تازہ تر ین

انسان کا کردار اور تربیت

ملیحہ سید …. زینہ
دوہزار پانچ میں جب باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز کیا تھا تو میرے استادپروفیسر جاوید احمد شیخ (مرحوم) نے کہا تھا کہ اب جب معاشرے میں نکلو تو آنکھیں اور کان کھلے رکھنا، تمہیں اپنے کالم کے موضوع کا انتخاب کرنے میں کبھی پریشانی نہیں ہو گی اور پھر جب سماجی مسائل پر لکھنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کی یہ نصیحت سماعت میں گونجنے لگی تو میرے لیے اپنے موضوعات کا انتخاب کرنا سہل ہو گیا۔
انسان کا کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ اس کی تربیت اور اس ماحول کی عکاسی ہوتا ہے جس کا وہ حصہ ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کی یہ بد قسمتی ہی ہے کہ یہاں ایسے انسان با کثرت پائے جاتے ہیں جو اپنے سے بڑوں کا اور خواتین کا احترام کرنے کے قائل ہی نہیں ہیں اور اگر ان کے پاس طاقت ہے یا وہ کسی اسٹیٹس پر ہیں تو پھر کمزوروں کو دبانا اور ان کی تذلیل کرنا جیسے ان پر واجب ہوتا ہے۔ عام شاہراوں کے علاوہ کسی معروف سڑک پر جہاں پیدل چلنا ہی جرم ہے وہیں رکشے والو اور اس پر سوار سواریوں کی تذلیل اور ان سے ہتک آمیز سلوک روا رکھنا جیسے کچھ کار سوار افراد پر واجب ہوتا ہے۔ ٹریفک رکی ہوئی ہو تو کوئی رکشے والا کیسے اپنا رکشہ آگے بڑھائے گا؟ اور اگروہ رکشہ بد قسمتی سے کسی ایسے ہی کار سوار کے آگے ہو جو (Have) کے زعم میں مبتلا ہو توپھر اللہ ہی اسے بچا سکتا ہے۔
میرے کالم کے عنوان سے ظاہر ہے جس میں لاہور کی ایک معروف شاہرہ کا نام شامل ہے جہاں پر پیش آئے ایک واقعہ کے بنیاد پر میں نے آج یہ کالم لکھا ہے۔ کچھ دن پہلے صبح آفس آنے کے لیے اوبرمنگوائی تو آنے والا ڈرئیوربزرگ آدمی تھا کوئی پچاس سے ساٹھ کے درمیان۔ انکل جی نے سفر کے لیے جیل روڈ کا انتخاب کیا اور حسین چوک جانے کے لیے ایم ایم عالم روڈ کی طرف ہو لیے جہاں ہمیں ٹریفک بلاک ملی۔ آفس سے دیر پہلے ہی ہو چکی تھی اس لیے شفیق صاحب کو دیر ہو جانے کا ایس ایم ایس کر کے ٹریفک کا حصہ بن گئی جہاں کاریں، موٹر سائیکلیں اور کچھ رکشے والے آہستہ آہستہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ ہمارا رکشہ سب سے آخر میں تھا اس لیے ارد گرد کے ماحول اور موسم میں آنے والی تبدیلی کو محسوس کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھاکہ اچانک ہارن کی آواز نے دھیان بٹا دیا کہ یہ کون بد تمیز ہے جسے ٹریفک نظر نہیں آ رہی اور پھر چند ہی لمحوں بعد گالیاں بھی سماعت سے ٹکرانا شروع ہو گئیں۔ ابھی صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی کہ یہ کون اور کس پر اپنا غصہ نکال رہا ہے۔وہ تو جب کار والے بد تمیز شہری نے ہمارے رکشے کو اپنی کار سے سائیڈ پر کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ موصوف ہم پر چلا رہے ہیں۔ رکشے والے انکل سے پوچھا کہ آپ نے کوئی خلاف ورزی کی تو وہ کہنے لگے کہ بیٹا ایسا تو کوئی سین نہیں ہوا یہ بندہ اچانک ہی ہارن دینے لگا اور پھر گالیاں۔ ابھی انکل جی نے بات ختم ہی کی تھی کہ موصوف کی نظر رکشے کے اندر پڑی اور پھر جو گالیاں میری سماعت سے ٹکرائیں وہ گندی ہونے کے ساتھ ساتھ غلیظ بھی تھیں۔ اس نے بزرگ کی عمر اور رکشے میں خاتون سواری کا بھی احترام نہیں کیا بلکہ اندر خاتون موجود ہے پہلے سے زیادہ درشتی پر اتر آیا۔آخر انکل جی نے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے تو جو مسئلہ سامنے آیا وہ صرف زعم اور برتری کا تھا کہ اپنا رکشہ پیچھے کرو مجھے اپنی گاڑی آگے کرنی ہے ؟ اف ! میرا دل کیا کہ رکشے سے اتر کر اسے گاڑی سے نکال کر تین چار لگانے کے ساتھ ساتھ اس کی تذلیل بھی اسی طرح کروں جیسے وہ ہماری کر رہا تھا مگر یہ سوچ کر رک گئی کہ اس جیسا رویہ اختیا ر کر کے اس جیسی بننے سے بہتر ہے کہ خاموشی سے رکشے میں ہی بیٹھی رہوں، اپنی اس بزدلی پر خود سے ابھی تک شرمندہ ہوں۔
اب یہاں بہت سارے افراد کا خیال ہو گا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ جلدی میں ہو تو ایسا نہیں کیونکہ جب رکشے والے نے اپنی عزت کا بھرم رکھنے کے لیے رکشہ ایک طرف کیا تاکہ اس لاڈلے کی کار گزر جائے تو موصوف نے تمسخرانہ انداز میں چار پانچ گالیاں اور بک دیں مگر میں نے دیکھا کہ اس کی گاڑی آگے جا کر رک گئی تھی کہ آگے ایک پراڈو کھڑی تھی۔ یعنی اسے جلدی نہیں تھی بس اس کے آگے رکشہ تھا۔ تب میں نے سوچا کہ کیا ایم ایم عالم روڈ صرف اشرافیہ کی ہے؟
اس دوران ٹریفک رواں دواں ہو گئی اور میں آفس پہنچ کر بھی کافی دیر تک آوازار ہی رہی جبکہ میں جانتی تھی کہ مجھے کالم کا موضوع مل چکا ہے یعنی ہمارے معاشرے میں تیزی سے زوال پذیر ہوتے ہوئے رویے جو ملک، قوم، مذہب حتیٰ کہ کلچر تک کی جڑیں تیزی سے کھوکھلے کرتے جا رہے ہیں، گذشتہ کالم میں، میں نے خواتین کے لیے ایک نئے عمرانی معاہدے کامطالبہ کیا تھا تو آج مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کو ایک قوم کی ضرورت ہے، پاکستان کے پورے کے پورے معاشرے کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ جس میں کمزور کی حفاظت کو اولیں حیثیت حاصل ہو کیونکہ روسو کا پیش کردہ معاہدہ عمرانی انہی نکات پر مشتمل تھا۔اس سے پہلے ارسطو بھی انسان کو معاشرتی حیوان قرار دیتا ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
آپ کے پاس پیسہ ہے، گاڑی ہے تو آپ جو مر ضی کریں، جس کی مرضی عزت اچھالیں۔یاد رکھیں اگر ماں باپ آپ کو زمانے بھر کی سہولتیں دے رہے ہیں مگر معاشرتی زندگی کے حوالے سے آپ کی تربیت نہیں کر رہے تو وہ آپ کے ساتھ سب سے بڑا ظلم کر رہے ہیںکیونکہ نہ صرف انسانی زندگی بلکہ انسانی ماحول بھی تغیر و تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے، آپ زیرو سے ہیرو اور ہیروسے زیرہ بھی بن سکتے ہیں۔ سانپ سیڑھی کا کھیل ہم سب نے کھیلا ہو گا اس کا سبق یہی ہے کہ 99پر جب سانپ ڈس لے تو کھیل پھر زیرو سے ہی شروع کرنا پڑتا ہے۔اس لیے ہم جو معاشرے کو دیتے ہیں وہ واپس پلٹ کر ہمارے پاس آتا ہے۔ معاشرے میں عزت دے کر ہی جیا جا سکتا ہے تاہم ایسے افراد جو کسی کو انسان نہیں سمجھتے اور خود کو بہت مہان تصور کرتے ہیں معاشرتی زندگی میں صرف پیسے کے بل بوتے پر زیادہ دیر تک اپنی بقاءکی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ اس لیے معاشرے کو ہمیشہ اپنا بہترین دینے کی کوشش کی کریں تاکہ آپ معاشرہ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کرے۔
(کالم نگار سماجی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved