تازہ تر ین

بڑے بے آبرو ہو کر….

محمد مکرم خان….نوشتہ دیوار
گزشتہ سوا برس سے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پانامہ لیکس کا جس قدر چرچا رہا اگر اسے عالمی مالیاتی سکینڈل کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستان میں تو سیاسی اور سماجی فضا ہی تبدیل ہو کر رہ گئی۔ ذرائع ابلاغ، سماجی رابطوں کے ذرائع اور عوامی مقامات پر بس ایک ہی تذکرہ تھا ”پانامہ لیکس“۔ یوں تو بعض دیگر خاندانوں اور شخصیات کے نام بھی پانامہ لیکس میں سامنے آئے لیکن میاں نوازشریف، بحیثیت وزیراعظم پاکستان اور ان کا خاندان کچھ اس طرح سے گرفت میں آئے کہ الاماں۔ شاید یہی نظام فطرت ہے۔ انسان اپنے جال میں خود پھنس جاتا ہے۔ وقت بڑا ظالم منصف ہے جس نے ہر دور کے فرعون کی رعونت خاک میں ملا دی۔ یہی آج کی عوامی رائے ہے۔ عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کی شنوائی اور فاضل جج صاحبان کے ”ریمارکس“ سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ ”جی کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا یا شام گیا“۔ بیس اپریل کے فیصلے اور جے آئی ٹی کی تشکیل اور تکمیل تک حالات کس قدر نشیب و فراز سے گزرے، جن کا آج اختتام ہو گیا۔ آئندہ کیا ہوگا، یہ سوال چہارسو زیربحث رہے گا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق میاں محمد نوازشریف تاحیات نااہل، ان کے سمدھی اسحاق ڈار اور داماد کیپٹن(ر) و برخاست شدہ اسسٹنٹ کمشنر صفدر ملک بھی نااہل ہو گئے ہیں۔ زیرنظر کالم میں قارئین کو محیرالعقول خبریں دینا مقصود نہیں، آج کے اخبار کے صفحہ اوّل تا آخر پانامہ لیکس فیصلے کی خبریں پڑھی جا سکتی ہیں اور گزشتہ روز سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹی وی چینلز پر رواں تبصرے جاری ہیں جن سے شاید ہی کوئی باشعور پاکستانی لاعلم ہو۔ اطلاعات کی وزیرمملکت مریم اورنگزیب بجھے دِل اور بھرائی آواز سے ”قوم“ اور شکستہ دِل متوالوں کو حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں جس کی روداد بھی آج کے اخبار میں شائع ہو رہی ہے۔ پانامہ لیکس کی ایک اہم کردار مریم صفدر کا ردعمل سماجی رابطے کے ذریعے ٹویٹر پر پڑھا جا سکتا ہے۔ مختصر سے پیغام میں لکھتی ہیں: ”ایک اور منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، لیکن وہ بہت جلد بھرپور قوت کے ساتھ واپس آئیں گے۔ مسلم لیگ(ن) مضبوط رہو۔“ آئندہ سیاسی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور عدالت عظمیٰ کا تفصیلی فیصلہ آنے تک قیاس آرائیاں جاری رہیں گی، ملک کے طول و عرض میں بہرحال عوام کی خوشی دیدنی ہے، کیفیت بارہ اکتوبر 99ءکی سی ہی ہے۔ فتح صرف عمران خان کی نہیں، عوام نوازشریف کے حامیوں اور مخالفین میں بٹ چکے ہیں۔ ایک غیر جانبداری صحافی کے طور پر دِل سے نہیں دماغ سے سوچوں تو بھی شریف خاندان کا انجام نوشتہ دیوار ہے۔ مریم نواز کی ذہنی استعداد اور تعلیمی قابلیت پر روشنی ڈالنے کی بجائے یہ لکھنا زیادہ بہتر ہے کہ موصوفہ سوچ رہی ہوں گی کہ پاکستان کے منتخب وزرائے اعظم اور ان کا انجام کس قدر المناک ہوتا ہے اور جمہوریت کا مستقبل پاکستان میں کتنا غیر تابناک…. کہ اب تک کوئی بھی منتخب وزیراعظم پانچ سال پورے نہیں کر سکا۔ اولین وزیراعظم لیاقت علی خان سے فیروز خان نون تک کی تاریخ زیربحث نہیں لا رہا، مریم نوازشریف کی سیاسی تاریخ سے دلچسپی کا علم نہیں، البتہ ذوالفقار علی بھٹو کے تختہ الٹنے اور پھانسی دئیے جانے کا ملول انہیں ضرور ہوگا۔ پیپلزپارٹی کی ہمرکابی کا کچھ نہ کچھ اثر ہونا فطری بات ہے۔ محمد خان جونیجو فوجی آمر ضیاءالحق کے ہاتھوں برطرف ہوئے، بینظیربھٹو دو بار اٹھاون بی ٹو کا شکار ہوئیں، نوازشریف بھی ایک مرتبہ اسی انجام سے دوچار ہوئے اور دوسری دفعہ ان کا تختہ الٹ کر ایک اور فوجی آمر پرویزمشرف کے ہاتھوں جلاوطن ہوئے جنہوں نے ظفراللہ جمالی سے بھی زبردستی استعفیٰ لے لیا تھا اور یوسف رضا گیلانی کا تو انہیں ازحد قلق ہوگا کیونکہ میثاق جمہوریت میں کچھ ایسا ہی طے ہوا تھا۔ میاں نوازشریف کی نااہلی کا تذکرہ مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں کرکے صرف دل کے پھپھولے نہیں جلائے بلکہ مستقبل کی پیش بینی بھی کی ہے جو شاید اب دیوانے کی بڑ ثابت ہو۔
پانامہ لیکس کے 20 اپریل کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ(ن) کے ہمدرد نجی محافل اور سماجی رابطوں کے ذرائع پر جن آراءکا اظہار کر رہے تھے اس کے مطابق جے آئی ٹی کی تفتیش کے بعد تین رکنی بنچ نے فیصلہ کرنا تھا مگر پانچ رکنی بنچ فیصلہ کر رہا ہے جیسے بودے دلائل دئیے جا رہے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی جس کی قانون میں گنجائش نہیں تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ اعتراضات تو اور بھی بہت تھے جنہیں زیربحث نہ ہی لایا جائے تو بہتر ہے۔ کس قدر سادگی سے یہ کہا جاتا رہا کہ میاں نوازشریف کو پانامہ کیس میں گھسیٹا گیا، جن کا نام تک نہیں تھا۔ میاں نوازشریف سے نفرت اور بغض اپنی جگہ، ان کے مخالفین کو یہ پیغامات دئیے جاتے رہے کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی، مخصوص فرقے کے مظاہرین اجتماعی قتل عام کے بعد میتیں سڑکوں پر رکھ کر احتجاج نہیں کر رہے، ملک میں خودکش دھماکوں میں واضح کمی ہو چکی ہے، کراچی میں ایک ہی روز میں درجنوں لاشیں نہیں گرائی جا رہیں، اور ڈرون حملے بند ہو چکے ہیں، علی ہذالقیاس۔ اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کا گراف جس شدت سے نیچے گرا ہے، غیرمتوقع نہیں۔ مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیرشنوائی تھا اور تکنیکی لحاظ سے شریف خاندان اور ان کے وکلاءکو احساس ہو چلا تھا کہ بازی پلٹ رہی ہے، اس کے باوجود ڈھنڈورا یہ پیٹا جاتا رہا کہ پاکستان ایک دہائی سے دنیا میں صرف بری خبروں کیلئے مشہور رہا، لیکن مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں بیرونی سرمایہ کاری میں بے بہا اضافہ ہوا اور مہنگائی میں حد درجہ کمی ہوئی۔ جھوٹ تو اور بھی بہت بولے گئے لیکن مسلم لیگ(ن) کے حمایتیوں کی جانب سے یہ کہا جانا کہ نوازشریف کو ہٹانے کی باتیں ہو رہی ہیں، شاید ہارتے ہوئے جواری کی آخری چال تھی۔ وقتی طور پر اپنی سیاسی وابستگیوں کو ایک طرف رکھ کر سوچیں کہ کیا شریف برادران اس ملک کی حکمرانی کے لائق ہیں؟ پنجاب کی وزارت اعلیٰ تو مستقلاً ان کے قبضہ میں ہے، پولیس، انتظامیہ اور تعلیم و صحت کے اداروں وغیرہ میں کیا تبدیلیاں لائی گئیں؟ کسی ایک بھی شعبے کو مثالی تو درکنار اوسط درجے کی کارکردگی کا حامل نہیں بنایا جا سکا۔ صورتحال مرکز میں بھی مختلف نہیں، ادارے ڈوب رہے ہیں۔ ذات کی قربانی کی توقع تو ویسے ہی جمہوری و غیر جمہوری پاکستانی حکمرانوں سے عبث ہے لیکن شریف خاندان کے بچوں کے کاروبار نے جس سرعت سے ترقی کی اس کی مثال کرہ ارض پر مفقود نہیں تو منفرد ضرور ہے۔ صاحبزادوں کی غیرملکی شہریت اور پاکستان سے خوردہ و بردہ دولت کس آسانی سے باہر پرواز کرتی رہی۔ گزشتہ چار سال میں پاکستان پر غیرملکی قرضوں کی بہتات نے آئندہ آنے والی نسلیں تک گروی رکھ دی ہیں۔ میاں نوازشریف اپنے طویل سیاسی سفر میں قانون کے شکنجے میں دوسری مرتبہ آئے ہیں، پہلی مرتبہ کی روداد کسی آئندہ کالم تک موخر کرتا ہوں، (ن)لیگی دانشور یہ کہتے سنائی دئیے کہ ”نوازشریف کو غیرجمہوری طریقے سے ہٹایا جا رہا ہے، ان کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔“ آئین کی شق اٹھاون بی ٹو کا تذکرہ دانستہ کیا جا رہا ہے، سیاسی بقراطوں سے جمہوری طریقہ پوچھنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ برا ہو اُس جرمن اخبار کا جس نے غیرملکی جائیدادوں کی تفصیلات شائع کر ڈالیں، تو یہ اقرار کئے بنا چارہ نہ تھا کہ لندن فلیٹس میاں نوازشریف کے خاندان کی ملکیت ہیں۔ پانامہ لیکس کے منظرعام پر آنے کے فوراً بعد برطانوی وزیراعظم نے تمام ریکارڈ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیا اور آئس لینڈ کے وزیراعظم کی رہائشگاہ کے سامنے عوامی احتجاج شروع ہوتے ہی فوری طور پر استعفیٰ دے دیا۔ میاں نوازشریف کا نام پانامہ مالیاتی سکینڈل میں بالواسطہ اور بلاواسطہ سامنے آیا تو انہیں شاید دبے الفاظ میں یہ مشورہ دیا گیا ہو کہ استعفیٰ دے کر اپنا موقف واضح کر لیں، لیکن انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر اور پھر قوم سے خطاب میں جو موقف اختیار کیا اس سے قارئین لاعلم نہیں ہوں گے۔ ”جوڈیشل کمیشن“ اور ”ٹرمز آف ریفرنس“ کی بیل بھی منڈے نہ چڑھ سکی۔ عمران خان نے عوامی دباو¿ ڈالا، سپریم کورٹ نے پٹیشن کی سماعت شروع کر دی۔ عوامی رائے تیزی سے بدل رہی تھی، اس سہ طرفہ گھیراو¿ کے باوجود عاقبت نااندیش مشیروں نے کچھ اس طرح حصار میں لیا کہ آج پانسہ ہی پلٹ گیا۔
قارئین جانتے ہیں کہ یہ پٹیشن پانامہ لیکس کے تناظر میں دائر کی گئی تھی۔ دو مہینے کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی تشکیل دی اور تیرہ سوالات پر مبنی ٹرمز آف ریفرنس کا تعین کیا جو گلف سٹیل مل، لندن فلیٹس، قطری خط کی اصلیت اور آف شور کمپنیوں کے علاوہ شریف فیملی کو ملنے والے بیش بہا رقوم کے تحائف کے گرد گھومتے تھے، جن کی جے آئی ٹی کی تفتیش کسی نہ کسی شکل میں عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہونے کے ساتھ پاکستانی عوام تک ذرائع ابلاغ کے طفیل پہنچتی رہی۔ میاں نوازشریف عوامی مقامات پر یہ کہتے سنائی دئیے کہ ہمیں ہمارا جرم تو بتا دیا جائے! میاں نوازشریف کو کون عرض کرتا کہ 1993ءمیں مے فیئر فلیٹس خرید لئے گئے تھے جن کی ملکیت میں آف شور کمپنیوں کا نام تھا۔ اصل مالکان نے اپنے نام صیغہ راز میں رکھ لئے اور فلیٹس کے مالکان بن کر رہائش بھی اختیار کر لی، جو کوئی اور نہیں ان کا اپنا خاندان تھا۔ نیلسن اور نیسکول کی ایجنٹ فرم موزیک فونیسکا نامی قانونی فرم تھی جس کا ڈیٹا بدقسمتی یا خوش قسمتی سے چوری ہو گیا۔ شریف خاندان کے مطابق لندن فلیٹس قطری شہزادے کی ملکیت تھے جو اس نے 2006ءمیں انہیں کسی پرانی سرمایہ کاری کے بدلے میں واپس کر دئیے۔ حتیٰ کہ میاں محمد شریف مرحوم کا نام بھی اس حیران کن داستان میں ڈال دیا گیا۔ کاغذات کے مطابق یہ فلیٹس نیلسن اور نیسکول کی ملکیت تھے اور شریف فیملی کے مطابق قطری شہزادہ مالک تھا۔ میاں نوازشریف کی ”بدقسمتی“ صرف پانامہ لیکس کی شکل میں ہی سامنے نہیں آئی بلکہ اس کا آغاز 2012ءمیں اس وقت ہوا جب برٹش ورجن آئی لینڈ نے منی لانڈرنگ کی خبروں پر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی کو کارروائی کا حکم دیا اور قانونی فرمز کو ایک سرکاری خط لکھا گیا جس میں ان سے کلائنٹس کے اصل مالکان کے نام اور پتے مانگے گئے تھے۔ موزیک فونیسکا نے پانچ برس قبل نیلسن اور نیسکول کی اصل مالکہ مریم نوازشریف کا نام صیغہ راز سے نکال کر طشت ازبام کر دیا۔ یہی خط جے آئی ٹی کے ہاتھ لگ گیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ لندن فلیس کی اصل مالکہ مریم نوازشریف ہیں۔ میاں نوازشریف کو قطری شہزادے کے خط اور برٹش ورجن آئی لینڈ کے خط کے درمیان سچ اور جھوٹ کا علم ضرور ہوگا۔ اس کے باوجود اگر وہ قوم سے یہ پوچھتے رہے ہیں کہ انہیں ان کا جرم بتا دیا جائے تو پھر اسے ان کی سادگی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے!
میاں نوازشریف کی نااہلی کی وجہ ان کا اقامہ بنا یا پانامہ، یہ راز آشکار ہوتے رہیں گے۔ ان کے صاحبزادوں کی سعودی عرب میں سٹیل مل ہل میٹل اور اس سے متعلق تفصیلات سامنے آیا چاہتی ہیں۔ کاغذات میں ردوبدل اور دیگر اقسام کی کئی ہیرا پھیریاں آئندہ کے کالمز کے موضوعات ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد میاں نوازشریف کیلئے کلمہ خیر کی توقع تو میثاق جمہوریت کے اہم فریقین کی جانب سے بھی نہیں کی جا سکتی، البتہ عاصمہ جہانگیر کہہ رہی ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلہ عدلیہ کیلئے باعث بدنامی ہوگا، جب تک شور و غل کی فضا ختم ہوگی تو یہ ضرور کہا جائے گا کہ صرف ایک خاندان کو نشانہ بنایا گیا اور دوسرے چور بدستور قانون کی گرفت سے آزاد ہیں، جس سے راقم جزوی طور پر اتفاق کرتا ہے لیکن ان کا یہ کہنا کہ وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جانا چاہئے تھا۔ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب انہیں آئندہ تحاریر میں ملتا رہے گا۔ بقول شخصے وزیراعظم نوازشریف سے مسٹر نوازشریف بننے تک کہ اس سفر میں عزت و ناموس نام کا مختصر سا توشہ بھی ختم ہو گیا! خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، طلال چوہدری اور دانیال عزیز وغیرہ بلکہ ہمنوا بھی یہ تاریخی فیصلہ سن کر ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
(روزنامہ خبریں کے سینئر کالم نگار اور چینل ۵کے
تجزیہ کار ‘دفاعی و سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved