تازہ تر ین

چاپلوس!

محمد صغیر قمر……..چنار کہانی

وکی پیڈیا کہتا ہے کہ خوشامد یا چاپلوسی (Flattery) ایک عمل ہے جس کے تحت کچھ لوگ حد سے زیادہ دوسرے لوگوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اس عمل میں ایسی خوشنما صفات، عادات و اطوار، محاسن ، معاملات، مثبت انجام دہی، زبان و گفتگو کی خوبیاں، دور اندیشی وغیرہ منسوب کرتے ہیں جو یا تو کسی شخص میں فی الواقع موجود نہیں ہوتے ہیں۔ یا اگر ان میں سے کچھ پایا بھی جاتا ہے، تو وہ اس درجہ، خوبی اور خوش نمائی کو نہیں پہنچتے جس طرح کے بیان کیے جاتے ہیں۔
خوشامد کی ایک بڑی اور عام عادت عام طور سے کسی ذی حیثیت، ذی المراتب شخصیت یا کسی ایسے شخص کے لیے کی جاتی ہے جس سے کسی شخص کو فوری کام پڑ رہا ہو یا پڑ سکتا ہے۔ خوشامد کی عادت مرد و زن دونوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ عادت انفرادی ملاقاتوں میں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دفاتر، ادارہ جات، فلمی دنیا اور نیز سیاسی گلیاروں، ہر جگہ دیکھی گئی ہے۔ خوشامد کے وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اور پختہ اور ٹھوس شکل اختیار کرنا اس بات پر منحصر ہے جس شخص کی خوشامد کی گئی ہے، وہ اس سے کس درجہ متاثر ہوا ہے۔ اگر ذی حیثیت شخص اپنے مثبت انداز میں متاثر ہونے کے اشارے دینے لگے تو خوشامد مزید جاری رہ سکتی ہے، بلکہ معاملات میں ایک مستقل نوعیت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر وہ شخص کسی تعریف کے لیے اپنی عدم دلچسپی ظاہر کرے تو یہ تعریفی مراحل ممکن ہے کہ ختم ہو۔ نیز یہ بھی کچھ ضروری نہیں خوشامد کرنے والا شخص (جسے خوشامدی کہا جاتا ہے) کسی شخص کو متاثر کر سکے یا خوشامد کو ایک حربہ بنا کر اپنے مطلب براری کے مقصد میں کامیاب ہو۔دنیا میں عام بات ہے کہ ہر شخص اپنی تعریف و مدح سرائی سے خوش ہوتا ہے اور تنقید اور برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوشامد کے چلنے یا اس پر عمل ہونے کے پیچھے بھی ایک بڑاسبب نفسیاتی پہلو ہے کہ کس طرح لوگوں کو متاثر کیا جا سکے۔ اس طرح سے لوگوں کو متاثر کر کے کوئی شخص فوری طور پر یا دیر پا تعلقات اور معاملات میں فوائد حاصل کر سکتا ہے، کیوںکہ خوشامد سے متاثر شخص فریق ثانی کے لیے عمومًا نرم گوشہ ہو جاتا ہے اور اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اور ڈھلتے سورج کو الوداع کہنا ہماری سیاست کی ” پختہ نفسیاتی “ روایت ہے ۔ معاملہ موجودہ حکومت کا ہو یا ماضی کی حکومتوں کا‘ لا تعداد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ لوگ شجاع آباد سے حکمرانوں کے ساتھ جہاز میں سوار ہوتے ہیں اسلام آباد اتر کر بدلتے ماحول میں ڈھل جاتے ہیں ۔ ابھی ان کے شکم میں بٹیروں کی بوٹیاں باقی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی چمڑی بچانے کے لیے نئے سورج کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ۔ اس قبیل کے لوگوں کا کوئی معیار مقرر نہیں ہوتا ۔ وہ بھٹو کے آستانے پر جبین نیاز ٹیک کر اٹھتے ہیں پھر اقتدار کی ہر چوکھٹ پر سر خم کرتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ مخلوق اس دنیا میں اکیلے رہنا بھی پسند نہیں کرتی ۔ وہ اپنے گروہ میں اضافہ کرنے کے متمنی رہتے ہیں ۔ آج بھی ایسے لوگ فعال ہیں ۔
آج کا منظر ماضی کے منظر سے مختلف نہیں ‘ بازی لے جانے کے لیے بہت سے لوگ بے تاب رہتے ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک اس ” کسب کمال “ میں ماہر بننے کی تگ و تاز میںہے ۔ اب یہ ہمارے حکمرانوں کا کمال ہوگا کہ وہ ان باکمال لوگوں کے کردار سے باخبر رہیں ۔ منصب،دولت اور مفاد کی دوڑ میں یہ لوگ ہر اصول ‘ ہر ضابطہ پامال کرتے جاتے ہیں ۔ جس روز ایران میں بیس لاکھ لوگ تہران کی سڑکوں پر شہنشاہ کے خلاف مطاہرہ کر رہے تھے اس روز خوشامدیوں کا ٹولہ کہہ رہا تھا ” دو ہزار کے قریب لوگ سڑکوں پر جمع ہوئے حکومت کے خلاف اور خمینی کے حق میں نعرے لگائے ‘ یہ لوگ جذباتی ہو رہے تھے ۔“
جب نواز شریف کی مسلم لیگ بند مٹھی میں ریت کی طرح بکھر رہی تھی ، اور وہ ”جلا وطن“تھے۔ کچھ لوگ تھے جو ایک مدت تک ان کی واپسی کے منتظر رہے وہ لوٹ کے آئے نہ ان کی طرف سے کوئی سندیسہ ۔ ہم نوا ان کے اقتدار میں آنے کا خواب خیال بننے لگا تو وہ بھی ” سویرے سویرے “ اپنا خیال بدل کردوسروں کے ہموا بننے لگے ۔ آج ان جیسا مظلوم پورے پاکستان میں کوئی نہیں کہ جن کو ان ” دوستوں “ نے گھیر لیا تھا۔
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسمان کیوں ہو
اﷲعمران خان کو ایسے لوگوں سے بچائے جو کل تک کسی اور در کے بندے تھے آج کسی اور چوکھٹ کے غلام ہیں ۔ وفاداریاں بدلنے والے کب کسی کے وفادار ہوئے ہیں ۔ ہماری ساری تاریخ ان ہی قصوں اور کہانیوں سے اٹی پڑی ہے ۔کسے فرصت ہے کہ وہ گھوم کر ماضی کے معرکوں میں اترے اور دیکھے جہاں بڑے بڑے نامور ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئے ۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved