تازہ تر ین

”تماشا“

سجادوریا…….. گمان

تحریکِ انصاف کی حکومت اس وقت بہترین فلم ”تماشا“ کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ےہ فلم اےسی ہے جس مےں صرف اےک ہیرو ہے اور درجنوں ولن۔اس فلم کے واحد حسین و جمیل ہیرو کا نام عمران خان ہے اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض وُزراءبھی وِلن کا کردار ادا کر رہے ہےں،کےو نکہ اس فلم کی کہانی کا مرکزی خےال ہے کہ وزراءکی کامےابی کا کرےڈٹ عمران خان لے گا لیکن اگر کہیں غلط ہوا تو اسکا الزام متعلقہ وزیرکے متھے لگے گا۔اسی سنسنی خےزی مےں فلم کا ”دی اےنڈ“ آ جائے گا۔چلو فلم کو چھوڑ کر عمران خان کی کرکٹ فلاسفی کا ہی تجزےہ کر لےتے ہےں۔عمران خان اکثر کرکٹ کی تھیوریز کا حوالہ دےتے ہےں ۔چلےں ان کو کپتان اور وزراءکو ٹیم ہی مان لےتے ہےں ،مےں نے جو تاثرلیا ہے اس کے مطابق ےہ اےسی ٹیم ہے جس مےں صرف کپتان اہل او ر ٹیم کی اکثریت نا اہل ہے۔اس وقت کم از کم وزیراعظم عمران خان کی باتوں سے اےسا ہی لگ رہا ہے۔کل ہی عمران خان فرما رہے تھے کہ کپتان کو ٹیم بدلنا پڑتی ہے ،بےٹنگ آرڈر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔تاہم میرے خیال میں فواد چوہدری جےسا حاضر دماغ اور فوری ردعمل دےنے والا شخص تحریک انصاف کی اندرونی سےاست کی نظر ہو گےا۔فواد چوہدری اےک بہترین آل راﺅنڈر ہے،اپوزیشن کے زمانے مےں اس کی تےز ترین باﺅلنگ کے سامنے نواز شریف حکومت کے بڑے بلے باز پرےشان رہتے۔ جب سے بےٹنگ کی باری آئی ہے تو فواد چوہدری فرنٹ فُٹ پر کھےل رہے تھے‘ مےں سمجھتا ہوں کہ وہ اےسے منجھے بےٹسمےن تھے جو مخالف باﺅلر کی تےز ترین بال کو بہت عمدگی اور غےر جذباتی انداز مےں ہِٹ کرتے کہ بال باﺅلر کے زور سے ہی باہر جا گرتی،مےرا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کی خوبی ےہ ہے وہ مخالف کی کڑوی بات کو بھی ہنسی مےں ٹال جاتے ےا طنز مےں بدل کر ماحول کو تلخ بنائے بغےر بات کا جواب دے جاتے۔چلو جی مان لیا کہ آپ کپتا ن ہو اور ہو سکتا ہے اس کھلاڑی نے آپ کو متا ثر نہ کیا ہو ۔لیکن اس کو مزید موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ تاہم میرے نزدیک عمران خان صاحب‘ تحریک انصاف کی اندرونی سےاست کو ختم کرنے کی بجائے فاﺅل شارٹس کھےل رہے ہےں۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو جس بے رُخی اور ڈھٹائی سے رُخصت کیا گےا،کیا وہ اےسے سلوک کے حق دار تھے؟ کیا اسد عمر نے کابینہ کی منظوری کے بغےر ٹےکس بڑھاےا؟کیا اسد عمر نے آپ کی مرضی کے بغےر آئی اےم اےف سے ڈیل مےں تاخیر کی؟ کیا وزیر اعظم عمران خان ےہ نہیں کہتے رہے کہ ہو سکتا ہے کہ آئی اےم اےف کے پاس نہ جانا پڑے ،تو کیا اسد عمر کو قربانی کا بکرا بنانا جائز ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس سے قبل فیاض الحسن چوہان کو بھی قربانی کا بکرا بنایا گیا ۔ممکن ہے مجھے بھی فےاض الحسن چوہان کے انداز گفتگو پر اعتراض ہو ، لیکن کےا ان کا ےہ انداز گفتگو اچانک سامنے آےاتھا؟ان کا ےہی انداز گفتگو نواز شریف کے خلاف تو پارٹی کے لوگ بہت انجوائے کرتے رہے ہےں۔آپ اگر اتنے ہی اُصول پسند ہےں تو پارٹی میں موجود دیگر افراد کی بد زبانی کے خلاف کتنی بار اےکشن لیا ؟ان لوگوں کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ آپ کے نزدیک بھی ہیں۔ اب اےم کےو اےم کے وزراءکی تعریفےں جو کچھ عرصہ قبل تک آپکو برا بھلا کہتے رہے ہیں‘ لیکن جو آپ کا دفاع کرتے رہے ان کی مذمت اور برطرفیاں ہی ان کا مقدر کیوں بن رہی ہےں۔اپوزیشن اور میڈیا نے تو پہلے ہی اس حکومت کا تماشا بناےا ہوا تھا اب تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کے درمےان بھی جوتوں مےں دال بٹنے لگی ہے۔ اعظم سواتی کے انتخاب کے بعد آپ کے منہ سے اُصول پسندی کی باتےں اچھی نہیں لگ رہی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان صاحب ،مےں آپکو ےہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ کرکٹ اور حکومت مےں فرق ہو تا ہے ،مےرا خےال ہے کہ آپکو خود بھی ےقین ہو گےا ہو گا کہ باہر بےٹھ کے نعرے مارنے اور حکومت کرنے مےں فرق ہو تا ہے۔حکومت کا کام ہو تا ہے کہ اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلے ،آپ کی اپنی پارٹی کے اندر گروپنگ بڑھ رہی ہے ،تحریک انصاف اتحادی پارٹےوں کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔پنجاب مےں ق لیگ کے ہاتھوں ےرغمال بنے ہوئے ہےں اور مرکز مےں اےم کےو اےم اور بی اےن پی نے آپ کو تگنی کا ناچ نچاےا ہوا ہے۔شاعر سے معذرت کے ساتھ ”برق گرتی ہے تو صرف انصافےوں پر“۔لیڈروں کی لیڈری صرف تحریک انصاف کے ممبران پر ہی چمک رہی ہے کےونکہ وہ بےچارے آپکی پارٹی سے تعلق رکھتے ہےں۔ عمران خان صاحب ،انسانی تعلقات مےں اخلاقےات بہت اہم ہوتی ہےں ،پرانے دوستوں اور کارکنوں کے سبب ہی آپ وزیر اعظم بنے ہےں اور انہی کارکنان کو ےہ پےغام جا رہا ہے کہ شاید اب ان کی کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ ان کو سینے سے لگائیں اور ان کی قربانیوں کی قدر کریں ۔ٹکٹس کی تقسیم کے سلسلے مےں بھی کارکنان کے ساتھ بہت زےادتےاں کی گئیں لےکن اس وقت خاموش رہے کہ پارٹی کی جیت ہی ہمارا مشن ہے ،اگر پارٹی جیت گئی تو ہماری بات سنی جائے گی۔لےکن جب حکومت ملی تو ان کارکنان کو نظر انداز کر کے سابقہ حکومتوں کے ان لوگوں کو نوازا جانے لگا جن سے ےہ کارکنان آپکی خاطر جنگ لڑتے رہے۔ میرے خیال میں آپکی حالیہ بےٹنگ آرڈر کی تبدیلی کے بعد آپ کے نئے انتخاب کو دےکھتے ہوئے کسی کیلئے بھی آپ کی باتوں پر ےقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔
عمران خان صاحب‘ آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ بہترین ٹیم میدان میں اتاریں گے لیکن کیا وجہ بنی کہ محض آٹھ ماہ بعد ہی آپ کو اپنی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا پڑیں ۔آپ کو پہلے ہی بڑے سوچ سمجھ کر ایسی ٹیم کا انتخاب کرنا چاہئے تھا جو پرفیکٹ اور میچ جیتنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔اب تو لوگ سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پی پی پی کے دور کی کابینہ واپس آگئی ہے ان پرانے چہروں سے تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے قوم کو سنہرے خواب دکھائے تھے جو اب بکھرتے نظرآرہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کیرئیر کاآغاز1996ءمیں کیا اور 22سالہ جدوجہدکے بعد2018ءمیں انہوں نے عنان اقتدارسنبھالی۔ ہوناتویہ چاہیے تھا کہ ان 22سالوں وہ ملکی معیشت ودیگر مسائل سے اس حد تک آشناہوتے کہ انہیں اقتدارمیں آنے کے بعد پریشانی کاسامنانہ کرناپڑتا اوروہ ایک مضبوط ٹیم کو میدان میں اُتارتے لیکن عملاً ایسا نہ ہوسکا جو افسوسناک اورلمحہ فکریہ ہے۔تاہم قوم اب بھی پرامید ہے کہ عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہے جواس ملک کو مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔
مےں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اب کرکٹ فلاسفی بےان کرنا چھوڑ دےں ، قومی کرکٹ ٹیم صرف اےک ہوتی ہے جبکہ قومی سےاسی پارٹےاں درجنوں ہےں ،جہاںدوسری جماعتوں کے دھتکارے ہوئے لوگوں باعزت جگہ مل سکتی ہے،ےہ ضمیر کے قےدی کرپشن سے پاک ماحول مےں کام کرنا چاہتے ہےں تو ان کو عزت و احترام دیا جائے۔ان کی دل شکنی نہ کی جائے ۔اگر ان لوگوں نے چھوڑا تو تحریک انصاف کا وجود خطر ے مےں پڑ جائے گا،مےری گذارش ہے کہ اس فلم ” تماشا “ کو بند کیا جائے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved