تازہ تر ین

کتاب کلچر کے فروغ مےں ضےا شاہد کا کردار

ثوبیہ خان نیازی….اظہار خیال
کتا ب پاس ہوتو انسان تنہا نہےں ہوتا ۔ کتاب سے دوستی علم و آگاہی ،فہم و تدبر اور انسان شناسی کے دروازے کھولتی ہے ۔ کتاب خاموش رہ کے بھی بولتی ہے ۔ اسے سننے والے اس کے اندر سفر کرتے ہےں اور پھر انہےں کوئی اور راستہ پسند نہےں آتا انسا ن دورجدےد مےں کمیونیکیشن کے لاکھ نئے راستے تلاش کرلے مگر کتاب کی اہمےت سے انکار نہےںکرسکتا سرہانے رکھی کتاب جو آپ کو لطف دےتی ہے اےسی خوشی کسی اور طرف سے ممکن نہےں۔ کتابےں لکھنے والے ہر دور مےں اپنے لفظوں مےں زندہ رہتے ہےں۔ سچے اور حقائق پہ مبنی لفظ صاحبِ کتاب کے کردار اور افکار کی گواہی دےتے ہےں ۔ کتابےں بہت محبت ، رےاضت اور لگن سے لکھی جاتی ہےں۔ جذبہ جنون دل کے آئےنہ مےں جگمگائے تو لفظ خود بخود ہمہ قرطاس پہ بگونے لگتے ،لفظ دل کے راز و نےاز ہےں اور انہےں صاحب ِ اسرار ہی جان سکتے ہےں خاموش تنہائےوں سے گفتگو کے انداز جاننے والے اک نگاہ سے انسان کے اندر کا سفر کرنے والے اپنے لفظوں مےں صدےاں زندہ رہتے ہےں۔ کتاب کے مٹتے ہوئے رجحان کو دےکھ کر دل افسردہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے نوجوان جن کے ہاتھوں مےں کتابےں ہونی چاہئے تھےں اب موبائل فون شب و روز کی مصروفےت بنے ہوئے ہےں۔ ہم کسی بھی کام پہ محنت نہےں کرنا چاہتے، آناََ فاناََ ہر مسئلہ کا حل چاہتے ہےں۔ ہم اپنی رواےات اور تہذےب و تمدن سے بے بہرہ ہو چکے ہےں نجانے ہم کس منزل کے متلاشی ہےں کسی صاحبِ نگاہ کا فےض ہی ہمےںراستوں کی دھول بننے سے بچا سکتا ہے۔ جب تک وابستگی نہےںہوگی ۔وارفتگی کا گوہر نہےں ملے گا۔ کتابےں پڑھنا مےرا پرانا مشغلہ ہے پہلے صفحے سے لےکر آخری صفحے تک مکمل ےکسوئی اور انہماک سے جب تک مےں کتاب مکمل نہ کرلوں مجھے عجےب سی بے قراری رہتی ہے ۔ 2018سے لےکر اب تک مےں نے جس صاحب ِ علم و آگاہی رکھنے والے تخلےق کار کی کتابےں سب سے زےادہ پڑھی ہےں اور شائع ہوتے دےکھی ہےں وہ خبرےں گروپ کے چیف اےڈےٹر جناب ضےا شاہد صاحب کی ہےں۔ اﷲ نے ضےا شاہد کو عزت ،شہرت، دولت اور ہر نعمت دنےا سے نوازا ہوا ہے۔مگر وہ پھر بھی عمر کے اس حصے مےں جہدِمسلسل پر کاربند ہےں ۔ اپنی 70سالہ صحافتی دور کے تمام تجربات اور مشاہدات اب وہ کتابی شکل مےں طالبانِ علم و آگہی رکھنے والوں کے سامنے پےش کررہے ہےں۔ کہ کوئی محرومِ تمنا نہ رہے اپنی ماں کی عظمت کو سلام پےش کرنا چاہتے ہےں۔ تو کتاب ” امی جان“ تخلےق ہوتی ہے جس مےں ہر انسان کو اپنی ماں کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ وہ اپنے قلم قبےلے سے تعلق رکھنے والوں کوےاد کرتے ہےں۔ ان کے علم و ہنر کو اجاگر کرنا چاہتے ہےں۔ تو جےسے کھوئے ہوﺅں کو دبارہ زندہ کردےتے ہےں اور”قلم چہرے “کتاب وجود مےں آتی ہے۔ کبھی پانےوں کے مسئلہ پر پرےشان ہےں اور سب سے پہلے اس مسئلہ پرآواز اٹھاتے ہےں۔
جو بعد ازاں اقتدار کے اےوانوں تک گونجتی ہے۔ اپنے عظےم قائد کو سلام پےش کرتے ہےں۔” سچا اور کھرا لےڈر “ہے اک بے مثال کتاب ذہن و قلب کو منور کرتی ہے قائداعظم پرلکھی گئی ےہ کتاب پاکستان کی لائبرےری کی زےنت ہونی چاہےے جب اس کتاب کی تقرےب رونمائی ہوئی تو مہمانِ خصوصی عمران خان تھے ےہا ں شرکت عمران خان کےلئے بڑا اعزاز تھی کےونکہ بہت سے صاحبِ بصےرت عمران خان کو قائد اعظم کے بعد بڑا لےڈر تصور کررہے ہےں۔ عمران خان رواےتی سےاستدان نہےں بلکہ لےڈر ہےں عمران خان کو اب ےاد رکھنا چاہےے کہ لےڈر قوموں کی تقدےر بدل دےتے ہےں انہےں آسانےاں دےتے ہےں۔ ان کی زندگےوں مےں کشادگےاں اُترنے لگتی ہےں۔ حالات آپ کے ہاتھ مےں ہےں اپنے وقت کو ضائع مت کرےں بات ضےا شاہد صاحب کی ہورہی تھی۔ ضےا صاحب نے اپنی کتاب کی تقرےب کے موقع پر بہت پر اثر تقرےر کی تھی۔ اس موقع پہ سےنکڑوں لوگوں کی افطاری کا بھی انتظام کےا گےا تھا۔ ضےا صاحب اپنے صحافی دوستوں کو بھی اپنی زندگی مےں بہت اہمےت دےتے ہےں ۔ حال ہی مےں ان کی کتاب پاکستانی صحافت کے 24اےڈےٹرز شائع ہوئی ہےں۔ حسب معمول اس کتاب کو بھی قلم فاﺅنڈےشن نے شائع کےا ہے۔ اس کتاب مےں جس خوبصورت انداز مےں صحافےوں کے انٹروےو شامل کےے گئے ہےں اس کی کہےں مثال نہےں ملتی۔ بقول ضےا شاہد ےہ کتاب ماس کمےونےکےشن کے طالب علموں کے لےے بطور خاص قابل استفادہ ہے۔ اس کتاب مےں پاکستانی صحافت کی اےک تارےخ رقم ہے۔ صحافی کے سفر نامے بھی ان کی قابل ستائش کتاب ہے۔ ضےا صاحب کہتے ہےں ۔ ہر روز دنےا مےں ہزاروں لوگ سفر کرتے ہےں لےکن ہر مسافر کا مقصد اےک دوسرے سے مختلف ہے۔
صحافی کے ےہ سفر نامے جو کتابی شکل مےں آپ کے سامنے ہےں۔ بنےادی طور پرےہ ان مشاہدات پر مبنی ہےں ۔جو مےں نے جس ملک مےں بھی گےا اس کے اداروں کو دےکھنے کی کوشش کی کہ وہ کےسے کام کررہے ہےں۔ ہمارے مقابلے مےں ان کے ادارے کتنے مختلف ہےں۔ امرےکہ، برطانےہ، چےن ، افغانستان، ہانگ کانگ، تھائی لےنڈ اور کمبوڈےا جس جس ملک مےں ضےا صاحب کو جانے کا موقع ملا ۔ وہاں کی سےاست صحافت ، تہذےب و تمدن کی مکمل عکاسی اس کتاب کی زےنت ہے۔ سےاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لےے ےہ کتاب اےک انمول تحفہ ہے ۔ ہم کتاب پڑھتے ہےں اپنے شوق اور لگن کی تسکےن کے لےے اور صاحب کتاب کو سلام پےش کرتے ہےں۔ اور اﷲ تعالیٰ سے ان کی زندگی اور صحت کے لےے دعا گو ہےں۔ صاحب ِ علم و عرفاں ہمارے اہل قلم ، ہمارے ملک کا اثاثہ ہےں انہےں سر آنکھوں پہ بٹھانا ان کے مقام اور مرتبہ کے مطابق انہےں عزت اور اہمےت دےنا ہم سب کا فرض ہے۔ بلاشبہ مٹتے ہوئے کتاب کلچر کے فروغ مےں ضےا صاحب کا کردار صدےوں ےادر ہے گا۔
جس محبت اور لگن سے وہ کتاب کی اہمےت کو اجاگر کرنے مےں سرگرم عمل ہےں اس کی مثال نہےں ملتی ۔ گزشتہ سال ان کی تقرےباََ 15کتابےں شائع ہوئی ہےں ۔ ےہ کوئی معمولی بات نہےں ےہ 50 سال کا صحافتی تجربہ ہے۔ جو اب ناےاب کتب کی صورت مےں تشنگی علم رکھنے والوں کو مےسر آرہا ہے۔ بقول علامہ اقبال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن مےں دےدہ ور پےدا
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved