تازہ تر ین

مجھے خود سے محبت ہو گئی

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
اکثر سوچتا ہوں کہ اگر مجھ سے کوئی یہ چاہے کہ میں کسی مثالی مسلمان معاشرے کی عکاسی کرنے والے ملک کا نام بتاﺅں تو میں کس ملک کا نام دوں گا۔ حیرت کی بات یہ کہ دنیا بھر میں 49کے لگ بھگ ایسے ممالک ہیں جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ان ممالک میں انڈونیشیا بھی شامل ہے جہاں بسنے والے209ملین کے قریب مسلمان کل آبادی کا 87.2فی صد ہیں۔2010میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی تعداد176ملین کے قریب ہے اور وہاں اسلام دوسرے نمبر پر آنے والا اکثریتی مذہب ہے اگرچہ بھارت میں بسنے والے مسلمان وہاں کی کل آبادی کا14.4 فی صدبنتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ بھارت کی باقی آبادی صرف اور صرف ہندوﺅں پر مشتمل ہے۔PEW REASEARCH CENTER کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2050ءتک دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد2.76بلین ہوجائے گی اور یہ تعداد اس وقت دنیا کی ممکنہ کل آبادی کا29.7فیصد ہوگی۔2015ءمیں امریکا کی کل آبادی 322ملین کے لگ بھگ تھی جس میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ3.3ملین کے قریب تھا یعنی امریکا کی کل آبادی کا ایک فیصداور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050ءمیں یہ تعداد بھی دگنی ہوجائے گی۔قصہ مختصر یہ کہ مسلمان تعداد کے حساب سے دنیا بھر میں کہیں بھی کمزور نہیں لیکن باعث پشیمانی اور فکر مندی یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ اس قدر آبادی کے باوجود مسلمان کہیں بھی پرسکون اور محفوظ نہیں۔مسلمان ہر جگہ مارے جارہے ہیں اور مغربی میڈیا کے مطابق ان دھڑا دھڑ مارے جانے والے مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والے بھی عموما مسلمان ہی ہیں۔ BreitBartنامی نیوز ایجنسی نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس سال رمضان المبارک میں انتہا پسندوں کی کاروائیوں نے دنیا بھر میں 1627 مسلمانوں کو زندگی سے محروم کردیا جبکہ1824سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ سال 2016ءکے رمضان المبارک میں یہ تعداد421تھی جبکہ زخمی ہونے والے729کے لگ بھگ تھے۔یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں زخمی ہونے والوں کا حال مارے جانے والوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔مرنے والے فوری مر جاتے ہیں لیکن زخمی سسک سسک کر موت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔
مسلمانوں کو آپس کی لڑائیاں اور باہمی اختلافات روز بہ روز کمزور کر رہے ہیں اور اگر ابھی بھی مسلمانوں نے اتفاق، بھائے چارے اور یگانگت جیسی اعلی انسانی خصوصیات کو اپنے لیے مشعل راہ نہ بنایا تو آئندہ زمانوں میں صورت حال اور بھی بگڑنے کے امکانات واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ فکری اختلافات، نکتہ نظر کا ایک مختلف زاویہ، اور ایک مجموعی دائرے میں رہتے ہوئے سوچ کا ایک الگ انداز، یہ سب کچھ دنیا کے تمام مکاتب فکر میں ہوتا ہے، اور ایسا ہونا بلاشبہ ایک شعوری اورفطری عمل ہے لیکن ہمارے ہاں اس شعوری اور فطری عمل کو دہشت گردی سے جوڑنے کا موقع ہمارے دشمنوں کو کیسے ملا،یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ایک ہی گھر میں رہنے والے مختلف افراد خانہ ہر معاملے میں کبھی بھی ایک سا نکتہ نظر نہیں رکھتے لیکن اختلاف رائے کے باوجود وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں ہوتے، اندرون خانہ ممکن ہے اختلاف رائے ان کے درمیان کھچاﺅ کا باعث بنتا ہو لیکن باہر کی دنیا میں دوسروں کے لیے وہ یک جان یک قالب ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا نہ کرنے والے عام زندگی میں بھی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر نشان عبرت بن جاتے ہیں۔اختلاف اور نفرت میں بہت فرق ہوتا ہے۔دنیا بھر کے مسلمانوں نے عمومی طور پر اس فرق کو نظر انداز کردیا، شاید یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔جس جس نے خود کو اس غلطی سے باز رکھا، محفوظ بھی ہے اور طاقتور بھی۔دنیا کو چھوڑیں، اپنے ملک کو دیکھیں، ہم اچھے لوگ ہیں، سمجھدار بھی اور عاقبت اندیش بھی،ہم نے ہزارہا بیرونی سازشوں کے باوجود، باہمی فکری اختلافات کو نفرت میں بدلنے نہیں دیا، یہی سبب ہے کہ ہماری ترقی کا پہیہ تیزی سے آگ کو بڑھتا جا ریا ہے۔آج کے پاکستان کو دیکھیے اور پھر ایک نظر بیس برس پہلے کے پاکستان پر ڈالیں، ترقی، خوشحال اور کامیابی کا گراف اوپر کو جاتا دکھائی دے گا۔یقین کیجیے اس صورت حال میں ہمارے دینی راہنماﺅں اور علمائے کرام کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ کرام، لکھاریوں، شاعروںاور فنکاروں کا بھی بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے اور یقینا پولیس اور فوج سمیت ہمارے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاںبھی داد و تحسین کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ہر اس نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کی جو ہمیں ریزہ ریزہ کرنے کے لیے مصروف عمل تھا۔اس کوشش میں ان اداروں کے بہت سے اہلکار شہید بھی ہوئے اور معذور بھی لیکن کسی نے ہمت نہ ہاری۔ساری بات ہے نیت اور جذبوں کی، جب تک نیتیں مستحکم ہیں اور جذبے طاقتور،ہمیں کوئی قوت کوئی طاقت منتشر نہیں کر سکتی۔
تاہم عرض کرنے کا یہ مقصد بالکل بھی نہیں کہ ہمارے ہاں سب اچھا ہے، ہر طرف امن و آشتی اور بھائی چارے کے گیت گائے جارہے ہیں اور راوی سب چین لکھ رہا ہے، ایسا بھی نہیں کہ سیکیورٹی محاذ پر لڑنے والوں کو ہر قدم پرکامیابیاں ہی مل رہی ہیں لیکن جانچنے کا ہر جگہ پیمانہ یہی ہے کہ کامیابیاں تعداد میں زیادہ ہوں تو ناکامیوں پر غالب آجاتی ہیں۔اس حقیقت سے آج ہر پاکستانی آشنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک قیام امن کا خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔گزشتہ دنوں پاکستان علماءکونسل کے ایک اجلاس میں بھی مکمل اتفاق رائے سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستانی قوم کو مسلک، عقیدے اور فرقوں کی بنیاد پر کسی طور تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ کہ ہم ہر اس بیرونی قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے جو ہمیں تقسیم اور تفریق کا شکار کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔اس اجلاس میں ایک اور قابل تقلید اور قابل تحسین قرارداد بھی پیش ہوئی جس میں طے کیا گیا کہ اس سال اگست کو’ ماہ پاکستان‘کے طور پر منایا جائے گا اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اور نظریہ پاکستان کی ترویج و اشاعت کے لیے ”تحفظ پاکستان“ کے عنوان سے ایک مربوط مہم بھی چلائی جائے گی۔یقینا پاکستان علماءکونسل کی یہ کاوشیں ہمارے معاشرے کو مزید قوت اور مضبوطی دینے کا باعث بنیں گی۔یقین رکھیے پاکستان ٹوٹنے اور بکھرنے کےلئے نہیں بنا۔ پاکستان وہ سورج ہے جس سے دوسرے سیاروں اور ستاروں کو روشنی ملے گی، پاکستان زندگی ہے، ہماری اپنی زندگی۔ جینا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی سے پیار کریں، خود سے محبت کیے بنا محبت کی کوئی کہانی نہ تو شروع ہوتی ہے نہ ہی پروان چڑھتی ہے۔
(قومی اور بین الاقوامی امور پر
انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved