تازہ تر ین

بھارتی انتخابات ‘ مودی اور ٹائم میگزین

انعام الحسن کاشمیری….نقطہ نظر
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت میں لوک سبھا (قومی اسمبلی ) کے انتخابات کے 6مرحلے مکمل ہوچکے ہیں۔ ساتواں اور آخری مرحلہ اتوار 19مئی کو ہوگا اور اس کے چار دن بعد 23مئی کو انتخابی نتائج کا اعلان کردیاجائے گا۔ بھارت میں ایک ارب کے قریب ووٹرز ان انتخابات میں اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ دو بڑی جماعتیں انڈین نیشنل کانگریس اور بھارتی جنتا پارٹی یا بی جے پی عملی طور پر میدان میں ہیں ۔ دونوں سخت حریف ہیں اور اگلی حکومت کا ہما ان دونوں میں سے ہی کسی ایک کے سر بیٹھے گا۔ اس بارے میں بھی انتخابات سے قبل اور انتخابی مراحل کے دوران زبردست بحث جاری ہے اور عام شہریوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا مودی اس بار بھی کامیاب ہوجائیں گے ؟ تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ مودی ملک کو کس سمت لے جارہے ہیں، عوام کی اکثریت ” ہاں“ میں جواب دے رہی ہے۔ خود پاکستان میں بھی اس حوالے سے خوب بحث جاری ہے۔ وہ لوگ جو مودی کو پاکستان دشمن سمجھتے، اُسے انتہاپسند اور گجرات کا سابق انتہائی ظالم اور قاتل وزیراعلیٰ اور حال کا مسلم کُش وزیراعظم قراردیتے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ مودی نہیں جیت سکیں گے لیکن خود بھارت کے اندر صورت حال یکسر مختلف ہے۔ بی جے پی محض سیاسی جماعت ہی نہیں، بلکہ ایک لحاظ سے مذہبی جماعت بھی ہے۔ بھارت کے سارے انتہاپسند ہندو اس جماعت سے وابستہ ہیں اور ان انتہاپسندوں کے علاوہ دیگر لوگوں کی حمایت بھی حاصل کرنے کے لئے جس طرح کی چالیں چلی جاتی ہیں اور کوتلیہ چانکیہ کے جس سیاسی پندونصائح پر حرزِ جاں کی طرح عمل کیاجاتاہے، اس سے بھی بی جے پی کو خطیر ووٹ مل جاتاہے۔ بی جے پی دراصل ایک سمندر ہے اور اس کی ذیلی درجنوں، سینکڑوں چھوٹی چھوٹی جماعتیں کام کررہی ہیں۔ ہر مکتب، ہر حلقے اور ہر شعبہ ہائے حیات کے حامل لوگوں کے لئے الگ الگ تنظیم قائم ہے۔ مثلاً کسانوں کے لئے الگ، مزدوروں کے لئے الگ، دانشوروں وغیرہ کے لئے الگ اور تاجروں کے لئے الگ۔ یہ ساری الگ الگ جماعتیں الگ الگ منشور ، پروگرام اور طریقہ ہائے کار کے تحت کام کرتی ہیں، لیکن یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح متعدد بے شمار دریا الگ الگ ناموں کے ساتھ مختلف علاقوں اور مقامات سے گزر کر آخرکار ایک ہی سمندر میں جاگرتے ہیں، اسی طرح یہ جماعتیں اور تنظیمیں بھی قومی انتخابات کے دوران اپنا سارا وزن بی جے پی کے پلڑے میں ڈال دیتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم کشی میں ہراول اس جماعت کی ایک ذیلی تنظیم مسلمانوں کے لئے بھی موجود ہے جس میں بڑی تعداد میں کارکن شامل ہیں۔ بی جے پی کی ہر ذیلی تنظیم اپنے حامیوں اور مددگاروں کے لئے ابتدائی سطح پر ایسے امور سرانجام دیتی ہے جس کی وجہ سے اُس کی حمایت اور اس پر اعتبار کی شرح بڑھ جاتی ہے اور اسی سے کامیابی کا راستہ نکالاجاتاہے جو سیدھا بی جے پی کے گھاٹ پر جاتاہے۔
مودی نے اپنے پچھلے پانچ سالہ دور میں بھارت کو کیا نقصان پہنچایا اور ”شائننگ انڈیا“ کا نعرہ دینے والوں نے اس انڈیا کو تاریکی میں اور کتنا زیادہ دھکیل دیا ہے، غربت کی شرح کہاں جاپہنچی ہے اورخودکشیاں کرنے والے مایوس کسانوں کی تعداد کس ہوش ربا ہندسے کو چھورہی ہے، یہ سب جاننے کے باوجود حیرت انگیز طور پر مودی کی کامیابی کی پیشین گوئی بڑے یقین اور طمطراق کے ساتھ کی جارہی ہے اور شنید بھی یہی ہے ۔ آخر اس سب کی کیا وجہ ہے؟ اس وجہ کا سبب بی جے پی کی سیاسی چالبازیاں، مودی کاانداز ِ حکومت اور خود بی جے پی کے سینکڑوں ذیلی تنظیمیں اور انتہاپسند ہندوہیں۔ یہ سب مل کر مودی کو وزیراعظم بنانے کے درپے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مل کر بھارت کو خطرناک کھائی کی جانب دھکیل رہے ہیں، جس میں گرنے کے بعد بھارت کے کئی ٹکڑے ہوجائیں گے ۔ یہ محض مفروضہ نہیں ، بلکہ پچھلے پانچ سال اور خاص طور پر ابھی اس انتخابی مرحلے کے دوران عالمی سطح پر جو رپورٹیں سامنے آرہی ہیں، اس سے یہ امر یقینی ثابت ہورہاہے کہ ہندوانتہاپسندی کے عفریت ،اقلیتوں سے نفر ت کے زہر اور بالخصوص بھارت کو ایک مکمل ہندوریاست بنانے کے جنون نے مل کرترقی و خوشحالی، استحکام اور امن کی راہیں مسدود کردی ہیں ۔ چنانچہ بھارت کے اندرونی حالات جیسا کہ مشرقی اور شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسندتحریک، خالصتان تحریک، تحریک آزادی¿ کشمیر، پھر شمالی اور جنوبی ہندوستان کی مناقشت، اروناچل پردیش اور سکم وغیرہ پر چین کے ساتھ تنازع، اندرون بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سخت ناروا سلوک ،کشمیر اور پاکستانی وچینی سرحد پر مسلسل جنگی ماحول میں بھارتی فوج کا گرتا مورال ، حکومت سمیت فوج اور دفاعی اداروں میں زوروں کی کرپشن، راجستھان اور دیگر علاقوں میں جاٹوں کی باغیانہ سرگرمیاں اور اس جیسے دیگر عوامل نے مل کر بھارت کے استحکام کو سخت خطرے سے دوچار کررکھا ہے۔ چنانچہ ایسے دانشور اور ماہرین جو رائے دیتے تھے کہ بھارت بہت تیزی کے ساتھ اپنے حصے بخرے کرنے کی جانب بڑھ رہاہے ،تو آج کے ماحول اور حالات میں یہ بات درست معلوم ہورہی ہے۔ اس کا ایک اندازہ ٹائم میگزین کے حال ہی میں شائع دو مضامین سے ہوتا ہے۔
آج کل بھارت بھر میں ٹائم میگزین کا ٹائٹل زیربحث ہے۔ یہ ٹائٹل 19مئی کے میگزین کا ہے، جسے میگزین کی اشاعت سے قبل ہی ”اشتہار“ کے طور پر جاری کردیا گیاہے۔ اس ٹائٹل پر مودی کی تصویر ہے اور اس کے ساتھ کیپشن میں “India’s Divider In Chief “لکھا ہوا ہے یعنی ” بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا رہنما “۔یہ مضمون برطانوی نژاد پاکستانی صحافی ومصنف آتش تاثیر نے لکھا ہے۔ آتش تاثیر کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ یہ سابق مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے فرزند ہیں۔ مضمون میں کیا کچھ ہوگا؟ اس کا بڑااندازہ عنوان سے ہی ہوجاتاہے جسے میگزین کی ٹائٹل سٹوری بنایاگیا ہے۔ مضمون میں یقینا مودی کے ایسے اقدامات اور نظریات کا ذکرکیاگیاہوگا جو بلاشبہ بھارت کے لئے سخت نقصان اور خسارے کا باعث بن رہے ہونگے۔ تاہم الیکشن سٹنٹ کے طور پر بی جے پی نے آتش کو کانگریس کا منیجرپی آرقراردیتے ہوئے اسے سازش قراردیاہے۔ اسی شمارے میں ایک دوسرامضمون بھی شامل ہوگا جوامریکی ماہر سیاسیات ایان آرتھر بریمر نے لکھا ہے اور اس کا عنوان ہے ” مودی۔ ایک مصلح“۔اس کے ذریعے گویا میگزین مودی کے متعلق رواداری کا اظہار کرکے مخالفین کو خاموش کروائے گا۔
کچھ عرصہ قبل ٹائم میگزین میں کسی سابق امریکی صدر نے ایک مضمون لکھ کر مودی کی خوب تعریف کی اور کہا کہ مودی بہت بڑے اصلاحات پسند ہیں جو بھارت کو ترقی کی معراج پر لے جارہے ہیں۔ اس مضمون کی بابت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے لوک سبھا میں ذکر کیا اور کہا کہ ایسا ہی ایک مضمون سابق امریکی صدر جارج بش سینئر نے روسی صدر میخائل گورباچوف کے بارے میں بھی لکھا تھا جس میں انہوںنے گوربا کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملاڈالے تھے لیکن درحقیقت یہ میخائل گوربا چوف ہی تھا جس کے دورِ صدارت میں سویت یونین ٹوٹ کر کئی ریاستوں میں بٹ گیا چنانچہ مودی بھی میخائل گوربا چوف ہیں ، جو بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی جانب گامزن ہیں۔
انتخابات کا اگرچہ حتمی نتیجہ 23مئی کو نکلے گا لیکن اس کے بعد ”ختم شد “کاحقیقی کھیل شروع ہوگا۔ مودی کی پالیسیاں اگر تبدیل نہ ہوئیں اور انہوں نے ایسے اقدامات کئے، جن کی بابت ماہرین اور دانشور اچھی رائے کا اظہار نہیں کررہے، تو یقینا پھر بھارت کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو میخائل گورباچوف کے دور میں سویت یونین کے ساتھ ہوا تھا۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved