تازہ تر ین

کالا قرار 12 سالہ وقار غاروں میں چھپتا پھر رہا ہے ہم کس دور میں رہ رہے ہیں ، کالاقرار پانے والا حلف دے چکا، واقعہ میں بدنیتی موجود ہے ، اس کےخلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی جائیگی: آغا باقر لیگل ایڈوائزر کی چینل ۵ کے پروگرام ” ہیومن رائٹس واچ “ میں گفتگو

لاہور  (مانیٹرنگ ڈیسک) شجاع آباد میں رکشہ ڈرائیوراعجاز کی 13سالہ ذہنی کمزور ، معصوم بیٹی میمونہ کیساتھ بالجبر زیادتی کا دل دہلا دینا والا واقعہ سامنے آیا ہے۔بچی کے ہاتھ باندھ کر زبردستی زیادتی کرنے والے ملزم مولوی عبداللہ کو گرفتار کر کے 4روزہ ریمانڈ پر تھانہ سٹی پولیس کے حوالے کر دیا گیاہے۔ مولوی عبداللہ کا بیان ہے کہ 13سالہ بچی میمونہ شرعی طور پر اسکی بیوی ہے ۔ دوسری جانب بچی کے والد کا کہنا ہے کہ انکی بچی میمونہ مولوی عبداللہ سے قرآن پاک پڑھنے جاتی تھی ۔وہاں بچی کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر زبردستی کی جاتی رہی۔تین ماہ بعد بچی کے پڑھنے کے لیے نہ جانے پر والدین نے جانے پر اصرار کیا توبچی مسلسل روتی رہی کہ اسے پڑھنے نہیں جانا۔ڈر کے باعث بچی نے جب واقعہ کے تین ماہ بعد یہ بتانے کے قابل ہوئی کہ اسکے ساتھ مدرسہ میں زیادتی کی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب ڈیرہ غازی خان کے علاقے تمن بزدار بھارتی سے کاراکاری کاواقعہ سامنے آیاہے جہاں آٹھویں جماعت کے طالب علم وقار اور ایک شادی شدہ خاتون کو کاراکاری کا شکار بنا دیا گیا ۔ علاقے میں جب اس خاتون پر کاری کا الزام لگا تو علاقہ ایس ایچ او کی نگرانی میں پنچائیت بٹھا کر انہیں کاراکاری قرار دیتے ہوئے شادی شدہ خاتون کو فروخت کرنے اور وقار کو علاقہ بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ طالب علم وقار قتل کے ڈر سے ریگستانوں غاروں میں چھپنے پر مجبورہو گیا ۔ پولیس طالب علم کی علاقے میں واپسی کے لیے 12لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جہاں ظلم وہاں خبریں اور چینل فائیو نے اپنے پروگرام ”ہیومن رائیٹس واچ “کے ذریعے معاشرے میں ظلم و بربریت کے اس واقعے پر مظلومین کی آواز کو اٹھایااور ملزم کو حوالات تک لے کر گئے۔ اس حوالے سے لیگل ایڈوائزر آغا باقر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13سال کی بچی سے نکاح کی شہادت آنا ضروری ہے، اگر مولوی کے بیان کے مطابق نکاح اور ولیمہ ہوا تو آس پاس کے لوگ شاہد ہوں گے۔ بچی کے بیان پر پولیس بچی کی میڈیکل رپورٹ اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کرے گی۔ پہلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ 13سالہ بچی کیساتھ نکاح کیسے ہو سکتا ہے ، جب بچی کا والد اور بچی خود زیادتی کی شکایت کر رہے ہیں، پولیس کو بچی کے بیان پر غور کرنا ہوگا۔مولوی ایسے میں جو نکاح نامہ اور گواہان لائے گا وہ جعلی ہوں گے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کی پٹی میں مذہبی رہنماﺅں کا گٹھ جوڑ ہے اور وہاں ایسے کیسز میں صلح کرانے کی کوشش کی جاتی ہے جوکہ غیر قانونی ہے۔ اس مولوی پر مذہبی ادارے کی توہین کا مقدمہ بھی درج ہونا چاہیے۔اس وقوعہ پر ملزم کو سخت ترین سزا دی جانی چاہئیے۔نکاح نامے اور گواہان کی عدم موجودگی اور لواحقین کے بیانات میں تصادات بتاتے ہیں کہ معاملے میں کچھ گڑبڑ ہے۔ تاہم بچی کی بلوغت ہو چکی ہو اور اسکا ولی نکاح کروانے پر راضی ہو تو نکا ح ہو سکتا ہے۔ ڈی جی خان کے واقعے پر انہوں نے کہاکہ کالا کالی انسان نہیں قانون کو بنا دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او جب خود ہی عدالت بن جائے تو قاضی کے الگ ہونے کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ ایس ایچ او نے خود ہی شہادتیں اکٹھی کیں اور خود ہی خاتون کو فروخت کرنے اور نوجوان طالب علم وقار کو 12لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنا دیا۔ المیہ ہے کہ افسران اس واقعہ پر فیکٹ پر بات کرتے ہیں قانون پر نہیں۔وقار نے حلف لیا ہے کہ اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ واقعہ میں کسی نہ کسی کی بدنیتی موجود ہے۔ اس کیس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میںرٹ دائر کرائی جائے گی۔ چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد نے کیس کے حوالے سے کہا کہ مولوی عبداللہ کابیان صریحاً جھوٹ ہے ۔ بچی خود یہ کہتی ہے کہ وہ قرآن پاک پرھنے کے لیے جانے سے ہچکچاتی تھی۔ یہ بچی مولوی کی شرعی بیوی کیسے ہوگئی؟ کون گواہ تھا ؟کس نے نکاح پڑھایا او ر نکاح نامہ کہاں ہے؟لوگوں نے فراڈ کرنے کے لیے لفظ ’شرح ‘کا استعمال کیا ، یعنی شرعی شادی جسکی کوئی لکھت پڑھت یا گواہ موجود نہیں ۔ یہ بالجبر زیادتی کا کیس ہے ۔ بظاہر عالم دین بننے والے ایسے مولوی حضرات کو سڑک پر بٹھا کر جوتے مارنے چاہئیں۔ پاکستان کے قانون میں نکاح نامہ شرح کے مطابق ہے مگر اس مولوی نے نکاح اور تمام دیگر عوامل منہ زبانی ہی کر لیے۔ دوسرے واقعے پر ضیا شاہد نے کہا ڈی جی خان سمیت اگر کہیں بارڈر پولیس کے قوانین ختم ہونے چاہئیں اورکاراکاری کے فیصلے عدالتوں میں فیصلے ہونے چاہئیں۔ اخبارات کے ذریعے بارڈر پولیس کے قانون میں ریفارمز کے لیے آواز اٹھائی جائے ۔ فاٹا میں یہ قانون ختم ہو سکتا ہے تو ڈی جی خان میں کیوں نہیں۔ پولیس افسر کیسے اس واقعہ پر پنچائیت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کاراکاری کے قانون کو غلط نہیں ٹہرا رہے ، کیا وہ پاکستان کے قانون کے پابند ہیں یا رسم و رواج کے قانون کے پابند ہیںجو کاراکاری کے قانون کو قبول کر رہے ہیں۔ اس موقف کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔ ضیا شاہد نے ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں اور قانونی ٹیم کو ہدایت کی کہ اس کیس کو ٹیسٹ کیس بنا کر لاہور ہائی کیس میں پیش کیا جائے۔ بچی کے والد نے زیادتی کے واقعہ کا علم ہونے پر پولیس کو 15پر اطلاع دی جسکے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved