تازہ تر ین

شاید وہ ہمارا منتظر ہو

حیات عبداللہ……..انگارے
رب کی رحمتوں سے مزین، مرتب، بیش بہا اور گراں مایہ ایام چہار سو جلوہ کناں ہو چکے، ان سعید لمحات میں من حیث المجموع چلن اور روش یہی اپنائی جاتی ہے کہ عبادات کے لیے مساجد میں جگہ تنگ پڑ جاتی ہے، عبادت اور ریاضت کے لیے یہ کشود اور کشاکش اپنی جگہ قابل تحسین ہے، گناہوں کی پوٹ کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مساجد میں قیام، ماہِ صیام کا پیام ہے، قرآن کی تفہیم کے لیے تراجم اور تفاسیر کو حرزجاں بنا لینا اس ماہِ مقدس کے مقاصد میں شامل ہے۔انسانی زندگی میں ان گنت حوالے اور عنوان ہیں جن کے لیے رمضان، ربّ کا احسان بن کر آتا ہے، یہ ماہِ مبارک زندگیوں میں بہت سی رعنائیاں بکھیرنے کے لیے جلوہ افروز ہوتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت دیگر ایمانی لذتوں سے بہت کم آشنائی اختیار کرتی ہے، تعلقات اور معاملات اسلام کا ایسا حصہ ہیں جن سے دین کے ساتھ گہرا لگا¶ رکھنے والے لوگ بھی گریز پائی اور بے پروائی برتتے ہیں۔ مجھے کہنے دیجیے کہ اعمال کی سطح مرتفع پر فائز لوگوں کو بھی جب معاملات اور تعلقات درست کرنے کی ترغیب دی جائے تو غچّہ دے جاتے ہیں، دراصل لوگوں کی اکثریت اس کو دین سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں، کوئی کثرتِ مال کے باعث احساسِ تفاخر میں مبتلا ہے تو کوئی اپنے علم پر نازاں، کوئی اپنے حسب و نسب پر اتراتا ہے تو کوئی عہدے اور مقام پر یوں ریجھ بیٹھتا ہے کہ اسے تعلقات کی حساسیت کا احساس تک نہیں رہتا، اگر تعلقات میں تمازت نہ رہے تو عبادت میں ریاضت مفید اور کارگر نہیں ہواکرتی۔
لاریب آگ برساتے سورج تلے انتہائی تپتے اور گرم ماحول میں روزے رکھنا، قیام اللیل کرنا اور صبح شام کے اذکار سے اپنے لبوں کو شاداب رکھنا، رب لم یزل کی خوشنودی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہیں مگر صوم و صلوٰة میں مشغول کتنے ہی لوگوں کے درمیان شکستہ کہانیاں، رشتوں کو مسموم کر رہی ہیں، کتنے ہی لوگوں کے تعلقات زخمی زخمی اور لہولہان ہیں کہ اگر ان مضمحل داستانوں کو دل زیب حقیقتوں میں نہ بدلا گیا، اگر ان رِستے معاملات کے زخمی لب نہ سیے گئے تو پھر آپ یقین کر لیں کہ آپ کی عبادات لاحاصل ہی تو ہیں، میرا اصل مخاطب اور رُوئے سخن دین شناس طبقہ کی سمت ہے جو ہر معاملے میں قرآن اور حدیث رسول پیش کرتا ہے مگر جب آپس کے معاملات اور تعلقات کی بات آتی ہے تو دلوں پر کوئی حدیث اثرانداز نہیں ہوتی، وہ رعونت کے مرگھٹ پر دم توڑنے کے لیے تو تیار ہو جاتے ہیں مگرناراضی کو ختم کرنے میں پہل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، تخیلات کی یہ تاریکی اور سیاہی معلوم نہیں کتنے ہی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر چھائی ہے، اس کہر اور دھند نے پتا نہیں کتنے لوگوں کے درمیان جدائی ڈال رکھی ہے، حالاں کہ تعلقات میں خرابی کا باعث بات ہوتی بھی سطحی اور حقیر سی ہے مگر تپتے احساسات کے ریگزاروں پر آبلہ پائی کرتے کرتے تھکتے ہی نہیں اور یہ صحرا نوردی ہوتی ہی کچھ ایسی ہے کہ بالآخر گھمبیر تضادات کو جنم دے کر عناد اور فساد کی ایسی خارزار جھاڑیاں اگا دیتی ہے کہ جو باہم م¶دت اور محبت کو حرف غلط کی طرح مٹا ڈالتی ہے۔
مجھ کو اس شخص کے افلاس پہ رحم آتا ہے
جس کو ہر چیز ملی، صرف محبت نہ ملی
یہ حقیقت ہے کہ احادیث رسول کو ہم اپنی جان و دل سے لگا کر رکھتے ہیں مگر کتنی ہی بار میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جب کوئی صاحب علم کشیدہ خاطر لوگوں کے مابین تعلقات کو ازسرنو استوار کرنے اور اس سلسلے میں پہل کرنے والے کے لیے اجروثواب کے متعلق احادیث سناتا ہے تو پھر ہر دو شخص یہی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ کیا یہ احادیث صرف میرے لیے ہی ہیں دوسرا فریق ان پر عمل کیوں نہیں کر لیتا؟ احادیث کے حوالے سے اس وقت لوگوں کا ذہن بالکل ہی متضاد رنگ اختیار کر لیتا ہے، باقی تمام احادیث پر ہم عمل کرنے کے لیے مستعد اور تیار ہوتے ہیں یا کم از کم ہم ان احادیث کو اپنی ذات سے جدا نہیں سمجھتے مگر رنجشوں اور تلخیوں کو ختم کرنے میں پہل کرنے کی احادیث کو نہ صرف ہم دوسروں کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں بلکہ کسی کی بے رخی کا جواب اس سے بھی بڑھ کر بے اعتنائی سے دینے کے لیے موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
کاش! وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
تعلقات کو بگاڑنے اور پھر اس کو آدرش بنا لینے والے ذہنی گراوٹ میں مبتلا لوگوں کے لیے میں نے صرف تین احادیث رسول کا انتخاب محض اس لیے کیا ہے کہ شاید ایک دوسرے سے نالاں دلوں میں محبت کا کوئی رنگ چھلک اٹھے، شاید دو دلوں کے مابین دم توڑتے تعلقات میں کوئی احساس خفیف سی جھرجھری لے لے، شاید ان احادیث کے مطالعے کے بعد رشتوں ناتوں کی گزرگاہوں پر تاک میں بیٹھے قزاق اور سنگلاخ جذبوں میں نرماہٹ کا کوئی در وا ہو جائے، شاید ان احادیث کو دل کی گہرائیوں اور جذبوں کی سچائیوں سے پڑھنے کے بعد کوئی شخص عناد اور فساد کو ختم کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کردے، ممکن ہے کوئی ایک ہی شخص اپنی اس جھوٹی انا کے خول کو اتار پھینکے جس نے رشتوں کو جھلسا ڈالا ہے۔
نبی نے فرمایا کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے تین راتوں سے زیادہ ناراض رہے کہ دونوں راستے میں اگر مل جائیں تو یہ بھی اعراض کرے اور وہ بھی اعراض کرے، ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (بخاری)
نبی مکرم نے فرمایا کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے اور اس سے ناراض رہے، پس جس شخص نے تین دن سے زیادہ بائیکاٹ کیا اور وہ اس حال میں مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔ (الادب المفرد)
نبی رحمت نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے اعمال ہفتے میں دو بار پیر اور جمعرات کے دن اللہ کے ہاں پیش کئے جاتے ہیں تو ہر مومن بندے کو بخش دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اورناراضی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑیں یہاں تک کہ صلح کر لیں۔ (مسلم: 1988)
رمضان المبارک کی سعید ساعتیں پھر سے ہماری زندگیوں میں آ گئی ہیں، ہم پھر سے اپنے نفس کی قربانی دے کر روزے رکھ رہے ہیں،یقیناًیہ مہینہ صبر اور اجر کا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے نفس کے ساتھ ساتھ انا¶ں کو بھی قربان کر کے دم توڑتی امیدوں میں محبتوں کے ایسے چراغ روشن کر لیں جو حسد، بغض اور عناد کی تاریکیوں کو مٹا ڈالیں، جو صرف محبتوں سے عبارت ہوں، جو صرف اور صرف الفتوں کے داعی ہوں اور جو صرف اور صرف چاہتوں کو پروان چڑھائیں اس لیے کہ ماہِ صیام میں ہر نیکی کا ثواب ستّر گنا سے بھی زیادہ ملتا ہے، پس ہم لوٹ آئیں اپنے بھائی کی طرف جس سے ہم کبھی دل و جان سے محبت کیاکرتے تھے، ہم پہل کر لیں اس کی طرف ہاتھ بڑھانے میں۔۔۔ شاید وہ ہمارا منتظر ہو۔۔۔ شاید وہ ہماری راہ دیکھ رہا ہو۔
چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بدگماں کیوں ہو؟
کوئی رشتہ ذرا سی ضد کی خاطر رائیگاں کیوں ہو؟
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved