تازہ تر ین

قانون ختم نبوت کا تحفظ!

اسرار ایوب….قوسِ قزح
ناموسِ رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کا طریقہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں مذکور ایک مومن کے اوصاف جو نبی آخرالزماںمیں بدرجہ ءکمال موجود تھے، اپنے اندر بھی پیدا کئے جائیں؟ ورنہ حضور اکرم کی زندگی کو ہمارے لئے ”بہترین قابلِ تقلید نمونہ“ کیوں قرار دیاجاتا؟
قرآن کی رو سے مومنین وہ لوگ ہوتے ہیںجوعقل و فکرسے کام لیتے ہیں(2/44,3/65,6/32)کوئی اور تو دور کی بات،اللہ کی آیات پر بھی اندھے اور بہرے بن کر نہیں گرتے بلکہ فکر وتحقیق کے بعد انہیں قبول و اختیار کرتے ہیں(25/73) دلائل و براہین کی رو سے لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے نہایت شائستہ رویہ اختیار کرتے ہیں(16/125)ان کی گفتگو دھوکے اور ابہام پر مشتمل نہیں ہوتی،دوٹوک بات کرتے ہیں(33/70)وہ بھی بہترین الفاظ اور بہترین انداز کے ساتھ(17/53,2/83)دھیمی آواز میںبولتے ہیں(31/19)اورتہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے(4/5)راست گوئی اپناتے ہیں،غیر دیانتدارانہ اورمصنوعی الفاظ سے مکمل طور پر گریز کرتے ہیں(22/30)سچ اور جھوٹ کو الگ الگ رکھتے ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ غلط ملط نہیں کرتے(2/42)چاہے ان کی بات کسی قرابت دار کے خلاف ہی کیوں نہ جا رہی ہولیکن وہ متوازن رائے دیتے ہیں(6/152)غیر ضروری،بے مقصد یابے کار بات کرتے ہیںنہ سنتے ہیں(23/3,28/55)جس بات کے بارے میں پورا علم نہیں رکھتے اس پر رائے زنی کرنے سے خاموش رہنے کو بہتر سمجھتے ہیں اور یہ ادراک رکھتے ہیں کہ پورے علم کے بغیر کسی بات پر رائے زنی بظاہر معمولی دکھائی دے سکتی ہے لیکن اس سے درحقیقت بڑے سنگین نتائج برامد ہو سکتے ہیں(24/15-16) تہمت لگانے اور بہتان باندھنے سے بچتے ہیں،اور ان کے سامنے کسی پر الزام لگایا جائے تو ہمدردی سے کام لیتے ہیں اور ملزم کے بارے میںنیک شگون رکھتے ہیں جب تک واضح شواہد اور ٹھوس ثبوت سامنے نہ آ جائیں(24/11-13)اپنے تک آنے والی خبر کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ انکی لاعلمی سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور انہیںاپنے کیے پر نادم نہ ہونا پڑے(49/6)کسی ایسی بات پر یقین نہیں کرتے جس کے بارے میں (اپنے حواس کی بنا پر)براہِ راست علم نہیں رکھتے (17/36)ان کی زبان پر وہی ہوتا ہے جودل میں ہوتا ہے(3/167) وعدے اور قول کے پکے ہوتے ہیں(17/34)گھٹیا چیزوں سے دور بھاگتے ہیں،بیہودہ اور بے مقصد کاموں کے پاس سے گزر ہو توسنجیدگی اور وقار کے ساتھ گزرتے ہیں(25/72)اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے توفوراًاسے تسلیم کرلیتے ہیں اور آئندہ اس سے بچتے ہیں(3/135)بددماغ مغرور اور ”میں“سے بھرے ہوئے نہیں ہوتے(31/18)خدا کی زمین پر اکڑ اکڑنہیں چلتے اور یہ جانتے ہیں کہ اس طرح نہ زمین کو پھاڑا جا سکتا ہے نہ ہی پہاڑوں کی بلندی کو پہنچا جا سکتا ہے(17/37) انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا خود پسنداور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(31/18) پارسائی کے دعووں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرتے(53/32)دوسروںکو ٹھیک کرنے سے پہلے خود کو ٹھیک کرتے ہیں (2/44,66/6) اعتدال کا راستہ اپناتے ہیں(31/19)متانت و وقار کی روش پر چلتے ہیں اور جاہل لوگوں سے کنارہ کشی کرتے ہیں(25/63) نگاہوں اور شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (24/30-31,40/19) بے شرمی کی باتوں کے قریب نہیں جاتے چاہے کھلی ہوں یا پوشیدہ(6/151)حیادارو شائستہ لباس پہنتے ہیں ، اہلیت و اچھائی کو نشانِ راہ مانتے ہیں(7/26)اچھے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیںلیکن برے کاموں میں نہیں کرتے (5/2)کسی کی مدد کرنے کے بعد جتاتے نہیں (2/262) کسی بدلے کی توقع میںکسی سے کوئی اچھائی نہیں کرتے،چاہے یہ بدلہ ایک شکریہ ہی کیوں نہ ہو 76/9) ( بھائی چارے اور اخوت کے ساتھ ایک کنبے کی طرح رہتے ہیں، ایک دوسرے کا مذاق نہیں اُڑاتے، ایک دوسرے کے عیب نہیں نکالتے،ایک دوسرے کو برے القاب سے نہیں پکارتے اور اس حقیقت سے پہلو تہی نہیں کرتے کہ ہو سکتا ہے جسے کم تر سمجھا جا رہا ہو وہ بہتر ہو (49/10,11)شک کرنے اور اندازے لگانے سے پرہیز کرتے ہیں،ایک دوسرے کی جاسوسی نہیں کرتے(49/12)والدین،رشتہ داروں، ہمسائیوں اورماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں، یتیموں اور معاشرے میں تنہا رہ جانے والوںکے کام آتے ہیں، محتاجوںاور معذوروں کی داد رسی کرتے ہیں (4/36)اپنی دولت بے جا خرچ نہیں کرتے (17/26) کسی کی دولت و جائیدادپر ناحق قبضہ نہیں کرتے،نہ ہی سرکاری عہدیداروں اورمنصفوں کو رشوت دے کر کسی کو اس کے حق سے محروم کرتے ہیں (2/188) اپنا راستہ ان لوگوں سے الگ کر لیتے ہیں جنہوں نے خدا کے نازل کردہ نظامِ زندگی یعنی دین کو کھیل تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے (6/70)اپنے کیے پر پچھتانے اوراپنی غلطی سدھارنے والوں کو معاف کر دیتے ہیں(6/54,3/134) اپنے غصے اور غضب کو”کظامت“(جسے انگریزی میں ”سبلیمیشن“کہتے ہیں)کے ذریعے اچھائی میں ڈھال لیتے ہیںیعنی تخریب سے بھی تعمیرکا پہلو نکال لیتے ہیں (3/134)کسی کی کامیابی و کامرانی پر حسد نہیں کرتے(4/54)جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں(58/11) ایک دوسرے کی سلامتی چاہتے ہیں(4/86) خود کو صاف اور خالص رکھتے ہیں(9/108,4/43,5/6)انسان کو رنگ، نسل، دولت،مذہب یا اسطرح کی کسی بھی دوسری وجہ سے نہیں بلکہ انسان ہونے کی جہت سے عزت کے قابل سمجھتے ہیں(17/70)۔قرآنِ کریم میں مذکور ان خوبیوں کو ذہن میں رکھ کرکم از کم ایک مرتبہ ضروراپنے گریبان جھانک لینا چاہئے تاکہ اس بات کا فیصلہ ہو سکے کہ ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کا تحفظ تو دور کی بات، ہم آپ کا امتی کہلانے کے لائق بھی ہیں؟
(کالم نگار ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved