تازہ تر ین

شاید یہ حسرت پوری ہوجائے

توصیف احمد خان ….سنگریزے
میاں صاحب ایسا ہرگز نہ کریں۔میاں صاحب سے مراد میاں نواز شریف ہیں جو اس ملک کے وزیراعظم ہیں کم از کم اب تک تو ہیں۔ کل کلاں کیا صورت بنتی ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے اور اس معاملے پر سپریم کورٹ سے بہتر کون فیصلہ کرسکتا ہے کہ معزز جج صاحبان سے آئین کی کوئی شق چھپی ہوئی ہے اور نہ قانون کی کوئی دفعہ مخفی ہے ان کا فیصلہ آنے تک ہم کوئی رائے نہیں دے سکتے کہ اس معاملات میں ہماری حیثیت طفل مکتب کی بھی نہیں۔محترم وزیراعظم سے جو گزارش کی جارہی ہے وہ ہے کیا اور وہ کیوں کی جارہی ہے؟
ایک خبررساں ایجنسی کی اطلاع ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کی ہدایت پر ایف آئی اے کے دو افسروں کے خلاف انکوائری کرائی جارہی ہے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین بھی ہورہی ہے۔ صرف یہی نہیں ان کے خاندان کے باقی افراد بھی اسی فہرست میں شامل ہیں ان میں سے ایک موجودہ اور سابق افسر ہیں جن کو تقریباً دو عشرے قبل ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا اب وہ ملازمت میں تو یقینا نہیں، اس ملک میں بھی نہیں پائے جاتے۔ موجودہ افسر سے آج پاکستان میں کون واقف نہیں۔ ہم نام نہ بھی بتائیں تو ملک کا تقریباً ہر شخص جانتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں کہ یہ واجد ضیا ہیں کیونکہ ایف آئی اے کی یہی وہ شخصیت ہیں جن کے نام سے ملک کا بچہ بچہ آشنا ہے کہ یہ محترم وزیراعظم اور ان کے خاندان کیخلاف قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سربراہ تھے ان کا ماضی کیا ہے ہمیں علم نہیں لیکن عام تاثر یہ ہے اور غالباً یہی حقیقت ہے کہ انہوں نے کمیٹی میں اپنا کام غیرجانبداری سے کیا۔ اگرچہ تو عظیم ہستیوں پر الزام لگانے سے باز نہیں رہتے۔ ایسے میں واجد ضیا کی ذات کیسے الزامات سے بچ سکتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے چہیتے سیکریٹری فواد حسن فواد کا خیال تھا کہ وہ انہیں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے بارے میں نرم گوشتہ رکھنے کیلئے رام کرلیں گے مگر انہیں کامیابی نہیں مل سکی اور واجد ضیا نے اس طرح کام کیا جس طرح قوم ان سے توقع رکھتی تھی۔ یوں فواد حسن فواد کے ساتھ ساتھ ان کے باس کی آس امید بھی ٹوٹ گئی۔
دوسرے صاحب انعام الرحمن سحری ہیں جو کبھی ایف آئی اے میں ہوا کرتے تھے اور انہوں نے اس وقت ایف آئی اے کے ملازم اور بعد میں ملک کے وزیرداخلہ رحمن ملک کے ساتھ مل کر نواز شریف فیملی کے فلیٹس کی انکوائری کی تھی اگرچہ اس انکوائری پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی مگر نواز شریف برسر اقتدار آئے تو انعام الرحمن سحری کو برطرف کردیا گیا جس پر وہ اہلیہ سمیت بیرون ملک جاآباد ہوئے۔ ان کیخلاف کیس ضرور بنایا گیا مگروہ موجود ہی نہیں تھے لہٰذا اس کی سماعت تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ اب لندن والے فلیٹس کا ذکر زبان زد عام ہے اور جے آئی ٹی نے یقینا ان کی انکوائری اور اس کے نتائج سے بھی مدد لی ہوگی تو محترم وزیراعظم یا ان کے حواریوں کو اس شخص کی یاد آگئی ہے۔ خبر کے مطابق فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ انہیں انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے اور پھر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔عجیب بات ہے انیس بیس سال گزر چکے۔ آپ چار سال سے زائد عرصہ سے اس ملک پر تیسری بار حکمرانی کررہے ہیں اس سارے عرصہ میں آپ کو انعام الرحمن سحری یاد نہ آیا اور اب اچانک آپ کو اس کی یاد ستانے لگی ہے اس کو ہم غالباً کھسیانی بلی والا معاملہ توقرار نہیں دے سکتے تو پھر کیا کہیں؟ قارئین کرام ہی ہماری ہی کچھ رہنمائی فرمائیں۔
رہ گئے واجد ضیا…. ان کے کیا معاملات ہیں، ان کی کتنی املاک ہیں انہوں نے وسائل سے بڑھ کر جائیداد بنائی ہے یا نہیں؟ ہم ہرگز نہیں جانتے۔ ہمیں تو آج تک ان ہستیوں کے دیدار کا بھی شرف حاصل نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ سارے سوال بھی ہماری فہم سے بالاتر ہیں حکومت بلکہ وزیراعظم ہاﺅس کو ہی اس بارے میں بہتر علم ہوگا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کیخلاف کارروائی اب کیوں کی جارہی ہے۔ فرض کریں انہوں نے مال بنایا ہے تو اب سے پہلے حکومت اس کے وزیرداخلہ اور ایف آئی اے کے بالا حکام اس سے لاعلم تھے اور انہیں اچانک خواب آگیا ہے کہ وہ تو مال پانی بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی املاک، جائیدادیا طرز زندگی ان کی آمدنی سے بڑھ کر ہے۔ یہ وہی الزام ہے جو جے آئی ٹی کی رپورٹ میں محترم وزیراعظم اور ان کے بچوں پر لگایا گیا ہے اس الزام پر ان کا کیا بنتا ہے؟ یہ تو اگلے چند روز میں معلوم ہوجائے گا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ یہی الزام اس شخص پر ڈالنے کی کوشش میں ہیں جو ان پر اسی الزام کا خالق ہے اسی لئے ابتدا میں لکھا گیا ہے کہ میاں صاحب ایسا ہرگز نہ کریں۔اس لئے کہ اب آپ کی کوئی بھی کارروائی آپ کی طرف سے انتقام کا سندیسہ دے گی اور یہ کہا جائے گا کہ حکومت ان سے بدلہ لینے کی کوشش میں ہے اگر یہی شخص آپ کی بات مان لیتا اور آپ پر ہاتھ ہولا رکھتا یعنی آپ کے بارے میں اس کا گوشہ نرم ہوتا تو کیا پھر بھی آپ ایسا ہی کرتے۔ہر گز نہیں۔ پھر آپ کا یہ رویہ ہرگز نہ ہوتا۔ عین ممکن تھا کہ آپ ان کی اس ”اعلیٰ“ کارکردگی پر انہیں نوازتے اور ان کو ترقی وغیرہ دے دیتے جس میں ایف آئی اے کا سربراہ بنانا بھی شامل ہوسکتا تھا اور نواز نے کے ڈھنگ تو ہمارے موجود کیا ماضی کے حکمرانوں سے بھی چھپے ہوئے نہیں تھے۔ آئندہ کے حکمرانوں کے بارے میں بھی ہم یہی کچھ تصور کرسکتے ہیں کہ رویئے راتوں رات نہیں بدل جایا کرتے۔
آپ واقعی ان کیخلاف کسی کارروائی کا سوچ رہے ہیں تو پھر کم از کم اس وقت یہ آپ کی انتقامی کارروائی ہوگی۔ ابھی تو آپ پر سے بھی ابتلا نہیں ٹلی۔ معلوم نہیں آپ کے مقدر کا ستارہ بدستور چمکتا رہے گا یا وہ گہنا جائے گا۔ فی الحال تو آپ اپنے مستقبل کا انتظار کریں۔ ایسے معاملات دیکھنے کیلئے بہت وقت ہوگا۔ بشرطیکہ مقدر نے یاوری کی اگر واجد ضیا نے بدعنوانی کی بھی ہے تو اس حمام میں یہ اکیلی شخصیت نہیں بلکہ ایک ہجوم ہوگا۔ اس ہجوم میں سے اسی شخصیت کا ہی کیوں انتخاب کیا جائے اور باقی کو کیوں چھوڑ دیا جائے۔ویسے آگے آپ اپنی سوچ اور اپنے فعال کے مالک و مختار ہیں۔ اب تک تو یہی ہوا ہے کہ آپ کسی بھی معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے میں بہت سا وقت لیتے ہیں یعنی انتہائی تاخیر کردیتے ہیں جس سے بعض اوقات آپ کے فیصلے بے معنی بھی ہوجاتے ہیں یہاں بھی ایسی ہی صورتحال ہوئی تو پھر اگلے عام انتخابات ہوجائیں گے اور آپ کوئی فیصلہ نہیں کرپائیں گے۔ بہتر یہی ہوگا کہ اپنے آپ پر کوئی تہمت یا الزام نہ لیں کیونکہ اس وقت لوگوں کی ہمدردیاں اس شخصیت کے ساتھ ہوں گی جس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ہم نیک و بدحضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوںسارے اخبارات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی گفتگو شہ سرخی یعنی لیڈ سٹوری کے طور پر شائع ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ دشمن ایجنسیاں دہشت گردی کررہی ہیں جبکہ علاقائی ایکڑ دہشت گردی کو پالیسی ٹول یعنی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ فوج کی طرف سے یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جارہی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ملک کی بقا اور سلامتی کا سوال ہے اور اس معاملے میں بہرحال فوج سے زیادہ کون فکر مند ہوگا۔ہماری خواہش ہے کہ بطور حکمران اور بطور پاکستانی محترم وزیراعظم بھی اس جانب بھرپور توجہ دیں۔ یہ بات یقینا ان کے ذہن میں ہی نہیں ہوگی وہ اس جانب پیش رفت بھی کررہے ہوں گے کہ ان کے منصب کا تقاضا بھی یہی ہے۔
اب تو محترم وزیراعظم نے بھارت کیخلاف بات کرنا شروع کردی ہے کل ہی ان کامالدیپ سے بیان شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کررہا ہے اور سارک کو نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ بھارت کے افعال سارک کے منشور کے منافی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک قوم منتظر ہی رہتی تھی کہ ہمارے وزیراعظم بھارت کے بارے میں کوئی بات کریں مگر قوم کو مایوسی کا سامنا رہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں زبان پر تالے لگے ہوئے تھے۔ ممکن ہے ہمارا یہ تاثر غلط ہو۔ ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ زبانی اظہار پر دلی جذبات حاوی ہوں یعنی دل بھارت کے حوالے سے نفرت کے جذبات سے بھرپور ہو۔ اگرچہ رموز مملکت میں بہت سے معاملہ میں دل پر جبر کرنا پڑتا ہے اور ممکن ہے اس معاملے میں بھی دل ہی جبر کا شکار ہوا ہو اور اس میں موجزن جذبات باہر نہ آسکے ہوں ۔ لیکن فوج کی جانب سے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی گئی اور جو کچھ دل یا ذہن میں تھا اسے زبان پر لایا گیا۔ نہ صرف پاکستانیوں بلکہ ساری دنیا کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ بھارت ہی نہیں دیگر معاملات میں بھی حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہوں گی بلکہ دوسرے علاقائی ایکڑز یعنی اداکاروں کے بارے میں وہ ایک ہی سو چ کے حامل ہوں گے جس طرح فوج کے سربراہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی طرح حکومتوں اور حکومتوں کے سربراہوں کے آنے جانے سے قومی سوچ تبدیل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایسا اس ملک و قوم کیلئے زہر قاتل ہوسکتا ہے اور اللہ نہ کرے کہ اس طرح ہو۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے فرمایا ہے کہ جن کی اوقات ایک اقامہ تھی وہ تین تین بار وزیراعظم بن گئے۔ کتنا دکھ اور کرب ہے ڈاکٹر صاحب کی اس بات میں۔ یہ کرب قوم کیلئے تو ہوگا ہی مگر ان کے اپنے لئے بھی ہے کہ دوسرے تو غیر ملکی اقامہ کے ساتھ باربار وزیراعظم بن جاتے ہیں اور خود ڈاکٹر صاحب نے اقامہ کی بجائے غیر ملکی شہریت حاصل کرلی اور اپنی سی کوشش بھی بے تحاشا کرلی مگر قدرت کو ان کا ایک بار وزیراعظم بننا بھی منظور نہیں۔ڈاکٹر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کی خواہش چھوڑیں اور اللہ سے لو لگائیں کہ وہ انہیں کینیڈا کا وزیراعظم بنادے۔ آخر قدرت کے خزانوں میں کیا کمی ہے ممکن ہے قدرت آپ کی یہ حسرت پوری کرہی دے۔
(معروف صحافی ”جہان پاکستان“ کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved