تازہ تر ین

پارلیمانی اورصدارتی نظام کی بحث

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت

آج کی حکمرانی کا جو اصول رائج ہے یہ 14ویں اور 15ویں صدی کے لگ بھگ کی سوچ ہے اس عمل میں یورپ تو سرخیل ہے مگر کسی ماہر عمرانیات اور sociologistکی سوچ بھی شامل ہے ۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آج کا جمہوری نظام جس بھی حالت کا جانا پہچانا جاتا ہے نہ تو یہ اسلامک ہے نہ تو ہندو یا عیسائی نہ ہی یہودی ہے ۔جب ہر قانون کسی پر لاگو ہو رہا ہے کیا وہ قانون کی حکمرانی کا پھر بھی احترام کرتا ہے یا نہیں ؟
حال ہی میں دو واقعات ہوئے ہیں ایک کچھ عرصہ قبل فرانس میں اور دوسرا ہمارا ملک عزیر میں۔جمہوریت کی بقا کے کے لیے عدلیہ ایک اہم کردار ہے ۔عدلیہ کا کردار صرف جمہوریت کے لیے نہیں، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی ریاست اور ریاستی نظام کے چلانے میں ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں کیو ں نہ ہو، چاہے بادشاہت ہی کیوں نہ ہوں عدلیہ کا اس میں اہم رول ہوتا ہے۔ عدلیہ کا کام صرف اور صرف انصاف کی فراہمی اور حق دار کو اس کا حق اور ظالم کو اس کے کیے ہوئے ظلم کی سزا دینا عدلیہ کا وظیفہ ہے، لیکن چونکہ ہم غلامی کے دور سے گزرے ہےں اس لیے ہمارے ہر نظام میں کوئی نہ کوئی بگاڑ ضرور موجود ہے ۔چاہے وہ ہمارے سیاست دان ہوں ،بیوروکریسی ہو یا عدلیہ ہی کیو ں نہ ہو‘ غلامی کے اثرات ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم سب کہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ یہ جو ذہنی غلامی ہے اس کو دور کیا جائے۔ بطور قوم ہمارا ذہن ہی غلامانہ طرز کا بن گیا ہے ہمیں ایسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو ہمیں اس غلامانہ ذہنیت سے نجات دلا سکے ۔ہماری قوم کو اس ذہنی غلامی سے نجات دلانے والے ہی اس ملک و قوم کے اصل معمار ہوں گے ۔
ہم بطور قوم ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکے کہ ہمارے ملک میں صدارتی نظام نافذ ہونا چاہیے یا پا رلیمانی نظام، کس نظام کے تحت اس ملک کا نظام حکومت چلا یا جانا چاہیے ۔ہم فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ پارلیمانی نظام عوام کے مسائل حل کر سکتا ہے یا ہم صدارتی نظام کی طرز حکمرانی پر جمہوریت کی داغ بیل ڈالیں۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نظام دوسرے سے بہتر نہیں ہے ،آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ نظام بہتر ہے یا دوسرا۔ جس کو بطور قوم اور بطور ملک جو نظام راس آجائے اس کے لیے وہی اچھا ہوتا ہے ۔کسی بھی نظام کی کامیابی اس بات پر بھی بڑی حد تک منحصر ہوتی ہے کہ نظام کو چلانے والے کون لوگ ہیں، نظام کو چلا یا کس انداز سے جا رہا ہے۔ اگر نظام کو چلانے والے قابل ہوں تو کسی بھی نظام کے تحت عوام کو ڈیلیور کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے ایک دیانت دارانہ حکومت کی ضرورت ہوتی ہے ۔پا کستان میں ہم صدارتی نظام بھی دیکھ چکے ہیں اس پر میں زیادہ بات نہیں کروں گا صدارتی نظام میں صدر براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہو کر آتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے لوزامات صدارتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام کے تحت صوبائی گورنرز کا انتخاب بھی براہ راست ہونا چاہیے لیکن یہ تجویز شاید ہمارے لوگوں کو پسند نہیں آتی۔ بہرحال جو بھی نظام ہو اس کو چلانے لیے بڑی محنت اور کاوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
جمہوریت بطور نظام کی پہلی کڑی سیاسی جماعتیں ہوا کرتی ہیں اگر سیاسی جماعتوں کے اندر خود جمہوریت نہ ہو تو ملک میں جمہوریت کیسے آئی گی ۔زیادہ تر جماعتوں میں یا تو الیکشن کروائے ہی نہیں جاتے یا پھر زیادہ تر اعلیٰ عہدے دار بلا مقابلہ منتخب ہو کر بار بار اپنی جماعت پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ نہ ہی ہمارے ملک کے سیاسی کلچر میں سیاسی جماعتوں کے اندر کنونشنز منعقد کروانے کا ٹرینڈ باقی رہا ہے۔ بھٹو صاحب کے بعد پیپلز پارٹی میں بھی یہ رواج دم توڑ چکا ہے ایک مرتبہ صدر فاروق لغاری کے دور میں پیپلز پارٹی کا ایک کنونشن منعقد کروایا گیا ،صدر آئے اپنا خطاب کیا اور واپس چلے گئے، کنونشن تو نام ہوتا ہے اپنے پارٹی ممبران اور کارکنان کے گلوے شکوے اور ان کی شکایتیں سننے کا پارٹی ورکرز کی رنجشیں دور کی جاتی ہیں۔اس طرح ایک سیاسی جماعت میں جمہوری کلچر صحیح معنوں میں پروان چڑھتا ہے اس کے ساتھ ہمارے ہاں جمہوریت کے نہ چلنے کی ایک بڑی وجہ بلدیاتی نظام کا نہ ہو نا ہے۔ یہ بھی پا کستان کی بد نصیبی ہے کہ پاکستان میں بلدیاتی الیکشن اور بلدیاتی نظام کا قیام بھی صرف مارشل لاءکی حکومتوں کے دوران ہی عمل میں لایا گیا۔ جمہوری ادوار میں بلدیاتی نظام کی حوصلہ شکنی کی جاتی رہی جس کے باعث گلی محلوں کی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ۔
با ت کا خلاصہ یہ ہے کہ جمہوریت لانے کے لیے نہ تو صدارتی نظام میں کوئی خامی ہے نہ ہی پا رلیمانی نظام میں مسئلہ نیت کا ہے ،اگر نیک نیتی نہیں ہو گی تو اس سے ترقی نہیں ہو سکے گی اور نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی، آدھے دل سے کیا ہوا کام کبھی منڈیر نہیں چڑھ سکتا اور اگر ہم لوکل گورنمنٹ کے نظام کو ڈویلپ کریں گے تو نہ ہمیں نئے اضلاع بنانے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی نئے صوبے بنانے کی ،بلدیاتی نظام کے ذریعے لوکل لیول پر عوامی مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکتا ہے ۔ہم بنیادی اینٹ کو چھوڑ کر آخری اینٹ کی طرف چلے جاتے ہیں جمہوریت بغیر بلدیاتی نظام کے ایسے ہی ہے جیسے ٹائر کے بغیر گاڑی ۔پا کستان میں ہم نے سارے نظام دیکھ لیے ہیں قانون کی حکمرانی نہیں دیکھی، ایسے حکمران نہیں دیکھے جو کہ عوام کی آواز سنتے ہوں عوام کا درد دل رکھتے ہوں ۔موجودہ حکومت اور خاص طور پر عمران خان سے بھی لوگوں کو بہت امیدیں تھی لیکن ابھی تک تو عمران خان کی حکومت کا اونٹ بھی کسی کروٹ بیٹھتا ہوا نظر نہیں آرہا ۔اللہ کرے کہ آئندہ آنے والے دن ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوں ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved