تازہ تر ین

افتخار مجاز- چند یادیں ،چند باتیں

عبدالستاراعوان….نقطہ نظر
ممتازصحافی، ادیب اور شاعر افتخار مجاز کے انتقال پرملا ل پر دیر سے قلم اٹھا رہا ہوںکہ انہیں مرحوم لکھتے ہوئے آنکھیں پرنم سی ہوجاتی ہیں ۔ یقین نہیں آتا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر شہر خموشاں میں جا بسے ہیں۔اس طالب علم نے افتخار مجاز کی صحبتوں اورا ن کی سرپرستی سے بہت کچھ سیکھا تھا ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ بے حد حوصلہ افزائی کرنے والے ایک زندہ دل انسان تھے۔افتخار مجاز اپنے عہد کے ایک بڑے ادیب ، شاعر اورصحافی کا نام تھااور یہ ان کی خوش بختی تھی کہ انہیںخوب شہرت میسر آئی اور چاہنے والوں کا وسیع حلقہ ملا۔ ان کے بڑے بھائی اعزاز احمد آذر مرحوم کا شمار بھی ممتاز ادیبوں اور شعراءمیں ہوتا ہے۔ افتخار مجاز کے ساتھ راقم کی بہت سی حسین یادیں وابستہ ہیں ۔ان کی زندگی کے آخری پانچ برس میں ان کے ساتھ بہت زیادہ قلبی اور روحانی تعلق پید ا ہو گیا تھا ۔ انہیں کتابوں سے بے حد محبت تھی ۔وہ کتابوں ‘مصنفین و مولفین کاتذکرہ بڑی اپنائیت سے کیا کرتے ۔ان کے گھر میں بھی ہرطرف کتابیں ہی دیکھنے کو ملتیں۔ انہیں اردو اور پنجابی کے بہت سے اشعار ازبر تھے اور ادبی محفلوں میں اشعار سناکر خوب رنگ جماتے ۔ میں جب بھی ان کے پاس حاضر ہوا یا کسی ادبی محفل میں ملاقات ہوئی تو میری ان سے یہی خواہش ہوتی کہ وہ پنجابی شاعر اللہ دتہ عرف جوگی جہلمی کے اشعار ضرور سنائیں۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ یار صرف کھاپی لینا اور بچے پال لینا ہی زندگی نہیں بلکہ زندگی وہ ہے جس کی کوئی واضح سمت ہو اور جو ایک خاص سوچ اورمقصد کے تحت گزاری جائے ۔ زندگی کسی مربوط خیالات کے تسلسل اور نظریات کا نام ہے ۔ اپنی اس بات کی دلیل میں جب وہ جوگی جہلمی کے اشعار سناتے تو خود بھی جھوم اٹھتے اور سامع بھی انہیں داددیے بغیر نہ رہ پاتا ۔یہ اشعار میں نے انہی کی زبانی سن کر ڈائری میں نوٹ کر لیے تھے۔ اشعار یہ ہیں
مال نال زندگی، نہ با ل نال زندگی
ناں ماں پیاں دے نال ،تے ناں زال نال زندگی
زندگی تے موت جوگی دویں ہی کوئی چیز نئیں
خیال نال موت اے ،تے خیال نال زندگی
(مال کے ساتھ زندگی ہے اور نہ بچوں کے ساتھ۔والدین کے ساتھ زندگی ہے اور نہ بیوی کے ساتھ۔زندگی اور موت کوئی چیز نہیں ہے۔ بس خیالات و نظریات کے ساتھ زندگی ہے اور خیالات و نظریات کے ساتھ ہی موت ہے) ۔
مجاز صاحب سے کوئی اکیلے میں ملتا یا وہ کسی ادبی محفل میں رونق افروزہوتے اشعار کے سہارے اپنے خیالات کی نکاسی کرتے ۔ برموقع اور برمحل شعر کہنایا کوئی ادبی چٹکلہ پھینکنا ان پر بس تھا۔ ریحانہ مشتاق ہسپتال میں داخل تھے اورراقم ان کے پاس بیٹھا تھا تو ایک ڈاکٹر صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے مجاز صاحب! آپ زیادہ ادبی باتیں اور شاعری نہ سوچا کریں اس سے دل مزیدمغموم ہوجاتا ہے۔ ادبی محفلوں میں اپنے دبنگ لہجے کی منفرد پہچان رکھنے والا یہ شخص اب چراغ آخر شب تھا اور ا س کے لہجے میں کمزوری کا عنصر غالب تھا لیکن طنز و مزاح کا دامن انہوں نے یہاں بھی ہاتھ سے نہ جانے دیااور اپنے معالج سے لرزتی کانپتی آواز میں گویا ہوئے ۔ ”اوئے یار گل سنڑ۔ میں ادبی گلاں نہ سوچاں تے فیر منشا بم طرح زمیناں تے قبضے کرن دے بارے سوچنا ں شروع کردیاں“۔(یار!بات سنو اگر میں ادبی باتیں نہ سوچوں توکیامنشا بم کی طرح زمینوں پر ناجائزقبضے کرنے کے متعلق سوچنا شروع کر دوں)۔یاد رہے کہ ان دنوں لاہور کے لینڈ مافیا منشا بم کا ذکر زبان زد عام تھا۔پھر وہ ڈاکٹر سے کہنے لگے کہ جناب ہمارے اردو شعرا نے صرف عشق معشوقی کی شاعری ہی نہیں کی بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر پیش آنے والے واقعات و حالات اور بیماریوں کوبھی اپنی شاعری میں سمو دیا ہے ۔ میں اب بستر علالت پر ہوں اور انہی اشعار کو دہراتا رہتا ہوں ۔ پھر انہوںنے غالب ، فانی بدایونی اور حمید جالندھری کے یہ اشعار سنائے توڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ہم بھی مسکرا کر رہ گئے ۔
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت
احباب سے غم خوار ہو ابھی نہیں جاتا
آنے لگے ہیں وہ بھی عیادت کے واسطے
اے چارہ گر مریض کو اچھا نہ کیا جائے
افتخارمجاز نے 65برس عمر پائی اور عارضہ قلب کے سبب انہیں موت نے آلیا۔وہ 1978ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکزسے بطور اسسٹنٹ پروڈیوسرکرنٹ افیئرز وابستہ ہوئے۔ان کا شمار پی ٹی وی کے سینئر لوگوں میں ہوتاتھا۔ جب وہ 34برس کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو نامور ادیبوں نے اسے پی ٹی وی کے لیے ایک عہدکاخاتمہ قرار دیاتھا۔انہوں نے پی ٹی وی کے شعبہ حالات حاضرہ کے پروڈیوسر کے طور پر لاتعداد شہرہ آفاق پروگرام تخلیق کئے اور بہت سے نئے ٹیلنٹ متعارف کروائے۔افتخار مجاز روزنامہ خبریں سمیت دیگرقومی اخبارات میں کالم بھی لکھتے اورتعلیمی اداروں میں الیکٹرانک میڈیا اورکتب بینی پر خصوصی لیکچر بھی دیاکرتے۔ عام طور پر دیکھا گیا کہ ادیب اورشعرا مذہب بیزار ہوتے ہیں لیکن مجاز صاحب راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ نماز کی ادائیگی کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ راقم نے ایک قومی اخبار میں تبصرہ کتب کی ذمہ داری سنبھالی تو جس شخص نے قدم قدم پر سب سے بڑھ کرحوصلہ افزائی کی وہ افتخار مجازہی تھے۔جس دن پہلا صفحہ شائع ہواتو صبح سویرے ہی ان کا فون آگیا۔کہنے لگے یار!اخبار میرے سامنے ہے اور آپ کے تبصرے دیکھ کر خوش ہو رہا ہوں۔بس آپ کالم بھی لکھا کریں لیکن یہ کام زیادہ ضروری ہے کہ دم توڑتے کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے کوشش کی جائے اور مصنفین و مولفین کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی مفید مشوروں اور تجاویز سے نوازتے تھے ۔
بس انسان اس فانی دنیاسے رخصت ہوجاتاہے اوراس کے چاہنے والوںمیں اس کے تذکرے اورحسین یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ سینئرکالم نگاروں ، صحافیوں اور ادیبوں کی طرف سے افتخار مجازکی یادمیں مضامین لکھے جارہے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا ایک زبر دست سلسلہ جاری ہے ۔اگر ان کالموں اور مضامین کو کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے تو اس سے اپنے وقت کے ایک بہت بڑے ادیب اور صحافی کی شخصیت اور فن بھی محفوظ ہو جائے گا اور یہ ادب کے طالب علموں کے لیے بھی خاصے کی چیز بن جائے گی ۔ اللہ کرے ایسا جلد ممکن ہو ۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved