تازہ تر ین

پیر بڈیسر

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
یہ پہاڑجو مجھے ےاد رہتا ہے اور شاید کبھی نہ بھولے تا وقت کہ کشمیر کی وادیوں میں سویرا پھوٹ پڑے اور رب کا وعدہ پورا ہو۔ ہیبت اور دبدبے کا پیکریہ پہاڑ جلال ربی کا مظہر ہے۔ صدیوں سے یہ وادی بناہ کے سر پر کھڑا ہے۔ میں برسوں سے اس کو دیکھ رہا ہوں۔ اس طویل مدت میں کبھی اس میں تغیر نہیں دیکھا، تاہم یہ عجیب بات ہے کہ مجھے ہمیشہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ قبر جیسا معلوم ہونے والا یہ پہاڑ حقیقت میں بھی قبرستان سے بڑھ کر اداس اور ویرانی کا اظہار کر رہا ہے۔ اداسی اور سوگواری اس کے کناروں سے چھلکتی تھی۔ پیر بڈیسر اس پہاڑ کا نام ہے جو میریوادی کے بالکل سامنے افق کی سرحد پر کھڑا ہے، لیکن میرے لیے یہ کئی وجوہ سے غم اور اداسی کا حوالہ رہا ہے اس کے بالکل دوسری جانب،اس پار میرے اجداد کے مدفن ہیں، کچھ لٹے پٹے گھر ہیں، اجڑے ویران کھیت ہیں، سونی اداس گلیاں ہیں، غم انگیز ماحول ہے، ایک مدت سے ایسا سناٹا ہے جو موت سے کم نہیں، ایک طویل انتظار ہے جو موت سے بھی سخت تر ہے۔پیربڈیسر سے میروادی والی جانب بےشمار بے تاب دل اور ان گنت بے چین روحیں شاید اس پہاڑ کے گرنے کی منتظر ہیں۔ اپنے دادا کو میں نے سب سے زیادہ اس پہاڑ کے پار بسنے والوں کےلئے مضطرب اور بے چین پایاتھا،پھر اپنے باپ کواور اپنی ماں کو جو اس پار اپنے گھر جانے کو ستر برس سے منتظر ہیں۔یہ اضطراب تو شائد اپنے رب کے پاس جانے تک باقی رہے گا۔ہم سب جدائیوں کے مارے ہوئے اپنے دکھوں کے سارے حساب کتاب، سارے الزام اس پہاڑ کے سر تھوپ دیتے ہیں، جس نے ایک ہی جسم کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر۔ یہ دوچار دنوں کی بات نہیں،پون صدی کا قصہ ہے۔ ایک طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد کی کہانی ہے ایک پوری نسل اس ہیبت ناک پہاڑ کے دونوں اطراف فراق کے کرب کو سینوں میں دفن کئے ہوئے قبروں میںجا سوئی۔ بدنوں کی آنکھیں بے نور ہو گئیں، لیکن روحوں کی آنکھوں کا انتظار ختم نہیں ہوا۔ایک مدت تک میرا معمول رہا، اس پہاڑ کے بالکل سامنے بیٹھ کر تصور ہی تصور میں راجوری پہنچ جاتا۔ اس پار پیر بڈیسر کی دوسری جانب راجوری ضلع کا آغاز ہو جاتا ہے یہاں سے راجوری شہر کی پیدل مسافت گھنٹہ بھر کی ہے۔ میری تصوراتی نگاہوں نے سینکڑوں بار پیر بڈیسر پہاڑ کی چوٹی تک اور وہاں سے راجوری تک کا فاصلہ لمحوں میں طے کیا۔ عملی طو رپر پیر بڈیسر کی چوٹی تک میری رسائی بڑی آسانی کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اس کی چوٹی سے آگے کا مختصر فاصلہ آج تک طے نہیں کر پایا جو چند میل کا ہے، جو صرف چند ایک گھنٹے کا ہے۔
پیر بڈیسر اتنا پرانا اور اتنا بوڑھا ہے کہ اب لوگوں کو اس کا نام ہی یاد ہے، وجہ تسمیہ کسی کو معلوم نہیں۔ تاہم اس بات کا سب اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے ارد گرد، اس کے دامن میں، اس کی ڈھلانوں پر، اس کے بغلی نالوں کے کنارے بڑے جفاکش اور اس پہاڑ سے بھی بلند حوصلے اور عزائم کے مالک لوگ بستے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی محکومی نہیں کی، ظالم کے سامنے کبھی کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آئے، ان کی عادات و اطوار اور رسوم و رواج میں ” نا فرمانی “ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ریاست میں کسی بھی حکمران سے ان کی کبھی نہیں بن پائی۔ پیر بڈیسر کے دائیں کنارے پر آباد ہندو بلندیوں پر بسنے والے مسلمانوں کو ” اکھڑ مزاج “ سمجھتے ہیں۔ مقامی زبان میں پیر بڈیسر کے باسیوں کو ”ڑوت“ بھی کہتے ہیں اورڑوت کا مطلب ہے ” اکھڑ،ہٹ دھرم“۔
روایت ہے کہ ایک بار ڈوگرہ حکمرانوں کو اطلاع ملی، پیر بڈیسر کے لوگ مالیہ دینے سے انکاری ہیں۔ حکمران وقت نے طیش میں آ کر یہاں کے باسیوں کو جموں عدالت میں طلب کر لیا۔ لوگ کوسوں کی مسافت طے کر کے عدالت میں پہنچے۔ جج نے مالیہ نہ دینے کی وجہ پوچھی تو ان کے پاس کوئی جواب اور جواز نہ تھا۔ عدالت میں مالیہ دینے کی حامی بھرلی۔واپس اپنے علاقے میں پہنچے، تو سرکاری اہلکاروں کو پھر دھتکارکر لوٹا دیا۔ شکایت پھر ریاست کے حکمران تک پہنچی، انہیں ایک بار پھر عدالت میں طلب کیا گیا۔ عدالت میں انہوں نے پھر اقرار کر کے مالیے کی ادائیگی کا وعدہ کیا۔ پیر بڈیسر پہنچ کر انہوں نے ایک بار پھر نہ صرف مالیہ دینے سے انکار کر دیا بلکہ پٹواری اور اس کے عملے کو پہاڑ سے نیچے پھینک دیا۔ کسی ریاستی درباری نے یہ حال دیکھ کر عدالت کے جج کو ایک عجیب مشورہ دیا۔ اس کے مطابق پیر بڈیسر پہاڑ کی مٹی جموں پہنچائی گئی۔ عدالت کے کٹہر ے میں ایک طرف یہ مٹی بچھا دی گئی، بڈیسری لوگ عدالت میں پیش ہوئے۔ جج نے پوچھا ” مالیہ دو گے؟ “
” جی ہاں ضرور دیں گے۔“ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔” اس جانب آ کر کھڑے ہو جاﺅ “ جج نے انہیں بچھی ہوئی مٹی پر کھڑا کیا۔ پھر پوچھا ” اب بتاﺅ مالیہ دو گے ؟ “ ،” بالکل نہیں، کبھی نہیں۔ “ سب نے چیخ کر جواب دیا۔عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ جس مٹی پر ان لوگوں کا بسیرا ہے، اس کی تاثیر سے ان کے دماغوں میں محکومی سے سمجھوتہ نہ کرنے کا سودا سما گیاہے اس کے بعد کبھی بھی اس ”ڑوت“ مخلوق سے کسی حکمران نے ٹکر نہ لی۔آزادی سے قبل ڈوگرہ حکمرانوں کے کچھ سپاہی اس پہاڑ کے ایک ملحقہ گاﺅں بسالی میں لکڑیاں کاٹنے آئے۔ لوگوں نے بغاوت کر دی۔ لوگوں نے کلہاڑیوں اور برچھیوں سے فوجیوں پر ہلہ بول دیا۔ خچریں بھاگ کھڑی ہوئیں، فوجی بمشکل جانیں بچا کر بھاگے۔ اس دن کے بعد کبھی ان سپاہیوں نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔
میرے بچپن کی یادوں میں پیر بڈیسر کا مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ تب سے اب تک اس پہاڑ کے پیچھے ہی سے میری صبح کا خورشید تاباں طلوع ہوتا آیا ہے۔ سکول جانے سے پہلے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں پیر بڈیسر کی بلندیوں سے ابھرتی کرنوں اور ان کے تعاقب میں روشنی کے تابدار گولے کی طرح اٹھتے ہوئے سورج کو دیکھ کر اندازہ لگاتا تھا۔1971ءکی پاک بھارت جنگ سے متعلق میری یادیں بھی اس پہاڑ سے وابستہ ہیں۔ جب بھارت نے ہوس ملک گیری سے مغلوب ہو کر پاکستان کی طرح آزاد کشمیر پربھی حملہ کر دیا تھا۔ اس پہاڑ کی اوٹ سے بڑے بڑے سرخ گولے اٹھتے اور فضا میں تیرتے ہوئے آتے اور وادی بناہ کے سینے پر گرتے تھے۔ اس کی بلند مگر ہموار چوٹی سے بھارتی ہیلی کاپٹر اڑ کر آتے اور مختلف دیہاتوں پر آگ برسا کر بھاگ جاتے تھے۔ کئی روز کی اس جنگ میں جو ہمار ے لئے ”تماشے“ کی طرح تھی، ہماری بستیوں کے درجن کے قریب لوگ شہید ہوئے ہمارے ننھے ذہن تب یہی سوچ پاتے تھے کہ اتنے بڑے بڑے گولے بھی پیر بڈیسر کے دامن میں بسنے والوں کو ڈرا نہیں سکے۔ حریت کا شعلہ میرے دل میں روشن ہوا، تو سوچنے لگے۔ پیر بڈیسر کے اس پار سے آگ کے گولے آخر کب تک آتے رہیں گے؟ کب تک ایک جسم کے دو ٹکڑے رہیں گے؟پیربڈیسر کے باسی کب تک ہندو حکمرانوں اور ان کے غلاموں کو جانوں اور مالوں کا خراج پیش کرتے رہیں گے؟ کب یہ لوگ اپنے ڑوت ہونے کا ثبوت پیش کرنے ایک بار پھر اٹھیں گے؟ دھلی کے حکمرانوں کی خچریں کب اس پہاڑ سے گرائی جائیں گی؟ کب اس کے پٹواری اور فوجی دھتکارے جائیں گے؟ ہم سوچتے رہے اور پھر کشمیر کے جان بازذہن میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جموں او رراجوری سے رحمت کی گھٹائیں اٹھیں اور ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ میرے دادا جان راجوری سے آئے تھے۔ کبھی ہماری وادی میں ٹھنڈی ہوا چلتی تو وہ کہا کرتے تھے۔ پیر بڈیسر کے اس پار گھر میں بارش ہوئی ہے۔ یہ ٹھنڈی ہوائیں ادھر سے آ رہی ہیں ان دوادیوں میں غلامی کی باد صر صر پون صدی چلتی رہی۔ اب باران رحمت ہو رہی ہے تو پیر بڈیسر کے کنارے بھی سوگوار دکھائی نہیں دیتے۔ روشنی کی کرنیں اندھیروں پر غالب آ رہی ہیں۔ اپنی زندگی میں پہلی بار پیر بڈیسر کو مسکراتے دیکھا ہے اس کے اس پار ابھی تک آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ گولے فضاﺅں میں تیرتے ہیں، خون پہاڑوں اور وادیوں میں گرتا ہے، لیکن پیر بڈیسر مسکرا رہا ہے اور نہ جانے کیوں پیربڈیسر کی مسکراہٹ اداس نہیں، سوگوار نہیں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے بوڑھے پہاڑ کے کان میں شہد جیسی میٹھی کوئی خبر ٹپکا دی ہو اور پیر بڈیسر بوڑھا نہ رہا ہو، جوان ہوگیا ہو۔
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved