تازہ تر ین

انشا ءاللہ ایم این اے‘ ماشاءاللہ صدر

حامد جلال….پس آئینہ
میں مسمی حامد جلال عمر 65 سال سر کے بال سفید‘ کمر جھکی ہوئی‘ آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک زندگی میں ایک ناکام انسان ”خبریں“ لاہور کے نیوز ڈیسک پر شام کو چار سے رات 12 بجے تک قلم گھساتا ہوا کم تنخواہ پانے والا ایک جھڑوس اور کھڑوس بابا ہوں‘ جو زندگی میں اس لئے ترقی نہیں کرسکا کہ خطرات سے کھیلنے اور مہم جوئی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی بجائے حال پرست اور مستقبل سے بے پروا انسان ہوں‘ ورنہ میرے ساتھ کام کرنے والے کچھ اخبارات کے ایڈیٹر بن گئے اور دو لوگ ٹی وی چینلز کے چمکتے ہوئے ستارے بن کر زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں ایک مردم بیزار اور سڑیل انسان ہوں۔ اس لئے سڑیل بغدادی میرا بہترین دوست ہے جس کا تعارف میں نے اپنے بے شمار کالموں میں کروایا ہے۔ دراصل ہم دونوں ایک دوسرے میں اس قدر گھل مل چکے ہیں کہ ہمیں الگ کرنا مشکل ہے۔ سڑیل بغدادی ایک دم توڑتی ہوئی انشورنس کمپنی میں ملازم ہے لیکن روزانہ اپنے دفتر سے اٹھ کر خبریں کے نیوز ڈیسک پر حاضری دینا برسوں سے ان کا معمول ہے۔
قارئین و حاضرین باتمکین کئی سال سے میرا کالم بند ہوچکا ہے لیکن صفحہ انچارج زبردستی ہر اتوار کو سستے اور گھٹیا قسم کے لطیفوں پر میرا نام چھاپ دیتے ہیں اور اعتراض کروں تو جواب دیتے ہیں کہ چاچا مٹھ رکھ‘ مفت میں تیری مشہوری ہورہی ہے‘ جا اور جاکر اپنا کام کر۔
گزشتہ ہفتے اپنی ہمت باندھ کر اور دل کڑا کرکے میں نے سوچا جب چیف ایڈیٹر صاحب بھی ایڈیٹوریل صفحے کے انچارج کو منع نہیں کرتے تو روزانہ نہ سہی ”اوکھے سوکھے“ ہفتے میں ایک گھٹیا سا کالم گھسیٹ ہی ڈالو ورنہ کئی لوگ تو مجھے ہفتہ وار لطیفوں کے انتخاب پر مراثی سمجھنے لگے ہیں۔
جناب پچھلے کئی ماہ میں ملتان کی اس ذہین و فطین بال بچوں والی اور ایک عدد پبلسٹی کے شوقین شوہر کی مالکہ خاتون سے سے بہت متاثر ہوں جنہوںنے شاہ محمود قریشی ایم این اے اور وائس چیئرمین تحریک انصاف کے مقابلے میں 2018ءمیں ہونے والے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے اور اخبارات کے علاوہ ویب سائٹس‘ انٹرنیٹ اور اہم لوگوں کی فیس بکس سے دھڑا دھڑ پبلسٹی لے رہی ہیں۔ یہ معزز خاتون نیٹ پر جاری شدہ اشتہارات کے مطابق خود کو انشاءاللہ ایم این اے کہتی ہیں اور کسی کی منگنی ہو یا شادی‘ مرنے والے کے قل ہوں یا کسی اہم شخصیت کے بچے کا ختنہ‘ یہ بہادر اور مستقل مزاج خاتون ہر جگہ شوہر اور بعض اوقات بچوں سمیت پہنچتی ہیں اور گھر والے اپنی شادی اور غمی کا ڈھنڈورا پیٹیں یا نہ پیٹیں یہ نیک دل بی بی خوب ڈھول بجاتی ہیں۔ اخبار میں برسوں سے نوکری کرنے کے باوجود اور دن بھر موبائل پر ذہنی کشتی کرنے کے بعد بھی میرا علم ناقص اور میری معلومات محدود ہیں اور اس اچھی بی بی کی خاندان سمیت ”اہم“ تقریبات میں شمولیت سے ہی مجھے پتہ چلتا ہے کہ کون کہاں کیا کررہا ہے۔ بیوی کو مشہور ہوتے دیکھ کر ان کے میاں بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے اور ملک کا بچہ بچہ اس خوبرو اور خوش شکل نوجوان سے بخوبی واقف ہوچکا ہے‘ جو اپنی بیگم کا سچا رفیق‘ اچھا ڈرائیور اور محنتی پرسنل اسسٹنٹ واقع ہوا ہے۔ اللہ اس جوڑی کو کامیاب کرے‘ یہ نیک خاتون ایم این اے بن گئیں تو جتنی دیر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیٹھے گی خوش اخلاق میاں دروازے پر بچوں کو کھلاتے ہوئے پائے جائیں گے۔ یہ خاتون یقیناً ایم این اے بن سکتی ہیں‘ انشاءاللہ یعنی اگر اللہ نے چاہا۔ ان کے میاں بھی انشاءاللہ سنیٹر بن سکتے ہیں۔
انشاءاللہ کی اصطلاح بہت خوب ہے۔ آپ اپنے نام کے ساتھ انشاءاللہ صدر یا وزیراعظم بھی لکھ سکتے ہیں اور لوگ کہہ سکتے ہیں ماشاءاللہ صدر ہیں۔ آپ کو کون روک سکتا ہے۔ ہم نے تو اپنے سے بھی زیادہ جھڑوس کھڑوس حضرت سڑیل بغدادی کو مشورہ دیا ہے کہ انشورنس کمپنی تو بند ہونے ہی والی ہے مگر ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کہ مصداق آپ انشاءاللہ سیکرٹری جنرل یو این او بن جاﺅ گے۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی نوکری ہے‘ جس کی تنخواہ بھی سب سے زیادہ بتلائی جاتی ہے۔
انشاءاللہ کا خود ساختہ تخلص رکھنے والوں کے لئے ایک اور ”تحفہ“ حاضر خدمت ہے۔ ہمارے ایک دوست کے نوجوان برخوردار جو بی اے میں تین بار فیل ہوچکے ہیں نے اچانک اپنے نام کے آگے یہ ڈگری لکھنی شروع کردی۔ اے۔جے۔ کے۔ ایل۔ ہمیں ان کی تعلیمی قابلیت سے مکمل واقفیت تھی‘ اس لئے ایک روز وہ ملے تو پوچھا برخوردار یہ کونسی ڈگری ہے اور آپ نے کہاں سے حاصل کی ہے؟ وہ بولے تایا جی‘ اس کا مطلب ہے آرزو جانے کی لندن‘ ہم عش عش کر اٹھے‘ واللہ اس طرح سے تو آپ بھی اپنے لئے کوئی ڈگری پسند کرسکتے ہیں۔ جیسے آرزو بننے کی صدر پاکستان یعنی اے۔بی۔کے۔ص۔ پ۔ لگے ہاتھوں ایک اور واقعہ بھی سن لیں۔ پچھلے ہفتے دفتر ”خبریں“ میں نئے سب ایڈیٹروں اور رپورٹروں کے لئے تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو ہوئے‘ رپورٹروں کے لئے انٹرویو کی کمیٹی میں ایک پرانا بابا ہونے کے ناطے مجھے بھی شامل کیا گیا۔ ہمارے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد صاحب ہر دوسرے تیسرے امیدوار پر جرح کرتے کہ ایم اے یا بی اے جاری اور انگریزی میں Continue کا کیا مطلب ہے۔ امیدوار جواب دیتا کہ بی اے یا ایم اے جاری ہے گویا ابھی پڑھتے ہیں۔ ضیاصاحب ایف اے یا بی اے کی سند یا اس کی تصدیق شدہ نقل مانگتے تو پتہ چلتا کہ کمپارٹمنٹ آئی تھی۔ گویا ابھی ایف اے یا بی اے بھی کلیئر نہیں ہوا۔ سو بھلے مانس بھائیو ماشاءاللہ ہم سچے‘ اچھے اور نیک لوگ ہیں۔ انشاءاللہ لکھ کر ایم این اے بن جاتے ہیں کوئی اور ڈگری نہ ہو تو آرزو جانے کی لندن لکھ کر اپنا رانجھا راضی کرلیتے ہیں اور ایف اے جاری نہ ہونے کے باوجود ایم اے جاری کا دعویٰ کرکے اس اسامی کیلئے انٹرویو دینے چلے جاتے ہیں جس میں کم سے کم تعلیم ایم اے یا ایم ایس سی طلب کی گئی ہو۔ بقول شاعر
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
قارئین اور حاضرین باتمکین۔ یا زندہ صحبت باقی۔ اگلے ہفتے پھر ملیں گے۔
(معروف صحافی ،مزاحیہ اور طنزیہ کالم نگار)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved