تازہ تر ین

موسمی تغیرات‘ملکی زراعت اور”کسان میلہ“

زید حبیب….قلم آزمائی

آج جب قلم کا سہارا لیکرخیالات کے ذخیرے کو صفحہ¿ قرطاس پربکھیرنے کا ارادہ کیا تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس ایشو پر قلم آزمائی کروں۔ پاکستانی سیاست سے دل اچاٹ دکھائی دیا جبکہ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور عوام کی حالت زاردیکھ کر دل خون کے آنسو رو د یا۔وہ عوام جنہوں نے عمران خان کو تبدیلی اور امید کا استعارہ سمجھا تھا ‘ رفتہ رفتہ ان کے خواب بکھر رہے ہیں۔خدارا‘ ان کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔ابھی انہی خیالات میں گم تھا کہ کس موضوع پرقلم آزمائی کروں کہ دفعتاً ایک ٹیلی فون کا ل آ گئی ۔ دوسری طرف لائن پر ضلع شیخوپورہ کے تاریخی گاﺅں کوٹ پنڈی داس سے میرا کزن رانا سفیان عزیز تھا جس نے بتایا کہ ہمارے گاﺅں میں حالیہ بارشوں، ژالہ باری اور طوفان بادوباراں سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کسان بے حد پریشان ہے کیونکہ اس کی سال بھر کی کمائی اکارت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ ادھر شہروں میں تو لوگ اس سہانے موسم کو انجوائے کر رہے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ گرمی کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دیہات کا کسان آزردہ اور افسردہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ اس کا دکھ اور غم بانٹا جائے ،اس سے اظہار یکجہتی کیا جائے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی آبی جارحیت نے پاکستانی کسان کو پہلے ہی پانی کی کمیابی کا شکار بنایا ہوا ہے۔ رہی سہی کسر ان حالیہ بارشوں اور ژالہ باری نے نکال دی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ موسمی تغیرات اور دیگر عوامل کے باعث ہمارے کسان بھائیوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو ہرگز مبالغہ نہ ہو گا۔ ان حالات میں حکومت پاکستان کو اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ کسان خود اس کے سامنے مطالبات کی فہرست رکھے بلکہ آگے بڑھ کر کسانوں کو سینے سے لگانا چاہئے ، ان کا دکھ درد دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کسانوں کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے جو خوش آئند ہے۔میرا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ کسانوں کو اس بحران سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تنہا معاشی مسائل کا شکار ہو کر ریاست پر بوجھ بن جائے۔
14اگست 1947ءکو پاکستان قائم ہوا تو ہمارے حصے میں کوئی خاص انڈسٹری نہیں آئی تھی ۔ اس وقت یہ ہمارے لہلہاتے کھیت اور سرسبز وشاداب زمینیں ہی تھیں جنہوں نے ہماری قومی معیشت کو سہارا دیا۔ کچھ عرصہ قبل تک یہی کہا جاتا تھا کہ ہماری آبادی کا ستر فیصد حصہ بالواسطہ یا بلا واسطہ زراعت سے منسلک ہے۔ معلوم نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کی آمد کے بعد بھی یہ تناسب ایسے ہی ہے یا اس میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ تاہم جو کچھ بھی ہو،آج بھی ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، لہٰذا کسان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا۔ قائداعظمؒ نے نومبر1942ءکو مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا :”مجھے اہل دیہات کی غربت اور مفلوک الحالی دیکھ کر بہت رنج ہوتا ہے ۔ میں نے سفر کے دوران جب ریلوے سٹیشنوں پر پنجاب کے دیہاتی مسلمانوں کے گروہ دیکھے تو مجھے ان کے افلاس سے سخت دکھ ہوا ۔ پاکستان کی حکومت کا سب سے پہلا کام یہ ہو گا کہ ان لوگوں کا معیار زندگی بلند کرے اور زندگی بلکہ بہتر زندگی سے شاد ہونے کے سامان بہم پہنچائے“
زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خبریں میڈیا گروپ نے ملکی زراعت میں ترقی و بہتری لانے کیلئے بھرپور کاوشیں کی ہیں اور یہ ہمیشہ کسان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سالہا سال تک پاکستان ٹیلی وژن پر ”کسان ٹائم“ کے نام سے پروگرام کرتے رہے ہیں جسے ملک کے تمام بالخصوص زرعی حلقوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔روزنامہ خبریں نے اپنے رنگین صفحات میں زرعی صفحہ کا بھی اجراءکیا ۔ اپنی انہی کاوشوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے خبریں میڈیا گروپ کے زیر اہتمام 26تا 28اپریل ملتان کے قاسم باغ سٹیڈیم میں تین روزہ کسان میلہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اس میلہ کا افتتاح گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کریں گے جبکہ اختتامی تقریب کے مہمان خاص وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ہوں گے۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کسان میلہ میں پاکستان بھر سے زراعت سے وابستہ کمپنیاں شرکت کریں گی جبکہ سب سے زیادہ گندم کی پیداوار والے کاشتکار کو ایوارڈز بھی دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ زراعت کے حوالے سے مختلف موضوعات پر کانفرنسیں بھی منعقد ہوں گی جن میں زرعی ماہرین، سیاسی و سماجی رہنماﺅں کے علاوہ زرعی یونیورسٹی کے طلبا وطالبات و اساتذہ کرام اور کسانوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے و عہدیداران شریک ہوں گے۔ تین دن تک جاری رہنے والا یہ کسان میلہ عوام کو بھرپور علم اور تفریح مہیا کرے گا۔ ہمیں امید ہے یہ کسان میلہ ملکی زراعت کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہو گا۔
آج ہمارا دانشور طبقہ یہ سوچ رہاہے کہ پاکستانی سیاست کا احوال لکھے یا مہنگائی کے مارے عوام کا درد بیان کرے، ملک میں جاری صدارتی یا پارلیمانی نظام کی بحث میں حصہ لے یا وزیراعظم عمران خان کے دورہ¿ ایران پر بات کرے،نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا نوحہ لکھے یا سری لنکا میں ایسٹر پر ہونیوالے دھماکوں کے بعد خوشیوں کو چیخوں میں بدلنے کا تذکرہ کرے۔ یہ موضوعات اہم ضرور ہیں لیکن پاکستان کے کسان کی بھی بات کریں ، حالیہ بارشوں سے ہونیوالے نقصان کا تذکرہ کریں اور شعبہ زراعت کی ترقی وبہتری کیلئے تجاویز بھی دیں ۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved