تازہ تر ین

بھارتی آبی دہشت گردی

راﺅ غلام مصطفی …. نقطہ نظر
عالمی بنک کے تعاون سے طے ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کرنا بھارت کا معمول بنتا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لیکر ابتک جاری ہے اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے قیام کو ابھی دو ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ بھارت نے اکتوبر 1947میں پاکستان کا پانی بند کر دیا قائد اعظم کی ہدایت پر اس وقت کے وزیر خزانہ ممتاز دولتانہ اور سردار شوکت حیات نے بھارت کے ساتھ مذکرات کر کے کروڑوں روپے ادئیگی کے ذریعے بھارت سے پانی فراہمی کے لئے چھ ماہ کا معاہدہ کیا یکم اپریل1948ءکو بھارت پھر پانی بند کر کے پاکستان کے ساتھ اپریل فول منایا دونوں ممالک کے آبی تنازعہ کو حل کرتے ہوئے بلاآخر عالمی بنک کے تعاون سے ستمبر1960کو کراچی میں سندھ طاس معاہدہ پر پاکستان اور بھارت نے دستخط کئے اس معاہدہ کی رو سے مشرقی دریاﺅں راوی،ستلج،اور بیاس پر بھارت اور تین مغربی دریاﺅں جہلم،چناب اور سندھ پر پاکستان پر پانی استعمال کرنے کا اختیار مل گیا بھارت نے کمال ہوشیاری سے سندھ طاس معاہدہ کے دوران ستر ہزار ایکڑ زرعی اراضی سیراب کرنے اور مغربی دریاﺅں جہلم،چناب اور سندھ پر بجلی کے منصوبے بنانے کا مطالبہ بھی منظور کروا لیا جبکہ معاہدہ کی رو سے بھارت ان دریاﺅں پر ڈیمز بنانے کا مجاز نہیں اور اس حوالہ سے پاکستان کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا جب پاکستان کو مشرقی دریاﺅں کے پانی سے بھارت نے محروم کر دیا تو مجبوراً پاکستان کو کروڑوں روپے کی لاگت سے رابطہ نہریں بنانا پڑیں معاہدہ میں یہ طے پایا گیا تھا کہ دونوں ممالک پانی کے معاملات پر نظر رکھنے کے لئے مستقل بنیادوں پر کمیشن قائم کریں گے تاہم بھارت کی جانب سے مسلسل اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی اور بھارت پاکستان کے حصہ میں آنے والے مغربی دریاﺅں پر27ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والا بھارت اس سے قبل بھی پاکستانی دریاﺅں پر بند باندھ کر اور دیگر منصوبوں کی مدد سے پاکستان کے حصہ میں آنے والے پانی کو روکے ہوئے ہے 1947میں جب پاک بھارت تقسیم عمل میں آئی تو بر صغیر میں6دریا تھے 1955میں جب بھارت نے جارحیت کا مظا ہرہ کرتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرکے دریائے نیلم،جہلم اور چناب پر ڈیم بنا نا شروع کئے تو پاکستان اس مسئلہ کو اقوم متحدہ میں لے گیا تھا تشویشناک امر یہ ہے کہ بھارت اس وقت 62فیصد سے زائد چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کر چکا ہے اور اس کے بر عکس پاکستان اس وقت ابھی تک صرف دو ڈیمز بنا سکا ہے بد قسمتی سے تربیلا اور منگلا ڈیمز کی مزید بہتری کے لئے کسی بھی حکومت نے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہیں اٹھائے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک سو پینتالیس ملین فیٹ کے حساب سے پانی ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کے پاس پانی محفوظ کرنے کے ذرائع اور مقدار پر اچھا خاصا چیک اینڈ بیلنس ہے بھارت میں سالانہ اوسط سطح کے حساب سے ندی نالوں کے علا ﺅہ 750ملین ایکڑ فیٹ پانی ریکارڈ کیا گیا پاکستان اور بھارت کو یکساں پانی کی دستیابی کے باوجود بھارت پانی کے معاملہ میں خود کفیل ہے بھارت میں تیزی کے ساتھ تعمیر ہوتے ڈیمز پاکستان کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں اب حال ہی میں 1996میں شروع کئے جانے والا بھارت کا سب سے بڑا منصوبہ سردار سرور ڈیم گجرات میں جو مکمل ہو ا وزیر اعظم نریندر مودی نے اس منصوبہ کا افتتاح کر دیا ہے بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی پر شب خون مارنا اس کے فطری عمل میں شامل ہو چکا ہے اور پاکستان کو عملًا بھارت قحط اور خشک سالی سے دوچار کرنے پر تلا ہوا ہے سرحد پار دشمن دشمنی کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
پاکستان میں آنے والے سیلابوں کی کڑیاں بھی دشمن ملک بھارت سے جا ملتی ہیں یہ امر غوروفکر کا متقاضی ہے کہ پاکستان میں آنے والے سیلابوں سے ہونے والے جانی ومالی نقصانات پر امریکہ اور دیگر ممالک امداد کرتے تو نظر آتے لیکن کبھی ان سرکردہ ممالک نے آبی جارحیت کا نوٹس نہیں لیا آپ غور کیجئے اگر بھارت پاکستان کے خلاف آ بی جارحیت پر اتر آتا ہے تو پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کا منظر کچھ ایسا ہو گا زرعی ملک پاکستان کے سر سبز کھیت بنجر اور زراعت سے منسلک صنعت کا پہیہ جام ہو جائے گا ملک میں بے رو زگاری اور غربت کی نئی لہر سے ملک قحط سے دوچار ہوتا نظر آتا ہے اگر پاکستان نے مستقبل قریب اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھا کر ٹھوس بنیادوں پر اس کا حل تلاش نہ کیا تو محدود پیمانے پر ہونے والی بھارتی آ بی جارحیت لا محدود ہو سکتی ہے اگر بھارت آ بی جارحیت پر اتر آ یا تو یقینا اس مسئلہ پر مفادات سے منسلک چین بھی دریائے برہم پترا کا پانی روک کر اور دریائے سندھ کا 36فیصد پانی روکتے ہوئے بھارتیوں کی لائف لائن کاٹ کر پاکستان کے ساتھ ضرور کھڑا ہو گا کیونکہ بھارت اور بیجنگ کے درمیان کوئی آ بی معاہدہ طے نہیں ہے لیکن اس سے قطع نظر پاکستان کو اس گھمبیر مسئلہ کے پیش نظر فصلوں،بجلی،آ بی حیات اور انسانوں کے لئے پانی کی قلت کا مستقل حل ڈھونڈ کر سد باب کر نا چاہئے بھارت اسوقت جہلم اور چناب کا اسی فیصد اور دریائے سندھ کا چھیاسٹھ فیصد پانی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ملک میں موجود عوامی نمائندگی کی دعویدار سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے سر جوڑ کر عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اُجاگر کر کے حل تلاش کریں ورنہ بھارت عالمی قوانین کو پاﺅں تلے روندتا ہوا مستقل خطرہ بن منڈلاتا رہے گا۔
(کالم نگار سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved