تازہ تر ین

مشرق اور مغرب میں انسانی اقدار

اختر مرزا …. منزل منزل
یہ اشرافیہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی نہیں جاننا چاہتے غریب عوام سے ان کا نہ کوئی واسطہ تھا نہ آئندہ کبھی ہوگا، ان کے دکھ ان کی تکلیفیں ہم ہر روز اخبارات میں پڑھتے ہیں دیکھتے یہ ہیں کہ اپنی ماں، والد یا بھائی بہن کی لاش ایک چار پائی پر ڈال کر پریس کلب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں بطور احتجاج اخبارات میں فوٹو تو چھپ جاتی ہے مگر مداوا کہیں سے نہیں ہوتا۔ شہبازشریف کسی روز کسی بیوہ کے منہ پر تھپکی لگاتے ہوئے ، دلاسہ دیتے تو نظر آتے ہیں مگر خدا جانے وعدے کے مطابق اس بیوہ کو حکومتی اہلکار نے شہباز کا چیک بھی دیا تھا کہ نہیں، شاید کسی کو ملا بھی ہو۔ پچھلے چند سالوں سے میرا چھوٹا بھائی لندن میں گھٹنوں کے (فری) آپریشن کے بعد اکثر اپنے گھر میں ہی رہتا ہے مگر سوشل سکیورٹی کی طرف سے کھانا فری ملتا ہے یا جیب خرچ لیتا ہے علاوہ قدرے معذوری کی وجہ سے اسے سال دو سال کی فرسٹ کلاس موٹرکار بھی ملی ہوئی ہے۔
دوسال قبل میں لندن میں تھا تو اس کی مرسیڈیز خراب ہوئی۔ خرابی کیا تھی کہ گاڑی سٹارٹ نہ ہوتی تھی۔ ارسلان نے سکیورٹی اداروں کو فون کیا اورکہا کہ گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی۔ میں اس کی وجہ سے تنگ ہوتا ہوں۔دوسرے روز انشورنس کا بندہ آیا اور گاڑی لے گیا۔چند دن بعد نئی گاڑی دے گیا۔ارسلان کی پرابلم دوڑ ہوگئی۔ قطعاً کوئی پیسہ نہ لگا نہ ہی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑے گھر بیٹھے صرف ایک فون کال پر سب کچھ اصولی طور پر مہیا کردیاگیا۔یعنی انسان کی قدر کی جاتی ہے ہماری سوسائٹی میں اس قدر کا کوئی احساس نہیں۔ سب لوگ مارے مارے روتے ہوئے ایک وقت کی روٹی کو تلاش کرتے ہیں کبھی مل گئی کبھی دھکے ملے۔ ہمارے بڑے لوگ یہ سب کچھ دیکھتے بھالتے ہیں انہیں امریکن اور یورپین ممالک میں انسانی اقدار کا بھی بخوبی علم ہے۔ ارسلان جب کبھی بیمار پڑتا ہے تو ایک ٹائم پر وین آتی ہے تو Trayمیں دو تین بھرے ہوئے کھانے اسے دے جاتی ہے جو اس کےلئے دو ٹائم پیٹ بھرنے کو کافی ہوتے ہیں۔کئی سال سے ہماری قوم دیدنی اور دماغی بیماریوں میں مبتلا ہے جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ کہیں بھی کسی بھی جگہ پرچین نصیب نہیں ہوتا لاغر ہاتھ، کمزور ٹانگیں، پھٹی پھٹی آنکھیں گفتگو بے ربط آداب سے بے بہرہ، وقت کی کوئی قدر نہیں اور دشواریاں ہی دشواریاں کسی طرف دیکھ لیں۔ ہر کوئی بس کی چھت پر چڑھ کر سفر کررہا ہے جان جاتی ہے تو جائے۔پچھلے ایک یا دو دن کیلئے رولیں گے پھر کون یاد کریگا۔ہمارے ملک میں زندگی گزارنا ایک حادثے کی مانند ہے۔
1947ءسے قبل مجھے وہ دور یاد آرہا ہے، اگرچے میں 12،11 سا ل کا تھا مگر سارے ہندوستان میں مسلمانوں کا جذبہ حصول پاکستان دیدنی تھا۔ ایسی یکسانیت پھر دیکھنے کو نہیں ملی۔ محمد علی جناح کی ایک جھلک دیکھنے کو کوسوں میل کا سفر طے کرتے ہر غریب اور بوڑھا ہاتھ میں ڈنڈے کا آسرا لیے گھر سے نکل پڑتا تھا۔ کسی نے پوچھا ”باجی کہاں کی تیار ی ہے؟ جواب دیا ”جناح صاحب کو دیکھنے چلا ہوں، اس کے جلسے میں جارہا ہوں۔“”بابا، جالندھر تو دس کوس دور ہے وہاں کیسے پہنچو گے جہاں قائداعظم کا جلسہ ہورہا ہے“” میں نے جانا ضرور ہے کسی نہ کسی طرح جالندھر پہنچ جاﺅںگا۔“جب تک غریب کو ساتھ لے کر نہ چلو گے ہماری بھلائی ممکن نظر نہیں آتی باقی سب باتیں جھوٹ اور فریب پر مبنی ہیں۔
1953ءلاہور شہر میں پہلا مارشل لاءلگا تھا۔جنرل اعظم اس کے کرتا دھرتا تھے اسی نے بلاآخر فورٹریس سٹیڈیم بنوایا اور پہلا ہارس کیٹل شو کیا مارشل لاءکی وجہ سے لاہوریوں کو جو زخم لگے تھے۔ ہارس اینڈ کیٹل شو کے لگنے سے کافی مدھم ہوئے۔اس کے کچھ عرصے بعد شالیمار باغ میں میلہ چراغاں بڑی دھوم دھام سے لگوادیاگیا۔ پھر منٹوپارک میں انڈسٹریل نمائش اور پہلوانوں کے دنگل بھی عوام کو دیکھنے کو ملے۔ مارشل لاءمیں دی گئی سزاﺅں سے عوام کو جیلوں سے رہائی ملی تو آہستہ آہستہ لوگوں کا تناﺅ کم ہوا۔
معروف شاعر ظہیر کشمیری کو بیڈن روڈ کی ایک گلی سے پکڑ کر فوج نے تھانے میں قید کردیا دوسرے روز، نیلا گنبد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے لان میں فوجی کرنل نے کچہری لگا رکھی تھی۔ بیڈن روڈ کے بہت سارے لڑکوں کو 3ماہ سے 6ماہ اور ایک سال قید کی سزائیں سنائی جارہی تھیں۔ اتنے میں ظہیرکشمیری کی باری آئی۔
کرنل نے پوچھا ” ظہیرکشمیری تم نے مرزا غلام احمد کو گالیاں دیں اور اس کو کافر کہا کہ وہ ایک جھوٹا نبی ہے اور قادیانیوں پر پتھر مارے“ظہیر نے اپنے خلاف یہ من گھڑت جرم سن کر کہا میں نہیں جانتا کہ مرزا غلام احمد کون ہے اگر وہ اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے“ کرنل ہنس پڑا اور ظہیر کشمیری کو چھوڑ دیا۔
70سال سے انگریزی راج کا بنایا قانون ایک تلوار بن کر قوم پر لٹک رہا ہے اور یہ تلوار ہر آنے والے سپاہی لیڈریا سیاسی لیڈر نے قوم پر چلائی ہے۔ مشرف نے کراچی میں گرتی لاشوں پر دھن دھنا دھن کے الفاظ استعمال کئے تھے اور پھر اسلام آباد کی لال مسجد پر کیا کچھ نہیں ہوا تھا۔
زرداری نے سٹیل ملز، پی آئی اے اور ریلوے یکدم بند کروادی اور ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں قوم کو جھونک دیا یہ لوڈشیڈنگ کا بہانہ اور سیاسی اندھیرے قوم کو لے ڈوبے جو آج تک جاری ہیں۔ اس کے بعد آنے والی حکومت (ن)لیگ کو یہ اندھیرے جاری رکھنے کا بہانہ مل گیا۔ لہٰذا ساری قوم حواس کھو بیٹھی اور پھر یہ میٹروبس، اورنج ٹرین کی چیخیں مار کر بار بار قوم پر احسان جتاتے رہے۔دین اسلام دیگر مذاہب اوراقوام کے سامنے چیلنج لے کر آیاہے اس کے سیدھے اور صاف قوانین کو ماننا پڑے گا ورنہ مصائب میں پھنستے چلے جائیں گے۔
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved