سپہ سالار نے واضح کر دیا کہ فوج حکومت کا ماتحت ادارہ ہے ،فواد چوہدری

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کاکہنا ہےکہ گزشتہ روز جی ایچ کیو میں ملاقات کے دوران آرمی چیف نے واضح کیا کہ فوج دیگر اداروں کی طرح حکومت کا ماتحت ادارہ ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کل جی ایچ کیو میں وزیراعظم کو اہم بریفنگ دی گئی جس کا تعلق ملکی دفاع، سلامتی اور حساس معلومات سے تھا، کل تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کی صورتحال اور اسٹریٹیجک تعلقات پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔فواد چوہدری نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ادارے نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ ایک کتاب بھی پڑھ رہے ہیں، تمام اداروں کی مشترکہ حکمت عملی سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، جی ایچ کیو میں ملاقات کے دوران آرمی چیف نے واضح کیا کہ فوج دیگر اداروں کی طرح حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور فوج ہر اس پالیسی کو نافذ کرنیکی پابند ہے جو سول حکومت طے کرےگی۔

چیف جسٹس کا رضوان گوندل کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے سابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ( ڈی پی او) پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران انہیں بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ خاور مانیکا فیملی کو ناکے پر روکے جانے پر ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے جب کہ عدالت کے طلب کیے جانے پر آئی جی پنجاب، آر پی او ساہیوال اور انکوائری افسر پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیا قصہ ہے، 5 دن سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بات بار بار کہہ رہا ہوں پولیس کو آزاد اور بااختیار بنانا چاہتے ہیں، اگر وزیراعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں۔چیف جسٹس نے ڈی پی او پاک پتن کے تبادلے پر ازخود نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا اور جمیل گجر کہاں ہے، ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا اور رات کو ایک بجے تبادلہ کیا گیا، کیا صبح نہیں ہونی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنی عجلت میں رات کو ایک بجے تبادلے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور اثر ورسوخ برداشت نہیں کریں گے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم دیکھتے ہیں کس طرح دباو¿ کے تحت تبادلہ ہوتا ہے۔آئی جی پنجاب کا عدالت میں بیان انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کلیم امام نے عدالت کے روبرو کہا کہ مجھ پر تبادلے کے لیے کوئی دباو¿ نہیں ہے، محکمانہ طور پر ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کیا گیا۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلا کہ رضوان گوندل درست معلومات نہیں دے رہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رضوان گوندل کو بلایا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے خاور مانیکا کو روکنے والے ڈی پی او کا تبادلہ کردیا۔آئی جی پنجاب نے بلند آواز میں کہا کہ تبادلہ سزا نہیں ہوتا، بطور کمانڈر ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں اونچی آواز میں بات نہ کریں جب کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں میں نے فلاں بات کی، آپ کون ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک خاتون پیدل چل رہی تھی پولیس نے پوچھا تو اس میں کیا غلط ہے اور کیا آپ نے وزیراعلیٰ سے ڈی پی او کو ملنے سے روکا جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ لڑکی کا ہاتھ پکڑا گیا۔سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا بیان ۔آئی جی پنجاب کے بعد سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او حیدر کی کال آئی کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملوں، 23 اور 24 اگست والے واقعے کا قائم مقام آر پی او کو بتایا اور پورے واقعہ کا آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا۔رضوان گوندل نے کہا کہ واقعے والے دن 4 بجے فون آیا آپ رات دس بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جائیں جس کے بعد رات 10 بجے وہاں پہنچا تو احسن جمیل کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا۔

 

ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد دو طرفہ تعلقات بارے اہم پیش رفت

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)پاکستان اور ایران کے درمیان دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف دفتر خارجہ پہنچے تو ان کے ہم منصب شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔دونوں ممالک کے درمیان دفتر خارجہ میں ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مذاکرات میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت کو مستقبل میں کامیابیوں کے لئے ایرانی قیادت کی نیک خواہشات کا بھی پیغام پہنچایا۔یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کی سیاسی و عسکری حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔