تازہ تر ین

سہ آتشہ¿ اقبالؒ ….(2)

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
علامہ اقبالؒؒ نے دیگر شعراءکے درج ذیل فارسی اشعار اپنے خطوط میں اور نثری تحریروں میں تحریر کیے ہیںیا اردو نظموں میں تضمین کی ہے۔ اشعار اور ان کا اردو/ پنجابی ترجمہ پیش ہے۔ شاعر مشرقؒ نے حکیم حاذق گیلانی کا درج ذیل فارسی شعر پروفیسر اکبر منیرؒ کے نام اپنے 17 مارچ 1925 کو تحریر کردہ خط میں لکھا ہے۔ علامہ اقبالؒ لکھتے ہیں:
ڈیئر پروفیسر اکبر منیر صاحب!
ہاں لاہور میں بہار کا آغاز ہے مگر
دلم بہ ہیچ تسلی نمی شود حاذق
بہار دیدم و گل دیدم و خزان دیدم
٭….٭
ملی نہ تسکیں کسی طرح سے بھی میرے دل کو
بہار دیکھی، ہیں پھول دیکھے، خزاں بھی دیکھی
٭….٭
شیخ سعدیؒ کے اس شعر کی علامہ اقبالؒ نے ”ساقی نامہ“ میں تضمین کی ہے ۔ میں نے اردو ترجمے میں ”گا“ کے بجائے قصداً ”گی“ باندھا ہے:
اگر یک سر موی برتر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم
٭….٭
ذرا اور اونچا اڑوں گا اگر
فروغ تجلی جلا دے گی پر
علامہ اقبالؒ نے مولانا رومؒ کے درج ذیل اشعار ”پیرومرید“ میں درج کیے ہیں:
دست ہر نااہل بیمارت کند
سوی مادر آ کہ تیمارت کند
٭….٭
کردیا بیمار اتائیوں نے تجھے
پاس ماں کے آ، تجھے صحت ملے
(اتائی: کسی بھی شعبے کا غیر پیشہ ور، بے ہنر شخص، یہاں مراد نیم حکیم ہے۔ درست لفظ اتائی ہے۔ عطائی لکھنا غلط ہے۔ جس طرح درست لفظ میراسی ہے یعنی راس ڈالنے والا۔ راس دھاری۔ میراثی لکھنا غلط ہے۔)
علم را برتن زنی ماری بود
علم را بردل زنی یاری بود
٭….٭
ڈھڈدے لئی جے علم لویں دا
سپ بن کے تینوں ڈنگے دا
دل دے لئی جے علم لویں دا
یاری توڑ نبھاوے دا
٭….٭
بر سماع راست ہر کس چیز نیست
طعمہ ہر مرغکی انجیر نیست
٭….٭
سن کہاں پاتے ہیں سچی بات سب؟
ہر پرندے کی غذا انجیر کب ؟
٭….٭
قلب پہلو می زند یا زر بشب
انتظار روز می دارد ذہب
٭….٭
رات کو کھوٹا، کھرا سب ایک سا
راہ دن کی دیکھ رہا ہے کھرا
٭….٭
آدمی دید است باقی پوست است
دید آن باشد کہ دید دوست است
٭….٭
آدمی بس دید ہے، باقی ہے پوست
دید کا منصب فقط دیدار دوست
٭….٭
علم و حکمت زاید از نان حلال
عشق و رقت آید از نان حلال
٭….٭
علم و حکمت بڑھتی ہے رزق حلال سے
عشق و رقت آتی ہے، رزق حلال سے
٭….٭
خشک مغزو حشک تار وخشک پوست
از کجا می آید این آوازِ دوست؟
٭….٭
خشک مغز اور خشک تار اور خشک پوست
ہے کہاں سے آئے یہ آوازِ دوست
شاعر مشرقؒ نے مرزا، بیدلؒ کے درج ذیل شعرکی تضمین اپنی نظم ”مذہب“ میں کی ہے:
باہر کمال اندکی آشفتگی خوش است
ہر چند عقل کل شدئہ، بی جنون مباش
٭….٭
اچھی ہے کچھ آشفتگی بھی ہر ہنر کے ساتھ
تو لاکھ عقل کل سہی‘ پر بے جنوں نہ رہ
علامہ اقبال ؒ کے اس شعر میں دوسرا مصرع شیخ سعدیؒ کا ہے:
بسی نادیدنی را دیدہ ام من
مرا ای کاش کہ مادر نہ زادی
٭….٭
کیسے کیسے ظلم اس جگ اچ تکے نیں
چنگا سی جے ماں مری مینوں جمدی ای ناں
شاعر مشرقؒ نے صائبؒ کے اس شعر کی تضمین اپنی اردو نظم تضمین بر شعر صائبؒ میں کی ہے:
ہمان بہتر کہ لیلیٰ در بیابان جلوہ گر باشد
ندارد تنگ ٹای شہر تاب حسن صحرائی
٭….٭
بہتر ہے یہی لیلیٰ صحرا میں ہو جلوہ گر
یہ حسن بیاباں کب شہروں میں سمائے گا؟
حافظ شیرازی ؒ کے اس شعر کی تضمین دو نظموں ”نصیحت“ اور ”نپولین کے مزار پر“ میں کی گئی ہے:
عاقبت منزل ما وادی خاموشان است
حالیا غلغلہ در گنبد افلاک انداز
٭….٭
پھر تو بس وادی خاموشاں میں جا سونا ہے
حال کے پل تو اٹھادیں کوئی شورمحشر
شاعر مشرقؒ تحریک خلافت سے نہ صرف یہ کہ الگ رہے بلکہ وہ اس کے شدید ناقدین میں سے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنے متعدد خطوط میں کیا۔ علاو ازیں انہوں نے ”دریوزہ ¿ خلافت“ کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی۔ نظم اگرچہ مختصر ہے صرف چار اشعار کی لیکن اگر اسے یہاں نقل کروں تو مضمون کی طوالت میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس لئے صرف وہ فارسی شعر جس کی انہوں نے تضمین کی ہے وہ اور اس کا ترجمہ پیش ہے:
مرا از شکستن چنان عار نایہ
کہ از دیگران خواستن مومیائی
٭….٭
مجھے موت منظور ازھر مگر
نہ مانگوں گا غیروں سے مرہم کبھی
علامہ اقبال ؒ نے اس نظم میں جو بات کہی ہے پنجابی کے عظیم شاعر شاہ حسین ؒ آج سے چار سو برس پہلے وہ بات ایک مصرع میں کہہ گئے تھے۔:
کہے حسین فقیر سائیں دا‘ تخت نہ ملدے منگے
یہ فارسی نہ جاننے والے دوستوں کے لئے تفہیم کلام اقبال کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی:
گر قبول اُفتد‘ زہے عزو شرف
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved