تازہ تر ین

”کسان میلہ“

احمد خان لنگاہ ….اظہارخیال
2013 ءکے آخری دن تھے ،وسیب کی سب سے بڑی جامعہ زکریا کے شعبہ کامرس کا اک کلاس روم تھا، جب راقم نے اپنے استاد صاحب سے معیشت پر چند سوالات پوچھے تو استاد مکرم اللہ بخش خان نے انتہائی جذباتی اور بھرے ہوئے لہجے میںیوں فرمایا تھا کہ ایک چونٹی سے لیکر وزیراعظم تک کسان کی محنت کا پھل کھاتے ہیں،لیکن افسوس کہ یہی بیچارہ کسان صدیوں سے محنت،محنت اور محنت کرتا چلا آ رہا ہے اور بدلے میں اسے اتنی اجرت نصیب نہیں ہوتی کہ جتنا اس کا حق بنتا ہے۔ قریب ستر فیصد لوگ پیشہ زراعت سے وابستہ ہیں،ملکی زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ یہی زراعت پورا کرتی ہے،لیکن دن رات ایک کرکے محنت کرنے والا کسان بد حال کیوں ہے‘ اس سوال کا جواب شاید گذشتہ اور موجودہ حکمران دینے سے کتراتے ہیں،©©©© ۔©©© خبریں میڈیا گروپ کے زیر اہتمام” کسان میلہ“ کا سنا تو خوشی ہوئی کیونکہ وسیب کا سب سے بڑا اخبار اس پسے ہوئے مظلوم طبقے کی آواز بننے کو تیار ہے۔ ”جہاں ظلم وہاں خبریں “سے لے کر سود کے خلاف جنگ تک وسیب نے خبریں کا ساتھ دیااور جواب میں ”خبریں“ بھی ثابت قدم رہا۔28,27,26 اپریل 2019ءکو ہونے والے اس کسان میلہ میں زرعی آلات کی نمائش،کسان کانفرنس ،بہترین پیداوار پر کسان بھائیوں کو ایوارڈز دینے کی شنید ہے۔ ’ہم ساتھی سنگی کسان کے سلوگن ہے،یہ ہیرے موتی پاکستان کے کسانوں کا اعزاز ہے،۔یہ عزت و احترام کسان بھائیوں کو دینے کے لئے خبریں خود میزبان ہے،گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی خصوصی آمد ہے۔ صوبہ بھر کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی میں کسان بھائیوں کے مسائل اور ان کے حل پر بات ہوگی۔
میں چند تجاویز گزارشات کی صورت میں خبریںکے توسط سے معزز مہمانان گرامی اور اعلیٰ حکام کی خدمت میں گوش گزار کرنے کی سعی کرتا ہوں،سب سے پہلے حالیہ طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کے نتیجے میں ہونے والی بے تحاشہ تباہی نے کسان بھائیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،ان کی تمام جمع پونجی لٹ چکی اور آئندہ کیلئے کچھ نہیں بچا،لہذا اس مشکل ترین وقت میںکسان بھائیوں پر واجب الادا زرعی قرضوں میں نرمی کی جائے،اور بعض ایسے علاقے کہ جہاں 90 فیصد تک فصلیں تباہ ہو گئیں ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کرنہ صرف زرعی قرضے معاف کئے جائیں بلکہ کسان بھائیوں کو امداد بھی دی جائے تاکہ وطن عزیز پاکستان کو پالنے والے یہ کسان مشکل کی اس گھڑی میں کچھ حد تک مطمئن ہو سکیں،اسی طرح پرائیویٹ پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کی لوٹ مار اور پرائس کنٹرول کرنے کے لئے ٹیمیں تشکیل دینے کی ضرورت ہے،جعلی سیڈ مافیا اور جعلی ادویات سازی جیسے گھناﺅنے عمل کی روک تھام کے لئے متعلقہ اداروں کو فعال کرنے ضرورت ہے،کھاد کی قیمتوں میں کمی اور سبسڈی نہایت ضروری ہے،زرعی ٹیکس میں نرمی اور محکمہ زراعت کی جانب سے تربیت یافتہ عملے کے ذریعے سے پیداوار بڑھانے کے جدید طریقوں کی طرف راغب کرنانہایت ضروری ہے،فیلڈ اسسٹنٹ،فیلڈ آفیسرز اور زراعت آفیسرز کو دفتروں سے نکال کر کسان کے محنت کدے تک لایا جائے تاکہ بہتر مشورے،بیماریوں کی بروقت روک تھام اور پیداروا بڑھانے کے لئے مشورے کسان بھائیوں کی دہلیز پر مل سکیں۔ جدید زرعی آلات کی خریداری میں کسانوں کی معاونت اور آسان اقساط پر فراہمی وقت کی ضرورت ہے،کیونکہ جدید زرعی آلات ہی بروقت،بہتر اور زیادہ پیداوار دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،روایتی طریقوں سے کاشت کاری اور جدید زرعی آلات سے کاشت کاری کرنے والوں کی پیداوار اور اوسط میںبہت فرق ہوتا ہے،لہٰذا آسان اقساط پر جدید زرعی آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ پیداوار بڑھے اور کسان خوشحال ہو سکیں،بجلی کی قیمتوں اور ٹیوب ویل بلز پر خصوصی رعایت کی جائے ،اوور چارجنگ اور واپڈا عملے کی بد معاشی کا خاتمہ کیا جائے،حالیہ تباہ کن بارشوں اور ژالہ باری کے بعد کسانوں کو آئندہ فصل کی یعنی کپاس کی کاشت کے لئے آسان اقساط پر کھاد و بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،اس کے علاوہ گندم کی خریداری کے لئے میرٹ پر بار دانہ کی فراہمی ،اشرافیہ کے کردار کو مکمل طور پر ختم کیا جائے ،تاکہ کسان کو اس کی محنت کا پورا پورا پھل مل سکے ،گندم خریداری مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں اور رشوت کی روک تھام کی جائے،خریداری کے بعد فوری پیمنٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ فصل کپاس کی تیاری میں کسانوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اسی طرح شوگر ملز مافیا کو لگام ڈالنے کی ضررت ہے ،بظاہر تبدیلی کے دعوے دارحکمران اپنی ہی جماعت کے سرکردہ رہنماﺅں کو ڈھیل دیئے ہے،جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور جو کوئی بھی غلط کام میں ملوث ہو اسے سزا ملنی چاہئے۔اس سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف بھی شوگر مافیا کی حمایت کرتے رہے ہیں اور پھر باری آتی ہے مرد حر آصف علی زرداری کی‘ تو ان کے کارندوں نے بھی موصوف کے دور میں کھل کر کھیلا،اور خوب استحصال کیا غریب ،مجبور اور بے بس کسان کا۔
بہرحال 26,27,28اپریل کو قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں کسانوں کی بات ہوگی،ان کے مسائل اور محرومیوں کی بات ہوگی،اس گرینڈ ایونٹ کے انعقاد پر چیف ایڈیٹر خبریں گروپ جناب ضیا شاہد اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں غفار مبارکباد کے مستحق ہیں،انشاءاللہ اس میلے کے مہمانوں کی موجودگی میںکسان رہنماﺅں اور میزبانوں کی طرف سے کسانوں کا مقدمہ بہتر طور پر سامنے رکھا جائے گا ،ان کے مسائل کے بہتر حل سے میرے دیس کا کسان خوشحال ہوگا اور جس دن میرے دیس کا کسان خوشحال ہو گیا سب پریشانیاں ٹل جائیں گی کیونکہ یہ کسان ،یہ محنت کش اس کوشش میں ہے کہ یہ ارض پاک خوشحال ہو سکے،وسیب کے کسان پر امید ہیں،پر جوش ہیں اور خوش بھی کہ خبریں ان کی آواز بنا کیونکہ خبریں ہر مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی مضبوط اور موثر آواز بنتا چلا آیا ہے ۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved