تازہ تر ین

ایک منفردانداز کی تقریب

محمد فاروق عزمی….جواں عزم
یکم مئی کی شام پاکستان رائیٹر گلڈ کی پرانی سی عمارت میں ایک نئے انداز کی تقریب تھی جس کا اہتمام چند علم وادب اور کتا ب سے محبت کرنے والے دوستوں اور مزدور کا درد محسوس کرنے والے ادیبو ں اور شاعروں نے مل کر کیا تھا ۔ مزدور کے ماتھے پر چمکنے والے پسینے کو موتی کہنے والے ، ان شا عروں اور ادیبوں کے ماتھے پر بھی پسینے کے موتی چمک رہے تھے انہی قلم کے مزدوروں میں مقصو د احمد چغتائی بھی اسکاﺅٹ کی وردی میں ملبوس سب سے الگ تھلگ اور منفرد نظر آرہے تھے، وہ اس تقریب کے ”نوشہ میاں“ تھے کہ ےہ سارا اہتمام ان کی کتاب ’قلم کا مزدور‘ کی پذیرائی کےلئے تھا۔اور یوم مزدورکے حوالے سے گفتگو بھی اس شام کا موضوع تھا ۔ جہاں کتاب کا ذکر ہو ، وہا ں قلم فاﺅ نڈیشن کے علامہ عبدالستار عاصم اور ان کے رفیق کار فاروق چوہان،نہ ہوں تو یہ حیرت اور فکر مندی کی بات ہو گی ، لہذاےہاںبھی یہ دونو ں صاحبان کتا بوںسے لدے پھندے تشریف لا ئے اور اس طرح کتابیں تقسیم کرنے لگے ، جیسے بھنڈارا بانٹاجاتاہے۔ علامہ عبدالستار عاصم کے چہرے پر کتاب تحفہ دیتے ہوئے جو خوشی اور مسرت جھلملا رہی ہوتی ہے ۔ وہ دید نی ہوتی ہے۔ ےہ علم کی روشنی تقسیم کرنے کی سچی لگن ہی ہے کہ وہ بے تحاشہ کتابیں چھپاتے بھی ہیں ، اور بانٹتے بھی ہیں ۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ کاروباری سود وزیاں کے فریب سے کوسوںدور کھڑے نظر آتے ہیں، ان کے پیش نظر جہالت کے اندھیروں میں علم کے چراغ جلاناہوتا ہے۔نہ کہ کارو باری نفع نقصان ، اس لیے وہ اس بارے سوچتے ہی نہیں لیکن ہمارے سوچنے کی بات یہ ہے کہ مفت کتابیں بانٹ بانٹ کر انہیں کےا فائدہ ہوتا ہے ؟میرے خیا ل میں انہو ں نے یہ تجارت اللہ سے شروع کر رکھی ہے جس کی بار گا ہ میں علم پھیلانا بہت بڑی نیکی ہے ۔ لہذا کتابوں کی اشاعت کے کارو بار سے وابستہ یہ بندہ خسارے میں جا ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ رب سے کی گئی تجارت میں کئی گنا بڑھ کر منافع ملتا ہے۔
تقریب کے شرکا ءکو جھک جھک کر اور مسکرامسکرا کر جی آیاں نوں کہتے ہوئے پرو فیسر نذر بھنڈر نقابت کے فرائض بھی سر انجام دے رہے تھے،تقریب کی صدارت ممتاز شاعرہ اور ادبیہ ایم زہرا کنول کر رہیں تھیں، قلم کا مزدور مقصود چغتائی کی مرتب کردہ ایسی منفرد کتاب ہے جس میں سڑک پر پتھر توڑنے والے مزدور سے لے کر کسی سرکاری دفتر میں برسوں پرانی کرسی پر بیٹھے اس کلرک کے حقوق کی ترجمانی بھی کی گئی ہے جس کی کرسی کی ساری چولیں ہلتی ہیں ۔ کٹھمل اس کرسی میں بسیراکئے ہوئے ہیں ، اور اس کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو سہارا دینے کےلئے نیچے اینٹیں رکھ دی گئی ہیں ،اس کرِم خور دہ آرام دہ نشست پر بیٹھا قلم کا مزدور اپنے ہیڈ کلرک سے اور ہیڈکلرک اپنے سینئر سے اور یہ سینئر اپنے سے بڑے عہدے کے آفسر سے اور یہ آفسر اپنے چیف ایگزیگٹیو سے ساراسارا دن جھڑکیاں کھاتا اورقلم کا تیشہ چلاتا رہتا ہے ۔ تاکہ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رہے اور پیٹ کے دوزخ کے لےے دو نان جویں میسر آجائیں ۔
ہمارے ہاں تصور یہ باندھ لیا گیا ہے کہ مزدور صرف وہ ہے جو سر پر پتھر اٹھائے بلندو بالا عمارتیں یا بڑی بڑی سڑکیںاور شاہراہیںتعمیر کرنے میں مصروف ہے یا کسی فیکٹر ی کی بھٹی میں پگھلتے لوہے کو سانچے میں ڈھالتے ہوئے اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہے اور جس کے خواب بھی اسی بھٹی میں پگل جاتے ہیں۔ےا آ ہنی ہتھوڑے کی ضرب سے ٹوٹتے پتھروں کے ساتھ ریز ہ ریزہ ہو کر چلچلاتی دھوپ میں بکھر جاتے ہیں لیکن نہیں ، مقصود احمد چغتائی نے بتاےا کہ مزدور صرف وہی نہیں ہے جس کے حقوق کے لےے 1876ءمیں شکاگو کے مزدوروں نے اپنی جانو ں کے نذرانے لٹائے تھے۔اور جہاں کے سرمایہ دار اپنے کارخانوں میں کام کرنے والے بے نوا مزدوروں کو اپنا زر خرید غلام سمجھتے تھے۔اور 20,20گھنٹے کام لینے کے باوجود بھی انہیں اتنی کم اجرت دی جاتی تھی۔کہ وہ اس سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر نے کا سامان بھی نہ کر سکیں ، بلکہ کتاب کے مصنف ممتاز ادیب اور سفر نامہ نگارمقصو د چغتائی نے اپنی کتاب میں یہ بتانے کی کو شش کی ہے کہ ادیب ، صحافی ، کالم نگار ، شاعر ہی نہیں ، ڈاکٹر وکیل اور انجینئر حضرات بھی مزدور ہیں ، قلم کے مزدور، لہذا معاشرے کے ان اہم ترین افراد کی ترجمانی اور حو صلہ افزائی اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔
تقریب شروع ہوئی تو یہ” تھری ان ون “کا رنگ اختیار کر گئی، ایک تو یو م مئی کے حوالے سے گفتگو ہوئی اوردوسرے کتابوں کے بارے خوب خوب باتیں ہوئیں،تقریب میں موجود شرکاءنے مقصود چغتائی کی کتاب کو خو ب سراہا اور قلم کی حرمت اجاگر کرنے اور قلمی مزدوروں کے مسائل کی ترجمانی کرنے پر اس کتاب کو بہترین کاوش قرار دیا،انھیںاتنی خوبصورت کتاب لکھنے پر مبارکباد دی۔تیسرے یہاں چونکہ پاکستان قومی زبان تحریک کے شعبہ خواتین کی صدر فاطمہ قمر اور حامد انور بھی موجود تھے۔انہو ں نے اردوزبان کے نفاد کے سلسلے میںاپنی تحریک کی کوششوں سے آگا ہ کیا، محترمہ فاطمہ قمر کا کہنا تھاکہ اردو پاک و ہند میں اسلامی ورثے کی امین ہماری قومی زبان ہے۔پاکستان کے آرٹیکل251کی رو سے اس کا نفاد ہمارا اولین مقصد ہے ۔ علامہ عبدالستار عاصم نے بھی اس بات پر زور دیاکہ دنیا میں جتنی قوموں نے ترقی کی ہے وہ اپنی زبان میں تعلیم کو فروغ دے کر ہی کی ہے ۔میں نے کہاکہ آج بھی مزدوروں کے حالات 1876ءکے شکاگو کے ان مزدوروں سے قطعی مختلف نہیں ہیں جن کی قربانیوں کی یاد دنیا بھر میں ہر سال منائی جا تی ہے ۔
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved