تازہ تر ین

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات

ایسا حسن عمل وہ چاہے تھوڑا ہو مگر ہمیشہ جاری رہے‘ اس سے بہتر ہے جو عارضی ہو۔ اگر ہر پاکستانی اپنے حسن عمل سے اپنے حصے کا تھوڑا سا بھی کام ہر روز کرتا چلا جائے تو میں پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتی ہوں پاکستان میں ایک آدمی بھی ایسا نہ ہوگا جو معاش اور انصاف کے حصول کیلئے پریشان ہو ۔آج ہم نفسا نفسی کے عالم میں اپنے فرائض کو بھولے ہوئے ہیں اور یہ بھول صدیوں کے پچھتاوے پر محیط ہے ،اس بھول کی تلافی ممکن ہے اور اس کی قضا پوری قوم کو ادا کرنا ہوگی ۔ ہرپاکستانی شکوہ و شکایات کے دریچے کھولنے سے پہلے شکر و احسان کی زبان ادا کرتے ہوئے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جائے جس نے اس خطہ زمین کو پاکستان کا نام دے کر دنیا میں سرفراز کردیا، اس نعمت خدا وندی کی حفاظت ہر پاکستانی کا فرض ہے نعمتیں آسانی سے مل جاتی ہیں مگر ان کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فرائض کی بجاآوری شرط ہے ۔ دانش ور کہتے ہیں نعمت کا تحفظ شکر سے اور تکلیف کا تدارک صبر سے ہوتا ہے ۔ شکر گزار اور صابر لوگ ہی اللہ کی پسندیدہ مخلوق میں شمار ہوتے ہیں، آج سے ہم پاکستانی اگر ارادہ کرلیں کہ ہم نے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں کسی نہ کسی طرح حصہ ڈالنا ہے تو اس کیلئے ہمیں کسی اجازت اور عہدے کی ضرورت نہیں اس کیلئے کسی لائسنس ، پرمٹ یا اجازت نامے کی بھی ضرورت نہیں ۔
اجازت نامہ تو ہمارا ضمیر ہے ، ضمیر کی روشنی سے ہم سماج کا چہرہ درخشاں کرسکتے ہیں ، بھوکے کو روٹی کھلانے سے یہ مراد نہیں کہ ہم مزید بھوکے پیدا کرتے چلے جائیں بلکہ بھوکے کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے ،اس خود روزگاری کے ذریعے خود کفالت کے عمل سے گزارنا ہوگا اور یہی ہمارا حسن عمل ہے ۔ معاشرے کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی دینے سے ہی معاشرہ ایک صالح معاشرہ قرار پائے گا مگر اس کےلئے ضروری ہے کہ ہر فرد اس جہاد میں اپنی جگہ تھوڑا سا حسن عمل شامل کرے ، خود احتسابی کا عمل ہی اصل میں جہاد اکبر ہے ۔
پاکستانی چاہے وہ ملک میں ہو یا بیرون ملک مقیم ہو‘ بہت زیادہ عطیات دیتے ہیں شرط یہ ہے کہ ان کے عطیات کا صحیح استعمال ہو ، بیرونی طاقتوں کے دباﺅ میں آکر حکومت ان چند اداروں جن کا ماضی شفاف ہے اور ان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت اور فلاح ہے ان کو طرح طرح سے پریشان کررہی ہے جس سے ان کو اپنی خدمات جاری رکھنے میں خاصی دشواریوں کا سامنا ہے ان میں سے ایک ادارہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ہے جو مخیر حضرات اور حکومت کے تعاون سے پورے ملک میں علم کے دیپ روشن کررہا ہے ۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے کلیرنس کے معاملات جاری ہےں، سوسائٹیز اور ٹرسٹ کے بورڈ میں رضا کارانہ وقت دینے والے افراد اور عطیہ دینے والے حضرات دونوں ہی بددل ہو کر اپنے خدمات کا دائرہ محدود کررہے ہیں جس کے نتیجے میں فلاحی اور رفاحی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پاکستان درد دل اور انسانیت سے محبت میں عطیات دینے والی قوموں میں سرفہرست ہے ۔ایک عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ہر سال دو ارب ڈالر سے زیادہ خیرات دیتے ہیں مگر بیرونی دباﺅ پر ان خیراتی اداروں کے خلاف تحقیقات شروع ہونے سے عطیات دینے والوں سے بھی پوچھ گچھ ہو رہی ہے جس سے پریشانی پائی جا رہی ہے ۔
امریکہ پہلے تو مجاہدین کہہ کر اپنے مفاد کیلئے کچھ لوگوں کی پرورش کرتا رہا اور دنیا بھر سے انہیں عطیات بھی دلواتا رہا مگر مطلب نکل جانے کے بعد انہی مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ہم پاکستانی امریکہ کے دباﺅ میں آکر کیسے ایک دوسرے کے خلاف ہوگئے ۔ پاکستانی ریاست اور حکومت کو چاہئے کہ دہشت گردی کیلئے مالی امداد کی ضرور تحقیقات کرے لیکن فلاحی اداروں کےلئے کوئی صحیح راستہ اختیار کرے اس صورتحال پر پارلیمنٹ میں بھی بحث ہونی چاہئے اور نئے قوانین وضع کرنے چاہئےں اور کسی بھی تنظیم کو بیرونی طاقتوں کے کہنے پر دہشت گرد نہ قرار دیا جائے بلکہ صرف اس وقت دہشت گرد قرار دیا جائے جب ہماری حکومت خود یہ سمجھتی ہو ۔
اسلام سلامتی کا دین ہے اور وہ کسی کو اذیت نہیں دیتا حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بسنے والے لوگ پاکستانی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں۔ دنیا میں امن سکون اور سلامتی کے سارے راستے دین اسلام سے ہی ہو کر گزرتے ہیں لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ ہم سب اپنے حصے کا کام روزانہ وقت پر کرتے جائیں یاد رکھئے وقت کی پابندی ہی کامیابی کی کنجی ہے وقت برباد کرنے والی قوموں کا انجام تاریخ میں عبرت کا نشان بن جاتا ہے جس نے وقت برباد کیا اس نے خود کو برباد کیا ۔ کالم لکھ رہی تھی کہ اس دوران نامور پنجابی شاعر ، کتاب پبلیکیشن کے چیف ایگزیکٹو پنجابی سنگت پاکستان کے جنرل سیکرٹری ، انسان دوست اور ان سب سے بڑھ کر میرے بہت پیارے بھائی نے بتایا اعظم ملک کا فون تھا جنہوں نے بتایا وہ چند روز پہلے اپنے آبائی شہر فاروق آباد جا رہے تھے شیخوپورہ بائی پاس پرموٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوﺅں نے گن پوائنٹ پر ان سے نقدی اور بھابھی سے زیوارت چھین کر فرار ہوگئے۔ انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ سٹریٹ کرائم بہت تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور ہماری پولیس بے بس نظر آتی ہے میری حکومت سے درخواست ہے کہ اس واقعہ مہں ملوث افراد جلد از جلد گرفتار کئے جائےں اور ان کے لوٹا ہوا مال برآمد کیا جائے ۔
کوئی حکومت تنہا سماجی برائیوں کو ختم نہیں کرسکتی اس کےلئے ہم سب پاکستانیوں کو اپنے اچھے اعمال کے ذریعے دنیا میں کمال حاصل کرنا ہوگا حکومت اپنے فرائض سے غافل نہ ہو اور سماج اپنا حصہ ڈالنے سے نہ گھبرائے یہ کام اسی صورت ممکن ہے بقول احمد فراز!
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved