سابق کرکٹرز عمران خان کے سامنے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت میں بولنے کی ہمت نہ کرسکے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)ماضی کے عظیم کرکٹرعمران خان کے وزیراعظم بننے اور نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں ڈپارٹمنٹ کی کرکٹ ٹیمیں بند ہونے والی ہیں اور خد شہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اداروں کی ٹیمیں بند ہونے سے درجنوں کھلاڑی بے روزگار ہوجائیں گے۔یکم ستمبر سے قائد اعظم ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ شروع ہورہا ہے جس میں 8 ڈپارٹمنٹ اور 8 ریجن کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس وقت 40 سے زائد چھوٹے بڑے ڈپارٹمنٹس میں 1500 سے زائد کھلاڑی ملازمت کرتے ہیں۔ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے پاکستانی کرکٹرز وزیراعظم عمران خان کے سامنے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت میں بولنے میں بری طرح ناکام رہے بلکہ انہوں نے اس بارے میں کوشش ہی نہیں کی۔ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے لیگ اسپنر عبدالقادر نے اداروں کی کرکٹ کی حمایت میں گفتگو شروع کی لیکن عمران خان اپنے کئی سال پرانے مو¿قف پر قائم دکھائی دیئے۔ماضی میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت کرنے اور اس فارمیٹ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے کرکٹر، وزیراعظم عمران خان کے سامنے نہ بول سکے اور انہیں قائل کرنے کے بجائے انہوں نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔وزیراعظم عمران خان نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، وہ ریجنل کرکٹ کے فروغ کا ارادہ رکھتے ہیں ور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو تباہی کی جڑ سمجھتے ہیں۔وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں وسیم اکرم، جاوید میانداد، وقار یونس معین خان، رمیز راجا، مشتاق احمد، انضمام الحق، مدثر نذر، عبدالقادر کے علاوہ سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر اور عمران خان کے قریبی دوست ذاکر خان بھی موجود تھے۔وسیم اکرم اور معین خان آج بھی پی آئی اے سے وابستہ ہیں۔ جاوید میانداد طویل عرصے حبیب بینک سے وابستہ رہے اور ماضی میں وہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت کرتے تھے۔رمیزراجا پی این ایس سی اور الائیڈ بینک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ذاکر خان زرعی ترقیاتی بینک سے کھیلتے تھے۔ وقار یونس،انضمام الحق،مشتاق احمد اور مدثر نذر یوبی ایل کی جانب سے کھیلتے تھے۔عبدالقادر حبیب بینک سے کھیلتے تھے اور اس وقت زرعی بینک کے کوچ ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے عمران کے سامنے اپنا مو¿قف دبنگ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی لیکن حمایت نہ ملنے سے وہ مایوس ہوگئے۔ سابق لیگ اسپنر عبدالقادر نے تجویز دی کہ ڈپارٹمنٹ کی کرکٹ ٹیموں کو ختم نہ کیا جائے۔ عمران خان نے اپنے مو¿قف کو واضح کیا کہ وہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تاہم کوشش کریں گے کھلاڑیوں کی ملازمیتیں ختم نہ ہوں، ریجنل کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے۔ نئے کرکٹ سسٹم میں 8 ریجن کی ٹیمیں فرسٹ کلاس میں شرکت کریں گی جبکہ 8 ریجن کی ٹیمیں گریڈ ٹو میں حصہ لیں گی۔ ہر سال ایک ریجنل ٹیم کی ترقی اور ایک کی تنزلی ہوگی۔عمران خان جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اس وقت وہ علاقائی کرکٹ کے حامی تھے اور کہتے تھے کہ شہروں کی ٹیموں میں زیادہ مقابلہ دیکھنے میں آتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال ریجنل کرکٹرز کو قائد اعظم ٹرافی میں بھاری میچ فیس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قائداعظم ٹرافی کی میچ فیس 25 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے جب کہ ون ڈے ٹورنامنٹ کی فیس 20 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی فیس 24 سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی میچ کر دی گئی ہے۔ پاکستان کپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کا فی میچ معاوضہ 30 سے بڑھا کر 35 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔قائد اعظم ٹرافی کے ساتھ ون ڈے ٹورنامنٹ کے میچ بھی ہوں گے، اگر کوئی ریجنل کھلاڑی دونوں میچ کھیلے گا تو اسے ڈیلی الاو¿نس ملا کر 91 ہزار روپے ملیں گے۔چند ہفتے قبل یو بی ایل نے اپنی کرکٹ ٹیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوبی ایل سے فارغ ہونے والے کھلاڑیوں کو نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک اور حبیب بینک نے ایک سے دو لاکھ روپے میں ملازمت دی ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے حال ہی میں پی سی بی میں ڈائریکٹر کی ملازمت کو ٹھکرا کر نیشنل بینک میں ملازمت کی ہے جبکہ پی سی بی کے کوچ اور سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر سلیم جعفر نے بورڈ کی ملازمت چھوڑ کر حبیب بینک کو ہیڈ کوچ کی حیثیت سے جوائن کر لیا ہے۔اس وقت کئی بڑے موجودہ اور سابق کرکٹرز مختلف اداروں سے وابستہ ہیں لیکن اکثر کھلاڑی ڈپارٹمنٹ میں کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں۔

راشد منہاس شہید نشان حیدر کی47 ویں برسی آج ہے

احمدیار(صباح نیوز ) پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہےد (نشان حیدر )کی47 ویں برسی آج 20اگست بروز سوموارکو انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جائے گی اس سلسلہ میں احمدیار سمیت ملک بھرمیں تقریبات انعقاد پذیر ہوں گی جس میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے گا۔ وہ شہادت کارتبہ حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر تھے پائلٹ آفیسر راشد منہاس17 فروری1951 ءکو کراچی کی ایک معزز راجپوت فےملی مےں پیدا ہوئے انہیں پاک فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حید ر سے نواز اگیا ۔راشد منہاس نے 20اگست 1971 کو شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔

 

سعدرفیق کاراوی ٹول پلازہ کے قریب تیز رفتاری پرچالان

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیرریلوے خواجہ سعدر فیق کاراوی ٹول پلازہ کے قریب اوور سپیڈنگ پرچالان کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کےمطابق سابق وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق کاچالان اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے9 بجے کیا گیا اور ان کی گاڑی 145کی سپیڈسے جارہی تھی جبکہ خواجہ سعدرفیق کاراوی ٹول پلازہ کے قریب اوور سپیڈنگ پرچالان کیا گیا۔

 

اعتزاز احسن صدر پاکستان ؟ پیپلز پارٹی نے نامزد کر دیا

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار سے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان کیلئے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عارف علوی کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن بہتر پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ آصف زرداری کی طرف سے شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر قبول کرنے کے اعلان کو سیاسی طور پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خورشید شاہ کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ پیپلزپارٹی ن لیگ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں میں فاصلے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ویسے بھی ایک دور میں اعتزاز احسن کے شریف خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور وہ ان کی وکالت کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ اگر اپوزیشن اس معاملے پر متحد ہو جائے تو صدر کے الیکشن کیلئے ووٹنگ کے ظریقہ کار کے پیش نظر اعتزاز احسن کیلئے ناکامی کا امکان بہت کم ہو گا۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور اپوزیشن کے ووٹوں میں بہت زیادہ فرق نہیں۔ کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہے تو سندھ اسمبلی پیپلزپارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ سینٹ میں بھی اپوزیشن کو برتری حاصل ہے۔ تاہم اس ساری صورتحال میں بلوچستان بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی وہاں حکومت کی اتحادی ہے مگر وہاں پیپلزپارٹی کا اثر ورسوخ موجود ہے اور وہ مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں کے نبض شناس بتاتے ہیں کہ عارف علوی کے مقابلے میں اعتزاز احسن کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔کراچی( آن لائن)سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہے کہ وزیراعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے اپنی حکمت عملی اختیار کی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کر تی ہے،اعتزاز احسن صدر پاکستان کے لئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار ہوں گے ۔اپنے ایک بیان میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ اعتزاز احسن صدر پاکستان کے لئے تما م اپوزیشن کے متفقہ امیدوار ہوں گے اور میرے نزدیک اعتزاز احسن جیسا قابل شخص ہی ملک کا صدر ہونا چاہئے ،ان سے بہتر امیدوار کسی اور جماعت کے پاس نہیں ہے ہم اعتزاز احسن کے ووٹ کے لئے دوسری جماعتوں سے بھی بات کریں گے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے اپنی حکمت عملی اختیار کی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کر تی ہے کیونکہ (ن)لیگ کی قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی سے زیادہ سیٹیں ہیں اور وہ اپوزیشن کا لیڈر لانے کا جمہوری حق رکھتی ہے۔ خورشید شاہ کو مسلم لیگ (ن) اور دیگر اتحادیوں سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا، خورشید شاہ شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ سیاسی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کریں گے۔

 

ایشیا کپ میں حفیظ کی شرکت بہتر رویے سے مشروط

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں محمد حفیظ کی ٹیم میں سیلیکشن کو ان کے رویے سے مشروط کردیا گیا ہے۔ زمبابوے کو ون ڈے سیریز میں پانچ صفر سے شکست دینےوالی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔اگر عماد وسیم فٹنس ٹیسٹ پاس کر گئے تو انہیں ایک اور آل راونڈر محمد نواز کی جگہ پاکستان ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستانی ٹیم 28اگست سے چار دن کے لیے ایبٹ آباد جائے گی جہاں پہاڑی علاقے میں فٹنس کی بہتری کے لیے کیمپ لگایا جائے گا۔تین ستمبر سے لاہور میں دس روزہ باضابطہ فٹنس کیمپ لگایا جائے گا اور کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زمبابوے کی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی 16 رکنی ٹیم تھی جس میں سے لیگ اسپنر یاسر شاہ کو ایشیا کپ کی ٹیم سے ڈراپ کردیا جائے گا جبکہ عماد وسیم کو شامل کرکے 15 کھلاڑیوں کو ایشیا کپ کے لیے منتخب کیا جائے گا۔عماد وسیم کا فٹنس ٹیسٹ ہوگا اگر وہ فٹ قرار دے دیئے گئے تو انہیں محمد نواز کی جگہ شامل کیا جائے گا۔ فاسٹ بولر رومان رئیس کی انجری شدید نوعیت کی ہےانہیں ابھی تک پاکستان ٹیم میں آنے میں وقت درکار ہے۔البتہ سب سے بڑا مسئلہ محمد حفیظ کا رویہ ہے۔چیف سلیکٹر انضمام الحق حفیظ کے ساتھ میٹنگ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ میڈیا کو خبریں دینے کے بجائے کھیل پر توجہ مرکوز کریں۔پی سی بی بھی ان کے رویے سے دلبرداشتہ ہے۔ محمد حفیظ کو کہا جائے گا وہ ٹیم کا حصہ ہیں اور سوشل میڈیا اور میڈیا میں جاکر سلیکشن کمیٹی اور بورڈ کو متنازع بنانے سے گریز کریں۔نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں محمد حفیظ کی اے کیٹگری سے بی کیٹگری میں تنزلی کردی گئی تھی جس پر انہیں شدید تحفظات تھے۔جواب میں محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہمیشہ عزت اور جذبے کے ساتھ پاکستان کے لیے کھیلا ہوں، کبھی پیسے کے لیے نہیں کھیلا، عزت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں، ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں چاہے سی کیٹیگری میں ہوں یا ڈی میں۔

آج حج کا رکن اعظم : لاکھوں فرزندان اسلام کی میدان عرفات روانگی

مکہ مکرمہ (این این آئی) فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے دنیا بھر سے حجاز مقدس پہنچنے والے لاکھوں مسلمان (آج) پیر 9 ذوالحج کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے ۔تفصیلات کے مطابق رواں سال 20 لاکھ سے زائد عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں جن میں ایک لاکھ 84 ہزار پاکستانی عازمین بھی شامل ہیں۔ اتوار 8 ذوالحج کو کو عازمین نے منیٰ کی خیمہ بستی میں قیام کیا(آج)پیر 9 ذوالحج کو فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے میدان عرفات پہنچیں گے وقوف عرفہ کے دوران مسجد نمرہ میں خطبہ حج ہوگا جو اس مرتبہ مسجد نبوی کے امام شیخ حسن بن عبدالعزیز آل الشیخ دیں گے پھر نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی جائے گی۔سورج غروب ہوتے ہی میدان عرفات کو فوری طور پر چھوڑنے کا حکم ہے اس لئے حجاج کرام میدان عرفات کی حدود سے فوری طور پر مذدلفہ کا رخ کرتے ہیںجہاں وہ نمازِ مغرب اور عشا قصر کے ساتھ ایک ساتھ پڑھیں گے، عازمین رات بھر کھلے آسمان تلے قیام کریں گے اور رمی کے لیے کنکریاں چنیں گے ¾دس ذی الحج کو طلوع آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رمی کے لیے جمرات جائیں گے پھر قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور طواف زیارت کریں گے۔11 ذوالحج کو بھی تینوں شیطانوں کو بھی کنکریاں مارنے کا حکم ہے۔ 12 ذوالحج کو آخری دن شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام مکة المکرمہ واپس جا سکتے ہیں۔ سعودی وزیر نے مکہ مکرمہ میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزارت نے کسی بھی قسم کی شکایات یا معلومات کے حصول کےلئے ایک نمبر 8004304444 مختص کردیا ہے اور تمام عازمین کسی بھی شکایت کی صورت میں کال کرسکتے ہیں۔رواں سال سعودی عرب میں مناسک حج کی ادائیگی کےلئے خصوصی اسمارٹ حج ایپ بھی متعارف کروائی گئی ہے، جس سے عازمین حج کو طبی امداد سے لے کر راستوں کی معلومات حاصل کرنے کی بھی سہولت مہیا ہوگی۔اس ایپلی کیشن کا نام مناسکانا ایپ ہے اور مختلف زبانوں میں ہونے کے باعث اسے وہ افراد بھی استعمال کرسکتے ہیں جنہیں عربی اور انگریزی زبان نہیں آتی ¾اس ایپ کی مدد سے حکام کو ان لوگوں تک پہنچنے میں بھی مدد ملے گی، جو کسی قسم کی مشکل میں گرفتار ہوں گے۔

 

فنکار کو فلم ٹی وی کی کیٹیگری میں تقسیم کرنا درست نہیں، سجل علی

(لاہور(ویب ڈیسک)اداکارہ وماڈل سجل علی نے کہا ہے کہ سچے فنکارکوفلم اورٹی وی کی کیٹگری میں تقسیم کرنا درست نہیں ہے۔ سجل علی نے کہاکہ میرے نزدیک شوبز میں حد بندی کوئی درست عمل نہیں ہے۔ ایک فنکارکوفنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں کام کرنا چاہیے۔ بلاشبہ فلم ایک بڑا اورمقبول میڈیم ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد ٹی وی ڈرامے دیکھتی اورانہی سے انٹرٹین ہوتی ہے۔ اس لیے اب وہ دورنہیں رہا جب ایک مقبول فنکارکسی ایک میڈیم تک خود کومحدود رکھ لے۔سجل علی نے کہا کہ میں نے فیشن انڈسٹری میں بھی کام کیا اوراس کے ساتھ ٹی وی پرایکٹنگ کے علاوہ فلم میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہردکھائے۔ تمام شعبوںکا اپنا مزاج اورلطف ہے۔ جوفنکاراپنے کام کودلچسپی کے ساتھ انجام دیتا ہے، وہی شائقین کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک فنکارمیں اگرٹیلنٹ ہے تواس کوضرورموقع ملنا چاہیے۔ موجودہ فلموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سجل علی نے کہاکہ پاکستان میں بننے والی فلموںکوہم مکمل فلم تونہیں کہہ سکتے لیکن جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوکام کیا جارہا ہے اس سے ہماری فلم کے معیار میں بہتری دکھائی دی ہے۔

وزیراعظم ہاﺅس یونیورسٹی ، بلٹ پروف گاڑیاں نیلام ہونگی : وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب کے شروع میں سب سے پہلے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ احسن رشید و سلونی بخاری کی خدمات کبھی نہیں بھول سکتا۔ کارکنوں نے 22 سال تحریک و جہاد میں میرا ساتھ دیا۔ میں نے سیاست کو کبھی کیریئر نہیں بنایا۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں۔ تمام کارکنوں کو سلام و خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کارکنوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ کس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے مشکل معاشی حالات نہیں تھے۔ 10 سال پہلے 6 ہزار ارب کا قرضہ اب 28 ہزار ارب ہو گیا۔ مسائل، چیلنجز پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں، حل پر بات کروں گا۔ 10 سال میں جو قرضہ لیا گیا۔ تفصیلات قوم کے سامنے لائیں گے۔آج ہمیں قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ پی پی حکومت کے آخری سال کا بیرونی قرضہ 2 ارب ڈالر تھا۔ روپے کی قدر پر دباﺅ غیر ملکی قرضوں کی وجہ سے ہے۔ پاکستان میں 45 فیصد بچے ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔ پاکستان مقروض قوم بن چکا ہے۔ بچوں پر خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو صاف پانی اور روزگار فراہم نہیں کر پاتے۔ حکمرانی کرنے والوں کا رہن سہن آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں۔ پاکستان میں وزیراعظم کا ملازم 524 ہیں۔ وزیراعظم ہاﺅس 1100 کینال پر قائم ہے۔ وزیراعظم کیلئے 33 بلٹ پروف گاڑیوں سمیت 80 گاڑیاں ہیں۔ گورنر، چیف منسٹر ہاﺅسز کے کروڑوں کے اخراجات ہیں۔ وزیراعظم کیلئے طیارے اور ہیلی کاپٹر مختص ہیں۔ ڈی سیز اور کمشنرز بھی بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ قوم مقروض جبکہ صاحب اقتدار بادشاہوں کی طرح رہتے ہیں۔ پاکستان کی آدھی آبادی دو وقت کی روٹی سے محروم ہے۔ سوا 2 کروڑ بچے سکولوں میں پڑھنے سے محروم ہیں۔ بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو روزگار کیسے ملے گا۔ جب تک ہم سوچ نہیں بدلیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان 7 ویں نمبر پر ہے۔ مغربی جمہوریت میں جو اصول اپنائے گئے وہ بتاﺅں گا۔ غذائی قلت کی وجہ سے ہمارا ہر دوسرا بچہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ قانون کمزور کو طاقتور سے تحفظ دینے کے لئے ہوتا ہے۔ زیادہ دولت پر زیادہ ٹیکس کا نظام مغرب میں رائج ہے۔ مغرب میں جانوروں کے لئے بھی ہسپتال ہیں۔ ہمارے انسانوں کا حال مغرب کے جانوروں سے بدتر ہے۔ سیکرٹریز و سول انتظامیہ کے پاس بے پناہ مراعات ہیں۔ وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر 65 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ماضی میں حکمرانوں نے عوام کی بنیادی ضرورتوں کی فکر نہیں کی۔ حکمران قانون سے بالاتر نہیں اور جوابدہ بھی ہے۔ مغرب میں قانون کے مطابق اقتدار سے خود فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ عوام کو گھبرانا نہیں، بتانا چاہتاہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ حالات اس لئے برے ہیں کیونکہ ہم اصولوں پر نہیں چل رہے۔ آپ کو مسائل کا مقابلہ کر کے دکاﺅں گا، عوام میری ٹیم ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں رہائش اختیار نہیں کر رہا، ملٹری سیکرٹری کی رہائش گاہ میں ہوں، وہ بھی اس لئے کیونکہ مجھے کہا گیا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے ورنہ میں بنی گالہ میں آرام سے رہ سکتا تھا۔ ملٹری سیکرٹری کے 3 کمروں والے گھر میں رہوں گا۔ وزیراعظم کیلئے موجود گاڑیوں کی نیلامی کرینگے، اس کا پیسہ قومی خزانے میں جمع ہو گا۔ بطور وزیراعظم 524 میں سے 2 ملازم اور 2 گاڑیاں رکھوں گا، کوئی بھی گورنر، گورنر ہاﺅس میں نہیں رہے گا۔ ہمیں بیرون ممالک سے قرضہ لینے کی بری عادت ہو چکی ہے۔ گورنر و وزیراعلیٰ ہاﺅسز کفایت شعاری اختیار کریں گے۔ قرضوں کے ساتھ کوئی بھی ملک ترقی کا سفر طے نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ ترین یونیورسٹی بنائیں گے۔ پیسہ ان پر خرچ کریں گے جو معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ 20 کروڑ میں سے صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ امیر لوگ بڑی بڑی گاڑیاں رکھتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنا میری ترجیح ہو گی۔ اصلاحات کے بعد ٹیکس کے پیسے کی حفاظت خود کروں گا۔ عوام کو ملک کی غیرت کے لئے ٹیکس دینا ہو گا۔ غرباءکے مسائل حل کرنے ہیں۔ٹیکس ایسے دینا ہوگا جیسے اللہ کی راہ میں دے رہے ہیں۔ ہمارے خرچے زیادہ اور آمدنی کم ہے۔ پاکستان سے چوری ہوکر باہر جانے والاپیسہ واپس لانا ہوگا۔ہر سال پاکستان سے ایک ہزار ارب روپے چوری ہوکر باہر جاتا ہے۔ جس پارٹی کے لیڈر کا پیسہ ملک میں نہیں اسے کبھی ووٹ نہ دینا۔جس کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں وہ کیسے عوام کی حالت بہتر کرے گا۔ ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے توجہ دینا ہوگی۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل ہے ہماری مدد کریں۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کی بھرپور مدد کریں گے۔سرمایہ کاری کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کی کوشش کرینگے۔ سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرینگے۔ بیرون ملک پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں۔بیرون ملک پاکستانی 20عرب ڈالر بھیجتے ہیں۔بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی پوری مدد کریں گے۔تمام سفارتخانوں سے قید پاکستانیوں کی تفصیلات لیں گے۔اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کریں گے۔ اوور سیز پاکستانی اپنا پیسہ پاکستانی بینکوںمیں رکھوائیں گے۔کرپشن کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے۔ صاحب اقتدار کرپشن کرتے ہیں تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔ احتساب یقینی بنانے کیلئے چیئرمین نیب سے ملاقات کروں گا۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو 20سے 25فیصد انعام ملے گا۔ ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ کا خاتمہ کریں گے۔کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تویہ سب شور مچائیں گے۔ محکموں میں کرپشن مافیا بیٹھاہے۔جو کرپٹ نظام سے پیسہ بنارہاہے۔ تیار ہوجائیں کرپٹ مافیا شور مچائے گا، سڑکوں پر بھی آئے گا۔ اب یہ ملک بچے گا یا کرپٹ مافیا۔ عوام ساتھ دیں کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرکے دکھاﺅں گا۔عدلیہ کے تعاون سے انصاف کا نظام بہتر کریں گے۔ چاہتے ہیںایسا نظام آئے، مقدمات میں ایک سال سے زیادہ تاخیر نہ ہو۔چیف جسٹس سے درخواست ہے کم ازکم بیواﺅں کے مقدمات جلدی حل کریں۔ایک خاتون نے اپنے خون سے خط لکھا میرے شوہر کو قتل کیا گیا۔خاتون نے بتایاکہ پولیس والے بری نظر رکھتے ہیں کیس میں تاخیر کرتے ہیں۔کمزور طبقے کے ساتھ ظلم ہورہاہے اسے ختم کرنا ہے۔یہ میرا عزم ہے۔ کے پی پولیس میں تبدیلی آئی۔ اس پر بہت خوشی ہے۔ کے پی میں پولیس پر لوگوں کا اعتماد ہماری جیت کی وجہ بنا۔ناصر درانی کو مشیر بنائیں گے وہ پنجاب میں پولیس کو ٹھیک کریں گے ، وہ پنجاب پولیس کی اصلاح کرنے کیلئے مان گئے ہیں۔جیلوں میں موجود غریب قیدیوں کی معاونت کریں گے۔پانی کی قلت دور کرنے کیلئے منسٹری بنارہے ہیں، بھاشا ڈیم ناگریز ہوگیا ہے۔ کسانوں کو پیداوار بڑھانے کیلئے وسائل فراہم کرینگے۔چاہتا ہوں مدرسے سے پڑھ کر نکلنے والا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ سرکاری افسران کو چاہیئے عام آدمی کوعزت دیں۔ساڑھے5لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس کادائرہ کار ملک بھر میں پھیلائیں گے۔ چیف جسٹس نے ڈیمز بنانے کیلئے زبردست اقدام کیا ہے۔ عام آدمی کی مدد کیلئے رائٹ ٹو سروس ایکٹ لائیں گے۔پانی کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال ہے۔کراچی،کوئٹہ اور اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں پانی نہیں، سندھ سمیت ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کا معیار بہتر کرینگے۔ کے پی میں سرکاری ہسپتالوں کو مزید ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری سال میں کے پی میں سرکاری ہسپتالوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ مدارس میں پڑھنے والے 24لاکھ بچوں کو پیشہ ور تعلیم دینگے۔انکو نہیں بھولیں گے۔ نجی سکولز سرکاری سکولز میں ڈبل شفٹ کلاسز لے سکتے ہیں۔سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔ سرکاری سکولوں میں بہتر تعلیم نہیں مل رہی۔پرائیویٹ سکولز میں پڑھانے کیلئے تنخواہ دار طبقہ قربانی دے رہاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 5سال میں 50لاکھ مکان فراہم کرنا بڑا چیلنج ہے۔ بلدیاتی نظام میں اصلاحات کریں گے۔اب ہم ڈسٹرکٹ ناظم کا الیکشن براہ راست کروائیں گے۔جنوبی پنجاب کو بالکل صوبہ بنائیں گے۔کراچی کے حالات ایسے نہیں ہونگے تو ملک کے معاشی حالات ایسے نہیں ہونگے۔کوشش کرینگے فاٹاکو جلد سے جلد کے پی میں ضم کریں۔سٹریٹ چلڈرن ہماری ذمہ داری ہے یہ بچے ہمارے ہیں۔کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے سندھ حکومت سے تعاون کریں گے۔کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سندھ پولیس کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اقتدار میں رہتے ہوئے کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرونگا۔ وزارت داخلہ فی الحال اپنے پاس رکھ رہاہوں۔

 

دپیکا ایک بارپھررنبیرکویاد کرنے لگیں

ممبئی(ویب ڈیسک)بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کو ایک بار پھراپنے پرانے گہرے دوست رنبیر کپور کی یاد ستانے لگی ہے۔بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون اوررنویرسنگھ جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہیں جس کے باعث وہ آج کل خوب خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ’ورلڈ فوٹو گرافی ڈے‘ پرفنکاروں کی جانب سے مختلف تصاویر شیئرکرائی گئیں اوریادیں تازی کی گئیں تاہم دپیکا نے یہ دن تھوڑا منفرد اندازمیں منایا جس سے کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں.اداکارہ نے ’ورلڈ فوٹوگرافی ڈے‘ مناتے ہوئے اپنے سابق گہرے دوست رنبیرکپور کی تصویر شیئر کرائی جو 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم ’تماشا‘ سے لی گئی تھی۔ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رنبیر کپورایک پہاڑ پر بیٹھے ہیں اوردہپیکا پڈوکون ان کی تصویر لے رہی ہیں جب کہ تصویر میں منظر بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ یہ تصویر اداکارہ کی جانب سے اس وقت شیئر کرائی گئی ہے جب وہ جلد ہی اداکار رنویر کپور سے شادی کے بندھن میں بندھنے والی ہیں۔ اداکارہ دپیکا اوراداکاررنویر 20 نومبر کو اٹلی میں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے جب کہ شادی کی تقریب سادگی سے منعقد کی جائے گی جس میں صرف 30 مہمانوں کو مدعو کیا جائے گا۔

ورون دھون والد کے لئے درزی بن گئے

ممبئی(ویب ڈیسک)بالی ووڈ کے معروف اداکار ورون دھون اپنے والد و ہدایت کار ڈیوڈ دھون کی خاطر درزی بن گئے۔فلم ’جڑواں‘ کی ریکارڈ توڑ کامیابی کے بعد ورون دھون کا شمار صف اول کے اداکاروں میں ہونے لگا ہے جب کہ بڑے سے بڑا ہدایت کار انہیں اپنی فلم میں شامل کرنے کے لئے آفر لئے کھڑا ہے لیکن ورون فلم کے انتخاب کے معاملے میں کافی محتاط نظر آتے ہیں تاہم اب ان کی فلم ’سوئی دھاگا‘ کی شوٹنگ زوروشور سے جاری ہے جس میں وہ درزی کا کردار ادا کرتے نظرآئٰیں گے۔کردار میں ڈھل جانے والے ورون دھون نے فلم ’سوئی دھاگا‘ کے ذریعے سلائی کے فن کو ایسے سیکھا کہ وہ ایک ماہر درزی کی طرح نظرآنے لگے اوراپنے اس فن کا مظاہرہ انہوں نے والد کی سالگرہ پرکیا۔ ورون دھون نے سماجی رابطے کی ایپ انسٹا گرام پر اپنے والد اور معروف ہدایت کار ڈیوڈ دھون کی سالگرہ کے موقع پر ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے والد کی سالگرہ کو یادگار اور منفرد بنانے کے لئے اپنے ہاتھ سے سی ہوئی شرٹ بنا کر انہیں تحفے میں دی جوکہ تین گھنٹے کی جدو جہد کے بعد تیار کی گئی۔یہ خبر بھی ورون دھون نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاپا دیکھو آپ کا بیٹا سوئی دھاگے میں ماہر ہو گیا ہے اور یہ شرٹ میری طرف سے والد کو بڑی محنت کا چھوٹا سا تحفہ ہے۔