تازہ تر ین

دھریجہ کی دروغ گوئیاں

خبریں عوام کا پسندیدہ اخبار ہے اور جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ اسکی خبریں،مضامین، کالم اور رنگین ایڈیشن انتہائی توجہ اور دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس اخبار میں نام نہاد دانشور اور کالم نویس ظہور دھریجہ کی ایک تحریر نے لاکھوں لوگوں کے دل پارہ پارہ کر دیئے ہیں۔ پیر طریقت محقق اسلام، مفسر قرآن، مصنف مورخ، عالم دین اور ہردل عزیز سماجی شخصیت مولانا نذیر الحق نقشبندی کے بارے میں دروغ گوئی پر مبنی دھریجہ کی یہ تحریر خبریں جیسے باوقار اخبار کے چہرہ پر ایک بدنما داغ ہے۔ ایسی تحریریں نہیں شائع ہونا چاہئیں۔ مولانا نذیر الحق نقشبندی کے پاکستان میں الحمدللہ ہزاروں شاگرد، ہزاروں مرید اور ہزاروں ان سے محبت کرنے والے ہیں۔ مولانا کو تصنیف اور تحریروں کی وجہ سے بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ مولانا کی ایک بڑی لائبریری بھی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں نایاب کتب ہیں۔ جن سے اہل علم و ادب اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ مولانا کے مقابلے میں یہاں کے لوگ ظہور دھریجہ کو صرف مزدوری پر کتابت کرنے والا اور اخبار بیچنے والے ہاکر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے حالانکہ کتابت کرنا اور اخبار فروخت کرنا یقینا محنت اور عظمت کی علامت ہے، جس سے ملک کے لاکھوں افراد اپنا اور اپنے اہل خانہ کا رزق حلال کما رہے ہیں۔ مگر دھریجہ نے اس پیشہ کی آڑ میں طرح طرح کے سوانگ رچا رکھے ہیں۔ اس سے وہ قلم فروشی کا دھندہ بھی کرتا ہے۔ مولانا نذیر الحق نقشبندی جو تحریر لکھتے ہیں یا بات کرتے ہیں دلائل اور ثبوت کے ساتھ کرتے ہیں جبکہ دھریجہ کے بارے میں اور اس کی سوچ کے بارے میں آپ ان کی تحریر اور تصویر سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیا گل کھلاتا ہے۔ دھریجہ کو سرائیکیوں کا فکر کم اور اپنی مشہوری کا شوق زیادہ ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس نے سرائیکی تحریک کیلئے ہمیشہ بلوچ قوم کو استعمال کیا ہے اور کر رہا ہے۔ دھریجہ جن کو سرائیکی کہتا ہے وہ بلوچ ہیں۔ جنوبی پنجاب میں اکثریت پنجابیوں اور بلوچوں کی ہے راجن پور میں دریشک بلوچ، ڈی جی خان میں کھوسہ بلوچ، لغاری بلوچ، مزاری بلوچ، احمدانی بلوچ اور گبول بلوچ ہیں جبکہ گیلانی حضرات سید ہیں جن کے لباس، وضع، تہذیب اور رسم و رواج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دھریجہ کی ان کو سرائیکی ثابت کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
جنوبی پنجاب میں اگر سرائیکی قوم کی اکثریت ہے تو ڈسٹرکٹ رحیم یار خان کے ایم پی اے او رایم این اے لغاری بلوچ اور پنجابی ہی ہیں۔ ضلع کونسل رحیم یار خان کا چیئرمین لغاری، بلوچ اور چاروں تحصیلوں کے چیئرمین چودھری ہی ہیں۔ اگر ڈی جی خان کی بات کریں تو راجن پور میں دریشک اور مزاری ہی ایم پی اے اور ایم این اے ہیں، کھوسہ بھی خالص بلوچ ہے۔ شاید آپ کے علم میں نہیں کہ کھوسہ، لغاری، مزاری، دریشک حضرات کے بعض سردار مولانا نذیر الحق کے مرید ہیں۔
دھریجہ نے لکھا کہ بیتاب صاحب مولانا کا مالی معاونت کرتے ہیں، مولانا الحمدللہ خود صاحب استطاعت ہیں اور مالدار ہیں اس کی مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ 1990ءسے 1996ءتک دھریجہ اور اجمل مزاری مرحوم مل کر ماہانہ ایک اخبار چھاپتے تھے اس میں مولانا نذیر الحق ان دونوں کی مالی معاونت کرتے تھے، شاید دھریجہ کو بات بھول گئی ہے۔ بہرحال مولانا صاحب سرائیکی کے مخالف یا نئے صوبے کے مخالف نہیں، نئے صوبے بننے چاہئیں مگر لسانی بنیادوں پر نہیں، دھریجہ صاحب لسانی بنیادوں پر خانہ جنگی اور افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس حوالے سے آپ کے بہترین ادارے کو بھی ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ نے دھریجہ جیسے لوگوں کی باتیں چھاپی تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں اور تاریخ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔ سرائیکی بھی محب وطن ہیں مگر دھریجہ کی کوشش ہے کہ میں جنوبی پنجاب کا جی ایم سید بنوں۔ جس آدمی میں علم نہ ہو۔ اس کی تحریروں سے سوائے بدبو گالیاں طعنے کے آپ کو کچھ نہ ملے گا۔ دھریجہ کی تحریر کی وجہ سے اس وقت لاکھوں لوگ خبریں اخبار کی طرف اور آپ کی شخصیت کی طرف تعجب سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک ہردلعزیز شخصیت کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے اخبار کو دوسری طرف لے جا رہا ہے۔
میرادعویٰ ہے کہ آپ ایمانداری سے دھریجہ کی کتابوں کا اور مولانا کے حوالوں کا مطالعہ کریں اور مولانا کی کتابوں کا مطالعہ بھی کریں۔ آپ کومعلوم ہو جائے گا کہ دھریجہ سوائے دھریجہ کے اور کچھ نہیں اور وہ دھریجہ استعمال ہو رہا ہے دھریجہ کا اور اولیاءاللہ اور علماءکی نفرت کی وجہ سے تصویر میں اس کے چہرے کی نورانیت کو دیکھ سکتے ہیں۔ دھریجہ اپنے آبائی شہرمیں میرے مقابلہ میں الیکشن لڑ کے دیکھ لے۔ اسے سوائے دس ووٹوں کے کچھ نہیں ملے گا۔ چمگاڈر روشنی کی وجہ سے سورج کو لاکھ پھونکیں مارے سورج کی روشنی میں فرق نہیں پڑتا۔ مولانا نذیر الحق کی ولایت میں علم میں کمی نہیں ہوگی میں دھریجہ کو مولانا نذیر الحق کے مریدوں کے جوتی کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔ مولانا وہ شخصیت ہیں کہ جن کے کہنے پر مقامی لوگوں کو ہزاروں ووٹ ملتے ہیں۔ جنہیں مولانا فضل الرحمن جیسے شخص نے بھی بہترین مصنف کا لقب دیا ہے۔ خبریں دھریجہ کے بے ہودہ مضامین شائع کرنا بند کرے۔
(لکھاری ایم اے اسلامیات،
فاضل وفاق المدارس پاکستان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved