تازہ تر ین

نئی سعودی حکومت اور نئی امیدیں

انجینئر افتخار چودھری ….باعث افتخار
نوجوان شاہد رندھاوا نے صیح کہا تھا کہ ہم برادر ملک سعودی عرب کا تماشہ رضائی میں بیٹھ کر دیکھیں گے ہمارے ہاتھوں میں چپس اور پاپ کارن ہوں گے اس لئے کہ ہمیں اس سے کیا غرض ہم تو ٹھیک ہیں ناں۔ ڈربے میں بند مرغیوں کی طرح ایک ایک مرغی کو نکال کر ذبح کر دیا جاتا ہے ساری مرغیاں سمجھتی ہیں میں بچ جاﺅں گی، قصاب رات کو نہ بکنے والی مرغی پر بھی چھری چلا کر گھر لے جاتا ہے۔یقین کیجئے امت مسلمہ نامی ایک چیز ہوا کرتی تھی جو اب سرے سے ناپید ہے۔
جو کچھ سعودی عرب کے ساتھ کیا جا رہا ہے اس کے لئے میں کچھ تجاویزپیش کرنا چاہتا ہوں۔شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں سعودی عرب گیا تھا ان کا دور دیکھا بعد میں ملک فہد آئے۔ملک فہد کے دور میں دو طویل جنگیں بھی ہوئیں ایک ایران کے ساتھ اور دوسری حرب خلیج جو کویت پر عراقی قبضے کے بعد چھڑی تھی۔ملک فہد کے بعد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز تخت نشین ہوئے ملک فہد کے دور میں حرم کی ریکارڈ توسیع ہوئی مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی توسیع جو تاریخ میں سب سے بڑی تھی انہی کا کارنامہ ہے ان کے ساتھ ایک نوجوان شہزادہ عبدالعزیز کل مارا گیااور ایک انتہائی اہم پرنس مقرن بن عبدالعزیز کا ہیلی بھی کریش ہو گیا یہ انٹیلی جنس چیف رہے ہیں۔ملک عبداللہ کے بیٹے بھی قتل کر دیے گئے۔ لگتا ہے معیشت کے نام پر اقتدار کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔سعودی عرب ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے جس پر پوری امت مسلمہ پریشان ہے۔
ان دنوں مدینہ منورہ میں الحسینی موٹرز میں ملازم تھا جنرل موٹرز کی ایجنسی جس میں موجود ہ پاکستانی وزیر اعظم کے والد شہید خاقان عباسی کے حصص تھے۔ ملک فہد کا دور اگرچہ لڑائی جنگ کا دور تھا مگر اس دور کو سنہری دور کہا جا سکتا تھا داخلی امن کی مثال نہیں ملتی ان کی رحلت کے بعد خادم حرمین شریفین عبداللہ بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالا۔ان کے دور میں بھی تعمیر و ترقی کے نئے دروازے کھلے۔عرب بہار(ہنگامے) بھی انہی کے دور میں ہوئے مگر ان کی لاجواب پالیسیوں نے مملکت کو جوڑے رکھا۔انہی کے دور میں سعودی شہریوں کے لئے نوکریوں کے بے شمار مواقع پیدا کئے گئے ہر کمپنی کو مجبور کیا گیا کہ وہ سعودائزیشن پر سختی سے عمل کرے یہ ایک لاجواب پروگرام تھا جس نے معذور،نابینا خواتین کے لئے بھی ملازمتوں کے دروازے کھولے۔ کمپنیوں کو سہولتیں تب ہی دی گئیں جب انہوں نے سعودیوں کو ملازمتیں دیں اس سے حالت یہ ہو گئی کہ سعودی لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ملازمتیں دی گئیں۔
تیل کی گری ہوئی قیمتوں نے سعودی معیشت پر بہت برے اثرات ڈالے اوپر سے باہر سے آنے والوں پر فیملی ٹیکس لگا دیے گئے جو ہر سال کے ساتھ بڑھ جائیں گے۔ملک سلمان بن عبدالعزیز کے ولی عہد نے تو ریکارڈ تبدیلی لاتے ہوئے ایک انتہائی رجعت پسند سوسائٹی کو ایک دم ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔سعودی عرب کے بارے میں دشمنوں کی یہ سازش بہت پرانی ہے کہ اس کو داخلی خلفشار کا شکار بنا دیا جائے۔2010ءمیں آنے والے سیلاب نے سعودی معیشت کو ایک بڑا دھچکہ دیا اور سعودی عرب کو سخت ہزیمت کا سمان کرنا پڑا۔جدہ شہر کی اب بھی بارشوں کے دنوں میں حالت خراب ہو جاتی ہے نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں پر سپرے کر کے بارش کو ٹالا جاتا ہے۔گھنے بادل گھنگور گھٹائیں ہمارے ہاں شاعری کا سبب بنتی ہیں جبکہ جدہ میں ایسا ہو تو لوگ ڈر کر سہم جاتے ہیں کہ اب بارش آئی تو کیا کیا طوفان ساتھ لائے گی۔سعودی عرب سے بڑی تعداد میں پاکستانی واپس آ رہے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ مملکت سعودی عرب نے اپنے حالات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانی ہیںاور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں لیکن یہ کہہ دینا یہ ان کے اپنے حالات ہیں کافی نہیں۔مملکت سعودی عرب میں حرمین شریفین موجود ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسلمان ہو اور اس ملک کی مشکلات میں نہ تڑپے۔کچھ بھی ہو پاکستانی سعودی عرب کو خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ دور در اصل ایک نسل سے دوسری میں اقتدار کی منتقلی کا دور ہے اس میں سابق فرماں رواﺅں کی اولاد کا قتل ہونا بہت سے سوالیہ نشانات چھوڑ گیا ہے کیا اقتدار کی رسہ کشی نے یہ خونریزی کرائی ہے یا واقعی سعودی عوام نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
بدقسمتی سے تبدیلی کی اس خواہش نے عرب کو تباہ و برباد کیا ہے ہمسایہ ممالک میں کچھ بھی نہیں بدلا ہاں ترقی ضرور ہوئی ہے۔پاکستان اس صورتحال میں جان لے کہ وہاں جہاں جمہوریت نہیں عدالتوں نے کس دلیرانہ انداز سے فیصلے کئے ہیں۔سعودی عرب کے نظام عدل پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان پر منصفانہ ٹرائل ہو گا اور مجھے پورا یقین ہے وہاں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے جو نظام شہزادے کا سر لے سکتا ہے اور ایک عام آدمی کو انصاف دینے میں کامیاب ہوا ہے وہاں ولید بن طلال اور شہزادوں کو بھی انصاف ملے گا۔سعودی عرب کے شہر الریض میں سعد الحریری کا استعفیٰ بھی ایک بڑی خبر ہے یہ صاحب نواز شریف کے گارنٹر تھے۔اور یاد رہے ان کی سعودی اوجر کمپنی کے ملازمین کی بھوک ہڑتال نے مملکت کو بدنام کر کے رکھ دیا تھا۔اب بھی بے شمار لوگ وہاں صرف اس لئے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان کی تنخواہیں نہیں مل رہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان کی حکومت سے لوگوں کو امید ہے کہ ان کے حقوق انہیں ملیں گے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved