورہا ہے۔ نئے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی آئی جی کےخلاف مورچہ لگالیا ہے انہیں نہایت فرمانبردار اور تابعدار آئی جی درکار ہے جو پولیس میں بھرتیاں بھی میرٹ کی بجائے ان کی مرضی سے کرے۔ سندھ پولیس میں بھرتی کےلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ آئی جی اے ڈی خواجہ اس کمیٹی کے ذریعے بھرتی کے خواہشمند ہیں اور یہی وجہ تنازعہ ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ان کا تبادلہ کرکے مشتاق احمد تھیبو کو آئی جی بنا دیا تھا لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اے ڈی خواجہ کا تبادلہ روک دیا اور وہ اب عدالتی حکم پر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں نئے وزیر داخلہ سہیل انور نے پولیس افسران کا اجلاس بلایا جس میں آئی جی خواجہ اور ان کے ماتحت کئی پولیس افسر شریک نہیں ہوئے۔ یہ گویا اعلان جنگ ہے۔ سینئر صوبائی وزیر اور پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ اگر آئی جی اپنے باس کا حکم نہیں مانتے تو عہدہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ گھر کون جائے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ تاہم اس لڑائی سے سندھ پولیس کا نظام بگڑ رہا ہے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی حالیہ بجٹ تقریر میں سیاسی بھرتیوں کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 100کی جگہ 500 بھرتیوں کا نظام نہیں چلنے دیا جائے گا۔ سندھ میں بھٹو دور حکومت سے یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم پولیس‘ کسٹم‘ پی آئی اے محکمہ صحت‘ پاکستان اسٹیل اور دیگر محکموں میں سیاسی بھرتیوں نے ان اداروں کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ الطواریقی اسٹیل سعودی کمپنی نے ای پی زیڈ(ٹیکس فری صنعتی علاقہ) میں شروع کی تھی جس میں کام کرنے والے 200افراد کی پروڈکشن پاکستان اسٹیل کے 22ہزار ملازمین سے زیادہ ہے ان سیاسی بھرتیوں کے باعث صرف پی آئی اے کو ماہانہ چار ارب روپے کا خسارہ ہورہا ہے جبکہ جہاز مسافروں سے بھرے ہوتے ہیں اور عموماً بکنگ نہیں ملتی۔ سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق پر ہزاروں ناجائز بھرتیوں کا الزام ہے۔ نیب سے بچتے بچاتے انہوں نے گزشتہ دنوں بلاول ہاو¿س میں آصف علی زرداری اور بلاول زرداری کا دست شفقت اپنے سر پر رکھوایا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہمیشہ انتخابی سیاست کی ہے۔ 1970ءکی ”عوامی سیاست“کا دور ختم ہو چکا ہے کارکنوں کی تربیتی اور فکری نشستیں ہوا کرتی تھیں اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسی اعلیٰ شخصیات عملی تحریک کو پارٹی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ کم و بیش ہر سیاسی جماعت کا یہی حال ہے۔ تربیت یافتہ سیاسی کارکنوں کی بجائے اپنے علاقوں سے منتخب ہونے والے وڈیروں‘ جاگیرداروں اور سرداروں کی پارٹیوں میں شمولیت پر زیادہ زور ہے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پراکتوبر 1917ءمیں روس اور 1949ءمیں چین کے انقلاب نے دونوں ملکوں کی کایا پلٹ دی اور انہیں ”سپر پاور“ بنادیا۔ اس کی وجہ دونوں ملکوں میں انقلاب کی سرخیل جماعتوں کے ساتھ لاکھوں تربیت یافتہ کارکنان کی فوج تھی۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں یہ جذبہ اور فکری تربیت ناپید ہے۔ اس کمی اور کمزوری کے باعث ہم گمشدہ منزل کے مسافر بن گئے ہیں۔ مفاد پرستی‘ موقع پرستی‘ بے ایمانی‘ بددیانتی ہماری نشانی بن گئی ہے۔ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار مفادات کی دھول میں اوجھل ہوگئی ہیں۔ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہوچکاہے۔ پاکستان کا آغاز بھی 70سال قبل اسی مقدس مہینے میں ہوا تھا۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرکے آج بھی پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور استحکام کےلئے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
(روزنامہ جرا¿ت کراچی کے ایڈیٹر
اور معروف صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved