تازہ تر ین

مجرموں کو مراعات اتنی ملیں ‘ کہ جرائم بھی شغل و شغف ہو گئے

رحمت علی رازی….اظہار خیال
تقریباً 35کھرب روپے کے اثاثوں کے مالک ، سابق وزیر اعظم نواز شریف دوبارہ جیل پہنچ چکے ہیں ۔ انہیں جس ڈھول ڈھمکے، گلپاشی اور تام جھام کے ساتھ جیل پہنچایا گیا ، یہ تماشہ اپنی مثال آپ کہا جائے گا۔ ہمیں تو حیرانی پنجاب حکومت پر بھی ہے جس کی انتظامی کمزوری نے شریف خاندان کو یہ تازہ ترین پاور شو کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا ۔ یوں محسوس ہوا جیسے وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار کے میڈیا منیجر نواز شریف کے میڈیا منیجرز کا کردار ادا کررہے تھے ۔ برِ صغیر کی پوری تاریخ میں کوئی ایسی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا سزا یافتہ مجرم اس تزک و احتشام کے جلو میں جیل پہنچایا گیا ہو ۔ چشمِ فلک نے رمضان کی پہلی اور مئی کی آٹھ تاریخ کو یہ عجب اور حیرت خیز نظارہ دیکھا کہ 6ہفتے کی طبی ضمانت پر رہنے والا مجرم جب دوبارہ کوٹ لکھپت کی جیل پہنچا تو جس گاڑی میں وہ سوار تھا، اس کا ڈرائیور (حمزہ شہباز)بھی ملزم ہے ، جسے وہ چھوڑنے جارہا تھا وہ ایک مجرم تھا، اس مجرم کے ساتھ بیٹھی وہ خاتون (مریم نواز)جو ہرآن حکومت کے خلاف ٹویٹس جاری کررہی تھی، وہ بھی مجرم تھی اور ضمانت پر بھی ہے اور لندن میں بیٹھا وہ شخص(شہباز شریف) جو لاہور میں اپنی پارٹی کے کارکنوں کو جوق در جوق پہنچنے کی اپیلیں کررہا تھا، وہ بھی ملزم ہے۔ مجبور اور مقہور عوام نے یہ جمہوری تماشہ دیکھا اوردل تھام کر رہ گئے ہیں کہ سزا یافتہ مجرم کی اتنی تکریم؟ قانون اور سیاسی اخلاقیات کا اسقدر مذاق؟ ہم سمجھتے ہیں کہ مجرم نواز شریف نے چھ ہفتے کی ضمانت کے خاتمے پر قانون کے سامنے سرنڈر نہ کرکے اور اپنی من مانی کرکے دراصل سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کا ٹھٹھہ اڑایا ہے ۔ اور خود مجرم نواز شریف نے قانون ، اصول اور وعدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے رات بارہ بجے کے بعد جیل کے دروازے پر پہنچ کر اپنی سزا یافتہ بیٹی کے موبائل فون کے ذریعے قوم کے نام پیغام دیا ۔ نواز شریف نے کہا:میں سمجھتا ہوں کہ انشا اللہ عوام کا یہ جذبہ اور ان کی دعائیں رنگ لائیں گی اور ظلم کی سیاہ رات ختم ہو کر رہے گی ۔ یہ جانتے ہیں کہ مجھے کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے‘۔جی ہاں ، ہم سب جانتے ہیں کہ جناب والا ، آپ کو کرپشن کی بنیاد پر ، بد عنوانی کے ارتکاب پر ، جھوٹ اور فریب کاری سے ملک لوٹنے کے جرم میں سزا دی گئی ہے ۔ جتنے مہلک ، بھیانک اور خوفناک آ پ کے جرائم ہیں ، آپ کو دی گی سزا تو جناب کچھ بھی نہیں ہے ۔ جیل اور قانون کو ان طاقتور مجرموں اور لٹیروں نے بازیچہ اطفال بنا دیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف ایسے قومی مجر موں کو جیل میں اگر چند ہفتے گزارنے بھی پڑتے ہیں تو زندگی کی ہر ممکنہ سہولت انہیں میسر اور دستیاب ہو تی ہے ۔ انہیں اتنی مراعات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ جیل ان کا سسرال بن جاتی ہے ۔ ایسے ہی پس منظر میں شاعر مرتضی برلاس نے ایسے ہی مجرموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
مجرموں کو مراعات اتنی ملیں
کہ جرائم بھی شغل و شغف ہو گئے
اور جب جیل میں بھی ایسی شاندار اور بے مثال سہولتیں کسی مجرم اور لٹیرے کو ملیں تو وہ کیونکر لوٹا گیا مال واپس کرے گا؟ اور کیوں کرے گا؟ نواز شریف اور ان کا خاندان بھی ایسا ہی کررہا ہے ۔ ہماری حکومت کی کمزوریاں بھی پوری طرح عیاں ہو کر رہ گئی ہیں ۔ عمران خان اور ان کے حواری نواز شریف اور زرداری ایسے قومی اور مستند لٹیروں سے لوٹا گیا مال واپس لانے کے جو وعدے اور دعوے کرتے رہے ہیں ، سب ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کسی کو برا نہ لگے تو ہم کہیں گے کہ یہ حکومت کی سراسر نااہلی اور نالائقی ہے ۔ اگر پی ٹی آئی قیادت ایسا کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی تھی تو عوام کے سامنے لٹیروں سے مال اگلوانے کی بڑی بڑی ڈینگیں ہی کیوں ماری گئیں؟واقعہ یہ ہے کہ خانصاحب عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ نبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے ، یہ تو صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن حال کی گھڑی کا احوال یہ ہے کہ حکومت کے معاملات خاصے دگرگوں ہو چلے ہیں ۔ معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر کے نئے سربراہان لانے پڑے ہیں ۔ یوں لگتا ہے جیسے خانصاحب سے معیشت کی کشتی سنبھالی نہیں جا رہی ۔ عمران خان کی حکومت اور خود انہیں وزیر اعظم بنے دسواں ماہ گزررہا ہے ۔ اس دوران عوام کو ایک بھی قابلِ ذکر ریلیف نہیں مل سکا ۔ عوامی مسائل اور مصائب مسلسل بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سنگین معاشی بدحالی کی بدولت عوام اپنے پیٹوں پر پتھر باندھنے لگے ہیں تو شائد یہ کہنا اتنا بے جا بھی نہیں ہوگا۔ ٹیکسوں کی روز افزوں اور مسلسل بھرمار نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے ۔ درست ہے ملکی اقتصادی حالات مناسب نہیں ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی گذشتہ کرپٹ حکومتیں اور نواز شریف اور زرداری ایسے بدعنوان حکمران اس ملک کا معاشی دیوالیہ نکال کر گئے ہیں ۔ اس پس منظر میں عوام اپنے پیٹ پر ہنسی خوشی پتھر بھی باندھنے پر تیار ہیں لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے آس پاس پھرنے والے مقتدر چہرے اور بعض وزرا کی سرکاری عیاشیاں اور اسراف بدستور جاری و ساری ہیں تو عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑتا ہے ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کہ یہ عین فطری ردِ عمل ہے ۔وزیر اعظم کے ایک وزیر باتدبیر فیصل واوڈا نے درفنطنی چھوڑی ہے کہ عوام تو پٹرول 200روپے فی لٹر بھی برداشت کر لیں گے۔عوام تو بیچارے چاروناچار دو سوروپے فی لٹر پٹرول بھی برداشت شائد کر ہی لیں لیکن بنیادی سوال یہ کہ فیصل واوڈا ایسے ملٹی ملینئروزیر صاحبان عوام کے پیسے پر اسراف سے کیوں کام لے رہے ہیں؟وہ اب تک کونسی عوامی خدمت بجا لائے ہیںجس کے پیشِ نظر عوام مزید قربانیاں دینے کیلئے تیارہو جائے گی؟
نون لیگ کی گذشتہ حکومت سے ہم سب اور عمران خان و پی ٹی آئی کو ہمیشہ یہ اعتراضات رہتے تھے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے حکومت اور کابینہ میں اپنے قریبی عزیزاور رشتہ دار بھرتی کر لئے ہیں ۔ افسوس اور الم کی بات یہ ہے کہ اب یہی حرکتیں عمران خان کے قریبی وزرا بھی کرنے لگے ہیں ۔
مثال کے طور پرجناب پرویز خٹک خود وزیر دفاع ہیں تو ان کے ایک بھائی لیاقت خٹک صوبائی وزیر بن چکے ہیں۔ پرویز خٹک کے ایک داماد عمران خٹک رکنِ قومی اسمبلی ہیں تو پرویز خٹک کی ایک بھابھی نفیسہ خٹک اور بھانجی ساجدہ ذوالفقار خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این ایز بن چکی ہیں ۔پرویز خٹک کا ایک بیٹا حطیم خٹک اگر رکن صوبائی اسمبلی ہے تو دوسرا بیٹا اسحق خٹک ڈسٹرکٹ کونسلر ہے ۔ حد یہ ہے کہ پرویز خٹک کے ذاتی ڈرائیور کی اہلیہ محترمہ فلک ناز خیبر پختون خواہ اسمبلی کی رکن بن چکی ہیں ۔ کچھ ایسی ہی داستانیں عمران خان کے ایک قریبی ساتھ خسرو پرویز رقم کررہے ہیں ۔ خسرو پرویز اگر خود وفاقی وزیر ہیں تو ان کے برادرِ خورد صوبائی وزیر ہیں ۔ ہم تو گذشتہ دور میں بلوچستان کے محمود خان اچکزئی کو مطعون کیا کرتے تھے کہ ان کے سارے رشتہ دار بلوچستان حکومت میں آ چکے ہیں اور آج یہی کہانی عمران خان کے ایک مرکزی وزیر دہراتے نظر آ رہے ہیں ۔
پھر یہ ملک تبدیل کیسے ہوگا؟ پہلے نواز شریف ، شہباز شریف اور زرداری نے مملکتِ خداداد پاکستان کو اپنی اور اپنے خاندان کی نجی جاگیر سمجھ رکھا تھا اور اب یہی کہانی پاکستان کے عوام کو پی ٹی آئی کی حکومت میں دکھائی جا رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ اس کہانی میں عمران خان کے اپنے خاندان کے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں مگر وزیر اعظم صاحب کے وزرا جو رشتہ نوازی کی انمول داستانیں رقم کررہے ہیں ، یہ یقینا خان صاحب کی حکومت کیلئے نیک نامی کا باعث نہیں بن رہیں ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان زرا خود بھی اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیر لیں ۔ ان کی یہ خود احتسابی انہی کیلئے مفید اور موثر ہوگی اور عوام میں ان کا اعتبار بڑھے گا۔ کان کھول کر یاد رکھ لیا اور سن لیا جائے کہ اگر وزیر اعظم صاحب کے اپنے قول اور ان کے وزرا کے اعمال میں تضاد اور تصادم ہوگا اور ان کے بعض وزرا کی ایسی ہی کہانیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو عوام عمران خان کی طرف اپنی پشت پھیر نے میں دیر نہیں کریں گے ۔ عوام کی اب بھی عمران خان سے خوش عقیدگی قائم و دائم ہے ۔ اور یہ خوش عقیدگی ابھی قائم رہنی بھی چاہئے ۔
(کالم نگار معروف صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved