تازہ تر ین

بصری گواہی

مریم ارشد……..میری آواز
میں نے عورت کو نوعمری میں پِٹتے ، مٹتے ، ٹوٹتے دیکھا
میں شاید کوئی چار برس کاتھا
جب میں نے قحبہ خانوں میں
اترتی سیلن زدہ سیڑھیوں
کی باس اپنے اندر بسائی تھی
درد کی دُھند چھَٹی تو دیکھا
چالیس سال لگے تھے مجھ کو
اس باس کو برش اور رنگوں
کے رستے اپنے کینوس پہ اُتارنے کو
عورت کے استحصال کو اپنے تلخ و شریں
تجربات کی بصری گواہی بنانے کو!
مصور اپنے عہد کے لوگوں کو اپنی وسیع معلومات سے روشناس کرانے کے لیے اپنی بصارت اور اپنے فن کے ذریعے سماج میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بیان کرتا ہے۔ مصور کے برش ، رنگوں اور کینوس کے پیچھے بے پناہ قوت کارِفرما ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ لمحے مقید ہو کراُس بیتے وقت کی گواہی دیتے ہیں۔فنِ مصوری کی وہ تحریک ہے جو فرانس میں 1860میں شروع ہوئی۔ مصوری کے اس طرزِ بیان میں لائٹ اینڈ شیڈ کو استعمال کرتے ہوئے ایک بصری نقش بنایا جاتا تھا جو پورٹریٹ یا دوسری فگرز کی شکل میں ہوتی تھیں۔ پینٹنگ میں وہ جدوجہد ہے جو رنگ و روشنی کے دائرے میں بالکل درست طور پر بنائی جاتی ہے ۔
یوں تو دنیا میں طوائفوں کا وجود ازل ہی سے قائم ہے امپریشن پینٹنگزمیں جس موضوع پہ سب سے زیادہ پینٹنگزبنائی گئیں وہ Prostitutionتھا۔ انیسوی صدی میں جو عورتیں کسی وجہ سے تنہا رہ جاتی تھیں یا چھوڑ دی جاتی تھیں انھیں اس پیشے میں زبردستی دھکیل دیا جاتا تھا ۔ ےہ عورتیں تباہ کن زندگی گزارتیں اور ناں چاہتے ہوئے بھی مردوں کا دل لُبھاتی تھیں۔ مرد ان سے ظالمانہ سلوک کرتے حتیٰ کہ قحبہ خانوں پہ حملے بھی کردیتے تھے ۔ امپریشن کے مشہور مصوروں میں Edouard Manet، Edgar Degas،Van Gogh Vincent،Toulouse Lautrecوہ لوگ تھے جو Prostitutionکو Paintکرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ دریائے راوی کے کنارے بسنے والے افسانوی شہر لاہور میں راوی کنارے پُر پیچ گلیوں میں ایک محلہ ”ہیرا منڈی“کے نام سے آباد ہے ۔ گو اب ےہاں ماضی کی وہ رونقیں اور محفلیں نہیں رہیں۔ انہی سیلن زدہ ، بَل کھاتی ہوئی گلیوں میں ایک درد مند انسان بستا ہے جسے ہم پوری آب وتاب کے ساتھ فن کے بین الاقوامی مصوروں کی صف میں کھڑا کر سکتے ہیں۔اس دردِ دل رکھنے والے انسان کودنیا اقبال حسین کے نام سے جانتی ہے۔ درد اور احساس کی ریاضت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ےہ وہ جذبہ ہے جو محنت و محبت سے فن کو جِلا بخشتا ہے۔درد ہی کسی انسان کی چھُپی ہوئی صلاحیتوں کو اُبھارتے ہوئے اُسے فن کار کے درجے پہ پہنچاتا ہے۔
اقبال حسین نے قحبہ خانوں کی صورت عورت کا استحصال ہوتے دیکھا!
اقبال حسین نے عورت کی مردوں کے ہاتھوں تذلیل ہوتے دیکھی!
اقبال حسین نے زندگی کے رنگوں کو نشیب و فراز میں ڈھلتے دیکھا!
اقبال حسین نے رشتوں کی چادر کے بخیے اُدھڑتے ہوئے دیکھا!
اقبال حسین نے پہلے آپ بیتی سے اپنے کینوس کو رنگوں سے سجایا پھر گزرتے وقت نے دیکھتے ہی دیکھتے جگ بیتی کو ان کے کینوس پہ تصویروں کی شکل میں بولتے ہوئے سُنا۔ وہ عجیب مرد ہے عورتوں کے دکھ کی بات کرتا ہے ۔ عجیب مرد ہے عورتوں کو سماج میں عزت دلوانے کی بات کرتا ہے۔ عجیب مرد ہے عورت کی خوشی کی بات کرتا ہے ۔اقبال حسین اپنیlandscapesکو دھیمے ،مٹیالے گلابی ، اُودے اور نیلگوں رنگوں سے چند سٹروکس کے ساتھ نرمی سے پینٹ کرتے ہیں توفیگر پینٹنگز میں لال رنگ بکثرت استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لا ل رنگ جذبات، محبت، توانائی، مضبوطی ، عداوت،استقامت اور سب سے بڑھ کر انسانی خون کا رنگ ہے ۔ اقبال حسین اپنی پینٹنگز کے ذریعے ےہ کہنا چاہتے ہیں کہ عورت خواہ کسی بھی خطے ، شہر ، محلے یا پیشے کی ہو اس کے خون کا رنگ تو ایک ہی ہے ۔ آج بھی عورت چیخ چیخ کر بڑے طے شدہ انداز میں اپنی عزت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اقبال حسین کی پینٹنگزکی کراچی میںویژن آرٹ گیلری میںحالیہ نمائش جس کا عنوان”ویژول ویٹنسیعنی بصری گواہی “ہے،گزشتہ روز منعقد ہوئی۔ یوں تواُن کی تمام پینٹنگز میں انتظار، دکھ ، ہجر، زیست کا بیکراں بوجھ ان تمام عورتوں کی آنکھوں سے جھلکتا ہے جسے وہ کینوس پہ اُتارتے ہیں۔ ایک پینٹنگ خاص طور پر جس میں ایک نوجوان لڑکا ایک عورت کو بُری طرح مارپیٹ رہا ہے جس کے پس منظر میں آرٹسٹ نے خود کو پینٹ کیا ہے ےہ واقعہ ان کے قریبی عزیزوں کے ساتھ پیش آیا اور ےہ تکلیف، ےہ درد، ےہ دکھ آرٹسٹ کی آنکھوں کے رستے سے ہوتا ہوا کینوس پہ گواہی کی شکل میں اُتر گیا۔ ایک اور پینٹنگزمیں وہی عورت مار کھا کر زمین پر ادھ موئی پڑی ہے۔ ایک پینٹنگ میں پولیس والے عورتوں کو مارپیٹ رہے ہیں ےہ ماڈل ٹاﺅن کے خون ریزی کے دلدوز سانحے کو بیان کرتی ہے۔
بلا شبہ اقبال حسین کی تمام پینٹنگزتاریخ کا حصہ بن رہی ہیں اور اقبال حسین وہ عجب مو¿رخ ہے جو قلم سے نہیں بلکہ برش اور رنگوں سے لاہور کی تاریخ رقم کر رہا ہے ۔ اقبال حسین کئی دہائیوں سے ہیرا منڈی کی طوائفوں کو پینٹ کررہا ہے۔
خدا کی تخلیق کی سا لمیت بڑی بے کراں ہے۔ اس کائنات کو رب نے محبت ، دوستی اور رواداری سے گُوندھا ہے ۔ اقبال حسین کی تصویروں میںاور کردارجن میں بچے اور ادھیڑ عمر عورتیں بھی ہوتی ہیں سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے پہ ان کی گہری نظر ہے ۔ اقبال حسین کی پینٹنگزمیں ہمیں خواہشات ، محرکات، واہمے ، کشمکش ، خواب ، حسرتیں ، زندگی کی سسکیوں اور سسکاریوں کی گواہی ملتی ہے۔ پاکستان میں ایک مدرسہ¿ فکر کھیل تماشے ، برہنہ اجسام ، جنگلی گھوڑے ، غیر ملکی تسلط ، ڈیجیٹل پینٹنگ اور instalationکے نام پہ آرٹ تخلیق کررہا ہے اور ہمیشہ اقبال حسین کو ان کی پینٹنگز کے موضوع کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اقبال حسین کی paintingsزندگی کی اس تلخ سچائی پہ مبنی ہیں جہاں نہ صرف انھوں نے جنم لیا بلکہ پوری زندگی تیاگ دی۔ وہیں سے نام بنایا اور عزت کمائی۔ اقبال حسین preciselyاس بات پہ زور دیتے ہیں جو سامنے نظر نہیں آتا وہ اندر کہیں نہ کہیں چھُپا ہوتا ہے۔ ظلم ، تشدد اور وحشت کسی قیمت پر تسلیم نہیں کی جاسکتی۔
This truth and visual witness is an integral part of Iqbal Hussain’s paintings.
اقبال حسین کی پینٹنگز وہ سیاہ کہانیاں ہیں جو زبان رکھتی ہیں اور چیخ چیخ کر اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ جاتی ہیں۔ کیا ےہ سب کہانیاں صرف اور صرف قدرت کے بہی کھاتوں میں درج ہوںگی؟کیا سماج کے ناخدا کبھی انصاف مہیا نہیں کریں گے؟ جب ےہ Images ےہ Paintingsحقیقی اورجیے ہوئے تجربوں کی بصری گواہی ہیں تو کیا ےہ صرف دبے پاﺅں گزرجائیں گی یا اور کسی اور فن کے کلچر میں داخل ہوجائیں گی۔ شاید ےہ میرے قارئین کے لیے ایک حیرت انگیز اور اجنبی سوال ہو جس کی کوئی اہمیت نہیں۔
اہمیت ہے تو اقبال حسین کی ان پینٹنگز کی ہے جوصدیوں سے عورت پہ ہوتے ہوئے ظلم کو اُجاگر کرتی ہیں۔ اقبال حسین کی drawings ،portraits اور پینٹنگزکا تخلیقی اثر ان کی اپنی شخصیت پہ کچھ اس طرح پڑا کہ وہ اپنے فن کے ذریعے بالآخر سچائی کے اس راستے پہ چلے جو درویشوں کے کُنج تک جاتا ہے ۔ ہم فن کے بے کراں سمندر میں غرق ہیں لیکن ہماری بصیرت کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے ۔ ہم اپنے ماحول کو محسوس نہیں کرتے بلکہ ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہیں۔ لیکن اقبال حسین وہ فنکار ہے جسے زندگی نے بصیرت کا تحفہ عطا کیا اور انھوں نے اپنے اسی Visual Perceptionکو استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنی ویژول وٹنسکی صورت میں خوب صورت پینٹنگزعطا کیں۔اقبال حسین کی پینٹنگزبہت سے سوال اُٹھاتی ہیں۔ جواب تلاش کیجیے!
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved