تازہ تر ین

دینی مدارس کے معاملات‘ حالیہ پیش رفت

مولانا محمد حنیف جالندھریخاص مضمون
یوں تو دینی مدارس کے بہت سے مسائل عرصے سے حل طلب اور زیر بحث ہیں لیکن گزشتہ دنوں اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت کی وزیر اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سمیت دیگر حکومتی ذمہ دران سے ملاقاتوں کے بعد دینی مدارس کے مسائل اور دینی مدارس کے معاملات زیادہ نمایاں ہو کر زیر بحث آئے۔ان ملاقاتوں میں دینی مدارس کے مسائل اور دینی مدارس سے وابستہ افراد کو در پیش مشکلات کے ازالے کی بات ہوئی ۔ ایسے نازک وقت میں جب ملک بھر میں تشویش واضطراب کی فضا تھی ہم نے دینی مدارس، ملک و قوم کے مفاد اور دینی مدارس کی ترجیحات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک محتاط اور متوازن موقف دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد دینی مدارس کے ذمہ داران اور و فاق المدارس کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد سب حضرات اور اداروں کی طرف سے راقم الحروف نے عرض کیا۔ محترم جناب چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم پاکستان سے ہمارے مذاکرات میں ہم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مدارس کے بارے میں کسی حتمی اعلان سے پہلے اتحاد تنظیمات مدارس سے تفصیلات کے بارے میں مشورہ ہو گا جو ابھی باقی ہے۔ ہمارا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے اور آج بھی ہے کہ ہم ایک طرف کسی بھی مثبت تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کی آزادی اور حریت فکر و عمل اور نصاب و نظام کے بارے میں کسی ایسی مداخلت کو قطعا قبول نہیں کر سکتے جو دینی مدارس کے مزاج و مذاق کے مطابق نہ ہو۔
اس فوری رد عمل کے بعد اتحادِ تنظیمات مدارس میں شامل تمام تنظیمات سے بھی رابطے ہوئے بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین کا ہنگامی اجلا س دارالعلوم کراچی میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزارق اسکندر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا انوارالحق،مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور راقم الحروف شریک ہوئے۔مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدینہ طیبہ میں تھے ان سے اور مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فون پر مشاورت ہوئی۔ اس اجلاس میں دینی مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے جو غلط تاثر پھیلا اور جن غلط فہمیوں نے جنم لیا ان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہی غلط فہمیوں کی بنا پر 2 مئی بروز جمعرات کو وزارت تعلیم میں ہونے والے اجلا س میں شرکت سے معذرت کی گئی اور اس کی وجہ یہ بیا ن کی گئی کہ اعتماد سازی کے بغیر اجلاس یا مذاکرات لاحاصل ہیں اور جب تک اعتماد کا ماحول نہیں بنتاتب تک مذاکرات یا کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی جاسکتی۔ اس دوران کئی سطحوں پر رابطے ہوئے اور بالآخر 6 مئی2019 برو زپیر وزارت تعلیم میں اجلاس ہوا جس میں اتحادِ تنظیمات مدارس کے قائدین مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن،راقم الحروف محمد حنیف جالندھری،مولانا ڈاکٹر یاسین ظفر، مولانا ڈاکٹر عطا الرحمن،قاضی نیاز حسین نقوی اورمولانا افضل حیدری شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، سیکرٹری وزارت تعلیم اور دیگر اعلی افسران شریک ہوئے۔اس اجلاس میں شرکت کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے ہوا اور اجلاس کے حوالے سے وفاق المدارس کے قائدین اور مولانا فضل الرحمن سے دوبارہ تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر اجلاس کے ایجنڈہ کے حساب سے تمام امور زیر بحث آئے۔ہمیشہ کی طرح اپنی بساط بھر دینی مدارس کا مقدمہ بھرپور طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ دینی مدارس چونکہ وفاقی سطح کے ادارے ہیں،ان کا نظام تعلیم،نصا ب تعلیم اور نظام امتحان ملک گیر ہے اس لیے ان مدارس کے معاملات کو فیڈرل بورڈ اور دیگر اداروں کی طرح وفاقی اور مرکزی سطح پردیکھا جائے۔ اس مطالبہ کو تسلیم کرلیا گیا اور یہ بات طے پائی کہ دینی مدارس کے جملہ معاملات وفاقی وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے کسی صوبائی حکومت یا کسی مقامی ادارے کا دینی مدارس کے ساتھ کوئی واسطہ اورتعلق نہیں ہوگا۔اسی طر ح دینی مداراس کے اس دیرینہ مطالبے کو بھی کو تسلیم کر لیا گیا کہ دینی مدارس کے جملہ معاملات وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے چونکہ اس سے قبل بار ہا یہ تلخ تجربہ ہوچکا کہ دینی مدارس کے معاملات کو کبھی وزارت داخلہ کا کرائسس مینجمنٹ سیل ڈیل کرتا تھا کبھی دینی مدارس کے معاملات نیکٹا کے سپرد کردیے جاتے تھے کبھی دینی مدارس کو وزارت داخلہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا کبھی مذہبی ادارے ہونے کی نسبت سے وزارت مذہبی امور سے دینی مدارس کو نتھی کردیا جاتا تھا۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا کہ دینی مدارس چونکہ تعلیمی ادارے ہیں اس لیے ان کے معاملات وزارتِ تعلیم سے متعلق ہونے چاہئیں۔ الحمداللہ! مدتوں بعد ہمارا یہ مطالبہ مان لیا گیا اور دینی مدارس کے معاملات کو وزارت تعلیم کے سپر د کردیا گیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے ایک تو دینی مدارس روز روز مختلف محکموں اور وزارتوں کے درمیا ن شٹل کاک نہیں بنے رہیں گے۔ ان کے معاملات ایک ہی وزارت دیکھے گی اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کو تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کرکے تعلیمی اداروں کے طور پر ہینڈل کیا جائے کیا جائے گا اور دینی تعلیم کو بھی با ضابطہ طور پر تعلیم تسلیم کیا جائے گا اور جیسے پہلی مردم شمار ی میں پاکستان کا پرچم لہرانے والے علامہ شبیر احمد عثمانی رحماللہ علیہ کو ناخواندہ لکھا گیا تھا ایسے کسی کو دینی تعلیم کی نفی کی جرات نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے معاملات وزارت تعلیم سے متعلق ہوں گے مدارس وزارت تعلیم کے ماتحت نہیں ہوں گے۔ہم مدارس کی معاونت کرنا چاہتے ہیں مدارس پر کنٹرول نہیں چاہتے،نہ ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں بھی بہت واضح طور پر یہ بات کہی۔ لیکن اس کے باوجود بیرونی قوتوں کے ایما پر سرگرم عمل سیکولر اور لادین لابی نے منفی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ منفی چیزوں کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اور اگر کسی معاملے میں منفی پہلو نہ بھی نکل رہا ہو تو اسے زبر دستی منفی رخ دیا جاتا ہے ۔ یہی کچھ مدارس کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس اجلاس اور ان مذاکرات میں برسوں سے تعطل اور التوا کا شکار دینی مدارس کے مسائل حل کیے گئے بہت ہی خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی بہت سے حل طلب امور کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا لیکن اس کے باوجو د ماحول ایسا بنایا جارہا ہے جیسے مدارس کی بساط لپیٹی جارہی ہو جیسے مدارس کی مشکیں کسی جارہی ہوں جیسے مدارس کو بند کرنے کا کوئی ایجنڈہ مسلط کیا جارہا ہو۔بہرحال مجھے درد دل رکھنے والے محب وطن پاکستانیوں سے یہ کہنا ہے کہ ہم تفریق وتقسیم اور بگاڑ وفساد پیدا کرنے والے عناصر کے کسی خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیں اور مثبت انداز سے ملک وملت کی بہتری کیلیے کردار ادا کریں۔
اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے تحت ہوگی اور پہلے جیسے 1860ء کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت وزارت صنعت کے تحت مدارس رجسٹر ڈ ہوتے تھے اب وزارت تعلیم کے زیر اہتمام رجسٹرڈ ہوں گے اور مدارس کی رجسٹریشن کے لیے کوئی نیا ضابطہ اور کوئی نیا فارم تیار نہیں کیا جائے گا بلکہ وہی فارم جس پر حکومت اور اتحا د تنظیمات مدارس کے مابین اتفاق ہوگیا تھااسی متفقہ فارم کی بنیاد پر مدارس کی رجسٹریشن کروائی جائے گی اور رجسٹریشن میں کسی قسم کے روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے بلکہ سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ ہم نے اس پہلو پر بھی توجہ مبذول کروائی کہ وفاقی وزارت تعلیم کا آفس تو اسلام آباد میں ہے مختلف علاقو ں کے مدارس کے ذمہ داران کے لیے اسلام آباد آمدورفت میں مشکل ہوگی اس پر وزارت تعلیم کے حکام نے واضح کیا کہ وزارت کے ریجنل آفس مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود ہیں اور جہاں موجود نہیں ہوں گے اور ہم ضرورت سمجھیں گے وہاں ریجنل آفس قائم کردیں گے تاکہ مدارس کو رجسٹریشن میں آسانی ہو تاہم یہ بات بھی آئی کہ اتنے انتظام کے باوجودبھی اگر کوئی مدرسہ خود کو رجسٹرڈ نہیں کروائے گا تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ اسی طرح مدارس کے بینک اکانٹس کا معاملہ بھی زیرغور آیااور یہ طے پایا کہ تمام رجسٹرڈ مدارس کے بینک اکاﺅنٹ کھولنے پر غیر اعلانیہ پابندی اٹھالی جائے گی اور مدارس کے اکاﺅنٹ کھولے جائیں گے اور اگر کسی مدرسہ کو اکاﺅنٹ کھلوانے میں کسی مشکل کا سامنا کرناپڑے گا تووزارت تعلیم اس کی معاونت کرے گی۔ اسی طرح تقریبا دو عشروں کے بعد غیر ملکی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ نو برس اور کم ازکم جتنا اس کا تعلیمی دورانیہ ہوگا اور ادارہ درخواست کرے گا اتنے عرصے کا ویزہ یکبارگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ایک بہت اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ دینی مدارس سے کوائف کے حصول کی واحد مجاز اتھارٹی وزارت تعلیم ہوگی اور وزارت تعلیم کے علاوہ کسی ایجنسی،کسی پولیس اہلکار اور کسی دوسرے ادارے کو کسی قسم کے کوائف کے حصول کے لیے براہ راست مدارس سے رجوع کا حق نہیں ہوگا بلکہ اگر کسی کو بھی کوائف کی ضرورت ہوگی تو وزارت تعلیم سے رجوع کرے گا اس فیصلے کی وجہ سے مدارس کو ہراساں کرنے،علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر بلیک میلنگ سمیت دیگر کئی مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔اجلاس کے دوران دینی مدارس میں میٹرک اور انٹر لیول کے عصری مضامین کو شامل کرنے اور ان کے امتحانات لینے نیز ڈگری جاری کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ ہوسکااس حوالے سے عید کے بعد دوبارہ مذاکرات کا دور چلے گا۔ ہماری طرف سے دینی مدارس ومساجد کو یوٹیلٹی بلز میں رعایت دینے یا بالکل یوٹیلٹی بلز سے مستثنی قراردینے کی درخواست کی گئی لیکن جواباً یہ کہا گیا کہ فی الحال حکومتی خزانہ خالی ہے اس پر بعد میں غور کیاجائے گا۔ باقی جملہ امورخوش اسلوبی سے طے پائے۔
(کالم نگارناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved