عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد آج لاہور پہنچیں گے

اسلام آباد (آئی این پی ) عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد (آج) جمعہ کو لاہور کا پہلا دورہ کریں گے، دورہ کے دوران عمران خان اپنی رہائش گاہ زمان پارک میں قیام کریں گے ۔ لاہور پہنچنے پر وزیراعظم کا نامزد گورنر چوہدری سرور ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت کابینہ کے دیگر اراکین استقبال کریں گے۔عمران خان لاہور میں اپنی رہائشگاہ زمان پارک میں قیام کریں گے جہاں وہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارکے علاوہ پارٹی کے دیگر اہم رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے ۔عمران خان کا لاہور میں قیام کا مقصد ضمنی الیکشن پر حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانا بھی ہے،عمران خان لاہور کے حلقے131کے ضمنی الیکشن کو خود مانیٹر کرنا چاہتے ہیں۔

تحریک لبیک کے شاہ محمود قریشی سے مذاکرات، ریلی ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک لبیک نے اسلام آباد میں ریلی ختم کرنے کا اعلان کردیا حکومت سے امیاب مذاکرات کے بعد ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق پیر افضل قادری نے کہا ہے کہ ریلی کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں حکومت سے مذاکرات کامیاب رہے اور معاہدہ طے پاگیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا پی ایس ایل رپورٹ پبلک کرنے سے انکار

لاہور(آئی این پی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل رپورٹ پبلک کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس سلسلے میں پی سی بی نے پی ایس ایل رپورٹ پبلک کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست کے دہندہ پی ٹی آئی کے رہنما جاوید بدر کو درخواست کا تحریری جواب دیدیا ہے ۔پی سی بی کے اس حوالے سے روئیے پر جاوید بدر کا کہنا ہے کہ پی سی بی کسی کے باپ کی جاگیر نہیں یہ پبلک ادارہ ہے لہذا پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل کے بارے میںرپورٹ پبلک کرنے سے انکار کا مطلب یہ ہے کہ پی سی بی پی ایس ایل میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے جاوید بدر نے نیب لاہور سے درخواست کی کہ وہ فوری طور پر پی سی بی کا سارا ریکارڈ قبضے میں لے لے اور ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کرے۔

حسن علی کی آرمی کے کیڈٹس کےساتھ سیلفی وائرل

لاہور ( این این آئی) قومی کرکٹر حسن علی کی پاک آرمی کے کیڈٹس کے ساتھ سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔آرمی فزیکل ٹریننگ اسکول ایبٹ آباد میں جاری قومی کرکٹرز کے فٹنس کیمپ کے دوران حسن علی نے وہاں موجود آرمی کیڈٹس کے ساتھ ایک سیلفی بنائی۔انہوں نے سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان آرمی کے نوجوانوں کے ساتھ سیلفی بنانے کا موقع ملا، آپ سب دوستوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی، اللہ تعالی آپ کو اپنی قوم کی حفاظت کے لئے اور زیادہ طاقت عطا فرمائے۔ حسن علی کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر سراہا جا رہا ہے، پیسر سوشل میڈیا پر کافی فعال رہتے ہیں۔واضح رہے کہ قومی کرکٹرز تین روزہ کیمپ کیلئے آرمی ٹریننگ سینٹر ایبٹ آباد میں موجود ہیں، جہاں آرمی ٹرینرز ان کی جسمانی فٹنس بہتر بنانے کیلیے کام کر رہے ہیں، پلیئرز رننگ کے علاوہ تیر اندازی اور مانٹین سائیکلنگ بھی کر رہے ہیں جبکہ ان کی ذہنی استعداد کو بڑھانے کیلئے لیکچرز بھی دیئے جا رہے ہیں۔

سسرالیوں کا بہو پر وحشیانہ تشدد ،زندہ جلانے کی کوشش

گگومنڈی(میاں ذوالفقارسے)سسرالیوں نے خاوندکی وفات کے دوسرے دن بہوپروحشیانہ تشددکرتےہوئے دومعذوبچوں سمیت گھرسے نکال دیا۔پٹرل چھڑک کرآگ لگانے کی کوشش۔بیوہ عدت میں ہی دربدر۔نواحی گاﺅں201۔ای بی کی رہائشی آسیہ پروین کاخاوندریٹائرڈفوجی محمدعارف ٹرووالے دن فوت ہوگیاتھا۔ساس،دیور،ننداورسوتیلے بیٹوں نے بیوہ کوعدت کے دوران ہی گھرسے نکال کرمکان پرقبضہ کرلیا۔متاثرہ خاتون کی فون کال پرخبریں ٹیم مددکو پہنچ گئی۔ریٹائرڈفوجی کی بیوہ نے چیف جسٹس ،چیف آف آرمی سٹاف اورڈی پی اووہاڑی سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے اوراس کے بچوں کوان کاحق دلوانے کامطالبہ کیاہے۔متاثرہ خاتون کوانصاف فراہم کرتے ہوئے ملوث ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔خبریں کی اطلاع پرایس ایچ اوتھانہ گگومنڈی جام منظوراحمدکی خبریں سے گفتگو۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزنواحی گاﺅں201۔ای بی کی رہائشی آسیہ پروین بیوہ محمدعارف کی فون کال پر خبریں ٹیم جب چک نمبر187۔ای بی آسیہ پروین کے والدین کے گھرپہنچی تومتاثرہ نے خبریں کو بتایاکہ میراخاوندمحمدعارف جوآرمی سے ریٹائرڈہے عیدکے اگلے روزوفات پاگیاتھا۔میرے خاوندکی وفات کے دوسرے ہی روزہی میرے دیورمحمدطالب،ساس بشیراں بی بی،نندنصرت بی بی،میرے سوتیلے بیٹوں سلیم،وسیم وغیرہ دس رشتہ داروں نے مجھ پروحشیانہ تشددکرتے ہوئے مجھے دو معذوربچوں سمیت گھرسے نکل جانے کاحکم دیا۔میرے انکارپرمیرے دیورمحمدطالب نے مجھ پرپٹرول چھڑک دیااورآگ لگانے ہی لگاتھاکہ گاﺅں والوں نے اس کے ہاتھ سے ماچس کی چھین لی۔آسیہ پروین نے بتایاکہ میرے سسرالیوں نے مجھ سے میرے خاوند کی پنشن بک،رکشہ،گھرکاساراسامان چھین کرمجھے اورمیرے دومعذوربچوں کودھکے مارکرگھرسے نکال کرمکان پرقبضہ کرلیاہے۔آسیہ پروین نے بتایاکہ میراوالدانتہائی غریب ہے میں اپنااوراپنے بچوں کاپیٹ پالنے کیلئے عدت میں ہی دربدرکے دھکے کھارہی ہوں۔متاثرہ بیوہ آسیہ پروین نے روتے ہوئے چیف جسٹس ،چیف آف آرمی سٹاف،وزیراعلیٰ پنجاب اورڈی پی اووہاڑی سے اپیل کی ہے کہ مجھے اورمیرے بچوں کوتحفظ فراہم کرتے ہوئے ہماراحق ہمیں دلوایاجائے۔خبریں کی مداخلت پرایس ایچ اوتھانہ گگومنڈی جام منظوراحمد نے کہاکہ متاثرہ خاتون کوہرحال میں انصاف فراہم کرتے ہوئے ملوث ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

 

حکمرانوں کی سستی سے اورنج لائن منصوبہ تاخیر کا شکارہوا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ اورنج ٹرین پر چھ سے سات ماہ تک فیصلہ محفوظ رہا فیصلہ آنے کے بعد باقی حصے پر کام شروع کیا گیا۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کوشش کی تھی اس منصوبے کو اپنے دور میں مکمل کر لیا جائے۔انڈر aگراﺅنڈ حصے کے باعث زیادہ تاخیر ہوئی۔سیاست اپنی جگہ لیکن اورنج لائن ایک قومی مفاد کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اعتراز احسن ایک قد آور شخصیت ہیں۔میں سمجھتا ہوں ن لیگ دباﺅ کا شکار ہے جو اتفاق رائے نہیں ہونے دے رہی۔ایران اور امریکہ کے تعلقات کی بہتری میں اگر پاکستان کوئی کردار ادا کر سکتا ہے تو ضرور کرے۔کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ بھاشا اور دیامر ڈیم جب بننا تھا تو پہلے پرویزمشرف نے جا کا اسکا افتتاح کیا اس کے بعد شوکت عزیز نے پھر یوسف رضا گیلانی نے اس کا افتتاح کیا پھر نواز شریف نے اس کا افتتاح کیا اب دیکھتے ہیں کون اس کا افتتاح کرتا ہے۔سب چاہتے ہیں اورنج لائن منصوبہ تکمیل تک پہنچے اس پر سینکڑوں ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کی سمجھ نہیں آئی انہوں نے فواد چوہدری کی بات کا کیسے یقین کرلیا۔عمران خان مدینہ کی ریاست کی بات ایسے ہی نہیں کرتے مدینہ اور پاکستان کی ریاست اسلام کے نام پر بنے۔کالم نگارمیاں حبیب نے کہا کہ حکمرانوں کی سستی و کاہلی کی وجہ سے اربوں روپوں کے ہرجانے ہم ادا کر چکے ہیں۔اورنج لائن منصوبہ اس لئے تاخیر کا شکارہوا کیونکہ کمپنیوں کو پیسے اد ا نہیں کئے گئے۔عدلیہ بھی کہہ رہی ہے اس منصوبے کو جلد تعمیر کیا جائے۔حکومت بدل جائے تو منصوبے جاری رہنا چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری ایک باصلاحیت شخص ہیں۔اپوزیشن کی ساری جماعتوں کو الٹابھی لٹکا لیں ان کا صدر نہیں آ سکتا۔ہم نے کافی عرصے ایران کو نظر انداز کیا جس کے باعث وہ بڑی حد تک بھارت کی جھولی میں چلا گیا۔ کالم نگار آغا باقر نے کہا ہے کہ اورنج لائن منصوبے کی تاخیر کی وجوہات بہت سی ہیں۔چلتے ہوئے کام میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہئے۔منصوبوں پر عدالتوں سے سٹے لے لیا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں عدلیہ نے نوٹس لے کر اچھا کام کیاہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اکٹھی ہوتی تو اعتزاز احسن صدر بن بھی سکتے تھے۔ان کے آنے سے چیک اینڈ بیلنس رہتا وہ اعلی پائے کے وکیل بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوجمہوریت ہم چاہتے ہیں وہ پنپ نہیں رہی۔

 

پی سی بی افسران کے ٹیلی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف

کراچی(آئی این پی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسران کے ٹیلی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف ہوا ہے تاہم معلومات کو اس قدر خفیہ انداز میں لیک کیا گیا کہ بورڈ کا نیٹ ورک بھی انہیں پکڑنے میں ناکام رہا۔ماضی میں ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں اس وقت کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کی ہدایت پر پی سی بی کے ڈائر یکٹر سلیم الطاف کے کمرے میں جاسوسی کے آلات نصب کئے گئے تھے۔سلیم الطاف نے الزام لگایا تھا کہ ان کے کمرے میں جاسوسی کے آلات نصب کرکے میری نجی باتیں سنی گئیں اور اسی کیس میں سلیم الطاف کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ نے حالیہ مہینوں میں مخبروں کی تلاش کی کوشش ضرور کی لیکن بورڈ کے کچھ افسران کے براہ راست ملوث ہونے کے باعث یہ نیٹ ورک ٹوٹ نہ سکا۔اس حوالے سے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اختیارات صرف آئی ایس آئی کے پاس ہیں، پھر واٹس اپ کالوں کو آئی ایس آئی بھی ٹیپ نہیں کرسکتا۔نجم سیٹھی نے اعتراف کیا کہ پی سی بی میں بہت زیادہ خبروں کی لیکجز ہورہی تھی جس پر چند ماہ قبل میں نے ایک نوٹی فیکیشن جاری کیا جس میں کہا تھا کہ ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لئے جو خبریں چھپوائی جارہی ہیں اس سے پی سی بی کو نقصان ہورہا ہے اس لیے گندی سیاست سے گریز کیا جائے۔پی سی بی کے حد درجہ مصدقہ ذرائع کے مطابق دو سال قبل جب شہریار خان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے اس وقت پی سی بی بورڈ آف گورنرز میں اس وقت چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی نجم سیٹھی نے خفیہ معلومات کا میڈیا میں آنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اور گورننگ بورڈ نے انہیں اختیار دیا تھا کہ اگر وہ کسی افسر یا ملازم پر شک کرتے ہیں تو ان کے فون ٹیپ کراسکتے ہیں۔حیران کن طور پر یہ نکتہ میٹنگ کے آفیشل منٹس میں لانے سے گریز کیا گیا تھا، اس کے بعد پی سی بی کے کئی افسران اور ملازمین میں کھلبلی مچ گئی، ان معلومات کو لیک کرنے کے لئے کچھ افسران نے اپنی گھروں کے لینڈ لائن اور بعض افسران نے ذاتی فون استعمال کئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی گورننگ بورڈ میں جب فون ٹیپ کرنے کی منظوری دی گئی تو اس کے بعد اکثر افسران محتاط ہوگئے لیکن پاور کوریڈور میں شامل افسران ہی خفیہ معلومات کو باہر لاتے رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی میں ملازمین جن میں بڑے افسران اور پالیسی میکر شامل ہیں، وہ اب بھی گفتگو کرتے ہوئے محتاط ہوجاتے ہیں لیکن مخبری کے نیٹ ورک کے باوجود خفیہ معلومات کا باہر آنا کئی سوالات کو جنم لیتا ہے اور بڑے ادارے کی ساکھ پر بھی سوالات سامنے آرہے ہیں۔

 

بھارت سے اپنے حصے کا پانی لینے کے لیے پاکستان مضبوط ٹیم بھیجے ،ورلڈ بنک انکار نہیں کر سکتا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی تجربہ کار وزیرخارجہ ہیں وہ پہلے وزیرخارجہ تھے جنہوں نے خود اس منصب سے استعفیٰ دیا تھا انہیںکسی نے نکالا نہیں ہے۔ یہ بھی چیز ظاہر کرتی ہے کہ

وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنے والے۔ وزیراعظم نے جو ٹیم بنائی ہے اس میں وزیرخارجہ اور وزیردفاع ان کے انتہائی اعتماد کے بندے ہیں۔ پرویز خٹک وزیراعلیٰ رہے خیبر پختونخوا کے اور افغان بارڈر سے دہشتگردی کی بڑی مداخلت رہی۔ اور افغان حکومت امریکہ کو ڈومور کے لئے اکساتا رہتا ہے۔ حالانکہ افغان حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ 60 فیصد علاقوں پر طالبان کا قبصہ ہے۔ اور افغانستان سے پاکستان کے بارے میں کبھی خیر کی خبر نہیں آئی، اس اعتبار سے آج کی صورت ہے اس میں سب سے زیادہ فوکس افغانستان کے ساتھ صورت حال، امریکہ اور بھارت کے ساتھ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہو گا۔ عمران خان نے انڈیا اور کشمیر کے بارے میں رٹی رٹائی تقریر نہیں کی۔ وہ بہت ہی محتاط چل رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے آفر کی ہے خود پیش کش کی ہے کہ آئیں مل کر بیٹھیں اور دونوں ملکوں کے معاملات اور دونوں ملکوں کے لوگوں کا اس میں مفاد ہے کہ مل کر تنازعات حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر اتنے وسائل ہی نہیں بچتے اور اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ عوام کے مسائل پر توجہ دی جا سکے۔ یہ ایک بڑی مفید بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ صرف ایک مرتبہ کوشش ہوئی تھی اور وہ کوشش تھی مرار جی ڈیسائی کے دور میں اور اس دور میں ایک کوشش ہوئی تھی بھارت کی طرف سے کہ بات چیت کے ساتھ معاملات حل کئے جائیں۔ پھر دوسری کوشش اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ہوئی تھی جب وہ لاہور آئے تھے اور انہوں نے کوشش کی تھی اور پھر میں خود بھی پرویز مشرف کے ساتھ آگرہ گیا اور جہاں بھارتی وزیراعظم کی پاکستانی صدر کے ساتھ ملاقات ہوئی۔
آج 8 گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے اور جس میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھ شاہ محمود قریشی اور وزیردفاع پرویز خٹک بھی شامل تھے۔ لگتا ہے کہ بہت سی تفصیل کے ساتھ آرمی چیف اور ان کے ساتھیوں نے اپنا نقطہ نظر بھی دیا گیا ہو گا اور بریفنگ بھی ہوئی ہو گی۔ بہت ڈیپ ان سائڈ بریفنگ ہو گی تو آپ کے خیال میں ایسے کون سے پاکستان کی سرحدوں کے گرد انڈیا، افغانستان ہے، کشمیر ہے، پھر امریکہ سے تعلقات ہیں تو کیا ایسے معاملات ہوئے ہوں گے جن کے بارے میں اتنی تفصیلی بریفنگ کی ضرورت پڑی۔
بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا کہ آپ نے جن نکات کا ذکر کیا ہے یہ سارے ہی اپنی جگہ اہم ہیں۔ میرے خیال میں ایک تو مجموعی طور پر بتایا گیا ہو گا کہ ہماری سرحدوں کی صورت حال کیا ہے۔ ہماری دفاعی پوزیشن کیا ہے اور ہماری کمزوریاں کیا ہیں اور اس کے ساتھ زیادہ چیز میرے ذہن میں آ رہی ہے اور آج ہی میں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو ریکارڈ کروایا ہے وہ امریکہ سیکرٹری آف سٹیٹ آ رہے ہیں اور اسکے ساتھ جنرل فیل بھی آ رہے ہیں جو اس خطے میں افغانستان میں موجود نیٹو افواج سے ہیں اس حوالے سے اس کے ذمہ دار ہیں۔ میرے خیال میں یہ مجموعی صورت حال کے تناظر میں یہ بھی ذکر بھی خصوصی طور پر کیا گیا ہو گا کہ امریکہ کی ہم سے کیا ڈیمانڈ ہو سکتی ہیں اور ہمارا قومی موقف کیا ہونا چاہئے کیونکہ اس موقع پر آپ نے تو کوئی غلطی کر لی تو حالات پاکستان کے ناموافق ہو سکتے ہیں اور اس میں واپس آف امریکہ سے بات کی وہ یہاں بھی دہرا دیتا ہوں کہ ان کی ڈیمانڈز میں کوئی نئی چیز نہیں ہے بار بار وہی بات ہو گی کہ آپ پورے ناردرن شمالی علاقوں میں لشکر کشی کر دیں مسائل کی پروا کئے بغیر اور بقول ان کے جو حقانی نیٹ ورک کے ایلی منٹس ہیں ان کو یہاں سے مار بھگائیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے پاکستان کا جو سرکاری موقف ہے۔ وہ بالکل درست ہے کہ یہاں جو افغان مہاجرین ادھر بیٹھے ہوئے ہیں ان کو واپس لے جائیں تا کہ یہ روز کا ٹنٹنا ختم ہو جائے کیونکہ 55 مہاجر کیمپوں میں آ کر اکا دکا بندہ آ کر اپنے قبائلیوں کے ساتھ پناہ لے لے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی خاص جگہ ہے تو آپ ہمیں بتائیں ہم اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔ آپ ہمیں کیوں نہیں بتاتے۔ دوسری چیز ہے کہ بقول آپ کے اگر یہاں سے حقانی نیٹ ورک کے لوگ افغانستان میں لڑنے کے لئے جا رہے ہیں تو انہیں روکنا صرف پاکستان کی ذمہ داری تو نہیں۔ آپ کی جو افواج افغانستان میں بیٹھی ہیں وہ ان کا راستہ کیوں نہیں روکتی۔ وہ کیوں ان کو مداخلت کی اجازت دیتی ہیں ظاہر ہے کہ یہ ہے اس میں خفیہ راستے ہیں جن سے کوئی بھی شخص گزر کر چلا جائے پورا بریگیڈ بھی گزر کر چلا جائے تو پتہ نہیں چلتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ 3 بڑی طاقتوں کا دو کا کم از کم بن چکا تیسری کا بننے کے قریب ہے۔ ان حالات میں وہ بار بار نہیں دہرائیں گے کہ جناب آپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن لیں اور آپ ان کو یہاں سے مار بھگائیں اور پاکستان کا موقف درست ہے کہ ہم افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کو الٹا کر اپنے صحن میں کیسے لے آئیں اور اپنے ہی قبائل کے خلاف لشکر کشی کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ غیر حقیقی مطالبہ ہے ہم سے۔
ضیاشاہد نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جس طرح کی آج بریفنگ ہوئی ہے 8 گھنٹے پر مشتمل کافی تفصیلی بریفنگ ہے اس کے سلسلے میں اینکر پرسن پوچھ رہی تھیں کہ عام طور پر اس کی مثال نہیں ملتی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے نوازشریف کے دور میں بھی دو ایک مرتبہ اچھی تفصیلی بریفنگ ہوئی تھی لیکن آپ کو زیادہ معلومات ہوں گی کیا فرق نظر آتا ہے کہ نئی حکومت کے جو عزائم ہیں اور جو طریق کار ہے کام کا اس کا کس حد تک مختلف نظر آتا ہے سابقہ وزیراعظم جناب نوازشریف کے طریقہ کار سے۔
بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا ہے کہ اس میں واضح چیز تو یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا تھا کہ ہم جو قومی ادارے میں ہم ان کے تعاون سے اپنی پالیسیاں طے کریں گے۔ امریکہ، برطانیہ میں بھی باقی جگہوں میں کہ اداروں کی ان پٹ لی جاتی ہے ان سے بریفنگ لی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں آپ اپنے مقاصد کا تعین کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بنیادی جز تو یہ ہے کہ عمران خان نے دلچسپی لی اور انہوں نے جو بریفنگ دی ان کو سمجھایا گیا ہو گا کہ ہماری مشکلات کیا ہیں، کمزوریاں کیا ہیں۔ ہماری مضبوطی کیا۔ کون سا کام کر سکتے ہیں کون سا کام ہمارے لئے ناممکن ہے کیونکہ ابھی چند روز میں ان کی ملاقات ہونے والی ہے سیکرٹری آف سٹیٹ سے اور جنرل کو ساتھ لے کر آ رہے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اپنی ڈیمانڈوں کا ڈھیر لے کر آئیں گے تو ہمیں ان کے ساتھ ڈیل کرنا ہے ڈپلومیٹلی۔ ہم ان کو بلنڈلی جواب تو دے نہیں سکتے ہمیں اپنی مشکلات کا اظہار کرنا پڑے گا جہاں ہم کام کر سکتے ہیں اس میں شاید تعاون بھی تھوڑا بہت کیا جائے جہاںممکن نہیں انہیں سمجھانا پڑے گا۔ اصل میں ان ساری باتوں کا وزیراعظم کو علم ہونا چاہئے تا کہ وہ غلط کمنٹمنٹ کر کے جال میں نہیں جائیں۔ مجھے بنیادی فرق یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ اداروں کی طرف سے جو بریفنگ ہے اس کو بھی اہمیت دیتے ہیں اس لئے اتنا وقت لگایا ہے تا کہ وہ مکمل طور پر سمجھ سکیں۔
ضیا شاہد نے کہا ہے میرا دعویٰ تو نہیں کہ فارن افیئرز کے معاملات کو بخوبی سمجھتا ہوں لیکن ہمارے سامنے بہت سی مثالیں پیش کی جاتی ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے کہ ہم کوئی مداخلت نہیں کر سکتے یا کوئی بین المملکتی معاہدات موجود نہیں ہیں کیونکہ میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ کس طرح سے سیٹل ہوا تھا اس کا مطلب ہے کہ جو معاملہ سیٹل کرنا ہوتا ہے وہ کر لیا جاتا ہے۔آبی مسئلے پر پاک بھارت مذاکرات ناکام ہونے پر انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ ہمارے اعتراضات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ انڈس واٹر معاہدے میں 3 دریاﺅں کا پانی انڈیا اور 3 کا پاکستان کے حصے میں آیا ہے، معاہدے میں درج ہے کہ پانی کے مسئلے پر ایک دوسرے سے بات کرنی پڑتی ہے۔ سپریم کورٹ میں جو میری رٹ دائر ہے اس میں زور دیا گیا ہے ستلج، راوی و بیاس میں ہمارا پانی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ انڈیا یہاں چناب پر اپنے 2 پراجیکٹ مکمل کرنے کے حوالے سے آیا ہوا ہے۔ اس پر پاکستان کا موقف ہے کہ معاہدہ ان کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔ جب ہم بھارت کی تجاویز پر اعتراض کریں گے۔ تو پھر یہ معاملہ عالمی عدالت میں جائے گا۔ ہمیں اس کی تیاری کرنی چاہئے۔ انڈیا کا ورلڈ بنک پر اثرورسوخ سے، ہم اس کے پاس شکایت لے کر جاتے ہیں وہ معاملے کو عالمی عدالت میں ریفر کرنے کے بجائے خود ہی انکار کر دیتا ہے حالانکہ وہ گارنٹر ہے عدالت نہیں۔ ہماری کوئی تگڑی ٹیم جائے وہ ورلڈ بنک سے کہے کہ وہ ”نو“ نہیں بول سکتا۔ میری رٹ ستلج و راوی میں پانی نہ چھوڑنے کے مسئلے پر ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی بہت نیچے چلا گیا ہے اور گندا بھی ہو چکا ہے۔ بھارت نے دونوں دریاﺅں میں لکڑی کے شیلٹر ڈال کر پانی بند کیا ہوا ہے، جب ادھر زیادہ پانی ہو جائے تو اچانک چھور دیتا ہے جس کی وجہ سے یہاں سیلاب آتا ہے۔ سیلاب میں زیادہ تبالی کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ دریاﺅں میں سارا سال پانی نہیں ہوتا اس لئے وہاں لوگوں نے تعمیرات بنا رکھی ہیں پھر جب اچانک پانی آتا ہے جس کی توقع نہیں تھی تو سب بہا کر لے جاتا ہے۔ میری رٹ چھوٹی نہیں یہ ملک کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے کہ دریاﺅں میں پانی چھورو۔ رٹ میں لکھا ہے کہ 72 ہزار ایک مرتبہ اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ماہی گیر ایک دفعہ بے روزگار ہوئے کیونکہ وہ دریا کنارے جھونپڑے بنا کر بیٹے ہوئے تھے لیکن جب پانی نہیں ہو گا تو مچھلیاں کہاں سے پکڑیں گے۔ ڈی پی او رضوان گوندل اور خاور مانیکا کے معاملے پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے پر انہوں نے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس کی حقیقت آشکار ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی لاہور میں چھوڑی نشست پر ابرار الحق اور ولید اقبال سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں، حتمی فیصلہ تو عمران خان ہی کریں گے۔ سعد رفیق پر جتنے کرپشن کے الزامات ہیں اگر پھر بھی عوام ان کو سر پر بٹھانا چاہتی ہے تو پھر ان کی مرضی ہے۔
چینل ۵ کے بیوروچیف نیویارک محسن ظہیر نے کہا ہے کہ پاک امریکہ کے درمیان ملزموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں، اگر ہوتا بھی تو کسی شخص کو امریکہ سے بلانا آسان نہیں ہے۔ وہ سیاسی پناہ حاصل کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ سے حسین حقانی کو واپس لانے کے لئے راستے تلاش کرنے کا حکم دیا ہے، اب جب نیب تلاش میں نکلے گی تو اسے رکاوٹ کا علم ہو گا۔ بظاہر حسین حقانی کی واپسی اتنا آسان کام نظر نہیں آتا۔ یہ ممکن ہے کہ اگر اسلام آباد موثر انداز میں واشنگٹن سے رابطہ کرے تو کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ بھی حل ہو گیا تھا۔ انہوں نے ممید کہا کہ حسین حقانی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر اکاﺅنٹ پر پوسٹ کیا ہے کہ ”لگے رہو منا بھائی“ ”ان کی آنیاں جانیاں دیکھتے رہیں“ وہ اس طرح کہ کمنٹس ٹویٹ کر رہے ہیں۔ حسین حقانی کی واپسی کا دارومدار اس چیز پر ہے کہ معاملے کو کس طرح چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہیں ان کے ساتھ ایک جرنیل بھی ہے، پاکستان کو ان کے سامنے حسین حقانی کی واپسی کا معاملہ اٹھانا چاہئے۔
نمائندہ پاکپتن محمد علی نے کہا کہ ڈی پی او اور خاور مانیکا معاملے کی شروعات 5 جولائی کو ہوئی، جب ان کی بیٹی مبشرہ اور بیٹا ابراہیم لاہور سے آئے اور دیپالپور کے قریب آ کر دربار بابا فرید کی جانب پیدل چلنے لگے اس وقت ان کو پولیس نے روکا، خاور مانیکا نے ڈی پی او رضوان گوندل سے شکایت کی تو ان کی آپس میں تلخی ہوئی، پھر اس وقت وہاں کے انچارج اسلم کو معطل کر دیا گیا اور انہوں نے خاور مانیکا سے معذرت بھی کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاور مانیکا گاڑی پر جا رہے تھے ناکے پر پولیس نے روکا یہ نہیں رکے، تعاقب کر کے پولیس نے روکا تو تلخ کلامی ہوئی۔ یہاں غلطی خاور مانیکا کی تھی انہیں ناکے پر گاڑی روکنی چاہئے تھی۔

 

پاکستانی والی بال ٹیم کی چین کواپ سیٹ شکست

جکارتہ(آئی این پی)ایشین گیمزوالی بال میں ساتویں سے دسویں پوزیشن کے میچ میں پاکستان نے چین کوہرا دیا،پاکستان نے دلچسپ اورسنسنی خیز معرکے کے بعد تین دوسے شاندارکامیابی حاصل کی۔میڈل کی دوڑ سے باہر قومی والی بال ٹیم کا اب ساتویں پوزیشن کے لیے یکم ستمبر کو تھائی لینڈ سے مقابلہ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ایشین گیمز میں قومی والی بال ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار چین کو شکست دے دی، گرین شرٹس نے پوزیشن میچ میں 3-2سیٹ سے فتح سمیٹی، کپتان محب رسول نے جیت کا سہرا پوری ٹیم کے سر سجا دیا۔جکارتہ میں 7سے دسویں پوزیشن کے لیے پاکستان اور چین کا والی بال میچ ہوا، پہلے سیٹ میںچین نے 25-17 کی جیت سے فاتحانہ آغاز کیا۔ پاکستان نے سخت مقابلے کے بعددوسراسیٹ 26-28 سے اپنے نام کیااور اسکور ایک ایک سے برابر کر دیا۔تیسرے سیٹ میں چین کو30-28سے کامیابی ملی۔چوتھاسیٹ پاکستان نے باآسانی 19-25سے جیت لیا۔فیصلہ کن سیٹ میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ جس میں پاکستان نے تین میچ پوائنٹ بچاتے ہوئے16-18سے سیٹ اورمیچ میں فتح حاصل کرلی۔قومی کپتان محب رسول نے چین جیسی تگڑی ٹیم کو پہلی بار ہرانے کا کریڈٹ تمام کھلاڑیوں کو دے دیا۔ میڈل کی دوڑ سے باہر قومی والی بال ٹیم کا اب ساتویں پوزیشن کے لیے یکم ستمبر کو تھائی لینڈ سے مقابلہ ہوگا۔

جاپان سے شکست، پاکستان گولڈ میڈل دوڑ سے باہر

جکارتہ(نیوزایجنسیاں) پاکستان کاایشین گیمز 2018ء میں ہاکی ایونٹ میں طلائی تمغہ جیتنے کاخواب بکھرگیا۔جاپان نے حیران کن طورپر 1-0سے فتح سمیٹ کر گیمزکی تاریخ میں پہلی بارفائنل کےلئے کوالیفائی کیا۔ملائیشیا نے دفاعی چمپئن بھارت کے ارمان بھی خاک میں ملا دئیے اورسنسنی خیزمقابلے کے بعد پینلٹی شوٹ آﺅٹ پر7-6سے فتح سمیٹ کر فائنل کےلئے کوالیفائی کیا۔جاپان کے فائنل کھیلنے کے باعث ملائیشیا کی ٹوکیواولمپکس 2020ءمیں براہ راست نشست بھی کنفرم ہوگئی۔میزبان ہونے کے ناطے جاپان پہلے ہی اولمپکس میں کھیلے گا۔پاکستان اور بھارت ایونٹ کی واحد دو ٹیمیں تھیں جو اب تک ناقابل شکست تھیں مگر دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔فائنل میں جاپان کا مقابلہ ملائیشیا جبکہ کانسی کے تمغے کے لیے پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔جکارتہ کے گیلورابنگ کرنوہاکی فیلڈمیں کھیلے گئے سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ میں اب تک شاندار کارکردگی دکھانے والی پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل میں مایوس کن کھیل پیش کیا۔پہلے کوارٹرمیں مقابلہ بغیرکسی گول کے برابررہا۔دوسرے کوارٹرکے دوسرے منٹ میں یاما ڈا شو ٹا نے گول داغ کر جاپان کو سبقت دلائی جو کھیل کے اختتام تک برقراررہی۔پاکستان نے جوابی گول کرنے کی بھرپور کوشش کی تاہم جاپانی دفاع نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔اس سے قبل پہلے سیمی فائنل میں بھارت اور ملائیشیا کی ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا اور اس کا فیصلہ پنلٹی شوٹس پر ہوا۔بھارتی ہاکی ٹیم ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست تھی اور اس نے مجموعی طور پر حریف ٹیموں کے خلاف 70 سے بھی زائد گول اسکور کیے۔لیکن سیمی فائنل میں وہ اپنا کامیابی کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکی اور میچ ہار گئی۔میچ مقررہ وقت تک کھیل 2-2 سے برابر رہا جس کے بعد دونوں ٹیموں کو پنلٹی شوٹ آٹس ملیں جس میں ملائیشیا نے 7-6 سے فتح حاصل کرکے فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا۔