تازہ تر ین

بے وفائی کے گھاﺅ!

حیات عبداللہ……..انگارے
انسان ٹوٹ سا جاتا ہے ، کسی کی بے وفائی پر اس کے دل میں ہوک سی اٹھنے لگتی ہے ، حساس دلوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ جب بھی خلوت نشیں ہو کر کسی کی کج ادائی پر غور کرتے ہیں تو آنکھیں بھیگتی چلی جاتی ہیں ، جوں جوں یہ لوگ سوچ کی بنجر راہوں اور خیالات کے صحراﺅں میں آبلہ پائی کرتے جاتے ہیں ، آنسو ٹپ ٹپ گرتے چلے جاتے ہیں ، اشکوں کی ایک جھڑی سی لگ جاتی ہے ۔ وہ اپنے کسی دوست، کسی رشتہ دار اور کسی لاڈلے پر اپنے احسانات کو یاد کرتا چلا جاتا ہے اور بدلے میں ملنے والے احسان فراموشی کے گھاﺅ اور بے وفائی کے زخم آنسوﺅں میں ڈھل کر آنکھوں سے بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اس ماحول اور معاشرے پر غور کر لیجئے ! کتنے ہی لوگ اپنوں کی بے وفائی پر شکوہ سنج دکھائی دیتے ہیں ۔ لاریب ہمارے رویوں کے تمام اجزائے ترکیبی خود غرضی کے بدنما اور سیاہ کمبل میں ملفوف ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ایسے میں وفائیں مٹتی جا رہی ہیں، خلوص معدوم ہونے لگا ہے ، شفق رنگ اور اجلے تعلقات مدھم اور پھیکے ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم کسی پر جتنے زیادہ احسانات کرتے ہیں اس کی بے وفائی پر اتنے ہی رنجور اور ملول ہوتے ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ اب لوگ کسی پر احسان کرتے ہوئے بھی سوچنے لگے ہیں کہ کہیں بدلے میں فتنوں کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے، کچھ لوگ سر عام اپنوں کی احسان فراموشی کو یاد کرتے ہیں تو کچھ اندر ہی اند گھٹ کر جلتے اورسلگتے ہیں ۔ لوگوں کی اکثریت آج مطلب اور ضرورت کے سانچوں میں ڈھلی ہے۔
ضرورت جب مری ہو تو مجھے سر پر بٹھاتے ہیں
محبت کے ہنر سارے مرے اپنوں کو آتے ہیں
دوستوں کی کج ادائیوں ، رشتہ داروں کی بے پروائیوں اور ہم رکابوں کی احسان فراموشیوں کو زندگی کا روگ بنا لینے والے لوگوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارانہ کی کہ ہم نے بھی تو بے وفائیوں اور کج ادائیوں کے انبار لگا رکھے ہیں ۔ ہم نے بھی تو نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، ہم نے بھی تو اپنے محسن کے احسانوں کو فراموش کر دیا ہے ۔ ہمارے محسن نے ہم پر احسانات کی بارش کر رکھی ہے مگر ہم نے بے رغبتی اور بدذوقی کی انتہا کر دی ہے۔ وہ اللہ رب العزت جو ہم پر ہماری ماﺅں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ دنیا مانتی ہے کہ سب سے زیادہ مقدس اورپاکیزہ محبت ماں کی ہوتی ہے اس دنیا میں سب سے زیادہ احسان ماں اپنی اولاد پر کرتی ہے مگر وہ اللہ ہم پر ماﺅں سے بھی زیادہ شفیق اور مہربان ہے ۔ آپ اپنے وجود پر سرسے لے کر پاﺅں تک غور کر لیجئے ، آپ شرق و غرب کی فراخیوں میں پھیلی ان گنت نعمتوں کو دیکھ لیجیے اور آپ تابہ فلک بکھری ہر چیز کا مشاہدہ کر لیجئے آپ کسی ایک چیز پر بھی انگلی رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اللہ کے علاوہ کسی اور نے تخلیق کی ہے ۔ اس کائنات میں کوئی ایک شے بھی ایسی نہیں جو اللہ کے علاوہ کسی اور کی کاریگری ہو ، ہمارے جسم کا کوئی ایک حصہ اور کوئی ایک جذبہ بھی ایسا نہیں جو کسی اور نے ہمیں عطا کیا ہو۔ آپ اللہ رب العزت کی محبتوں اور رحمتوں کا عالم دیکھیے کہ ہماری ہر طرح کی نا فرمانی کے باوجود وہ اللہ اپنی رحمتوں میں کمی نہیں کرتا ، حتیٰ کہ مشرکین اور کفار کو بھی مسلسل نعمتوں سے نواز رہا ہے۔ اگرچہ قیامت کے دن یہ لوگ کبھی جنت میں نہیں جا پائیں گے مگر وہ اللہ اس دنیا میں سب پر احسانات کر رہا ہے ۔ ہم اپنے محبوب کی بے اعتنائیوں پر اپنے سینوں میں غم و اندوہ کی انگیٹھی سلگائے بیٹھے ہیں ۔ صبح و مساان لوگوں کی غیبتیں کر کر کے اور جا بہ جا ان کی احسان فراموشی کے تذکرے کر کے بھی ہمارے تپتے اوردہکتے سینوں میں ٹھنڈ نہیں پڑتی لیکن ہم نے اس رب کے ساتھ اپنی بے وفائی پر کبھی غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، جو ہمیں مستقل بنیادوں پر نعمتوں سے نواز رہا ہے ۔ ہم نے کبھی تخلیے میں یہ نہیں سوچا کہ اس پروردگار کے ساتھ ہم نے کتنی بے اعتنائی برتی ہے ۔ ہم کسی بھی شخص کے ساتھ جو بھی احسان کرتے ہیں اس میں ہمیشگی اور دوام تو نہیں پایا جاتا مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو احسانات کرتا ہے وہ تو پوری زندگیوں پر محیط ہوتے ہیں ۔ ہم جب تک زندہ رہتے ہیں اس کی نعمتوں اور رحمتوں سے مستفید ہوتے رہتے ہیں ، مگر کیا وجہ ہے کہ ہم اس معاملے میں کبھی اتنے حساس ثابت نہیں ہوئے کہ تنہائی میں بیٹھ کر یا کسی خلوت کدے میں اپنے گھٹنوں میں سردے کر اس رب تعالیٰ کے احسانوں اور اپنی نا فرمانیوں کو یاد کر کے رو دیے ہوں ، اس معاملے میں ہماری تمام تر حساسیت کیوں مردہ ہو ہو جاتی ہے ؟ اس رب کی تمام تر نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے باجود کیا ہم اتنی سی فہم نہیں رکھتے کہ ہم اپنے چاہنے والوں پر محدود احسان ہی کر سکتے ہیں ، ہم کسی بھی شخص کو ان گنت نعمتیں نہیں دے سکتے ، جبکہ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں وہ لامحدود ہیں ۔ سورة النحل آیت نمبر18میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ” اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو توا ن کو گن نہیں سکتے“ ہم کسی بھی شخص کے ساتھ محدود پیمانے پر شفقت اور مہربانی کر سکتے ہیں جبکہ اللہ رب العزت کی محبتیں اتنی بے پاپاں ہیں کہ ان کا تصور ہی محال ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی ایسی محبت کا اقرار خود قرآن مجید کی سورة النحل آیت نمبر7میں کرتے ہیں ۔”تمہارا رب لوگوں پر بڑا ہی رﺅف اور رحیم ہے “۔
اللہ کی اپنے بندوں سے بے کراں محبتوں کا اندازہ اس حدیث سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے کہ ”حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جو دوڑ رہی تھی ، جب اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا تو اسے پکڑا اور اپنی چھاتی سے چمٹا لیا ، پھر اسے دودھ پلایا ، تب رسول اللہ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ؟ ہم نے کہا، اللہ کی قسم نہیں ، اگر اسے نہ پھینکنے کا اختیار رکھتی ہو ، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم جتنی یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہے“ ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم عزت اور محبت سے لے کر عشق تک کے تمام جذبے جس کے قدموں میں بھی ڈال دیں وہی زندگی کو اجیرن بنا ڈالتا ہے۔ محبتوں کی دنیا میں جو بھی ہمارا انتخاب ہوتا ہے وہی سانسوں میں تلخیاں گھول دیتا ہے۔
دنیا بڑی خراب ہے میںنے کہا تو تھا
جینا یہاں عذاب ہے میں نے کہا تو تھا
کچھ دن میں تجھ کو خون کے آنسو رلائے گا
تو تیرا انتخاب ہے میں نے کہا تو تھا
اگرآپ واقعی حساس دل واقع ہوئے ہیں تو یقیناً آپ کو اس لطف اور سرور کا اور اک اور شعور ضرور ہو گا جب کوئی آپ کو چہیتا اور پیارا شخص اپنی بے وفائیوں اور احسان فراموشیوں کا احساس کر کے معافی طلب کرنے آپ کے پاس لوٹ آیا ہو اس وقت آپ کو کتنی ہی خوشیاں ملی ہوں گی ، کتنی ہی مسرتوں نے آپ کو اپنے حصار میں لے لیا ہو گا ، اگر آپ کو رب العزت کے ساتھ اپنی احسان فراموشیوں کا احساس ہو گیا ہے اگر واقعی اس خالق اور مالک کے ساتھ اپنی بے رخی آپ کو بے کل کرنے لگی ہے تو پلٹ آئیے اس رب کی طرف یقیناً اس پروردگار کی محبتوں اور رحمتوں کو بھی آپ کی اس تبدیلی پر جوش آئے گا ۔ لوٹ آئیے اپنے رب کے سامنے ، اللہ کی قسم رب کی رحمتیں اور محبتیں آپ کو اپنے دامن میں لینے کی کب سے منتظر ہیں۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved