تازہ تر ین

تاریخ میں سفر

اعتبار ساجد……..قلم کہانی
لوگ ریلوں، بسوں، کاروں یا ہوائی جہازوںمیں سفر کرتے ہیں۔ ہمارے آغا امیر حسین نے تاریخ میں سفر کیا ہے اور یہ صرف گھنٹوں، ہفتوں، مہینوں یا برسوں پر محیط نہیں، صدیوں پر محیط ہے۔ چودہ صدیوں کا سفر تو ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے چلے آ رہے ہیں لیکن قبل از تاریخ کا سفر مشکل ہی سے کہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہ شکل آغا صاحب نے اپنی تصنیف لطیف ”تاریخ میں سفر“ سے حل کیا ہے۔ اور ہمیں قبل از تاریخ کے حوالہ جات اور امکانات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ نہ صرف آگاہ کیا ہے بلکہ اس تسلسل کو آخر تک برقرار بھی رکھا ہے۔ مختلف ادوار کے ایسے نازک مراحل بھی نہایت احتیاط اور تدبر سے بیان کئے ہیں کہ قاری ان کی غیر جانبداری پر انگشت بنداں رہ جاتا ہے۔
انسانی تاریخ میں بعض ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن کے مورخین کی آراءاور نقطہ¿ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہےں۔ قاری شش و پنج میں پڑ جاتا ہے کہ کس مو¿رخ کی بات کو درست تسلیم کرے اور کس مو¿رخ کی بات یا بیان پر شک کرے۔ ایسے متنازعہ موضوعات پر کمال ہنر مندی سے آغا صاحب نے متوازن راستہ اختیار کیا ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے اور جس میں کسی قسم کے ذاتی عناد یا مفاد کی بُو موجود نہ ہو۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ مگر دلکش ہے۔ الفاظ کے چناﺅ میں بھی انہوں نے شعوری ہاں شعوری طور پر بہت احتیاط برتی ہے کیونکہ معاملہ تاریخ کا ہے کسی داستان کا نہیں جس میں الفاظ چاہے جیسے بھی استعمال کئے جائیں قارئین کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتے۔ انہیں داستان سے دلچسپی ہوتی ہے۔ گرا مر سے نہیں۔ آغا صاحب کی تاریخ کا یہ سفر ان کی اپنی ذاتی زندگی کے کئی برسوں پر محیط ہے۔ روز و شب وہ اسی کام میں منہمک رہے۔ انتہا یہ کہ شدید علالت، دفتری امور، کاروباری مصروفیات بھی ان کے آڑے نہ آسکیں جیسی یہ کتاب تھی۔ ویسی ہی شاندار اس کی تقریب تھی۔ اسٹیج پر ہمارے عہد کی وہ تمام معروف شخصیات موجود تھیں جن کا تاریخ پاکستان کے کسی بھی شعبے سے کوئی تعلق رہ چکا تھا یا ہے، صدارت سابق گورنر پنجاب شاہد حامد نے کی جبکہ جسٹس (ر) سید افضل حیدر مہمان خصوصی تھے۔ مہمانانِ اعزازمیں ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر، پیلاک کی ڈائریکٹر جنرل صغریٰ صدف، معروف تجزیہ کار ایاز میر، ہیومن رائٹس کے آئی اے رحمن، حامد میر، اقتدار جاوید اور یہ خاکسار شامل تھا۔
مقررین نے اپنی اپنی جگہ کتاب کے حوالے سے بہت جامع تبصرہ کیا۔ اپنے مشاہدات اور تجربات سے بھی آگاہ کیا۔ لیکن سب سے زیادہ اہم بات مجموعی طور پر تمام مقررین نے کی کہ اس کتاب اور اس کے مندرجات کو نصابی سطح پر متعارف ہونا چاہیے۔ آغا امیر حسین کو کبھی نقوی کہا گیا کبھی جعفری کہا گیا لیکن نقوی ہو یا جعفری، اصل بات اس کام کی ہے جو آغا صاحب نے بڑی یکسوئی اور جانفشانی سے تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اپنے مختصر ترین خطاب میں انہوں نے نہایت انکساری سے کام لیا اور اس کتاب کی اہمیت، ضرورت، مشکلات اور تحریری قالب میں ڈھالنے تک کے مراحل کا ذکر کیا۔ کہیں بھی تعلی یا تفاخر سے کام نہیں لیا۔ ایک طمانیت آمیز روشنی البتہ ان کی آنکھوں اور چہرے سے پھوٹتی رہی۔ یہ طمانیت اس مصور یا ادیب کی طمانیت تھی جو اپنے کام کو دیانت داری کے ساتھ سرانجام دے کر ایک طر ف بیٹھ جاتا ہے اور اپنے قاری یا ناظر کے ردعمل پر غور کرتا ہے۔ یہ ضخیم کتاب مکمل تو پڑھ نہیں پائے تاہم اس کے جستہ جستہ حصے بڑی یکسوئی سے پڑھ کر ایک خاص کیفیت فہم پر طاری ہوئی جسے ہم نے تاریخ کے چیدہ چیدہ واقعات میں سمونے کی کوشش کی چند اشعار اس لئے پیش خدمت ہیں تاکہ ریکارڈ کی زینت بن سکیں۔ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی زیر اشاعت ہے جو عنقریب تشنگان علم و آگہی تک پہنچے گا۔ سردست آغا صاحب کی صحت اور زندگی کے لئے بے شمار دعاﺅں کے ساتھ اپنے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
تاریخ میں سفر
تاریخ کے سفر کی کہانی عجیب ہے
دریائے روز و شب کی روانی عجیب ہے
گزرا ہے بچپنے کی فضا میں ادھیڑ پن
اس کہنہ ارتقاءکی جوانی عجیب ہے
اک عمر لگ گئی انہیں اس کار خیر میں
آغائے فن کی جانفشانی عجیب ہے
پھر بھی کس اشتیاق سے پڑھتے ہیں اہلِ دل
قصے میں کوئی بھی نہیں رانی، عجیب ہے
کس کے لہو سے سرخ ہے تیری ہر ایک موج
نہر فرات، کیوں ترا پانی عجیب ہے
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved