تازہ تر ین

عمران خان کو چھوٹا آدمی کہنا بلاول بھٹو کو زیب نہیں دیتا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ فاٹا ایریا یا وزیرستان ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اگر عراق خان نے کہا ہے کہ وہ یقینا اس پر عملدرآمد ضرور کریں گے میرے خیال میں آج انہوں نے پہلی مرتبہ اتنی مدت کے بعد جو بات میں ہمیشہ کہتا تھا اور جو بات میں نے خود عمران خان سے کہی کہ آپ لوگوں کو ریلیف دیں آج پہلی دفعہ انہوں نے یہ ریلیف دیا ہے اور لوگوں سے پیسے آ رہے ہیں اور حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور آپ فکر نہ کریں۔ پہلی مرتبہ حکمرانوں کی طرف سے میں نے عوام کو تسلی دینے والی بات سنی۔ عمران خان کی طرف سے بلاول بھٹو صاحبہ کہنے بارے ضیا شاہد نے کہا کہ لفظی جنگ معمول کی بات ہے پارلیمنٹ جمہوریت میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ایک دوسرے کو نک نیم سے بلایا جاتا ہے عمران خان پر بہت چرھائی کی گئی۔ بلاول بھٹو نے بھی اور حنا ربانی کھر نے بھی کل کافی کسر پوری کر لی۔ اگر انہوں نے جواب میں کچھ کہہ دیا یا شیخ رشید جو ہیں وہ بلو رانی کہہ دیتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ معمول کی باتہے یہ کوئی اتنی سیریس بات نہیں ہے، دیکھیں بلاول بھٹو اپنے آپ کو پدرم سلطان بود سمجھتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں بڑے آدمی کا بیٹا ہوں، بڑے آدمی کا نواسہ ہوں لہٰذا وہ ہر کسی کو سمجھتے ہیں کہ وہ معمولی آدمی ہے۔ کسی کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہئے انسان کے اپنے اندر صلاحیت ہونی چاہئے۔ ایک منٹ کے لئے آپ اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ وہ آصف زرداری کا بیٹا ہے تو پھر بلاول بھٹو میں کیا خوبی ہے۔ ان کی تعلیم بہت زیادہ ہے صلاحیت بہت زیادہ ہے بہت کارنامہ انجام دیا ہے اب تک انہوں نے یا سیاست میں کوئی جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ ان سے اپنا صوبہ سندھ تو سنبھالا نہیں جاتا۔ میں روز کہتا ہوں ہم تو ان کی عزت ہی کرتے ہیں کہنے والی بات نہیں۔ وہ پارٹی کے سربراہ ہیں ان کی عزت کرنی چاہئے احترام کرنا چاہئے لیکن ان کو بھی کسی کو چھوٹا آدمی نہیں کہنا، عمران خان کسی بھی طور پر چھوٹے آدمی نہیں ہیں عمران خان بطور کرکٹ بھی بڑا نام تھا اور ورلڈ کپ جیتا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ پاکستان میں ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھی۔ کرپشن فری پالیٹکس کی اس میں بھی وہ چھوٹا آدمی نہیں ہے۔ کس کو حق حاصل ہے کہ عمران خان سے اختلاف کرے جو مرضی الزام لگائے لیکن اسے کسی طور پر یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ اس طرح بلاول بھٹو کون سے، ان کے والد صاحب جو تھے انہوں نے کون سا تیر مارا تھا جو انہوں نے پاکستان میں کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا جو پاکستان میں اب تک نہیں کر سکا۔ گورنر چودھری سرور کے بیان کو لے کر چلنے والی افواہوں اور سرگوشیوں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چودھری سرور نے خود کہا ہے کہ میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ استعفیٰ دیں گے کسی وجہ کے بغیر۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کے خلاف ایک لابی تھی آج انہوں نے ایک باتکی۔ انہوں نے کہا کہ میری بات پر عمل کیا جاتا میرے مشورے تسلیم کئے جاتے تو پی ٹی آئی کو پنجاب میں دو تہائی اکثریت مل جاتی۔ یہ ایک بات درست ہے کہ جب وہ ٹکٹ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کھانا کھلائیں۔ میں نے کہا جب چاہیں رکھ لیں انہوں نے کہا کہ مجھے ساگ کھلائیں بالکل دیہاتی پینڈوانا ساگ اور کہا کہ مکئی کی روٹی بھی ہونی چاہئے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں۔ میں نے ان کو کھانے پر بلایا اس وقت وہ گارڈن ٹاﺅن کے تحریک انصاف کے دفتر میں بیٹھتے تھے اور یہ بحث زوروں پر تھی کہ کس کو ٹکٹ ملنا چاہئے کس کو نہیں ملنا چاہئے۔مجھے انہوں نے 22 نام ازبر تھے انہوں نے وہ نام گنائے اور ساتھ ان کے ووٹ کی پرسنٹیج بتائی اور کہا کہ میرے 22 نام مسترد کئے گئے ہیں کہ ان کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا اور آپ دیکھ لیجئے گا جن لوگوں کو ٹکٹ دیا جائے گا وہ ہار جائیں گے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس کے بارے میں میری یادداشت میں یہ بات موجود ہے کہ حلقہ وائز اور تحصیل وائز جو انہوں نے جو نام لئے تھے ان کے پاس 60 اور 65 کے قریب نام تھے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان میں 22 تو اسے ہیں جو یقینا وکٹری پر سٹینڈ کرتے تھے یہ آج انہوں نے اشارتاً کہا ہے کہ اگر میری بات مان لی جاتی تو تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت ہوتی۔ یہ بات صحیح ہے میری معلومات یہی ہیں کہ جو الیکشن کا پیٹرن بنانا چاہئے تھا چودھری سرور پنجاب میں وہ نہیں بنایا جا سکا اور مختلف لوگوں نے ان کو اجازت نہیں دی۔ میں اس سے بات سے بالکل متفق نہیں کہ ان پر کوئی سکینڈل ہے چودھری سرور ایسا آدمی نہیں ہے میں چودھری سرور کو بہت پرانا جانتا ہوں۔ جب میں آج سے 12 سال پہلے بیمار ہو کر لندن ہسپتال میں داخل تھا تو چودھری سرور اس وقت گلاسکو سے آئے تھے اور یہ بار بار مجھے یہ ذکر کر رہے تھے کہ آپ صحت یاب ہونے کے بعد میرے پاس چلیں اور کچھ دن آپ میرے ساتھ گزاریں۔ مجھے چونکہ واپس آنا تھا اس لئے واپس آ گیا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ چودھری سرور کا اچھا سیاسی کیریئر تھا۔ روپے پیسے کی کوئی پرابلم نہیں تھی سیلف میڈ آدمی ہے انہوں نے اپنی محنت سے کاروبار کیا اوور کسی جگہ پر کوئی کرپشن نہیں کی اور بے ایمانی نہی کی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ کسی جگہ پر کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی۔ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے کہا جا سکے کہ انہوں نے کوئی ناجائز طور پر پیسہ بنایا ہے۔ ان پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ ان کی کوئی فاﺅنڈیشن ہے انہوں نے خود کہہ دیا کہ سرور فاﺅنڈیشن جو ہے اس کا نام یو کے ٹاسک تھا انہوں نے تبدیل کر کے اس کا نام سرور فاﺅنڈیشن بنایا۔ جب پاکستان میں وہ آئے تو پانی صاف کرنے والی مشین لے کر آئے تھے اور جگہ جگہ وہ لوگانا چاہتے تھے لاہور میں بھی کئی جگہوں پر وہ مشین لگوائی پانی کی صفائی کے لئے بلکہ مجھے یاد ہے کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ مجھے بھی ایک مشین خبریں آفس کے باہر لگوا کر دیں تو یہ کہنے کہ وہ میں ارینج کر دیتا ہوں کسی وجہ سے میں ارینج نہ ہو سکا۔ اس طرح سے وہ ایجوکیشن کے لئے بھی بہت وسیع پیمانے پر بجٹ انگلینڈ کی حکومت سے لے کر آئے گھے۔ وہ ایک تعمیری ذہن رکھنے والے شخصیت ہیں وہ گورنر رہتے ہیں یا نہیں مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن اس سے دلچسپی ہے کہ چودھری سرور کوئی بددیانت شحص نہیں ہے جس کی شخصیت پر دھبا لگا ہو۔یہ جب پہلی دفعہ بھی گورنر بنے تھے میرے پاس دفتر آئے تھے مجھے انہوں نے کہا کہ مجھے میاں برادران نے کہا ہے کہ گورنر بن جائیں میں نے ان کی مخالفت کی تھی میں نے ان سے کہا کہ آپ ان کے ساتھ نہیں چل سکتے تو اب تک ان کو میری بات یاد ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے کہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ آپ انگلینڈ میں رہ کر آئے ہیں آپ کا مزاج ایک صاف شفاف سیاست کرنے کا ہے اور جو میاں صاحبان کا مزاج ایسا نہیں ہے۔ اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کون کامیاب ہو گا کون ناکام ہو گا۔ میں ایک بات پر قائم ہوں کہ دوستوں کا دوست ہوں۔ جس کو ایک بار دوست کہہ دیتا ہوں اور سمجھ لیتا ہوں اس کی عزت کرتا ہوں۔ میں عمران خان کی عزت کرتا ہوں۔ میں نے ان کی پارٹی بنانے میں مدد کی میں نے ان کا منشور بنانے میں مدد کی۔ وہ خود ہر جگہ پر تسلیم کرتے ہیں کہ ضیا شاہد صاحب کے دفتر میں میری پارٹی بنی تھی۔ میں کبھی اس بات کوکبھی نہیں بھولتا کہ میں نے حتی المقدور کوشش کی تھی۔ عمران خان کو سیاست میں لانے کا اگر کوئی دوسرا شخص میرے ساتھ کریڈٹ لیتا ہے تو میں حسن نثار کو یہ کریڈٹ دیتا ہوں اس کے سوا کوئی تیسرا آدمی میرے پاس علم، ادب اور تحقیق صحافت جرنلزم، دانشوروں میں کوئی ایسا آدمی مجھے نظرط نہیں آتا جس نے عمران خان کو سیاست میں لانے میں میرے جتنی کوشش کی ہو۔
مونس الٰہی کو حکومت میں لانے کی پرویز الٰہی کی خواہش ایک قدرتی بات ہے، چودھری برادران نے بڑا مشکل وقت گزارا اور میاں برادران کیخلاف ڈٹے رہے اس لئے نہیں سمجھتا کہ وہ اب 90 ڈگری کے زاویہ سے مڑ کر دوبارہ شریف برادران کی جھولی میں جا گریں گے۔ چودھری برادران اور ان کے خاندان کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں وہ بے دید اور بے لحاظ یا چھوٹے فائدے کیلئے بک جانے والے لوگ نہیں ہیں۔ خورشید شاہ کا بطور اپوزیشن لیڈر بھی کردار مشکوک رہا ہے ان بارے کہا جاتا تھا کہ فرینڈلی اپوزیشن کرتے ہیں، حکومت سے اندر ہی اندر فائدے حاصل کرنے اور من چاہے تقرر و تبادلے کراتے تھے اور محض خانہ پری کے لئے حکومت کے خلاف بیانات بھی دیتے تھے۔ شیخ رشید کی یہ بات کہ نواز اور شہباز کا بیانیہ مختلف ہے کسی حد تک درست ہے وہ ایک اچھے سیاسی تجزیہ کار ہیں ان کی باتوں میں وزن ہوتا ہے، ان کا شہباز شریف کی لندن سے واپسی کو مشکوک قرار دینا بھی وزن رکھتا ہے۔ بلاول کے بارے میں بھی ان کی چھوٹی موٹی لفظی گولہ باری چلتی ہے جو سیاست میں عام بات ہے بلاول بھٹو کو شیخ رشید کی سینئر سیاستدان کی حیثیت سے عزت کرنی چاہئے۔ بلاول کا بنیادی طور پر مسئلہ باپ کی کرپشن ہے، ان کے والد منی لانڈرنگ کیسز میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ شریف اور زرداری خاندان میں تو لگتا تھا کہ منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کی ریس لگی رہی کہ کون آگے نکلتا ہے دونوں خاندان کے افراد ہر جگہ کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ اگر بطور معاشرہ دنیا میں رہنا اور آگے بڑھنا ہے تو ضروری ہے کہ ہر کرپٹ بندے کو پکڑا جائے۔
کونسلروں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے نظام کو ختم نہ کیا جائے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم عمران خان دورہ لاہور کے دوران نئے بلدیاتی نظام لانے کا کہہ چکے ہیں جس کے بنیادی خدوخال بھی وزیر قانون بتا چکے ہیں۔ ن لیگ کو اس وقت احتجاج کرنے کی بجائے نئے بلدیاتی الیکشن کی تیاری کرنی چاہئے۔ شہری علاقوں میں ن لیگ تحریک انصاف کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔ کونسلروں کے مظاہرے میں گلو بٹ کی شمولیت نے ثابت کر دیا کہ ماڈل ٹاﺅن میں طاہر القادری کے خلاف آپریشن میں پولیس کے ساتھ ن لیگی ورکرز بھی شامل تھے اور گلو بٹ ن لیگ کے ایما پر ہی گاڑیوں کے شیشے توڑتا رہا۔
مودی حکومت نے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کا وعدہ کیا تھا وہ یقینی طور پر اپنے وعدے کے خلاف نہیں جائے گی۔
سپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کا کیس بھی چل رہا ہے کافی شواہد مل چکے ہیں اسلام آباد اور لاہور سے جعلی اکاﺅنٹ پکڑے جا چکے ہیں۔ لاہور کے ایک فیکٹری ملازم جس کی تنخواہ 15 ہزار ہے کا جعلی اکاﺅنٹ بھی اس کے کھاتے میں آتا ہے، اس معمولی ملازم کے پاس تو کراچی جانے کا کریہ ممکن نہیں جس پر چیئرمین نیب نے اپنی جیب سے کرایہ دیا ہے۔ ارباب و اختیار سے بارہا سوال کر چکا ہوں اور اب بھی کرتا ہوں کہ جن بنکوں میں جعلی اکاﺅنٹس کھولے گئے ان کے منیجروں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا اور تفتیش کی جاتی۔ اسحاق ڈار واپس نہیں آئیں گے۔ برطانیہ فراڈیوں، باغیوں، پاکستان دشمنوں کی پناہ گہ بنا ہوا ہے۔ الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے واضح ثبوت ملے، سرفراز مرچنٹ نے بیان دیا کہ ہر ماہ بھارت سے آنے والی رقم الطاف کو پہنچاتا تھا لیکن کوئی کارروائی نہ کی گئی اس لئے الطاف حسین سمیت کسی بھی قومی مجرم کو واپس لانے کا ععویٰ صرف خوش فہمی ہی لگتا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ جب تک کوئی مضبوط حکومت جم کر بات نہیں کرے گی وہاں سے کسی مجرم کو واپس نہیں لایا جا سکے گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved