تازہ تر ین

جرمنی فلاحی ریاست کیسے بنا

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن

جرمن چانسلر بسمارک نے 1831ءمیں جرمنی کو متحد کیا اس کے ساتھ ہی جرمنی میں سیاسی تحریکوں کی ابتدا ہوئی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ اس پارٹی کا منشور تھا کہ ریاست عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرے۔ بسمارک نے اس کے ردعمل میں فلاحی ریاست کی تشکیل کے لیئے چند اہم اقدامات کیئے۔ اس نے انتخابات کرانے، بالغ لوگوں کو ووٹ کا حق دینے، مزدوروں کی ملازمت کا تحفظ، پنشن کا حق، حادثے کی صورت میں انشورنس کا اعلان کیا۔ اس لحاظ سے جرمنی یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے فلاحی ریاست قائم کی۔ جرمنی نے جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی جنون ترک کر کے سماجی بہبود کی پالیسی اختیار کی اورقومی تعمیر نو پر توجہ دی۔ آج دنیا میں جرمنی، سویڈن، ناروے وغیرہ کو مثالی اور فلاحی ریاستیں قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک میں سیاسی آزادی بھی ہے اور سماجی انصاف بھی ہے، روزگار اور صحت کی سہولیات اگر پورے طور پر مساوی نہیں تو کافی حد تک مساویانہ ضرور ہیں۔ یہاں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کی سمت درست ہے، سفر جاری رہے گا تو جو رہی سہی ناہمواریاں ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ دنیا میں کامیاب مثالیں موجود ہیں جہاں بغیر کسی خونی انقلاب کے درست سمت کا تعین اور اس جانب سفر کر کے عوامی فلاح اور سماجی انصاف کی منزلیں حاصل کی گئی ہیں۔
یورپ میں فلاحی ریاست کا تصور تو بہت پرانا ہے، مگر جدید اور موجودہ دور کی فلاحی ریاست کے تصورات پر انیسویں صدی کے آخر میں کام شروع ہوا۔ قائداعظم اور علامہ اقبال نے اپنی متعدد تقاریر میں یہ واضح کیا کہ وہ پاکستان میں معاشی عدم مساوات کو ختم کریں گے تاکہ تمام پاکستانیوں کو معاشی ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں اور ان کو بنیادی ضروریات زندگی کی سہولتیں ملیں۔ مسائل کی ایک وجہ عوام کی بڑی اکثریت کو سماجی اور معاشی ترقی کے یکساں مواقع میسر نہ ہونا ہے۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے حکمران آئے روز یہ نعرے تو لگاتے ہیں کہ اگر ہم نے عوام کی حالت بہتر نہ بنائی تو یہاں ایک خونی انقلاب آئے گا لیکن سیاستدان اور حکمران طبقہ معاشرے میں پائی جانے والی غیر معمولی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیئے کوئی منصوبہ عوام کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کے عوام کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک فلاحی ریاست کا بنیادی جزو ہیں۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ کون مسلمان ہو گا جو نہیں چاہے گا کہ اس کا ملک مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنے، جہاں سب کو یکساں انصاف ملے، کسی کا حق نہ چھینا جائے۔ جہاں انصاف اور احتساب کے پیمانے مختلف نہ ہوں۔ جہاں بے اصولی نہیں اصول کا راج ہو۔ حاکم صحیح معنوں میں عوام کے خادم ہوں۔ اس وقت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری لمحہ فکریہ ہے، پاکستان میں علاج معالجے کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ادویات اس قدر مہنگی ہیں کہ غریبوں کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ بھی ان کی استعداد نہیں رکھتا۔ملک کی مجموعی آمدن اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ اس کا فائدہ عام لوگوں کو بھی پہنچانا چاہیے۔ فلاحی ریاست کے قیام کے لیئے وزیراعظم عمران خان کو ٹھوس اور بروقت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ موجودہ حکومت ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیئے کام کر رہی ہے لیکن اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابی ابھی حاصل نہیں ہوئی۔ شاید یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ امیر محب وطن حضرات اور عام ٹیکس دینے کے قابل لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ حکومت ان کے ٹیکس کا پیسہ ان پر نہیں لگا رہی تو وہ ٹیکس دینا پسند نہیں کرتے۔ مغربی ملکوں میں ٹیکس دینے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ ریاست ان کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کرے گی بلکہ ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔
پاکستانی عوام کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کی ضرورت ہے ایسی ریاست جہاں عوام کی جان و مال کا تحفظ ہو، فلاحی ریاست کی ذمہ داری میں تعلیم، صحت، روزگار، معیشت، ٹیکس کی آمدنی کو عوام پر خرچ کرنا، نظام انصاف کو بہتر اور شفاف بنانا، میرٹ کا نظام لاگو کرنا، یکساں نظام تعلیم کا نفاذ۔ دولت کی مساوی تقسیم، وسائل میں منصفانہ شراکت، طبقاتی فرق کا خاتمہ، عوام کو پینے کا صاف پانی ملے۔ اگر عوام کو جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں تو یہ ریاست کے قومی مفاد کے خلاف ہے اور ضروری ہے کہ ساری توجہ اس طرف صرف کی جائے۔ ایک فلاحی ریاست میں ملک کا دفاع یا اس کی جغرافیائی سلامتی کی حفاظت اولین ترجیح ہوتی ہے اگر ان اصلاحات پر عمل کر لیا جائے تو یہ ایک انقلاب سے کم نہیں ہو گا اور یہی ایک ماڈرن فلاحی ریاست کی شکل ہو سکتی ہے۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved