لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار خالد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف نااہلی کی درخواست صرف عمران خان پر سیاسی دباﺅ ڈالنے کی کوشش ہے۔تمام جماعتوں کو آرٹیکل 62اور63پر سر جوڑڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ان دو شقوں کی موجودگی خطرے کی تلوار کی مانند ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری رائے کے مطابق جو عمران خان کو لائے تھے وہ انکی کا رکردگی سے خوش نہیںاپوزیشن کا اتحاد ایسے ہی نہیں ہو گیا۔ملک کی بقاءاس میں ہے ایسے الیکشن ہوں کہ سوال نہ اٹھیں۔نیب پر سوال اس لئے اٹھتے ہیں دس دس سال سے پڑے کیسوں کو نہیں نکالا جاتا جس کو پکڑنا ہو اس کے خلاف کیس بنا دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن نہیں چاہتا۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ اس وقت کسی پارٹی کے رکن کا وزیراعظم کے خلاف عدالت جانا نیا ایشو ہے۔اس وقت اپوزیشن بھی متحد ہو رہی ہے۔میرے خیال میں ملٹری کورٹ کووقت ملنا چاہئے ہمارا عدالتی نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں ہوا۔اگر بات قومی حکومت کی جانب گئی تو تحریک انصاف الگ ہو گی۔آج کل عدالتیں نیب پر بہت چڑھائی کر رہی ہیں۔منی لانڈرنگ کے کیس میں ملوث کسی کو چھوٹ یا ڈھیل نہیں مل رہی۔ کالم نگار کامران گورائیہ نے کہا کہ میرے خیال میں آئین کی شق 62اور 63کی زد میں سب ایم این ایز اور ایم پی ایز ہی آتے ہیں۔زندگی میں انسان سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی ہیں۔لگتا ہے ان دو شقوں پر پارلیمنٹ میں مشاورت ہونے والی ہے،شاید ان شقوں میں تمام جماعتوں کے اتفاق سے ترمیم بھی ہو جائے۔نواز شریف کے کیس میں کئے گئے پیرامیٹر خوفناک ہیں۔دہشت گردی کے کیسز کے لئے سپیڈی کورٹ ہونے چاہئیں۔ قومی ایشوز پر ن لیگ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو اکٹھا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس سال کے آخر میں ری الیکشن کی بھی بازگشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معدنی وسائل پر چین اور امریکہ آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ کالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف پہلے بھی نااہلی کے لئے درخواست دی گئی تھی۔اداروں کو اپنا کام کرنا چاہئے تاکہ ملک ترقی کی راہ میں گامزن ہو سکے۔نیب اب تک ثابت ہی کیا کر سکا۔کرپشن کے خلاف ادارے مل کر کام کریں۔






































