تازہ تر ین

ایک اور لندن پلان ، پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی کوششیں

لندن (وجاہت علی خان سے) پنجاب سے ”پی ٹی آئی“ حکومت کا دھرن تختہ کرنے کی خفیہ منصوبہ بندی عروج پر ہے۔ ”خبریں“ کے باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ (ن)‘ مسلم لیگ ق‘ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے بارہ سے 14ارکان پنجاب اسمبلی اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ ماضی کی طرح پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچانے کیلئے یہ منصوبہ بندی بھی لندن میں ہی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ان سیاسی جماعتوں کے بعض سرکردہ رہنما لندن میں موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی بھی کل لندن آمد متوقع ہے۔ میاں شہبازشریف‘ چودھری شجاعت حسین‘ اسحاق ڈار پہلے سے یہاں موجود ہیں جبکہ بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض اتفاق سے لندن میں ہی مقیم ہیں۔ زرائع کے مطابق چودھری شجاعت‘ شہبازشریف اور اسحاق ڈار کی کم از کم دو باقاعدہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں موجودہ اور آنے والی متوقع صورتحال سے متعلق غور کیا گیا جبکہ ڈار‘ چودھری شجاعت سے مسلسل ٹیلی فونک رابطے میں ہیں‘ بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کا پنجاب سے تختہ اُلٹنے کیلئے زیادہ تر انحصار ”پی ٹی آئی“ کے ناراض ارکان اسمبلی اور ق لیگ کی سات نشستوں پر کیا جا رہا ہے لیکن یقیناً اس مقصد کیلئے ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کو بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ لندن میں ”خبریں“ زرائع کے مطابق چودھری پرویزالٰہی پنجاب کی ’بے اختیار‘ سپیکر شپ سے مطمئن نہیں ہیں اس لئے ق لیگ ہر صورت انہیں وزیراعلیٰ پنجاب دیکھنا چاہتی ہے جبکہ شہبازشریف حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے خواہشمند ہیں‘ بعض اندرونی زرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملاقاتوں کے دوران ایک دفعہ چودھری نثار علی خان کا زکر بھی ہوا کہ اگر دونوں فریق چودھری پرویزالٰہی اور حمزہ شہباز پر متفق نہیں ہوئے تو چودھری نثار کا آپشن بھی ہو سکتا ہے۔ زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مقتدرہ ادارے الگ الگ رہے تو دو ایک ہفتے کے دوران ہی ”پی ٹی آئی“ حکومت پنجاب سے گرانے کی کوشش جاری ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کی شہبازشریف سے کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ میں اس قسم کی ملاقاتوں کا قائل نہیں ہوں ایسی سازشیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چودھری شجاعت کی ملاقات مکے حوالے سے افواہیں ن لیگ کا میڈیا سیل پھیلا رہا ہے اور اس کا مقصد تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved