تازہ تر ین

بھٹو کے نواسے بلاول کو غیر اخلاقی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے ،چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتنل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ناصر اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کے جاپان اور جرمنی کی سرحدی تجارت کابیان عمران خان کی غلطی ہے انہیں اپنی غلطیاں سدھارنی چاہئیں ۔ کنٹینرکے بیانات اور بات ہے مگروزیراعظم کی گفتگو انکے منصب کے شایان شان ہونی چاہئیے۔ عمران خان کو کامیاب ہونا چاہیے، اگر وہ ناکام ہوئے تو تمام مافیاز پاکستان کو دوبارہ جکڑ لیں گی۔افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان پر افغانستان سے سخت ردعمل آچکا ہے اور بھارت کے حوالے سے ایک انٹرویو میں انکے بیان پر اپوزیشن نے وزیراعظم پر مودی کی کمپین کرنے کا الزام لگایا۔ وزیراعظم کواپنے ساتھ تقریر لکھنے کے لیے ماہر لوگ رکھیں۔ کہاں جاپان اور کہاں جرمنی! وزیراعظم اپنے بیان کی تردید کریں گے تو انکا مذاق بنے گا۔ ایٹمی ملک کے وزیراعظم کی بات کا زیر زبر بھی وزن رکھتا ہے۔وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیانات میں تضاد بھی سوالیہ نشان ہے۔تحریک انصاف کو غیر روایتی مافیا پر مشتمل اپوزیشن کا سامنے ہے اور تحریک انصاف انتظامی حوالے سے صفر ہے۔تحریک انصاف کے پاس اپنا چہرہ اپنا ترجمان ہی نہیں ہے۔ فواد چوہدری جیسے مہمان اداکارقوم کو اعتماد میں نہیں لے سکتے کہ تحریک انصاف کی حکومت قرض کے انبار پر قابو پارہی ہے۔پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے مطعلق ہذیان کی کیفیت پر بیوروکریسی کو حکومت نے اعتماد میں لینا ہے۔بااثر مافیا سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ لاہور سے ہونا چاہیے۔میاں اسلم اقبال وزیر اعلیٰ کے لیے بہترین نام ہیں۔ ریاست کو پشاور میں پولیو مہم کیخلاف ڈرامہ رچانے والے کردار کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ میزبان کالم نگار کاشف بشیر خان نے کہا کہ بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو لیڈر تھے اور لکھ کر تقریر نہیں کرتے تھے، عمران خان کو اس معاملے پر بطور وزیراعظم سوچنا پڑے گا۔ عمران خان کو یورپی ممالک کی مثالیں دینے سے گریز کرتے ہوئے اب اپنی بات کرنی چاہیے۔ آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے، بھٹو کے نواسے کوغیر اخلاقی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔گذشتہ چند سالوں میں پاکستان مخالف سرگرمیاں ایران کی سرزمین سے ہوتی رہی ہیں۔ ایران کی ہمارے دشمن کیساتھ زیادہ محبت ہے۔تحریک انصاف کے پاس قانونی نظام میں تبدیلی کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ کالم نگار مریم ارشد نے کہا کہ عمران خان نے شاید فرانس کی جگہ جاپان کہہ دیا تاہم اس بیان پر جواب وزیراعظم ہی دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اصل مدعا پر آنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، مفاد پرست لوگوں کو عمران خان کی غلطی کا فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ امریکا دنیا کا خداوند بنا ہوا ہے۔ بھارت ایران سے سستے داموں تیل اور گیس خرید رہا ہے اور امریکا خاموش ہے۔گذشتہ 60سالوں میں تعلیم پر کام ہوتا تو آج کرپشن کا رونا نہ ہوتا۔تحریک انصاف میں صرف ایک چہرہ عمران خان ہے باقی سب دوستیاں نبھا رہے ہیں۔ کالم نگارحسنین اخلاق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ مختصر اور ٹھوس گفتگو کریں، دہشتگردی کے حوالے سے عمران خان کے بیان پر ہمارے دشمن بھارت اور عالمی نشریاتی اداروں نے اسی قسم کا مطلب اخذ کیا تھا۔ بلاول بھٹو کی اسمبلی میں بیان بازی کنٹینر کی بیان بازی سے کم غیر اخلاقی تھی۔ پاکستان کا قومی بیانیہ عمران خان کے بیان سے بالکل مختلف ہے۔احتساب کا عمل مذاق نہیں عدالتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔تحریک انصاف کی حکومت میں ذاتی مفادات کی سیاست ہورہی ہے۔ حکومت گڈ گورننس کرنا چاہتی ہے تو انہیں خود کوشش کرنی ہوگی، اپوزیشن انہیں کبھی نہیں کرنے دے گی۔ حکومت سنجیدہ ہے تووعدے کے مطابق سسٹم کی تعمیر نو کرے۔ قانونی و سیاسی نقطہ نظر سے علیم خان کی ضمانت ہوجانی چاہیے، وہ اتنے گنہگار نہیں ہیں۔ پشاور کی عوام کا پی آر ٹی پر غصہ تھا جو پولیو مہم پر اتر گیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved