فیا خان کی ” اک واری فیر “ میں شاندار پرفارمنس ‘ میلہ لوٹ لیا

لاہور(شوبزڈیسک)اداکارہ فیا خان کی محفل تھیٹر کے ڈرامہ ”ایک واری فیر“میں شاندار پرفارمنس‘ میلہ لوٹ لیا۔فیا خان جوکہ اس ڈرامہ میں ایک منفر دکردار میں نظر آئی ہیں انہوںنے اپنے رقص کوچار چاند لگانے کیلئے بہترین ملبوسات اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا ہے ۔ فیاخان نے میڈیا کو بتایا کہ میرے ڈرامہ میں صائمہ خان، لیلےٰ اور ہنی شہزادی جیسی منجھی ہوئیں اداکارائیں پرفارم کررہی ہیں ان سب سینئرز کے درمیان مجھے پذیرائی مل رہی ہے جو میرے لیے اعزاز سے کم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سٹیج پر اچھا وقت آرہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محنت جاری رکھیں ۔ یہ عید میرے لیے دو خوشیاں لائی ‘ایک تو میرا ڈرامہ کامیاب رہا دوسرے میں نے نئی گاڑی بھی خرید لی ہے ۔

جھانوی کپور کی فیشن ویک میں پہلی بار ریمپ واک

ممبئی (شوبزڈیسک)آنجہانی بالی وڈ اداکارہ سری دیوی کی صاحبزادی جھانوی کپور نے پہلی دفعہ لیک می فیشن ویک 2018 میں ریمپ پر واک کی اور خوب داد سمیٹی۔ممبئی میں جاری 5 روزہ لیک می فیشن ویک میں معروف بھارتی ڈیزائنرز کی جانب سے فیشن کے نت نئے اور روایتی انداز پیش کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر جھانوی کپور پہلی مرتبہ ڈیزائنر نچیکت باروے کی شو اسٹوپر کے طور پر ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں اور ان کی ملینیئل مہارانیز کلیکشن کی تشہیر کی۔جھانوی کپور نے نیلے اور گلابی رنگ کا روایتی عروسی لہنگا زیب تن کیا جس پر اسموکی گلیمر آئی میک اپ کا انتخاب کیا گیا، جب کہ جیولری کے طور پر انہوں نے صرف چھوٹے چھوٹے ٹاپس کو ترجیح دی۔

پشتو فلموں میں وردہ اور شاہد خان کی ” رقیبانولہ درشن “ نمبر لے گئی

لاہور ( شوبزڈیسک)عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی شاہد فلمز پروڈکشنز کی پشتو فلم” رقیبانو لہ درشن“ نے باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کر لی۔ بڑے بجٹ اور بڑی کاسٹ پر مشتمل ” رقیبانو لہ درشن“ کے فلم ساز و ہدایت کار ارشد خان، مصنف محمد کمال پاشا، مکالمہ نگار سعید تہکالے،سکرین پلے درویش خان، امجد نوید ، ایڈیٹر عمران علی ، میڈیا پارٹنر اعجاز خان بے گناہ اور میوزک ڈائریکٹر استاد ماس خان ہیں۔ فلم میں ٹائٹل رول جنگجو ہیرو شاہد خان نے ادا کیا ۔ دیگر نمایاں ستاروں میں لاہور سٹیج کی اداکارہ وردہ خان، فیروزہ علی، منتظم شاہ، زمان بغدادی، راحیلہ آغا،خالدہ یاسمین،محمد حسین سواتی، ببر ک شاہ،عمران خان خٹک، رحیم شہزاد اور سینئر اداکار آصف خان شامل تھے۔ منفرد کہانی ، جاندار ڈائیلاگ اور مضبوط ہدایت کاری نے فلم کی کامیابی میں نمایاں رول پلے کیا ہے۔ ہدایت کار ارشد خان نے بتایا کہ عید الفطر کے بعد عید الاضحی پر بھی ہماری فلم کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی فلم نے کراچی کے مسرت اور پشاور کے ارشد سنیما میں خوب رنگ جمایا ۔بہت جلد آل پاکستان سپر سٹار شاہد خان اینڈ ڈائریکٹر ارشد خان فیڈریشن بریالے گروپ کی جانب سے فلم کی کامیابی پر شاہد فلم پروڈکشنز کو ایواڑد دیا جائے گا ۔ یاد رہے فلم دبد عملہ بد عملو اور ” د گندا گیر و گندا گیر“ بھی پشتو فلم ” رقیبانولہ درشن “کے مقابلہ میں قریب نہیں آ پائیں ۔البتہ ابھی کچھ نتائج آنا باقی ہیں۔

 

جنوبی پنجاب صوبہ ضروری ، وعدہ پورا نہ ہوا تو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا ، ارکان اسمبلی سیاسی عمائدین کی ” خبریں “ کے زیر اہتمام مذاکرہ میں گفتگو

ملتان(رپورٹ: طارق اسماعیل، رانا طارق، تصاویر: خالد اسماعیل) روزنامہ ”خبریں“ کے زیراہتمام نیا صوبہ کے عنوان سے مجلس مذاکرہ عدنان شاہد فورم ہال میں ہوا جس میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ جناب ضیاشاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور مذاکرے کی تقریب کی صدارت کی۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مجلس مذاکرے میں سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں ، ایوانوں میں عوام کے منتخب نمائندوں سمیت مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ مذاکرے کے شرکاءنے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور اور وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ممکن نہ بنایا تو بھرپور عوامی مزاحمت اور یلغار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شرکاءکی اکثریت اس بات پر متفق ہوئی کہ خطے میں اب تعصب کی سیاست اور تعصب کا فلسفہ دفن کردیا گیا ہے۔ تمام مکتبہ فکر کے نمائندے مسائل کے حل کے لئے الگ صوبے کاقیام چاہتے ہیں۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام نیا صوبہ کے عنوان سے ہونے والی مجلس مذاکرہ میں ممبر قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ، ایم این اے محمد ابراہیم خان، ایم این اے چودھری طاہر اقبال، ممبر صوبائی اسمبلی وسیم احمدبادوزئی، ایم پی اے سلمان نعیم، ایم پی اے مظہر عباس راں، ایم پی اے جاوید اختر انصاری، ایم پی اے ڈاکٹر اختر ملک، اختر گورچانی، ڈاکٹر ندیم الدین (نواب)، خالد حنیف لودھی، سلیم محمود کملانہ، اعظم خان خاکوانی، خواجہ محمد یوسف، بلال بٹ، میجر(ر) اخترعباس، رانا فراز نون، خالد محمود قریشی، ڈاکٹر محمد حسین آزاد، حبیب اللہ شاکر، نفیس انصاری،خالد بیگ، عمر فاروق بھٹی اور مفتی عبدالقوی نے شرکت کی۔ پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی این اے 154احمدحسین ڈیہڑ نے صوبہ جنوبی پنجاب سے متعلق مجلس مذاکرہ میں کہا کہ سابق حکومتوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے انگریزوں کا فارمولا استعمال کیا کہ تقسیم کرکے ان پرحکومت کرو، پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کے صوبہ کی بات کی جبکہ (ن) لیگ کی حکومت نے صوبہ بہاولپور اور صوبہ ملتان بنانے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح اس خطہ کے لوگوں کو تقسیم کردیاگیا جس کی وجہ سے آج تک کوئی صوبہ نہ بن سکا جبکہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں 2صوبوں کی قرارداد منظور بھی ہو چکی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی 100دن میں صوبہ بنانے کی بات پر قائم ہے اور اس ضمن میں پی ٹی آئی قائد عمران خان اپنی تقریر میں صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کے لئے دو تہائی اکثریت چاہےے جس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے گی۔ پی ٹی آئی میں بہاولپور اور ملتان میں وزیراعلیٰ کے کیمپ آفس بنانے کی بات چل رہی ہے جب کیمپ آفس شروع ہوگیا تو صوبہ کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی کے قادرپورراں سے ایم پی اے مظہر عباس راں نے کہا کہ ”خبریں“ ہمیشہ محروم افرادکی آواز بنا ہے اور جنوبی پنجاب کے صوبہ کی آواز مسلسل کئی سالوں سے اٹھا رہا ہے جس طرح کالا باغ ڈیم کومتنازعہ کیاگیا ہے اسی طرح صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ صوبہ بنے گا۔ اگر کسی کے خیال میں یہ ہے کہ اس کو صوبہ بنانے سے روکا جائے تو زیادہ دیر نہیں روک سکے گا۔پی ٹی آئی کے ملتان سے ایم پی اے ڈاکٹر اختر ملک نے ”خبریں“ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اس بات کااعادہ کررکھا ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب ہر صورت میں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صوبہ بہاولپور کو بحال کردیا جائے اگر صوبہ بہاولپور بنایا جائے تو اس سلسلہ میں 25سینٹ کی سیٹیں پید اکرنی ہوں گی جس کے لئے 50سے زائد ایم پی اے چاہئیں لیکن اگر صوبہ بہاولپور بنائیں تو اس علاقے سے 50ایم پی اے نہیں بنا سکتے جبکہ بہاولپور اور ملتان کو ملا کر صوبہ بنائیں تو ایک مکمل صوبہ بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں پنجاب اسمبلی میںقراردادیں بھی جمع ہو چکی ہیں لیکن سابق ادوار میں قراردادیں نیشنل اسمبلی کے منشور تک نہ جاسکیں۔ پی ٹی آئی کے وہاڑی سے ایم این اے طاہر اقبال چودھری نے کہا کہ اقتدار میں رہ کر جنوبی پنجاب کے صوبہ کی آواز اٹھائی اور مسلم لیگ (ن) جو کہ اقتدار میں تھی اس سے علیحدہ ہو کرصوبہ جنوبی پنجاب محاذکا نائب صدر بنا تاکہ عوام کی محرومیوں کو دورکیا جاسکے۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 100دن میں صوبہ جنوبی پنجاب بنائے گی اس ضمن میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنے وعدہ پر قائم نظرآتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے علیحدہ صوبہ ضرور بنائیں گے۔ اس لئے شروع میں ہی جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے وزیراعلیٰ پنجاب بناکر محرومی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملتان شہر سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے بیرسٹر وسیم بادوزئی نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کو ادراک ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانا ہے اگر انہوں نے اس مسئلہ کو حل نہ کیا تو عوامی عدالت سے فیصلے ہمارے خلاف آنے شروع ہو جائیں گے۔ ہماری جماعت نے جنوبی پنجاب صوبہ کا نعرہ لگایا ہے جس کی وجہ سے پارٹی کو بھاری اکثریت میں ووٹ ملے جبکہ پنجاب کو علیحدہ کرنے کی بات پر اَپر پنجاب سے ہمیں ووٹ نہ مل سکے۔ صوبہ بننا ضروری ہے عملی اقدامات اس ضمن میں نظرآنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے اور صوبہ میں وزارت میں بھی حصہ ملے گا۔ اگر صوبہ بننے میں تاخیر ہوگی تو انتظامی ایڈمنسٹریشن ضرور بنے گی۔ آزاد حیثیت سے صوبائی الیکشن جیت کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ایم پی اے سلمان نعیم نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 2018ءکے منشور میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا شامل ہے اور اس ضمن میں جنوبی پنجاب سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کئے ہیں اور ملتان میں چھ قومی اسمبلی کی سیٹیں بھی حاصل کی ہیں۔ پی ٹی آئی کو قومی ، صوبائی اسمبلی اور سینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہے لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی قائد جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے۔ اگر وعدہ پورا نہ کیا تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا اور اس سلسلہ میں اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھاﺅں گا۔ پی ٹی آئی کے ملتان سے ایم این اے ابراہیم خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے سلسلہ میں پوائنٹ سکورننگ کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈیا نے مشرقی پنجاب میں 3صوبے بنا دیئے توہمارے پنجاب میں 2صوبے کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سیاسی وِل پاور کی ضرورت ہے۔ سینٹ میں ہماری تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب ضرور بنائیں گے کیونکہ علیحدہ صوبہ سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں اور پاکستان کی بقاءکے لئے ضروری ہے کہ علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب بنایا جائے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نواب ندیم الدین نے کہا ہے کہ وعدہ کرنے سے پہلے پی ٹی آئی کو سوچنا چاہےے تھا کہ ان کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے لیکن اگر پی ٹی آئی کو پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے اکثریت مل سکتی ہے توجنوبی پنجاب کوعلیحدہ صوبہ بنانے کے لئے بھی اکثریت مل سکتی ہے، بس کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے مسائل کو ایڈریس کرے اور حل کرنے کی کوشش کرے، صرف اور صرف وِل پاور چاہےے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اور سماجی رہنما خالد حمید لودھی نے کہا کہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیاں اپنے منشور میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے لئے سرگرداں نظرآتی ہیں لیکن عملی کوشش نہیں کرتیں۔ پیپلزپارٹی نے سب سے پہلے جنوبی پنجاب کے لئے آواز اٹھائی چونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اس لئے یہاں سے قرارداد پاس نہ ہوسکی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں 2صوبوں بہاولپور اور صوبہ ملتان کی آواز اٹھائی لیکن اس پر عمل نہ کیا، صرف نعروں تک محدود رہی، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے لوگوں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلیم محمود کملانہ نے کہا کہ ہمارے نمائندے ٹکٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے رہے کہ انہیں ایم این اے اورایم پی اے بن کر سہولیات اور وی آئی پی شہری بننا ہے تاکہ عام عوام ان سے اپنے لئے سہولتیں حاصل کرنے کے لئے بھیک مانگیں، انہوںنے کبھی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے فورم پر منظم اور بھرپور کوششیں ہی نہیں کیں کہ علیحدہ صوبہ بنایا جائے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے دانش ور اعظم خان خاکوانی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سے اَپرپنجاب کو بہت بڑا ریونیو حاصل ہوتاہے۔ اگر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا ہے تو اس کے لئے ریونیو کی کیا حدود ہوں گی، دیکھنا یہ ہے کہ کہیں غریب صوبہ تو نہیں بنایا جائے گا۔ زراعت کے حوالے سے کیا تقسیم ہوگی۔اگر ایسا صوبہ بنایا جائے کہ جو غریب ہو تو مسائل اور بڑھ جائیں گے۔ ملتان سے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق ممبر قومی اسمبلی بابو نفیس انصاری نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے رہنے والے افراد کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ صوبہ بنانے کے لئے 2درجن سے زائد ترامیم کی ضرورت ہے جو کہ 100دن میں ہونا مشکل نظرآتی ہیں لیکن اگر سچے دل سے نیت کرلی جائے تو ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے تسلیم کیا ہے کہ علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانے پر ووٹ ملے ہیں۔ 30سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ علیحدہ صوبہ کی تحریک چلاتے ہوئے ہمیں سب سیکرٹریٹ یا وزیراعلیٰ کے کیمپ آفس نہیں چاہےے، صوبہ چاہےے۔ عمران خان کو اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے ہمارے لوگوں کو علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب دینا ہوگا۔ میجر ریٹائرڈ اخترعباس نے کہا کہ سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی نے مجوزہ جنوبی پنجاب کے صوبہ کے لئے کے پی کے صوبہ کے علاقے بھی شامل کررکھے ہیں جس سے آئینی بحران بن جائے گا اور اس سلسلہ میں کے پی کے اسمبلی کو شامل کرنا پڑے گا۔ ابھی تک علیحدہ صوبہ کانام فائنل نہ ہوا ہے نہ ہی اسکے دارالحکومت کے لئے نام دیا جاسکا، صوبہ کی حدود کا فیصلہ بھی نہ ہوسکا۔ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ دے دیا ہے صوبہ نہیں بنا سکتی ہے۔ صوبہ مکمل کرنے کے خواہشمند (ن) لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو ایک میز پر بٹھائیں گے تو مسئلہ حل ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور معروف قانون دان حبیب اللہ شاکر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تخت لاہور یا حکومت میں مشتاق گورمانی سے لے کر اب تک جتنے بھی عہدوں پر آئے ہیں اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل حل کرنے کیلئے بیورو کریسی، فوج، عدلیہ اور مالیاتی اداروں میں خطے کے لوگوں کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے اور آئین میں تبدیلی سے معاملات حل ہوں گے اور اس میں پی ٹی آئی کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی کیلئے ایوان میں موجود پارٹیوں سے رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب سے بننے والے وزیراعلیٰ کو اختیار دیں۔ اس کے اوپر سپیکر اور ایک سینئر وزیر نہ بٹھائیں۔ وزیراعلیٰ کو آزادانہ طریقے سے کام کرنے دیا جائے۔ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر خالد اشرف خان نے مجلس مذاکرہ میں ہونے والی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب تک جنوبی پنجاب سے ایک وزیراعظم، 7گورنر اور 6وزرائے اعلیٰ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ مارشل لاءدور ہو یا جمہوری دور میں جنوبی پنجاب کو ہمیشہ حصہ ملا ہے لیکن تمام حکومتی شخصیات نے خطے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ وہ صرف اور صرف اسمبلیوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں اپنے خاندان کو لاہور، اسلام آباد شفٹ کرکے خطے کے مسائل کو بھول بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا نعرہ بلند کیا ہے تو وکلاءملتان میں جوڈیشل کمپلیکس کو جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ یا انتظامی یونٹس کے دفاتر کیلئے جگہ دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبہ کو بنیاد بنایا اور پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) کے بعد انہوں نے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءبھی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام، آزاد خودمختار ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی رجسٹری کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ خالد اشرف خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے ایوان میں موجود تمام جماعتیں مل کر کام کریں اور اس سلسلے میں پوائنٹ سکورنگ کے بجائے یکجا ہو کر خطے کی بہتری کیلئے کام کریں جوکہ صرف اور صرف نئے صوبے کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی اختر حسین گورچانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور کے دوران جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے سلسلے میں جو وعدہ کیا تھا اس کے قیام میں تاخیر پر عوامی یلغار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر نئے صوبے بنانے میں قباحت ہے تو ایک صوبے میں مختلف انتظامی یونٹس بنا دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ریلیف چاہتے ہیں۔ قراردادوں اور الجھاﺅ کے معاملات سے مطمئن نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازیخان ڈویژن پر مشتمل ایک خودمختار یونٹ بنا دیا جائے۔ سب سیکرٹریٹ یا انتظامی یونٹ بنانے سے کام نہیں چلنے والا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں رکاوٹ نہیں ہے کہ ایک صوبے میں ایک سے زیادہ صوبائی سطح کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے افسران کا تقرر کیا جائے۔ ممبر صوبائی اسمبلی جاوید اختر انصاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے ایک سازش کے تحت علاقے کو پسماندہ رکھا اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں تاخیر کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور اب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت نیا صوبہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام میں صرف سیاست کی انہیں الیکشن میں جواب بھی مل گیا ہے۔ عمرفاروق بھٹی سیکرٹری اطلاعات و نشریات مسلم لیگ(ن) ملتان شہر نے کہا ہے کہ صوبہ تب بنے گا جب جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندے اپنی اپنی پارٹیوں سے بالاتر ہو کر ایمانداری سے اپنی اپنی قیادت اور اسمبلیوں میں آواز اٹھائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی اپنی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے دھرنے دیتے ہیں ٹکٹ مل گئی تو ٹھیک ورنہ دوسری پارٹیوں میں چلے جاتے ہیں جو اراکین اسمبلی ہر بار پارٹی تبدیل کرکے منتخب ہوتے ہیں ان کو صوبہ جنوبی پنجاب سے سروکار نہیں صوبے کیلئے سینٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں اکثریت ضروری ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کوئی بھی پارٹی کسی دوسری پارٹی کو کریڈٹ نہیں لینے دے گی اور صوبہ کے نام سے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین آزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومیت اور ایک دوسرے سے پہچان کیلئے قبیلے یا ذاتوں کا حوالہ اسلامی تعلیمات میں بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا صوبہ وقت کی ضرورت ہے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے صوبے کا قیام بہت ضروری ہے۔تاجر رہنما خالد قریشی نے بھی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ نے صوبے کے قیام کے حوالہ سے لالی پاپ دیئے رکھا اور اب پی ٹی آئی کی طرف سے بھی دوتہائی اکثریت اور قانون سازی کے بہانے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے راہ فرار چاہتے ہیں اور جنوبی پنجاب کے علاقے سے وزیراعلیٰ بنوا کر صوبے کے قیام کا معاملہ التواءمیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ یہاں بتاتے کہ ان کی قیادت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے خودمختار کمشن بنایا جائے جو صوبوں کے قیام کے حوالے سے پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کام کرے۔ مجلس مذاکرہ میں شریک افراد نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں اور خطے کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے الگ صوبے کے قیام میں مثبت کردار ادا کریں۔
خبریں مذاکرہ

 

جاوید باجوہ نے مسکان لتا کیساتھ ” نظر کے سامنے “ مکمل کرلیا

لاہور(شوبزڈیسک) سینئر گلوکار جاوید باجوہ بھارتی گیت کو گلوکارہ مسکان لتا کیساتھ گانے میں مصروف ہیں اس کی آڈیو ریکارڈنگ مکمل ہونے کے بعد اب اس کا وڈیو بنایا جا رہا ہے اس کور سانگ کے بول ” نظر کے سامنے جگر کے پاس “ ہیں۔ جاویدباجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصہ سے گا رہے ہیں لیکن چونکہ وہ دوحہ قطر میں رہ رہے ہیں اس لئے وطن سے دوری کی وجہ سے وہ پاکستانی عوام سے بھی دور ہیں لیکن اب انہوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ گلوکاری مسلسل کرینگے اور پاکستان کیساتھ تو تعلق نہ ختم ہونیوالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گیتوں کی پوری سیریز بھی بہت جلد کر کے ایک والیم لانا چاہتے ہیں ۔ ان کا یہ گیت مسکان لتا کیساتھ چند روز تک مختلف چینلز ‘ سوشل میڈیا سے آن ائیر کر دیا جائے گا ۔

ایشیاکپ ٹائٹل جیت کروطن واپس آئیں گے ، فخر

لاہور(آ ئی این پی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر بلے باز فخر زمان نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ایشیاکپ میں شاندارکارکردگی کامظاہرہ کرے گی،بھارت کیخلاف کانٹے دارمقابلہ دیکھنے کوملے گا، قومی ٹیم ورلڈ کپ 2019 کے لئے فیورٹ ہے۔غیرملکی سپورٹس چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی کے بعد ٹیم کا حوصلہ بلند ہے ،ٹائٹل جیتنے کی غرض سے انگلینڈ روانہ ہوں گے۔اٹھائیس سالہ فخر زمان نے کہا کہ پاکستان ٹیم کا کمبنیشن بہترین ہے اور بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اوپنر کا کہنا تھا کہ فی لحال پوری توجہ اگلے ماہ ہونے والے ایشیا کپ ٹورنامنٹ پر ہے۔ فخر زمان اٹھارہ ون ڈے میں چھہتر رنز کی اوسط سے ایک ہزار پینسٹھ رنز بنا چکے ہیں۔وہ ون ڈے میں ڈبل سنچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں۔ انہوں نے زمبابوے کے خلاف دو سو دس رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

جیکی چن امیتابھ کےساتھ ”آنکھیں “کے سیکوئل میں جلوہ گر ہونگے

ممبئی (شوبزڈیسک)ہالی ووڈ کے ایکشن ہیرو جیکی چن بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکاری امیتابھ بچن کے ساتھ فلم آنکھیں کے سیکوئل میں جلوہ گر ہوں گے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امیتابھ بچن کی کامیاب فلم آنکھیں کا سیکوئل بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے گزشتہ ماہ ہی ایم ایس دھونی کی زندگی پر بننے والی فلم سے شہرت پانے والے ادکار سوشانت سنگھ راجپوت اور فلم سونو کے ٹیٹو کی سویٹی سے سب کی توجہ حاصل کرنے والی اداکار کارتک آریان کو فائنل کرلیا گیا تاہم اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ہالی ووڈ کے ایکشن ہیرو جیکی چن بھی امیتابھ بچن کے ہمراہ اس فلم میں انٹری دیں گے۔انیس بزمی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کی شوٹنگ 2019 میں شروع ہوگی۔جو جنوری 2020 میں ریلیز کی جائے گی۔واضح رہے فلم آنکھیں 2002 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں امیتابھ بچن کے ہمراہ اکشے کمار، ارجن رامپال، پریش راول اور سشمتاسین نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ فلم کی کہانی 3 اندھے چوروں کے گرد گھومتی ہے جن سے ایک بینک میں چوری کروائی جاتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ میں بہتر تبدیلیاں نظرآئیں گی،وقار

اسلام آباد(سی پی پی) پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ وقاریونس نے کہا ہے کہ عمران خان کی خوبی ہے کہ وہ جس کام کے پیچھے لگتے ہیں اسے مکمل کر کے چھوڑتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ چونکہ عمران خان کے ساتھ بہت اچھا اور طویل عرصہ گزرا اس لیے وزیر اعظم بننے کے بعد ہم خود انہیں مبارک باد دینے گئے سرفراز ار حفیظ بھی میرے ساتھ تھے دوران ملاقات ان سے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی، عمران خان کی اس لیے سپورٹ کہ ملک میں تبدیلی آنی چاہیے۔وقار یونس کا کہنا تھا کہ عمران خان کی خوبی ہے کہ وہ جس کام کے پیچھے لگتے ہیں اسے مکمل کر کے چھوڑتے ہیں اور جو وعدہ پوراکرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں،کرکٹ بورڈ میں بہت سے چیزیں اچھی بھی ہیں اور بہت سی چیزیں خراب بھی ہیں جس کا عمران خان کو بھی پتہ ہے۔پی سی بی میں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس طرح نئی حکومت آئی ہے اسی طرح کرکٹ بورڈ میں بھی نئے لوگ آنے چاہئیں، جب میں انڈیا اور آسٹریلیا کی کرکٹ اکیڈمیز دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا کہ کہ ہم اس میدان میں پیچھے ہیں۔، نجم سیٹھی نے کہاکہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ نہیں ہے مجھے ان کی بات اچھی نہیں لگی میں نے ان کے بیان پر اس لیے رد عمل دیا۔سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہمارا ملک ٹیلنٹ سے مالاما ل ہے، میں اس لیے کہتا ہوںکہ تبدیلی آنی چاہئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں سدھو کاآنا ایک کرکٹر کو ایک کرکٹر نے مدعو کیا تھا یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم ایک اتنی بڑی تقریب میں کسی کو مدعو کرے۔وقار یونس نے کہا کہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان میں کرکٹ دوبارہ شروع ہو، ہم پہلے بھارت کے ساتھ بہت زیادہ کرکٹ کھیلتے تھے اس لیے ہمیں پتہ ہوتا تھاکہ ان کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے پھر ہمارا کھیل ان سے کم ہو گیا اور انہوں نے اپنی کرکٹ بھی بہتر کر لی اور بڑے بڑے نام بھارتی ٹیم کاحصہ بنتے رہے، اب نئے لڑکوں کے آنے سے ہماری ٹیم میں بہت بہتری ہو گئی ہے۔

 

 

ماہرہ خان ملبوسات ساز کمپنی کے برانڈ شوٹ کیلئے لاہور آئینگی

لاہور(شوبزڈیسک)پاکستان کی سپر ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان لاہور میں نامور ملبوسات ساز کمپنی کا برانڈ شوٹ کرنے کیلئے کچھ روز تک پہنچ رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ریڈ باکس ایونٹ آروگنائزنگ اینڈ ایڈورٹائزنگ کمپنی کے زیر اہتمام ماہرہ خان ایک شوٹ پہلے بھی کروا چکی ہیں ۔ریڈ باکس کے سی ای او شیخ عمران ہیں انہوں نے بتایا کہ ماہرہ خان کے ساتھ وہ پہلے بھی کام کر چکے ہیں اور اب پھر کرنے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ شوٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور بین الاقوامی معیار کا شوٹ کرنے کیلئے وہ بگ بجٹ کا زیادہ تر سرمایہ لگا چکے ہیںاور ابھی بہت سے معاملات باقی ہیں ۔

تلاش

سجاد جہانیہ…. دیکھی سُنی
بہت دنوں کی بات ہے‘ اتنے بہت سارے دن کہ اب اگر شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون واطمینان تھا اور یکسوئی۔ یہ تب کی بات ہے جب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ گنتی کسے کہتے ہیں اور تعداد کیا ہوتی ہے۔
دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی پتہ نہ تھا تو دنوں کا اور ان کو شمار کرنے کا کیا سوال۔۔؟ بس وہ کوئی ایسی جگہ تھی جہاں وقت نام کی کوئی شے نہ تھی۔ نہ صبح تھی‘ نہ شام‘ نہ رات‘ نہ دوپہر۔ نہ سورج‘ نہ چاند‘ نہ تارے‘ نہ ان کے طلوع وغروب کا جھنجٹ۔ یہ زمین بھی تو نہ تھی جس کی پیٹھ پر ہمیں وقت کی زنجیروں سے باندھ کے ڈال دیا گیا ہے۔ پتہ نہیں کیا مقام تھا اور کون سا دیار۔ ہم بہت سے تھے‘ بہت ہی زیادہ مگر سب اِک دوجے کے قریب‘ اِک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے‘ محسوس کرسکتے تھے۔ کوئی اوٹ تھی نہ کوئی دوری۔ ہر ایک یکساں نزدیکی پر تھا اور یکساں دوری پر۔
نہ ہم کھاتے پیتے تھے‘ نہ کوئی لڑائی جھگڑا تھا۔ نہ ملکیت تھی نہ مال وزر۔ لڑائی کی بنیاد پیٹ کی بھوک ہوا کرتی ہے اور یہی مال وزر وجنس‘ تو ان میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ کوئی بے مقام سا قفس تھا جہاں ایک بھینی بھینی روشنی پھیلی رہتی تھی۔ ایک اُجالا‘ جو نہ دھیما تھا نہ تیز مگر بڑا ہی معتدل۔ وہاں کوئی سمت بھی نہ تھی۔ نہ دایاں‘ نہ بایاں‘ نہ آگا‘ نہ پیچھا‘ نہ اوپر نہ نیچے۔ اس لئے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ روشنی کس سمت سے آتی تھی۔ بس یوں جانو کہ اس روشنی میں ہی تو ہم رہتے تھے‘ وہی تو ہمارا قفس تھا‘ آشیاں وٹھکانہ۔
کتنی آسودگی تھی وہاں اس قفس میں۔۔! سکون‘ سکوت‘ ٹھہراو¿ اور ایک بے شکل اور گہرا اطمینان۔ نہ فکر‘ نہ فاقہ‘ نہ خوشی‘ نہ غم۔ ایک یکسوئی تھی‘ کامل واکمل یکسوئی۔
تم بھی تو وہیں تھیں۔ تمہیں یاد نہیں آرہا؟ ہاں! میں جانتا ہوں نہیں یاد آئے گا تمہیں۔ بوجھ سے جو لاد دی گئی ہو‘ مادے کی بوجھل کثافت سے۔ میری‘ تمہاری لطافت چھین کے بوجھ اُٹھانے والا جانور بنا دیا گیا ہے۔ پھرتے رہیں گے اب یہ بار اُٹھائے اُٹھائے۔ اسی کثافت نے تمہاری یادداشت سلب کرلی ہے‘ تمہاری حرکت روک دی ہے۔ تمہیں وقت میں اور مقام میں قید کردیا گیا ہے۔ اس قید سے اور اس بوجھ سے چھوٹو گی تو سب یاد آجائے گا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یہ بہت دنوں کی بات ہے‘ جہاں میں تھا اور تم تھیں۔ وہاں بڑا سکون واطمینان تھا اور یکسوئی۔ پھر مجھے مادے میں گوندھنے کی تیاری ہونے لگی۔ میں وہاں سے نہیں آنا چاہتا تھا۔ ایک ندا کی زبانی مجھے بتایا گیا کہ تمہارے بہت سے ساتھی تمہیں وہاں ملیں گے جہاں تم جارہے ہو۔ وہ‘ جن کے ساتھ تم بہت مانوس تھے اور جن کے جانے پر تم اُداس تھے۔ ان میں سے فلاں تمہاری ماں کے روپ میں منتظر ہے‘ فلاں باپ‘ بھائی‘ بہن‘ دوست کی شکل میں تمہارا انتظار کرتے ہیں۔
مجھے کچھ ڈھارس ہوئی میں اپنے پیاروں کے تصور میں کھو گیا تھا۔ پھر یکایک مجھے اس کا خیال آیا اور میں کانپ کے رہ گیا۔ اس بے شکل مگر مکروہ کردار کا۔ وہ جس کی موجودگی کے احساس نے مجھے پہلی مرتبہ خوف کے جذبے سے آشنا کیا تھا۔ اس کی موجودگی مجھے اذیت میں رکھتی تھی۔ میں نے پوچھا ”وہ….وہ بھی تو وہیں ہوگا“ مگر جواب میں کوئی ندا نہ آئی۔ کامل سکوت تھا اور خامشی۔ میں سسکتا رہا‘ بلکتا رہا مگر مجھے ایک اندھیرے گنبد کی دیوارسے چپکے لوتھڑے میں اُتار دیا گیا۔
یہاں میری شناسائی وقت سے ہوئی۔ میں نے وقت کو خود پر جھیلا۔ یہاں سب کچھ تھا۔ رشتے‘ ناطے‘ محبت‘ نفرت سب کچھ مگر سکون نہ تھا‘ یکسوئی نہ تھی جو وہاں ہوا کرتی تھی۔ وہاں‘ جہاں میں تھا اور تم تھیں۔ اس سکون کے لئے میں نے کیا کیا جتن نہیں کئے۔ محل کی آسائشیں چھوڑیں اور بھوک سے لڑا۔ دریاو¿ں کے یخ پانیوں میں بگلے کی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا رہا۔ مجھ سے پہلے والوں نے صدیوں کی ریاضت کے بعد غار‘ پہاڑ کی زندگی سے پیچھا چھڑواکر مدنیت اختیار کی تھی‘ میں یہ سب چھوڑ پھر سے پہاڑوں‘ جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ لمبے چوغے پہن کر پیہم تین تین دن تک گول گول گھومتا رہا۔ پیروں میں گھنگھرو باندھ کے ناچتا رہا مگر یکسوئی نہ ملی‘ اس بے کلی سے نروان نہ ملا‘ اطمینان قلب میسر نہ ہوا۔
پھر تم مجھے آن ملیں۔ مجھے ایسا لگا کہ میری ذات کی تکمیل ہوگئی۔ وہ جو ایک بے شکل کا خلا تھا وہ پُر ہوگیا۔ بے کلی کے جھکڑوں سے نجات ہوئی اور آسودگی کی ہوائیں اٹکھیلیاں کرنے لگیں۔ مگر یہ کیفیت بھی عارضی تھی‘ مختصر اور قلیل۔ پھر جب ہمارا آنگن پھولوں اور کلیوں سے مہکنے لگا تو تمہیں ان کی آبیاری کی ایسی پڑی کہ میں پھر سے تنہا ہوگیا۔ کیوں نہ ہو‘ تمہارا اتم روپ ماں کا جو ہے۔
ہاں۔۔۔! ماں سے یاد آیا‘ وہاں جو بھینی بھینی روشنی تھی‘ وہ جس کی سمت کا پتہ نہ چلتا تھا اورجس میں ہم رہتے تھے‘ اس میں ماں کی آغوش کی سی آسودگی تھی۔ اس تاریک گنبد کی فضاو¿ں میں رچے بسے تحفظ کا سا احساس۔
خیر! پھر ایک دن وہ میری زندگی کے دائرے میں آن داخل ہوا۔ وہی جس کی موجودگی کے احساس نے مجھے خوف کی محسوسات سے آشنا کیا تھا۔ اس کے در آنے سے زندگی اور اذیت ناک ہوگئی تھی۔ اسے نہ رشتوں کے تقدس کا خیال تھا نہ انسانی دانش کی صدیوں کے تجربات کے بل پر طے کی گئی اخلاقی اقدار کا۔ پھر ایک دن اس نے مجھے مار ڈالا۔ اتنی اذیت اور تکلیف برداشت کرنے کے بعد میرا خیال تھا کہ میں ”گھر“ کو لوٹ آیا ہوں‘ اب یہاں کامل سکون اور یکسوئی ہوگی۔ مگر یہ تو کوئی اور ہی جگہ ہے۔
گو کہ یہاں بھی نہ مادے کا وجود ہے اور نہ مکاں کا۔ مجھ سے پہلے والے بھی یہاں موجود ہیں۔ ہم بہت سے ہیں‘ بہت ہی زیادہ مگر سب اک دوجے کے قریب‘ اک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں‘ محسوس کرسکتے ہیں۔ کوئی اوٹ ہے‘ نہ کوئی دوری۔ ہر ایک یکساں نزدیکی پر ہے اور یکساں دوری پر۔ مقام ویسا ہی ہے مگر یہاں وہ آسودگی نہیں۔ ہر ایک سہما ہوا ہے‘ خوف زدہ۔ کہتے ہیں کہ جو زندگی گزار کے آئے ہو ابھی اس کا حساب ہونا ہے۔ سب کچھ پوچھا جائے گا‘ مواخذہ ہوگا۔ اس زندگی کا حساب جس میں اُترتے ہوئے ہماری مرضی شامل نہ تھی۔
وہ بہت دن پہلے والی یکسوئی نہیں ہے‘ بے کلی ہے۔ سکون کی اور اطمینان قلب کی سب سے بڑی دُشمن یہی دوئی ہے۔ ”میں کام یاب رہوں گا یا ناکام“، ”یہ جو میں کررہا ہوں درست ہے یا غلط“ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں بھی سب اسی دوئی کا شکار ہیں۔ منتشر خیالی ہے‘ اندازے ہیں اور تخمینے۔ یہی کچھ تو وہاں تھا‘ اس زندگی میں جہاں میں نروان اور فکری آسودگی کی تلاش میں رہا۔ یہاں بھی وہی فکر کی دوئی۔۔!!
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭