سرگودھا( محمد کامران ملک سے)درجنوں بے گناہ شہریوں کو منشیات کے مقدما ت میں جیل بھجوانے والے تھانیدار اور اس کے نجی رضاکاروں کا ایک اور انوکھا کارنامہ ،پولیس کا آلہ کار نہ بننے پر دن دیہاڑے شہری کے گھر پر حملہ ،گن پوائنٹ پر تشدد ،گھر میں لوٹمار ،بچی کے جہیز کیلئے تیار کروایا گیا لاکھوں روپے مالیت کا سامان بھی لے اڑے ،تھابنہ اربن ایریا لیجاکر رات بھر تشدد ،اڑھائی کلو فرضی چرس کا وقوعہ بناکر جیل بھجوادیا،5ماہ کا عرصہ گزرگیا ،ضمانت نہ ہوسکی ،بیوی کی طرف سے ڈی پی او کو درخواست دینے پر بھی کوئی انصاف نہ مل سکا ،الٹا خاتون کو بھی منشیات کے مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکیاں ،رانی بی بی انصاف کیلئے خبریں ہیلپ لائن پہنچ گئی ۔تفصیلات کے مطابق اسلام پورہ کی رہائشی رانی بی بی نے خبریں ہیلپ لائن میں ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ میری شادی نوید قیصر عرف عاشق سے ہوئی اور میرے دو بچے ہیں مورخہ 6اپریل کے دن ہم لوگ شاہپور اپنے رشتہ داروں کے گھر گئے ہوئے تھے اور میرا خاوند کپڑے لانے کیلئے گھر آیا اور واپس نہ پہنچا کافی دیر گزر جانے کے بعد ہم لوگ پریشانی کے عالم میں گھر واپس آئے دیکھا تو گھر کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے سامان بکھرا ہواتھا جبکہ بچی کی شادی کیلئے تیار کروایا گیا قیمتی سامان اور دیگر اشیاءبھی غائب تھیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے مکمل تلاشی پر ہمیں یہ علم ہوا کہ الماری میں پڑے ایک لاکھ 25ہزار روپے،پرس میں رکھی رقم مبلغ تین ہزار، طلائی زیورات(دوانگوٹھیاں ، کانٹے دو عدد ،بالیاں دو عدد موبائل فون کیو دو عدد ،ٹیب ایک عدد ،چار جرز دو عدد ،پرفیومز چار عدد ،روڈ پرنس موٹر سائیکل نمبری SGF5979،سونے کی چین ،ایک عدد لاکٹ ،چاندی کا ایک بریسلٹ ،) جن کی مالیت بھی ہزاروں روپے تھی سب کچھ غائب تھا اہل محلہ نے پوچھنے پر بتایا کہ پولیس اے ایس آئی فیاض گوندل اور اس کے نجی رضاکار نوید عرف چٹا ،عاشراور ذوالفقار تمھارے گھر آئے پہلے انہوں نے تمھارے خاوند کو گلی میں تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں گھر کے تالے توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور جاتے ہوئے نوید قیصراور قیمتی سامان بھی لے گئے جس کا ہم نے تھانہ جاکر پتہ کروایا تو میرے خاوند کو فیاض گوندل نے 2400گرام فرضی چرس ڈال کر جیل بھجوادیا ہے پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے میرے خاوند کی عدالت سے ضمانت نہ ہو سکی ہے میں کرائے کے مکان میں رہتی ہوں ہم لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں گھر میں اب نوبت فاقوں تک آپہنچی ہے اب ہمیں کوئی قرضہ بھی نہیں دیتا ہے میں نے اس واقعہ کی بابت ڈی پی او کو انصاف کیلئے درخواست دی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا الٹا پولیس مجھے بھی منشیات کے مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکیاں دے رہی ہے میرا خاوند بے گناہ ہے میری خبریں ہیلپ لائن کے توسط سے افسران بالا سے یہ اپیل ہے کہ مذکورہ واقعہ کی کسی بھی ایماندار افسر سے تفتیش کروائی جائے تو ہماری بے گناہی ثابت ہوجائے گی اور ملزمان کیخلاف کارروائی کی جائے اس سلسلہ میں جب تحقیق کی گئی تو ثابت ہوا کہ نوید قیصر عرف عاشق کو بے گناہ منشیات کے مقدمہ میں پھنسایا گیا جس کے اہل محلہ اور موقع کے گواہ بھی موجود ہیں جبکہ مذکورہ شخص کیخلاف کسی بھی تھانے میں کوئی مقدمہ نہ درج تھا پھر جب ڈسٹرکٹ جیل میں اس سے ملاقات کی گئی تو اس نے بتایا کہ میں اپنے گھر کپڑے تبدیل کرنے کیلئے آیا تھا کہ مذکورہ پولیس ملازمین آگئے اور کہا کہ آج تم کو مخبری نہ کرنے کا مزہ چکھاتے ہیں ۔انہوں نے مجھے میرے گھر کی گلی میں گن پوائنٹ پر سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا یا گھر کے تالے توڑ کر نقدی ،زیورات اور قیمتی سامان سمیت مجھے تھانہ اربن ایریا لے گئے اور مجھ پر فرضی اڑھائی کلو چرس کا مقدمہ بناکر مجھے جیل بھجوادیا ۔پہلے میں کیبل کا کام کرتا تھا پھر میں نے کیبل کا کاروبار چھوڑ کر ٹھیکیداری شروع کردی میری جیب میں موجود رقم 45ہزار روپے بھی فیا ض گوندل نے نکال لئے تھے ۔میری خبریں ہیلپ لائن کے توسط چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ میرے مقدمہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے تاکہ سچ سامنے آسکے اور ملزمان کیفر کردار تک پہنچ سکیں ۔اس بارے جب اے ایس آئی فیاض گوندل کا موقف لینے کیلئے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ ملزم سے چرس برآمد ہوئی تھی جبکہ اہل محلہ ،موقعہ کے گواہان گھر کی توڑ پھوڑ اور قیمتی سامان ساتھ لیجانے کے سوال پر اور برآمد شدہ چرس موقع پر نہ شو کرنے کے سوال پر فیاض گوندل نے ٹال مٹول شروع کر دی اور فون بند کردیا ۔

















