ملتان(رپورٹ: طارق اسماعیل، رانا طارق، تصاویر: خالد اسماعیل) روزنامہ ”خبریں“ کے زیراہتمام نیا صوبہ کے عنوان سے مجلس مذاکرہ عدنان شاہد فورم ہال میں ہوا جس میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ جناب ضیاشاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور مذاکرے کی تقریب کی صدارت کی۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مجلس مذاکرے میں سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں ، ایوانوں میں عوام کے منتخب نمائندوں سمیت مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ مذاکرے کے شرکاءنے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور اور وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ممکن نہ بنایا تو بھرپور عوامی مزاحمت اور یلغار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شرکاءکی اکثریت اس بات پر متفق ہوئی کہ خطے میں اب تعصب کی سیاست اور تعصب کا فلسفہ دفن کردیا گیا ہے۔ تمام مکتبہ فکر کے نمائندے مسائل کے حل کے لئے الگ صوبے کاقیام چاہتے ہیں۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام نیا صوبہ کے عنوان سے ہونے والی مجلس مذاکرہ میں ممبر قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ، ایم این اے محمد ابراہیم خان، ایم این اے چودھری طاہر اقبال، ممبر صوبائی اسمبلی وسیم احمدبادوزئی، ایم پی اے سلمان نعیم، ایم پی اے مظہر عباس راں، ایم پی اے جاوید اختر انصاری، ایم پی اے ڈاکٹر اختر ملک، اختر گورچانی، ڈاکٹر ندیم الدین (نواب)، خالد حنیف لودھی، سلیم محمود کملانہ، اعظم خان خاکوانی، خواجہ محمد یوسف، بلال بٹ، میجر(ر) اخترعباس، رانا فراز نون، خالد محمود قریشی، ڈاکٹر محمد حسین آزاد، حبیب اللہ شاکر، نفیس انصاری،خالد بیگ، عمر فاروق بھٹی اور مفتی عبدالقوی نے شرکت کی۔ پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی این اے 154احمدحسین ڈیہڑ نے صوبہ جنوبی پنجاب سے متعلق مجلس مذاکرہ میں کہا کہ سابق حکومتوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے انگریزوں کا فارمولا استعمال کیا کہ تقسیم کرکے ان پرحکومت کرو، پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کے صوبہ کی بات کی جبکہ (ن) لیگ کی حکومت نے صوبہ بہاولپور اور صوبہ ملتان بنانے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح اس خطہ کے لوگوں کو تقسیم کردیاگیا جس کی وجہ سے آج تک کوئی صوبہ نہ بن سکا جبکہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں 2صوبوں کی قرارداد منظور بھی ہو چکی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی 100دن میں صوبہ بنانے کی بات پر قائم ہے اور اس ضمن میں پی ٹی آئی قائد عمران خان اپنی تقریر میں صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کے لئے دو تہائی اکثریت چاہےے جس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے گی۔ پی ٹی آئی میں بہاولپور اور ملتان میں وزیراعلیٰ کے کیمپ آفس بنانے کی بات چل رہی ہے جب کیمپ آفس شروع ہوگیا تو صوبہ کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی کے قادرپورراں سے ایم پی اے مظہر عباس راں نے کہا کہ ”خبریں“ ہمیشہ محروم افرادکی آواز بنا ہے اور جنوبی پنجاب کے صوبہ کی آواز مسلسل کئی سالوں سے اٹھا رہا ہے جس طرح کالا باغ ڈیم کومتنازعہ کیاگیا ہے اسی طرح صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ صوبہ بنے گا۔ اگر کسی کے خیال میں یہ ہے کہ اس کو صوبہ بنانے سے روکا جائے تو زیادہ دیر نہیں روک سکے گا۔پی ٹی آئی کے ملتان سے ایم پی اے ڈاکٹر اختر ملک نے ”خبریں“ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اس بات کااعادہ کررکھا ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب ہر صورت میں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صوبہ بہاولپور کو بحال کردیا جائے اگر صوبہ بہاولپور بنایا جائے تو اس سلسلہ میں 25سینٹ کی سیٹیں پید اکرنی ہوں گی جس کے لئے 50سے زائد ایم پی اے چاہئیں لیکن اگر صوبہ بہاولپور بنائیں تو اس علاقے سے 50ایم پی اے نہیں بنا سکتے جبکہ بہاولپور اور ملتان کو ملا کر صوبہ بنائیں تو ایک مکمل صوبہ بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں پنجاب اسمبلی میںقراردادیں بھی جمع ہو چکی ہیں لیکن سابق ادوار میں قراردادیں نیشنل اسمبلی کے منشور تک نہ جاسکیں۔ پی ٹی آئی کے وہاڑی سے ایم این اے طاہر اقبال چودھری نے کہا کہ اقتدار میں رہ کر جنوبی پنجاب کے صوبہ کی آواز اٹھائی اور مسلم لیگ (ن) جو کہ اقتدار میں تھی اس سے علیحدہ ہو کرصوبہ جنوبی پنجاب محاذکا نائب صدر بنا تاکہ عوام کی محرومیوں کو دورکیا جاسکے۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 100دن میں صوبہ جنوبی پنجاب بنائے گی اس ضمن میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنے وعدہ پر قائم نظرآتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے علیحدہ صوبہ ضرور بنائیں گے۔ اس لئے شروع میں ہی جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے وزیراعلیٰ پنجاب بناکر محرومی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملتان شہر سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے بیرسٹر وسیم بادوزئی نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کو ادراک ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانا ہے اگر انہوں نے اس مسئلہ کو حل نہ کیا تو عوامی عدالت سے فیصلے ہمارے خلاف آنے شروع ہو جائیں گے۔ ہماری جماعت نے جنوبی پنجاب صوبہ کا نعرہ لگایا ہے جس کی وجہ سے پارٹی کو بھاری اکثریت میں ووٹ ملے جبکہ پنجاب کو علیحدہ کرنے کی بات پر اَپر پنجاب سے ہمیں ووٹ نہ مل سکے۔ صوبہ بننا ضروری ہے عملی اقدامات اس ضمن میں نظرآنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے اور صوبہ میں وزارت میں بھی حصہ ملے گا۔ اگر صوبہ بننے میں تاخیر ہوگی تو انتظامی ایڈمنسٹریشن ضرور بنے گی۔ آزاد حیثیت سے صوبائی الیکشن جیت کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ایم پی اے سلمان نعیم نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 2018ءکے منشور میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا شامل ہے اور اس ضمن میں جنوبی پنجاب سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کئے ہیں اور ملتان میں چھ قومی اسمبلی کی سیٹیں بھی حاصل کی ہیں۔ پی ٹی آئی کو قومی ، صوبائی اسمبلی اور سینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہے لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی قائد جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے۔ اگر وعدہ پورا نہ کیا تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا اور اس سلسلہ میں اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھاﺅں گا۔ پی ٹی آئی کے ملتان سے ایم این اے ابراہیم خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے سلسلہ میں پوائنٹ سکورننگ کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈیا نے مشرقی پنجاب میں 3صوبے بنا دیئے توہمارے پنجاب میں 2صوبے کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سیاسی وِل پاور کی ضرورت ہے۔ سینٹ میں ہماری تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب ضرور بنائیں گے کیونکہ علیحدہ صوبہ سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں اور پاکستان کی بقاءکے لئے ضروری ہے کہ علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب بنایا جائے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نواب ندیم الدین نے کہا ہے کہ وعدہ کرنے سے پہلے پی ٹی آئی کو سوچنا چاہےے تھا کہ ان کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے لیکن اگر پی ٹی آئی کو پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے اکثریت مل سکتی ہے توجنوبی پنجاب کوعلیحدہ صوبہ بنانے کے لئے بھی اکثریت مل سکتی ہے، بس کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے مسائل کو ایڈریس کرے اور حل کرنے کی کوشش کرے، صرف اور صرف وِل پاور چاہےے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اور سماجی رہنما خالد حمید لودھی نے کہا کہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیاں اپنے منشور میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے لئے سرگرداں نظرآتی ہیں لیکن عملی کوشش نہیں کرتیں۔ پیپلزپارٹی نے سب سے پہلے جنوبی پنجاب کے لئے آواز اٹھائی چونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اس لئے یہاں سے قرارداد پاس نہ ہوسکی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں 2صوبوں بہاولپور اور صوبہ ملتان کی آواز اٹھائی لیکن اس پر عمل نہ کیا، صرف نعروں تک محدود رہی، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے لوگوں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلیم محمود کملانہ نے کہا کہ ہمارے نمائندے ٹکٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے رہے کہ انہیں ایم این اے اورایم پی اے بن کر سہولیات اور وی آئی پی شہری بننا ہے تاکہ عام عوام ان سے اپنے لئے سہولتیں حاصل کرنے کے لئے بھیک مانگیں، انہوںنے کبھی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے فورم پر منظم اور بھرپور کوششیں ہی نہیں کیں کہ علیحدہ صوبہ بنایا جائے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے دانش ور اعظم خان خاکوانی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سے اَپرپنجاب کو بہت بڑا ریونیو حاصل ہوتاہے۔ اگر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا ہے تو اس کے لئے ریونیو کی کیا حدود ہوں گی، دیکھنا یہ ہے کہ کہیں غریب صوبہ تو نہیں بنایا جائے گا۔ زراعت کے حوالے سے کیا تقسیم ہوگی۔اگر ایسا صوبہ بنایا جائے کہ جو غریب ہو تو مسائل اور بڑھ جائیں گے۔ ملتان سے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق ممبر قومی اسمبلی بابو نفیس انصاری نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے رہنے والے افراد کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ صوبہ بنانے کے لئے 2درجن سے زائد ترامیم کی ضرورت ہے جو کہ 100دن میں ہونا مشکل نظرآتی ہیں لیکن اگر سچے دل سے نیت کرلی جائے تو ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے تسلیم کیا ہے کہ علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانے پر ووٹ ملے ہیں۔ 30سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ علیحدہ صوبہ کی تحریک چلاتے ہوئے ہمیں سب سیکرٹریٹ یا وزیراعلیٰ کے کیمپ آفس نہیں چاہےے، صوبہ چاہےے۔ عمران خان کو اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے ہمارے لوگوں کو علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب دینا ہوگا۔ میجر ریٹائرڈ اخترعباس نے کہا کہ سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی نے مجوزہ جنوبی پنجاب کے صوبہ کے لئے کے پی کے صوبہ کے علاقے بھی شامل کررکھے ہیں جس سے آئینی بحران بن جائے گا اور اس سلسلہ میں کے پی کے اسمبلی کو شامل کرنا پڑے گا۔ ابھی تک علیحدہ صوبہ کانام فائنل نہ ہوا ہے نہ ہی اسکے دارالحکومت کے لئے نام دیا جاسکا، صوبہ کی حدود کا فیصلہ بھی نہ ہوسکا۔ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ دے دیا ہے صوبہ نہیں بنا سکتی ہے۔ صوبہ مکمل کرنے کے خواہشمند (ن) لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو ایک میز پر بٹھائیں گے تو مسئلہ حل ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور معروف قانون دان حبیب اللہ شاکر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تخت لاہور یا حکومت میں مشتاق گورمانی سے لے کر اب تک جتنے بھی عہدوں پر آئے ہیں اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل حل کرنے کیلئے بیورو کریسی، فوج، عدلیہ اور مالیاتی اداروں میں خطے کے لوگوں کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے اور آئین میں تبدیلی سے معاملات حل ہوں گے اور اس میں پی ٹی آئی کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی کیلئے ایوان میں موجود پارٹیوں سے رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب سے بننے والے وزیراعلیٰ کو اختیار دیں۔ اس کے اوپر سپیکر اور ایک سینئر وزیر نہ بٹھائیں۔ وزیراعلیٰ کو آزادانہ طریقے سے کام کرنے دیا جائے۔ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر خالد اشرف خان نے مجلس مذاکرہ میں ہونے والی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب تک جنوبی پنجاب سے ایک وزیراعظم، 7گورنر اور 6وزرائے اعلیٰ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ مارشل لاءدور ہو یا جمہوری دور میں جنوبی پنجاب کو ہمیشہ حصہ ملا ہے لیکن تمام حکومتی شخصیات نے خطے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ وہ صرف اور صرف اسمبلیوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں اپنے خاندان کو لاہور، اسلام آباد شفٹ کرکے خطے کے مسائل کو بھول بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا نعرہ بلند کیا ہے تو وکلاءملتان میں جوڈیشل کمپلیکس کو جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ یا انتظامی یونٹس کے دفاتر کیلئے جگہ دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبہ کو بنیاد بنایا اور پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) کے بعد انہوں نے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءبھی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام، آزاد خودمختار ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی رجسٹری کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ خالد اشرف خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے ایوان میں موجود تمام جماعتیں مل کر کام کریں اور اس سلسلے میں پوائنٹ سکورنگ کے بجائے یکجا ہو کر خطے کی بہتری کیلئے کام کریں جوکہ صرف اور صرف نئے صوبے کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی اختر حسین گورچانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور کے دوران جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے سلسلے میں جو وعدہ کیا تھا اس کے قیام میں تاخیر پر عوامی یلغار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر نئے صوبے بنانے میں قباحت ہے تو ایک صوبے میں مختلف انتظامی یونٹس بنا دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ریلیف چاہتے ہیں۔ قراردادوں اور الجھاﺅ کے معاملات سے مطمئن نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازیخان ڈویژن پر مشتمل ایک خودمختار یونٹ بنا دیا جائے۔ سب سیکرٹریٹ یا انتظامی یونٹ بنانے سے کام نہیں چلنے والا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں رکاوٹ نہیں ہے کہ ایک صوبے میں ایک سے زیادہ صوبائی سطح کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے افسران کا تقرر کیا جائے۔ ممبر صوبائی اسمبلی جاوید اختر انصاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے ایک سازش کے تحت علاقے کو پسماندہ رکھا اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں تاخیر کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور اب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت نیا صوبہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام میں صرف سیاست کی انہیں الیکشن میں جواب بھی مل گیا ہے۔ عمرفاروق بھٹی سیکرٹری اطلاعات و نشریات مسلم لیگ(ن) ملتان شہر نے کہا ہے کہ صوبہ تب بنے گا جب جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندے اپنی اپنی پارٹیوں سے بالاتر ہو کر ایمانداری سے اپنی اپنی قیادت اور اسمبلیوں میں آواز اٹھائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی اپنی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے دھرنے دیتے ہیں ٹکٹ مل گئی تو ٹھیک ورنہ دوسری پارٹیوں میں چلے جاتے ہیں جو اراکین اسمبلی ہر بار پارٹی تبدیل کرکے منتخب ہوتے ہیں ان کو صوبہ جنوبی پنجاب سے سروکار نہیں صوبے کیلئے سینٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں اکثریت ضروری ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کوئی بھی پارٹی کسی دوسری پارٹی کو کریڈٹ نہیں لینے دے گی اور صوبہ کے نام سے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین آزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومیت اور ایک دوسرے سے پہچان کیلئے قبیلے یا ذاتوں کا حوالہ اسلامی تعلیمات میں بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا صوبہ وقت کی ضرورت ہے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے صوبے کا قیام بہت ضروری ہے۔تاجر رہنما خالد قریشی نے بھی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ نے صوبے کے قیام کے حوالہ سے لالی پاپ دیئے رکھا اور اب پی ٹی آئی کی طرف سے بھی دوتہائی اکثریت اور قانون سازی کے بہانے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے راہ فرار چاہتے ہیں اور جنوبی پنجاب کے علاقے سے وزیراعلیٰ بنوا کر صوبے کے قیام کا معاملہ التواءمیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ یہاں بتاتے کہ ان کی قیادت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے خودمختار کمشن بنایا جائے جو صوبوں کے قیام کے حوالے سے پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کام کرے۔ مجلس مذاکرہ میں شریک افراد نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں اور خطے کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے الگ صوبے کے قیام میں مثبت کردار ادا کریں۔
خبریں مذاکرہ






































