تازہ تر ین

عمران خان کا نظرےاتی رےاست کا وژن

رانا زاہد اقبال …. اظہار خیال
اسلامی جمہورےہ پاکستان ےقےناً اےک نظرےاتی رےاست ہے اورا س نظرےے کی اساس دےنِ اسلام پر قائم ہے اور اس کا آئےن، قوانےن، قواعد و ضوابط، رواےات اور تہذےب و ثقافت کا خمےر بھی اسلامی تعلےمات سے ہی اٹھاےا گےا ہے۔ ےہی وجہ ہے کہ ےہ بات کہنا بے جا نہ ہو گا کہ برِ صغےر پاک و ہند کے تناظر مےں جب بھی نظرےہ پاکستان ےا دو قومی نظرےے کا ذکر کےا جاتا ہے تو اس سے مراد صرف اور صرف دےنِ اسلام ہی ہوتا ہے۔ کوئی اور ضابطہ ےا نظرےہ¿ زندگی مراد نہےں ہوتا۔ تحرےکِ پاکستان کے تمام ادوار مےں ےہ نعرہ انتہائی مقبول تھا کہ پاکستان کا مطلب کےا ؟ جس کے جواب مےں تمام مسلمان باہم مل کر ببانگِ دہل ےہ کہتے تھے” لا الہ الا اللہ“ جس کی منشا ےہ تھی کہ مسلمانوں کی آبادی کے اکثرےت والے علاقوں مےں نئی قائم ہونے والی رےاست کا نظرےہ دےنِ اسلام ہو گا۔ قرآن حکےم اس کا دستور، رسول کی سنت قانون ہو گا اور رےاستِ مدےنہ اس کی عملی شکل ہو گی۔ تحرےکِ پاکستان کے دوران قائدِ اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور مسلم لےگ کے تمام زعما اپنے خطابات مےں اپنی تقارےر اورا پنی تحرےروں مےں ےہی نقطہ نظر پےش کرتے رہے کہ مسلمانوں کے لئے بننے والا نےا ملک نہ صرف اسلامی تہذےب و تمدن کا گہوارہ ہو گا بلکہ وہ مسلمانوں کو اےسا نظامِ حےات فراہم کرے گا جس کا پورے کا پورا خمےر اسلامی تعلےمات سے اٹھاےا گےا ہو گا۔
قےامِ پاکستان کے بعد ہمارے حکمران اس بات کو بھول گئے تھے۔ آج سات دہائےوں کے بعد اےک بار پھر وزےرِ اعظم عمران خان قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کے تحت رےاستِ مدےنہ کی طرز کی رےاست وطنِ عزےز مےں قائم کرنے کے خواہاں ہےں۔ ان کی خواہش ہے کہ ےہ اےسی رےاست ہو جہاں تمام لوگوں سے اےک جےسا برتاو¿ کےا جائے۔ تحرےکِ پاکستان کے دوران جب نظرےہ پاکستان اور پاکستان کے قےام کی بات کرتے تھے تو وہ قومی نظرےے کے معاشی اور سےاسی پہلو اےک عام دےہاتی مسلمان کو تحرےکِ پاکستان کی طرف متوجہ نہےں کرتے تھے۔ البتہ جب دےنِ اسلام کی بات کی جاتی تو اس بات کی طرف متوجہ ہوتے تھے کہ مسلم لےگ کے جھنڈے تلے قائم ہونے والی نئی رےاست نہ صرف اسلامی تعلےمات کے نفاذ اور ان پر عمل کرنے کا اےک م¿وثر ذرےعہ بنے گی، تو تمام دےہاتی مسلمان اسلامی رےاست، پاکستان کے قےام کی حماےت کرتے تھے۔
پاکستان کا قےام در حقےقت رےاستِ مدےنہ کی اےک ترقی ےافتہ شکل ہے اور آج وزےر اعظم پاکستان عمران خان اس خواب کو پاےہ تکمےل تک پہنچانے کے لئے کوشاں ہےں ۔ جس کا سبز ہلالی پرچم مدےنہ کے گنبدِ خضراءکا عکس پےش کرتا ہے اور جس کے نام کا پہلا حصہ اسلامی تعلےمات اور رےاستِ مدےنہ کی توسےع کا ضامن ہے تو دوسرا حصہ جمہورےت کے ذرےعے انسانی مساوات کی تعلےم دےتا ہے۔ اس لئے ےہ کہنے مےں ہچکچاہٹ نہےںکہ عمران خان پاکستان کو عصرِ حاضر مےں اسلامی نظامِ حےات نافذ کرنے کی تجربہ گاہ کے طور پر دےکھ رہے ہےں جس مےں اسلام کا سےاسی، معاشی، ثقافتی اور اخلاقی نظام نافذ کرنا چاہتے ہےں۔ وزےر اعظم عمران خان کا ےہ کہنا بالکل درست ہے کہ آج پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے ان کا بنےادی سبب نظرےہ پاکستان سے انحراف، اسلام سے دوری اور دشمنانِ اسلام سے توقعات کی استواری ہے اور وہ انہی اصولوں پر رےاست کو قائم کرنا چاہتے ہےں جن کی بنےاد پر ےہ حاصل کی گئی تھی۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved