تازہ تر ین

وزیروں کے کیچڑ اچھالنے پر بلاول نے بھی سخت جواب دیا: کائرہ،ایران سے مشاورتی عمل میں بہتری آئےگی‘ دہشتگردی کےخلاف دونوں ملکوں کو ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے‘ جنرل(ر) امجد شعیب،وزیراعظم جس معاملہ کو نہیں جانتے اس پر بات نہ کریں حنا ربانی کھرکی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں گفتگوکرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ نے کہا ہے کہ اسمبلی کو حکومت اور اپوزیشن نے ملکر چلانا ہوتا ہے مگر بلاول بھٹو کی تقریر پر حکومتی وزراءکی جانب سے ہنگامہ آرائی کا جواب پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی دیا گیا۔ بلاول بھٹو کی جانب سے وزیرخزانہ کو کیوں نکالا کا بیان، اسد عمر کی جانب سے بلاول کی زبان ، انکے والدین اور انکے ماضی پرکیچڑ اچھالے جانے کا ردعمل تھا۔ اسد عمر ملکی معیشت چلانے کے معاملے میں جاہل ہیں۔یہ بات درست ہے کہ بلاول حادثاتی طور پر پارٹی چیئرمین بنے اور حادثہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تھا۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت گذشتہ 8ماہ میں برباد ہوگئی۔ ایک سال میں 30سے 40لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ ماضی کی اور موجودہ حکومتوں کا بڑا چیلنج ملکی معیشت ہے۔ عمران خان معیشت کی خرابی کی ذمہ داری قبول کرلی مگر مسئلے کا حل اور خراب ڈھونڈا کہ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خزانہ کو خزانے کی چابیاں پکڑا دیں۔ہم نے 8ماہ میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی معیشت کی بہتری کا کوئی حل وزیر خزانہ عبدالحفیظ کے پاس نہیں۔تباہی کے ذمہ داری عمران خان ہیں ، انکے وزیراعظم ہوتے ہوئے ملک میں مزید تباہی ہوگی، معیشت بچانے کا واحد حل نااہل وزیراعظم کا حکومت سے برطرف ہوجانا ہی ہے۔
مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کابینہ میں ردوبدل کیا۔ اپوزیشن کا واویلہ وزیراعظم کے اختیارات ہتھیا کر خود استعمال کرنے کے مطالبے جیسا ہے۔ پچھلے دو ادوار حکومت میں میگا کرپشن کرنے والوں کیخلاف پالیسیاں انہیں ہضم نہیں ہو رہیں۔ ہم ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ 8ماہ پہلے دیوالیہ ملک کو سنبھالہ دینا اور آئی ایم ایف کیساتھ اپنی شرطوں پر کامیاب مذاکرات تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابی ہے ، اسکے مثبت نتائج نظر آئیں گے۔ ن لیگ کی پالیسیوں پر تنقید کرنا کوئی گناہ نہیں۔چوہدری نثار کے حوالے سے میڈیا میں بے معنی خبریں چل رہی ہیں۔ ایسا کرنے والے حکومت کواس زاویے سے حرف تنقید بنانا چاہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی ، فوج کر رہی ہے۔ یہ وہی موقف ہے جو ڈان لیکس کا تھا۔ اپوزیشن کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔ مہنگائی کے مشکل فیصلے کرنے کے باوجود حکومت کو عوام میں پذیرائی مل رہی ہے۔ مہنگائی کے مشکل فیصلے گذشتہ حکومتوں میں کی گئی معاشی بربادی کو سنبھالا دینے کے لیے ضروری تھے۔موجودہ مثبت حکومتی پالیسیوں کیوجہ سے پاکستان کی برآمدات کے نتیجے میں جب ڈالر آنے لگیں گے تو مہنگائی ، بیروزگاری اور تمام مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کوئی نیا سیاسی اتحاد بننا قرین ازقیاس ہے۔ ق لیگ جسکے ساتھ دوستی کرتی ہے اسکے خلاف سازش نہیں کرتی۔ ق لیگ کسی لندن پلان کا قطعی حصہ نہیں۔ لندن پلان بنانے والے کوئی دھماکہ نہیں کر سکیں گے انکا اپنا وجود خطرے میں ہے۔ ن لیگ کی سیاست خاتمے کی جانب ہے، لیگی ممبران ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ا ور صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں، چند ماہ میں ن لیگ اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے گی۔ حکومت کا ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ مشاورتی عمل تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حکومت سے ہمارے تحفظات ختم ہو رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر)امجد شعیب نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے دورہ ایران سے مشاورتی عمل میں بہتری آئے گی۔ دہشتگردی کیخلاف دونوں ممالک کو مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاک ایران تجارت میں رکاوٹ امریکی پابندیاں رہی ہیں، ایران نے گیس پائپ لائن ہمارے بارڈر تک پہنچا دی تھی، مگر بدقسمتی سے ہم اس پراجیکٹ کے لیے فنڈز نہیں لاسکے۔ ایران پاکستان کو بجلی دینے کیساتھ ریفائنری لگانے کو بھی تیار ہے مگر رکاوٹ امریکی پابندیاں ہیں۔مزید نقصان اٹھانے کی بجائے پاکستان کو دوسر اراستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ بھارتی وزیراعظم کے پیچھے آر ایس ایس دہشتگرد تنظیم ہے، اسکی سوچ میں دہشتگردی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسکا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہے، چاہ بہار اور افغانستان سے پاکستان مخالف دہشتگرد کارروائیاں بھارت کروا رہا ہے۔
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم پاکستان بیرون ملک سامعین کو لیکچر دیتے ہوئے جرمنی اور جاپان کو ہمسایہ بتاتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں انکا اختلاف دکھا رہے تھے ۔ عمران خان کو جس معاملے کو نہیں جانتے کم از کم اس پر بات نہ کریں، پاکستان کا مزید مذاق نہ اڑائیں۔ وزیراعظم جب کسی ملک کے صدر کیساتھ بیٹھے ہوئے کہے کہ میرے ملک کی سرزمین آپکے خلاف استعمال ہوئی ہے تو ملک بڑی عالمی پابندی کا شکار بن سکتا ہے۔ اس بیان کو پاکستان پر الزامات لگانے کے لےے اقتباس کے طور پراستعمال کیا جائے گا۔ عمران خان اور انکی ٹیم کو ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے،یہ یو ٹرن کی حکومت ہے ۔اسد عمر کو عہدے سے ہٹا کر اپنے خلاف چارج شیٹ کر لی،پاکستان مزید تجربوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں حکومت خود تباہی کی طرف جارہی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی حکومت کی تباہی نہیں چاہتی کیونکہ انکی تباہی میں ملک کی تباہی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved