تازہ تر ین

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستانیت

نیاز حسین لکھویرا….اظہار خیال

ڈاکٹر عبدالقدےر خان کو پاکستان مےں کون نہےں جانتا۔ بچے، بوڑھے، جوان، گذشتہ نسل ہو ےاموجودہ نسل، سب جانتے ہےں کہ وہ محسن پاکستان ہےں۔ پاکستان کو جوہری طاقت بنانے اور دشمن کی آنکھ مےں آنکھ ڈالنے کے ہنر کا سہرا انہی کے سر ہے۔ پاکستان کے اےٹم بم اور مےزائل ٹےکنالوجی کی تروےج وترقی اور پاکستان کو ناقابل تسخےر بنانے کا کرےڈٹ بلاشبہ انہی کو جاتا ہے ۔
محترم ضےا شاہد نے اپنی کتاب ”سچا اور کھرا لےڈر“ مےں اےک واقعہ تحرےرکےا ہے کہ 1947ءکے موسم بہار مےں پنڈت جواہر لال نہرو نے نئی دہلی مےں اےشےائی کانفرنس بلائی جس مےں انڈونےشےا کے پہلے وزےراعظم ڈاکٹر سلطان شہرےار بھی شرےک ہوئے تھے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح سے آٹو گراف لئے تھے اور عظےم قائد نے آٹو گراف بک پر تحرےر کےا تھاLive and Let Liveآٹو گراف کو دےکھنے کے بعد مسلمان نوجوان بہت جذباتی ہو گئے تو اس پر ملاےا کے گورنر جنرل مےلکم مےکڈونلڈ نے تبصرہ کےا۔ ”آج پتہ چلا مسٹر جناح کی قوت اور تمکنت کا راز کےا ہے۔ ان کی پشت پر پوری قوم ہے“۔ (صفحہ97تا99)
میرے خیال میں ےہ جملہ ڈاکٹر عبدالقدےر خان کی ذات پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ ان کی پشت پر بھی پوری قوم ہے۔ ان کا جو تعلےمی وےژن ہے اس بارے مےں انہی صفحات پر راقم نے بھرپور انداز مےں روشنی ڈالی تھی کہ وہ کس طرح معےاری اور اعلیٰ تعلےم کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہےں۔ ذرا ڈاکٹر عبدالقدےر خان کی زندگی پر اےک نظر ڈالےے۔ ان کی والدہ کا تعلق سردار دوست محمد خان کے قبےلے سے تھا۔ وہ بھوپال کے منتظم تھے۔ ان کے جدامجد بہل خان شہاب الدےن غوری کی فوج کے اےک کمانڈر تھے۔ شہاب الدےن غوری نے 1192ءمےں 30ہزار کے لشکر کے ساتھ پر تھوی راج کی اےک لاکھ20ہزار فوج کو شکست فاش دی۔ ان کا پورا گھرانہ تعلےم کے زےور سے آراستہ تھا۔ اپنے آباﺅ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برلن، ہالےنڈ اور بےلجئم کی ےونی ورسٹےز سے سائنس، ٹےکنالوجی اور انجینئرنگ مےں پی اےچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہےں اےمسٹرڈےم مےں اےک اےسے ادارے مےں ملازمت ملی جہاں ہالےنڈ، جرمنی اور انگلستان کے مشترکہ پروگرام ےورےنےم کی افزودگی بذرےعہ سےنٹری فےوج ٹےکنالوجی پر خفےہ طور پر کام ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس پروگرام مےں شرےک تھے۔ جب18مئی1974ءکو بھارت نے کےنےڈا اور امرےکہ کی مدد سے پوکھران(راجستھان)مےں اےٹمی دھماکہ کےا تو انہوں نے وزےراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور مستقبل کے خطرات سے آگاہ کےا۔ وہ بھٹو صاحب کی دعوت پر پاکستان آئے۔ بھٹو صاحب سے ان کی دو تےن ملاقاتےں ہوئےں۔ اس وقت اٹامک انرجی کمےشن پاکستان مےں کوئی کام نہےں ہو رہا تھا۔ بھٹو صاحب کی خواہش پر ڈاکٹر صاحب پاکستان مےں رک گئے اور انہوں نے پاکستان کے اےٹمی پروگرام پر کام شروع کر دےا۔ انہوں نے ہالےنڈ مےں اپنی ملازمت اور بے پناہ مراعات کو خےرباد کہہ دےا اور بےگم کی رضامندی سے پاکستان مےں سکونت اختےار کر لی۔ جولائی1976مےں کہوٹہ مےں ےورےنےم کی افزودگی اور اےٹم بم بنانے کے پروگرام کی بنےاد رکھ دی گئی۔ سات برس کے مختصر عرسہ مےں اےک پسماندہ ملک پاکستان اےٹمی طاقت بن گےا۔ بعد مےں آپ نے مےزائل ٹےکنالوجی پر توجہ دی اور غوری مےزائل کے کامےاب تجربے کئے۔ 28اور30مئی کے کامےاب اےٹمی دھماکوں کے بعد ڈاکٹر صاحب پوری قوم کے ہےرو بن گئے۔ انہےں ”محسن پاکستان“ کا خطاب بھی دےا گےا۔ پاکستان عوام اور افواج مےں ان کی قدر و منزلت مےںبے پناہ اضافہ ہو گےا۔ کےونکہ انہی نے افواج پاکستان کو جوہری طاقت سے اسطرح لےس کےا کہ ہم بھارت کی طرف سے کئے جانے والے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئے۔
غوری میزائل کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنی ہی تےار کی ہوئی فےکٹری پی اےم او خان پور مےں ابدالی مےزائل تےار کےا۔ ڈاکٹر صاحب کو دنےا بھر کے بڑے تعلےمی اداروں نے اعزازات سے نوازا ہے۔ پاکستان کے اےٹمی پروگرام کو انتہائی خفےہ رکھا گےا تھا مگر اس کی بھنک امرےکہ کو پڑ گئی تھی اور اس کے وزےرخارجہ اور سفےر نے دوبار پاکستانی حکام سے بات بھی کی اےک بار تو پاکستان حکام کو شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑا کےونکہ امرےکہ کے پاس کچھ سازشی اور لالچی پاکستانےوں کے سبب مکمل معلومات تھےں لےکن دوسری بار پاکستان کے فوجی جنرلز اور دوسرے متعلقہ افراد کی حاضر دماغی نے امرےکی خفےہ نظام کو ناکارہ بنا دےا بلکہ اےک موقع پر جنرل ضےاالحق نے امرےکی سفےر کو کہا کہ آپ سفارت کاری کے آداب کی حد ود عبور کر رہے ہےں آئندہ آپ کا ےا اقوام متحدہ کا کوئی جہاز کہوٹہ سے گزرا تو اسے گراےا جائےگا۔
پاکستان کے اےٹم اور مےزائل کے پروگرام کو کامےاب بنانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضےاالحق، غلام اسحق خان، نواز شریف اور سےنکڑوں انجےنئرز، کنٹرےکٹرز اور اس پراجےکٹ سے وابستہ لوگوں کی اےک لمبی قطار ہے۔ اس پروگرام کو پاکستان کے ہر حکمران اور ہر آرمی چےف نے کامےابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ڈاکٹر عبدالقدےر خان سے تعاون کےا مگر اچانک اےک موڑ آےا اور ےہ موڑ جنرل پروےز مشرف کے دور مےں آےا۔ 27فروری2001ءکو اےوان صدر مےں ڈاکٹر صاحب کی رےٹائرمنٹ پر الوداعی ڈنر کا اہتمام کےا گےا جس مےں جنرل پروےز مشرف نے ڈاکٹر صاحب کو زبردست خراج تحسین پےش کےا۔ جنرل پروےز مشرف نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے قوم کو جو کچھ دےا اس کے لئے ےہ قوم آئندہ بھی ان کی ممنون احسان رہے گی۔ تاہم بعدازاں اےک اےسا دور آےا کہ امرےکہ نے ڈاکٹر صاحب پر ایٹمی راز کچھ دوسرے ملکوں کے حوالے کرنے کی الزام تراشی کی۔جہاں تک میری اطلاعات ہیں مشرف حکومت نے اس الزام کو قبول کر لیا تھا ، ممتاز قانون دان اےس اےم ظفر نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو کہا تھا کہ وہ ہر گز کسی اقبالی جرم کی دستاوےز پر دستخط نہ کرےں۔ کہا جاتا ہے کہ چوہدری شجاعت حسےن ڈاکٹر صاحب کو اےوان صدر لے گئے اور ان سے اےک جھوٹے اقبالی بےان پر دستخط کر اکے اسے پی ٹی وی سے نشر کےا گےا۔ جنرل مشرف نے ڈاکٹر صاحب کو نظر بند کر دےا، فون کی لائنےں کاٹ دےں، بہن بھائےوں اور بچوں سے ملنے پر پابندی لگا دی۔ وزےراعظم مےر ظفر اللہ خان جمالی نے اےک ٹی وی پروگرام مےں انکشاف کےا کہ ان سے کہا گیا تھا کہ سی آئی اے کا جہاز اسلام آباد ائےر پورٹ پر کھڑا ہے وہ کابےنہ سے منظوری کر ا دےں تاکہ ڈاکٹر عبدالقدےر خان کو امرےکہ کے حوالے کےا جا سکے۔ جمالی صاحب نے انکار کر دےا ۔ چوہدری شجاعت حسےن نے اپنی کتاب ”سچ تو ےہ ہے“ مےں تفصےل سے بےان کےا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اےٹمی رازوں کے حوالے سے کوئی کرپشن نہےں کی تھی۔ انہوں نے قومی مفاد مےں بڑے پن کا ثبوت دےتے ہوئے ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
ان گزارشات کے بعد اب تصوےر کا دوسرا رخ دےکھئے۔ ڈاکٹر صاحب کو پہلے بھی نظر بند کےا گےا ، ان کی شخصی آزادی ختم کر دی گئی مگر عدالت عالےہ کے حکم کے بعد ےہ پابندےاں نرم کی گئےں۔
ہمارے دشمن ملک کا ہندو نےشنلزم دےکھئے کہ وہاں اےٹمی سائس دان ابوالکلام کو ملک کا صدر بنا دےا گےا اور ہماری پاکستانےت مصلحتوں کے ڈھےر تلے دبی ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بھی پابندیوں کی زد میں ہےں، وہ آزادانہ کہےں آ جا نہےں سکتے۔ کےا ےہ ہے ہماری پاکستانےت ، ہم اپنے ہی اےک ہےرو اور محسن سے پاکستان مےں کےا سلوک کر رہے ہےں۔ خدارا ڈاکٹر عبدالقدےر خان کو اےٹم بم اور مےزائل بنانے کی سزا نہ دےں ۔ اس وقت کے بل پر تو آج ہم د شمن کی آنکھ مےں آنکھ ڈال کر بات کرتے ہےں۔ ےہ جوہری توانائی ہماری بہادر اور دلےر افواج کا زےور ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کی سکےورٹی عزےز ہے تو اس طرح کا انتظام کر دےجئے کہ ان کی قےد تنہائی ختم ہو، وہ مل جل سکےں، اپنے گھر سے چند قدم دور مقےم اپنے نواسے نواسےوں سے مل سکےں انہےں شہری اور شخصی آزادی دے دےجئے کےونکہ اسی مےں پاکستانےت کی صحےح روح ہے۔
(کالم نگارثقافتی اورسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved