تازہ تر ین

بیرون ملک پاکستانیوں کے 50 ہزار اکاﺅنٹس ، ایف بی آر ان ایکشن

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک پچاس ہزار اکاﺅنٹس کا پتہ چلا لیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کراچی لاہور اور اسلام آباد سے ہے۔ ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ دوبئی میں 537 افراد کی 1385 جائیدادوں کی تحقیقات کی ہیں۔ دوبئی میں 38 ارب کی 867 جائیدادوں کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ اکاﺅنٹس سپین اٹلی فرانس جرمنی اور دیگر ملکوں میں بھی ہیں۔ بیرون ملک اثاثوں کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جائیدادیں رکھنے والے 25 سیاستدانوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ایف آئی اے نے بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کے کیس میں سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی۔رپورٹ میں ایف آئی اے نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کی جائیداد قانونی یا غیرقانونی ہونے کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی معلومات خفیہ ہونے کے باعث ایف آئی اے کو مشکلات کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ قانون کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) ایمنسٹی اسکیم کی معلومات خفیہ رکھنے کا پابند ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی احتساب ادارے (نیب) کے 21 ملزمان بھی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2 مفرور ملزمان بھی یو اے ای میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔رپورٹ کے مطابق 895 میں سے 642 افراد نے بیان حلفی ایف آئی اے کو جمع کرا دیے جس میں سے 72 پاکستانیوں نے یو اے ای میں جائیداد ہونے سے انکار کیا۔ایف آئی اے کے مطابق 364 افراد نے ایمنسٹی اسکیم میں اور 200 نے اسکیم سے پہلے جائیداد ظاہر کیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے برطانیہ اور دبئی میں جائیداد بنانے والے 15 سو پاکستانیوں کو شوکاز نوٹس ارسال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔پہلے مرحلے میں ان ایک ہزار افراد کو نوٹسز ارسال کیے جائیں گے جنہوں نے برطانیہ میں جائیداد بنائی اور باقاعدہ ماہانہ کرایہ وصول کیا۔دوسرے مرحلے میں دبئی میں جائیداد بنانے والے 500 افراد کو نوٹس ارسال کیے جائیں گے۔اس ضمن میں آرگنائزیشن آف اکنامکس کارپوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) اور برطانیہ کے ٹیکس اتھارٹی، ایف بی آر کو معلومات فراہم کرنے میں معاونت کرے گی تاہم دبئی کے تناظر میں ٹیکس حکام ساری تفصیلات فراہم کریں گے۔ایف بی آر حکام کو یقین ہے کہ نوٹس کے ذریعے ٹیکس وصول کنندہ گان اس امر کا ادراک کرسکیں گے کہ صارفین نے اپنی ساری جائیداد کا تذکرہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں کیا یا پھر نہیں۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ’ہمیں ٹھیک طرح سے معلوم نہیں ہے کہ برطانیہ اور دبئی میں کتنی سرمایہ کاری کی گئی۔ دوسری جانب ڈائریکٹر انٹیلی جنس اور تحقیقات نے پراپرٹی، گفٹ اسکیم، گاڑیاں وغیرہ سے متعلق تمام ڈیٹا جمع کرلیا ہے اور مذکورہ تفصیلات ریجنل ٹیکس افسران کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق 82 ہزار 8 سو 48 افراد نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاکر اپنے اثاثے ظاہر کیے اور تقریباً 25 کھرب روپے مالیت کے اثاثوں کو وائٹ منی میں تبدیل کیا۔ ان میں 5 ہزار 3 سو 63 افراد نے بیرون ملک اثاثے جبکہ 77 ہزار 4 سو 85 افراد نے اندورن ملک اثاثے ظاہر کیے۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت 2 ماہ میں ایف بی آر نے ایک سو 21 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جس میں سے 44 ارب روپے بیرون ملک اثاثوں جبکہ 77 ارب روپے اندرون ملک اثاثوں کی مد میں وصول کیا گیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain